30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوشش سے وہ ہیروئنچی جس نے اپنی زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ، کس طرح سنتوں کی راہ پر نہ صرف خود گامزن ہوگیا بلکہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے والا بن گیا ۔لیکن یادرہے کہ کسی بھی قسم کے نشے کے عادی اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کرتے وقت انتہائی احتیاط اور حکمت سے کام لینا ہوگا ، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ وہ خُود سُدھرنے کے بجائے آپ کو بگاڑ ڈالے ۔لہٰذا ایسوں پر بڑی عمرکے اسلامی بھائیوں یا چند اسلامی بھائیوں کا مل کر انفرادی کوشش کرنا ہی مناسب ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی قَیّوم دونوں جہاں میں مچ جائے دُھوم
اس پہ فدا ہوبچہ بچہ یااللہ (عَزَّ وَجَلَّ) میری جھولی بھر دے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(3) فِلم بین نوجوان پر اِنفِرادی کوشش
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع دعوتِ اسلامی کے اوّلین مدنی مرکز’’گلزارِ حبیب مسجد ‘‘ (سولجر بازار) باب المدینہ کراچی میں ہوتا تھا ۔شیخِ طریقت اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اجتماع میں شرکت کے لئے اسلامی بھائیوں کے ساتھ جارہے تھے ۔ راستے میں ایک سینماگھر کے قریب سے گزرے توایک نوجوان جو وہاں فلم کا ٹکٹ لینے کی غرض سے قِطار میں کھڑا تھا اس نے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) بلند آواز سے اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مخاطب کر کے کہا : ’’مولانا بڑی اچھی فلم لگی ہے آکر دیکھ لو۔‘‘ اس سے پہلے کہ آپ کے ساتھ جانے والے اسلامی بھائی جذبات میں آکر کچھ کرتے اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس نوجوان کو بلند آواز سے سلام کیا اورقریب پہنچ کر بڑی ہی نرمی کے ساتھ اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ میں فلمیں نہیں دیکھتاالبتہ آپ نے مجھے دعوت پیش کی تو میں نے سوچا کہ آپ کو بھی دعوت پیش کروں ، ابھی ان شاء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ گلزارِ حبیب مسجد میں سنتوں بھرا اجتماع ہو گا ، آپ سے شرکت کی درخواست ہے، اگرآپ ابھی نہیں آسکتے توپھر کبھی ضرور تشریف لائیے گا۔‘‘ پھر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسے عطر کی شیشی تحفہ میں پیش کی ۔
چندسالوں بعد اَمیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں سنتوں کے عامل ایک اسلامی بھائی سبز عمامہ سجائے حاضر ہوئے اور کچھ اس طرح سے عرض کی : ’’حضور چند سال قبل ایک نوجوان نے آپ کو(معاذاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) فلم دیکھنے کی دعوت دی تھی اور آپ نے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناراض ہونے کے بجائے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تھی وہ نوجوان میں ہی ہوں ۔ میں آپکے عظیم حسنِ اخلاق سے بیحد متاثر ہوا اور ایک دن اجتماع میں آگیا، پھر آپ کی نظرِ کرم ہو گئی اور الحمدللّٰہعَزَّوَجَلَّمیں گناہوں سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا ۔
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو
اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(4)زانی نوجوان پر انفرادی کوشش
ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں شادی شدہ ہونے کے باوجود بُری صحبت کی نحوستوں کی وجہ سے کم وبیش 8سال سے زناجیسے کبیرہ گناہ میں مبتلاء تھا ۔ آہ!مجھے یہ اِحساس نہ تھا کہ وقتی لذت کی خاطر کیا جانے والا یہ فعلِ بد‘ آخرت میں طویل غم کا سبب بن سکتا ہے ۔میں نہ جانے اور کتنا عرصہ گناہوں کی اس دلدل میں پھنسا رہتا مگر خوش قسمتی سے مجھے دعوتِ اسلامی کا پاکیزہ ماحول میسر آگیا ۔ میں سنّتوں بھرے اجتماعات میں آنے جانے لگا اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت برکت کر کے طالِب بھی ہوگیا ۔اب مجھے اپنے کئے پر ندامت ہونے لگی مگرمیں زناکاری سے مکمل طور پر جان نہ چھڑا سکا، نفس وشیطان ورغلاکر کبھی کبھار پھر سے یہ گناہ کروا دیتے کیونکہ میرے کارخانے کے سامنے ہی اس لڑکی کا گھر تھا ، وہ وہاں سے اِشارے کرتی اور میرے قدم اس کے گھر کی طرف بڑھنے لگتے۔ میں بیحد پریشان تھا کہ اس عظیم آفت سے کیونکر پیچھا چھڑاؤں ۔ ربیع النّور شریف کی سہانی گھڑیوں میں مجھ گناہ گار کو کسی طرح امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی سعادت مل گئی ۔وہاں میں شربتِ دیدار پینے کے ساتھ ساتھ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے وسیلے سے دُعائیں مانگتا رہا کہ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے زنا کی عادت سے نجات دے دے ۔‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میری دُعا قبول ہوگئی ۔وہ اس طرح کہ جب میں گھر جاکر سویا توامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بنفس نفیس میرے خواب میں تشریف لے آئے اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے کچھ یوں ارشاد فرمایا : ’’ اگر آپ زنا سے بچنا چاہتے ہیں تو اُس (لڑکی) کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیجئے ۔‘‘بیدار ہونے کے بعد میں نے آپ کی نصیحت پر سختی سے عمل کیا اور اس لڑکی کے پاس جانا تودرکنار میں نے کبھی اس کی طرف نگاہ بھی نہیں اٹھائی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ترغیب پر نگاہوں کی حفاظت کی برکت سے زنا کی عادتِ بد جاتی رہی ۔
گناہوں سے مجھ کو بچا یاالہٰی
بُری عادتیں بھی چھڑا یا الہٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع