30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا بیان سُنا جو بڑا دلنشین اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صداؤں اوررو رو کر کی جانے والی دُعا نے مجھے بَہُت متأثر کیا ۔ پھر جب سب نے کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع کیا تو میں بھی شامل ہوگیا۔ اس کا سُرُور بیان سے باہر ہے۔میں نے اُس اجتماع میں کثیر نوجوانوں کو دیکھا جن کے چہروں پرداڑھیاں اور سروں پر سبزسبز عمامے تھے۔ان کے چہروں کی نورانیت ، حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنت کے مطابق بدن پر سفید لباس اورسر پر زُلفیں ، بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز ، خوش اخلاقی اورملنساری دیکھ کر مجھ پر ایک ہیبت سی طاری ہوگئی۔بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اب میں اپنے دل میں اِسلام کی محبت محسوس کرنے لگا مگر کسی سے اظہار نہ کرسکا۔ اگلی جمعرات جب میں اجتماع میں پہنچا تو میں نے ایک مبلغ کو اپنے بارے میں بتا کر روتے ہوئے عرض کی کہ مجھے مسلمان کرلیجئے ۔انہوں نے فوراً مجھے قادیانیت سے توبہ کرواکر کلمہ طیبہ پڑھوایااور یوں میں اسلام جیسی عظیم دولت سے مالامال ہوگیا۔یہ اطلاع جلد ہی گھر تک پہنچ گئی۔ میرے والد یہ سُن کر آپے سے باہر ہوگئے اور مجھے خُوب بُرا بھلا کہا بلکہ مارابھی ۔مگر مدَنی ماحول کی بَرَکت سے میں نے زبان چلانے کے بجائے صبر کیا ۔میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ مجھے روتا دیکھ کر والد بھی نرم پڑگئے اور مجھے پیار سے سمجھانے لگے۔ مگر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میرے دل میں اسلام کی محبت دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ میں پابندی سے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے لگااور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھوں بیعت ہوکر ’’عطّاری‘‘بھی بن گیا۔
کچھ عرصے بعد باب المدینہ کراچی (گلزارِ حبیب مسجد)میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت ملی تو میں نے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اپنے قبولِ اسلام کی بہار سُنائی اوراپنے والدین و دیگر گھر والوں کے اسلام قبول کرنے کی دُعا کے لئے درخواست کی۔ آپ میرے قبولِ اسلام کا سن کر بہت خوش ہوئے ، مجھے سینے سے لگایا، دُعا کی اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا : اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جلد آپ کے گھر والے بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ نواب شاہ واپس آنے کے بعد میں نے گھر والوں کو امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل پڑھانے اور وقتاً فوقتاً انفرادی کوشش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ایک ولی کامل کی دُعا کی بَرَکت سے صرف15یا 20دن کے اندراندر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ والدین سمیت گھر کے تقریباً13افراد نے قادیانیت سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ توجہ مرشد سے میں نے ا پنے خاندان کے دیگر افراد پر بھی انفرادی کوشش کی ۔ جس کی بَرَکت سے کم و بیش 2سال بعد میرے پھوپھا جان ‘ گھر کے تقریباً17افراد سمیت لوگوں کے ہجوم میں قادیانیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگئے۔وہ دعوتِ اسلامی اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بے حد متاثر تھے ۔ اسلام قبول کرنے کے تقریباً 2سال بعد کم و بیش60سال کی عمرمیں نَماز ادا کرنے کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے مسجد ہی میں ان کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے مزید انفرادی کوشش جاری رہی اور 2003ء میں میرے تایازاد بھائی خاندان کے تقریباً12افراد سمیت مسلمان ہوگئے۔میری بچوں کی والدہ اپنے قادیانی رشتے داروں میں امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل تقسیم کرتی رہتی ہیں ۔ان رسائل کی بَرَکت سے کئی خواتین اسلام قبول کرچکی ہیں ۔
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بابُ المدینہ (کراچی) کے ایک اسلامی بھائی( عمرتقریباً 22 سال)کے تحریری بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں کم عُمری ہی سے بُرے دوستوں کی صحبت میں پڑ گیا ۔ اُنہوں نے مجھے اپنے رنگ میں رنگ لیا ، یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرا کرداربگڑتا چلاگیا ۔میں اب شراب پینے لگا تھا ، ہیروئن کا نشہ بھی کرتا تھا ۔محلے کے چند نوجوان بھی میرے پاس اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے نشے کی عادت میں مبتلاء ہوگئے۔ چنانچہ سارے محلہ والے مجھ سے بیزار تھے ۔ اگر محلے کا کوئی لڑکا میرے ساتھ ہو تا تو اس کے گھر والے آکر مجھے مارتے ، گالیاں بھی دیتے اور کہتے : ’’خبردار! اب میرے بیٹے یا میرے بھائی کو اپنے ساتھ نہ رکھنا۔‘‘گھر والے بھی مجھے بُرا بھلا کہتے، سمجھاتے ، مگرمیں ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا ۔تنگ آکر اُنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا کہ اس کو کچھ تو اپنی غلطی کا احساس ہو مگرمجھے اپنی غلطی کا احساس کیونکر ہوسکتا تھا ؟میرے دل ودماغ پر تو نشے کا سُرور چھایا ہوا تھا ۔آخر کار میری حالت ایسی ہو گئی کہ میں ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتا تھا ۔فکرِ آخرت تو دُور کی بات، مجھے تو دُنیا کی فکر بھی نہیں رہی تھی ۔ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے کرتے شاید میں نشے کی حالت میں اس دُنیا سے رُخصت ہوجاتا مگر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور دعوتِ اسلامی پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتوں کا نزول ہو کہ انہوں نے مجھے تباہی کے گڑھے سے نکال کر جنت میں لے جانے والے راستے پرگامزن کردیا ۔
ہوا یوں کہ ایک روز میں لڑکھڑاتا ہوا کہیں جارہا تھا کہ کسی نے بڑی نرمی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکا۔ میں نے بمشکل نگاہ اٹھا کر دیکھا تو یہ بڑی عمر کے ایک باریش اسلامی بھائی تھے جنہوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور ان کے سر پر سبز عمامہ بھی تھا ۔ انہوں نے انتہائی شفقت سے میری خیریت دریافت کی۔میں نے زندگی میں پہلی بار ایسی اپنائیت پائی تو بڑا اچھا لگا ۔مختصر سی گفتگو کے بعد یہ اسلامی بھائی مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور ناشتہ کرایا ۔ایسا محبت بھرا برتاؤ تو میرے ساتھ کبھی گھر والوں نے نہیں کیا تھا ۔ ان کی شفقتیں دیکھ کر سبز عمامے والوں کی محبت میرے دل میں گھر کرنے لگی ۔ اس اسلامی بھائی نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتوں کے بارے میں بتایا اور مجھے عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی ۔میں پہلے ہی متأثر ہوچکاتھا لہٰذا میں نے ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی نیت کی ۔پھر میں نے مَدَنی قافلے میں سفر بھی کیا ۔مَدَنی قافلے میں سفر کے دوران شرکائے قافلہ کے حُسن اخلاق اور شفقتوں کی بارش نے میرے دل کی گندگی کو دھو کر اُجلا اُجلا کردیا ۔ان کی محبتیں دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ جاتیں کہ میں وہ بُرا بندہ ہوں جسے اپنے گھر والے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع