30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہوں تو میرے پوٹے میں بیس بیس مثقال کے دو موتی کیونکر ہوسکتے ہیں !یہ کہا اورپُھر سے اُڑگئی۔(مکاشفۃ القلوب، باب فضل القناعۃ، ص۱۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) زبان لٹک کر سینے پر آگئی
بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اس کو اسمِ اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ بہت ہی مستجاب الدعوات تھا کہ اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں ۔ اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔مشہور یہ ہے کہ اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی صرف دواتیں بارہ ہزار تھیں ۔ جب حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ’’قومِ جبارین‘‘ سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں ، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دے دیں ۔ اس لئے(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) آپ موسیٰ( عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کے لئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں ، آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اس لئے آپ کی دعا ضرور مقبول ہوجائے گی۔ یہ سن کر بلعم بن باعوراء کانپ اٹھااور کہنے لگا : تمہاراناس ہو، خدا کی پناہ! حضرت موسیٰ( علیہ السلام) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں اور ان کے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے ان پر بھلا میں کیسے اور کس طرح بددعا کرسکتا ہوں ؟ لیکن اس کی قوم نے رو رو کر اور گڑگڑا کر اس طرح اِصرار کیا کہ اس کو کہنا پڑا کہ اِستخارہ کرلینے کے بعد اگر مجھے اجازت مل گئی تو بددعا کردوں گا۔ جب اِستخارے میں بددعا کی اجازت نہیں ملی تو اس نے صاف صاف جواب دے دیا کہ اگر میں بددعا کروں گاتو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔اب کی بار اس کی قوم نے بہت سے گراں قدر ہدایا اور تحائف اس کے سامنے رکھے اور بددعا کرنے پر بے پناہ اِصرار کیا۔ یہاں تک کہ بلعم بن باعوراء پر حرص و لالچ کا بھوت سوار ہو گیا اور وہ مال کے جال میں پھنس کر ان کی خواہش پوری کرنے پر تیار ہوگیا اور اپنی گدھی پر سوار ہو کر بددعا کے لئے چل پڑا۔ راستے میں بار بار اس کی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑ کر بھاگ جانا چاہتی تھی مگر یہ اس کو مار مار کر آگے بڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ گدھی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے گویائی کی طاقت عطا فرمائی اور اس نے کہا : افسوس! اے بلعم باعوراء تو کہاں اور کدھر جا رہا ہے؟ دیکھ! میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اور میر امنہ موڑ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں ۔ اے بلعم! تیرا برا ہو کیا تُو اللّٰہ کے نبی اور مومنین کی جماعت پر بددعا کرے گا؟مگر بلعم بن باعوراء کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھ چکی تھی لہٰذا وہ گدھی کی تنبیہ سن کر بھی واپس نہیں ہوااور’’حُسْبَان‘‘ نامی پہاڑ پر چڑھ گیا اور بلندی سے حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لشکروں کو بغور دیکھا اور بددعا شروع کردی۔ لیکن خدا عَزَّوَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ وہ حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے لئے بددعا کرتا تھا مگر اس کی زبان پر اس کی اپنی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو اُلٹی بددعا کررہے ہو۔کہنے لگا : میں کیا کروں !میں بولتا کچھ اور ہوں اور میری زبان سے کچھ اور ہی نکلتا ہے! پھر اچانک اس پر غضب ِ الٰہی نازل ہوا اوراس کی زبان لٹک کر اس کے سینے پر آگئی۔ اس وقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سے رو کر کہا : افسوس میری دنیا و آخرت دونوں تباہ وبرباد ہوگئیں ، میرا ایمان جاتا رہا اور میں قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو گیاہوں ۔ جاؤ! اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔
(تفسیر الصاوی، ج۲، ص۷۲۷، پ۹، الاعراف : ۱۷۵ملخصًّا)
؎ کس کے در پر میں جاؤں گا مولا
گر تُو ناراض ہوگیا یارب
(وسائل بخشش ص۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵) پُر اسرار بھکاری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع