سُوال:رُکوع کے بعد کتنی دیر کھڑا رہنا واجب ہے؟ ( )
جواب:رُکوع کے بعد اىک بار”سُبْحٰنَ اللہ“ کہنے کى مقدار سىدھا کھڑا رہنا واجب ہے۔( ) رُکوع کے بعد کھڑے کھڑے”رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد“ کہنا اىک بار”سُبْحٰنَ اللہ“ کہنے کى مقدار کے برابر ہے اور اتنا کہنے سے واجب ادا ہو جائے گا۔ اگر کسی نے سجدے میں جاتے ہوئے”رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد“ کہا (حالانکہ قومہ میں ایک سُبْحٰنَ اللہ کی مقدار نہ ٹھہرا تھا )تو اُس کی نماز واجبُ الاِعادہ ہو جائے گی یعنی اُسے نماز لوٹانى ہو گى۔ ( ) اگر کسی نے جان بوجھ کر ىا مسئلہ معلوم نہ ہونے کے سبب یہ عمل کىا تو اُسے وہ نماز دہرانی واجب ہے۔ ( )
سُوال:مىرا ا ىک رشتہ دار 26،25 سال سے شراب نوشی کی آفت میں مبتلا ہے،جب بھی وہ ہمارے گھر آتا ہے تو حد سے زیادہ لڑائى جھگڑا کرتا ہے، ایسا کوئی وظىفہ بتا دىجیے کہ وہ ان حرکتوں سے باز آ جائے۔
جواب:آپ کسی کاغذ پر اىک دائرہ بنائیے،پھر درمیان مىں اىک اور دائرہ کھ بنائیے ،پھر ایک چھوٹا دائرہ بنائیے ،اب اس کاغذ کو سىدھى طرف سے لپىٹنا شروع کیجیے اور پلاسٹک کوٹنگ کر کے اپنے پاس رکھ لیجیے۔جب شرابی رشتہ دار آپ سے لڑائی جھگڑا کرے تو اس تعویذ کو سىدھى طرف والی داڑھ مىں دبا لیجیے، شرابی رشتہ دار جتنا شور کرے تعویذ کو اسی قدر زور سے دبائیے۔اللہ کرے گا تو وہ چُپ ہو جائے گا!
سُوال:گالىاں دىنے کی عادت سے کىسے نجات پائىں؟ (ایک بچے کا سُوال)
جواب:گالىاں دىنا بہت بُرا کام ہے۔اچھے لوگ گالىاں نہیں دىتے اور ان کى زبان سے اچھے الفاظ ہی نکلتے ہىں،جبکہ بُرے لوگوں کی زبان سے بُرے الفاظ نکلتے ہىں۔اسی طرح اچھا بچہ اچھے اور پیارے الفاظ بولے گا، نعت سُن کر آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کى ىاد مىں یا ویسے ہی جھومے گا،جبکہ بُرا بچہ بُرے الفاظ بولے گا،گانے گائے گا اور ناچے گا۔چونکہ اچھے بچے گالىاں نہىں دىتے،لہٰذا گالیاں دینے کی عادت نکال دیجیے اور مَدَنی چىنل دىکھتے رہىے اِنْ شَآءَ اللہ اچھے بچے بن جائىں گے،گالىاں دینے کى عادت نکل جائے گى،نیز نعتیں پڑھنے اور سُننے کى عادت بن جائے گى۔
سُوال:جب پہلا صُور پھونکا جائے گا اس کے شروع مىں انسان مَر چکے ہوں گے تو صُور کی دہشت اور ہولناکی کا مُشاہَدہ کون کرے گا ؟ (سائل:محمد اکرم)
جواب: جب صُور کى آواز آنا شروع ہوگى تو لوگ کان لگا کر سُنیں گے،اس کے خوف سے بے ہوش ہو کر گرنا شروع ہوں گے اور ہلاک ہوجائىں گے، ( )ىہى پہلے صُور کی دہشت اور ہولناکى ہے۔
سُوال:مجھے سگرىٹ نوشی کى لت پڑ چکی ہے،سگریٹ چھوڑنے کا وظیفہ بتا دیجیے۔ (سائل: قارى شہزاد،سىالکوٹ)
جواب:سگرىٹ نوشی کے بہت نقصانات ہىں،نیزسگریٹ کے پیکٹ پر بھی یہ جملہ لکھا ہوتا ہے:”سگریٹ سے کىنسر ہونے کا خطرہ ہے“یادرہے! سگرىٹ میں بدبو دار تمبا کو ہوتا ہے جس کے سبب سگریٹ پینے والے کے منہ مىں بدبو ہو جاتى ہے اور منہ میں بدبو ہونے کی صورت میں مسجد میں داخل ہونا گناہ ہے۔(2) لہٰذا سگریٹ نوشی کے عادی شخص کو سوچنا چاہیے کہ وہ کىسا محروم شخص ہے جو منہ کی بدبو کے سبب مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا،بالفرض اگر وہ اسی حالت میں مسجد میں داخل ہو جائے گا تو اسے کوئی بھی نہیں روکے گا،لیکن اس نادانی کی وجہ سے وہ گناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور لوگوں کی تکلیف کا سبب بنے گا، (3)لہٰذا سگریٹ نوشی کے عادی کو چاہیے کہ وہ مسجد میں جانے سے پہلے اچھی طرح منہ صاف کرے اور منہ کی بدبو ختم ہونے کے بعد ہی مسجد جا کر نماز پڑھے۔
سگریٹ نوشی کی آفت سے نجات پانے کے لیے ہر نماز کے بعد” یَا کَرِیْمُ “ کى اىک تسبىح پڑھیے،نیز اللہ پاک سے دعا بھى کیجیے کہ وہ آپ کو اِس بُرى آفت سے نجات بخشے۔یادرکھیے!کسى بھى عادت کو نکالنے یا کسى کام کى عادت ڈالنے کے لىے سنجیدگی اِختیار کرنا ضروری ہے ،لہٰذا سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے کے لیے آپ کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
سُوال: کىا ”شبِ قدر“ رَمَضانُ الْمبارَک کے علاوہ بھى آ سکتى ہے ؟ (سائل:سبحان عطارى)
جواب:جی ہاں!”شبِ قدر“سال میں کبھی بھی آ سکتی ہے( ) مثلاً ایک قول یہ ہے:”شبِ براءت“یعنی شعبان کى پندرہویں رات”شبِ قدر“ ہے، ( ) اس کے علاوہ بھی شبِ قدر کے بارے میں مزید اَقوال منقول ہیں،لیکن اکثر علمائے کِرام کے نزدیک رَمَضانُ الْمبارَک کی ”ستائىسوىں رات“ ہی ”شبِ قدر“ ہے۔ ( )
سُوال: بعض لوگ کسی حیران کُن چیز یا منظر یا پھر خطرناک حادثے میں زندہ بچ جانے والے شخص کو دیکھ کر کہتے ہیں: ”یہ زندہ معجزہ ہے !“ان کا ایسا کہنا کیسا ؟
جواب:”زندہ معجزہ“ کہنے کے بجائے لفظِ” کَرِشمہ“بولنا زىادہ مناسب ہے مثلاً ”فلاں شخص حادثے میں کَرِشماتی طور پر بچ گیا“لیکن عام لوگ ہر بات کو”معجزہ“بول دیتے ہىں،انہیں ایسا نہیں بولنا چاہىے،کیونکہ”معجزہ“ایک اِصطلاح ہے جو نبیوں کے ساتھ خاص ہے۔یادرہے!اگر نبی سے اِظہارِ نبوت سے پہلے ایسی بات ظاہر ہو جو عادتاً محال ہو اُسے”اِرہاص“ کہتے ہیں اور اِظہارِ نبوت کے بعد صادر ہو تو اسے”معجزہ “ کہتے ہیں۔ ( )
سُوال: مسجد کی طرف جاتے ہوئے کىا پڑھنا چاہىے؟ (سائل: محمد على انصارى،کراچی)
جواب:مسجد کی طرف جاتے ہوئے مخصوص وظیفہ پڑھنے سے متعلق مىں نے کہیں پڑھا نہىں،البتہ مسجد جاتے ہوئے ” دُرود شرىف“ پڑھتے رہنا چاہیے۔
ہر درد کى دوا ہے صَلِّ عَلىٰ مُحمد
تعوىذ ہر بَلا ہے صَلِّ عَلىٰ مُحمد
سُوال:بعض لوگ رَمَضانُ المبارَک میں مساجد میں اِفطاری بھجواتے ہیں،اِفطار کرنے والے روزہ نہ رکھنے والوں کو بھی اپنے ساتھ اِفطاری میں شامل کر لیتے ہیں،ایسا کرنا کیسا؟
جواب:پاکستان کی مساجد میں خادمین اور روزہ داروں کے لیے جو اِفطاری اور کھانا وغیرہ بھیجا جاتا ہے تو چھوٹے بچے بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں،کیونکہ ہمارے یہاں عُرف ہے کہ چھوٹے بچوں کو مسجد کی اِفطاری میں شامل ہونے سے روکا نہیں جاتا،حالانکہ سب کو پتا ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کا روزہ نہیں ہوتا۔
سُوال:مسجد کا کار پیٹ امام مُؤذِّن کے حُجرے میں بچھانا اور مسجد کی دری کو تکیہ بنانا کیسا؟ ( )
جواب:آج کل مسجدوں کی چیزوں کے متعلق بہت اندھى چل رہى ہے اور مسجد کے مال کو ذاتی مال کی طرح اِستعمال کیا جا رہا ہے مثلاً مسجد کے نمازیوں کے لیے دیا گیا کار پىٹ امام،مؤذِّن کے حُجرے مىں یا اِدھر اُدھر بچھا دیا جاتا ہے،حالانکہ وہ مسجد کے لیے وقف ہوتا ہے،تا کہ نمازی حضرات سردیوں کے دنوں میں ان پر نمازیں پڑھیں۔ بعض جگہ دریاں بچھانے کا رواج ہوتا ہے،ضرورت ختم ہونے پر انہیں اسٹور میں رکھ دیا جاتا ہے،لہٰذا انہیں امام،مُؤذِّن کے حُجرے ىا کسی کے کمرے مىں نہیں بچھاىا جا سکتا نہ ہی ذاتى اِستعمال میں لایا جا سکتا ہے،لیکن افسوس!بعض لوگ مسجد کی دریوں کا تکىہ بنا کر ان پر سر رکھ کر سو جاتے ہىں،حالانکہ مسجد کی دریوں کو تکىہ بنانے کی اِجازت نہیں،اگر تکیے پر سونا ہی ہے تو گھر سے اپنا ذاتی تکیہ لانا چاہیے۔بعض لوگ مسجد کی درىوں پر اس انداز میں سوجاتے ہىں کہ ان کے سر سے تیل لگنے کی وجہ سے دریوں پر کالا دھبا پڑ جاتا ہے جو بعد میں بَدنُما داغ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی وجہ سے اس جگہ پر سجدہ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ ذرا سوچئے!انسان اپنے گھر مىں اس انداز سے نہىں سوتا کہ بستر پر تیل کے کالے دھبے پڑ جائىں،لیکن افسوس! اللہ پاک کے گھر کی صفائی کا خىال نہىں کرتا۔
سُوال: گھر یا دکان کے لیے مسجد ىا مدرسے کے کُولر ىا ٹھنڈے پانی کی مشىن سے پانى بھر کر لے جانا کیسا؟
جواب:نہیں لے جا سکتے۔ ( )بالفرض گھر یا دکان والے کہیں: ” مسجد و مدرسے کے لیے ہمارے گھر اور دکان سے بھی چندہ جاتا ہے، پھر بھی ہمیں پانی بھرنے نہیں دیا جا رہا!“ تب بھی انہیں مسجد و مدرسے کا پانی بھر کر لے جانے کی اجازت نہیں، کیونکہ چندہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے دیا جاتا ہے نہ کہ وقف شدہ چیزوں سے ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے۔
سُوال:اگر نماز پڑھتے وقت نمازی کے آنسو نکل آئىں تو کىا اس کی نماز ٹوٹ جائے گى ؟
جواب:جى نہىں! (2)بلکہ نماز پڑھتے وقت نمازی پر رِقَّت طاری ہونا اور اس کا رونا سعادت کى بات ہے۔
سُوال: مسجد کے چندے کی رقم اُدھا لینا یا کسی کو اُدھار دینا کیسا؟
جواب: مسجد کے چندے کی رقم اُدھار لینا یا کسی کو اُدھار دینا جائز نہیں۔ (3)
سُوال:وقف شدہ چىز مىں مالکانہ تَصَرُّف کرنا کىسا ؟
جواب:وقف شدہ چیز بندے کى ملک سے نکل کر اللہ پاک کى ملک مىں چلی جاتی ہے،نیز وقف کرنے والا خود بھی وقف شدہ چیز کو اپنے ذاتى استعمال میں نہىں لا سکتا۔ (4)یہ بات بھی ذہن نشین رہے ! وقف شدہ چیزوں کا استعمال ضرورتاً اور مطلوبہ مقاصد کے تحت ہی ہونا چاہیے اور بِلا ضرورت یا مقصد سے ہٹ کر استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کئی بار مَدَنی چینل کی بلا ضرورت چلنے والی اسکرین بند کروا دیتا ہوں،کیونکہ وہ خاص مقصد کے لیے ہوتی ہے،لہٰذا میرا اس اسکرىن پر نہ تو مَدَنی چىنل دىکھنا جائز ہے نہ ہی ذاتی تَصَرُّف کرنا، اگرچہ وہ میری اپنی دی ہوئی ہو،کیونکہ مَدَنی چینل کے سلسلوں کے لیے دی گئی اسکرین میں مَدَنی چینل دیکھنا یا اس میں ذاتی تَصَرُّف کرنا مقاصد کے خلاف ہے۔ مَدَنی چىنل والوں کو چاہیے کہ وہ بھی ان چیزوں کے معاملے میں احتیاط کریں اور سلسلہ شروع ہونے سے کافی پہلے لائٹیں آن (ON)نہیں کیا کریں،کیونکہ اگر ان کی کوتاہی سے لائٹوں کو نقصان ہوا تو انہیں اپنی جیب سے تاوان کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔
بعض لوگ اذان سے پہلے ہی مسجد کی سارى لائٹیں اور پنکھے کھول دیتے ہیں اگرچہ اس وقت مسجد میں کوئی بھی موجود نہ ہو،انہیں اللہ پاک سے ڈر جانا چاہیے اور نمازیوں کے آنے کے بعد ہی حسبِ ضرورت پنکھے اور لائٹیں کھولنی چاہئیں مثلاً اگر ایک لائٹ اور ایک پنکھے کی ضرورت ہے تو صرف ایک لائٹ اور ایک پنکھا ہی کھولا جائے اور اگر 100 پنکھوں اور لائٹوں کی ضرورت ہے تو یہ سب کھولنے میں حرج نہیں ۔
…… یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنَّت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔(شعبہ ملفوظاتِ اَمیرِ اَہلِ سُنَّت)
…… در مختار مع رد المحتار ،کتاب الصلاة،باب صفة الصلاة ،مطلب قد یشار الی المثنی...الخ ،۲ / ۱۹۳۔
…… درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة ، ۲/۱۹۳۔
……(نماز میں)بعض چیزیں فرض ہیں کہ اس کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں، بعض واجب کہ اس کا تر ک قصداً (جان بوجھ کر چھوڑنا) گناہ اور نماز واجبُ الاِعادہ (پھر سے پڑھنا واجب) اور سہواً (بُھولے سے) ہو تو سجدۂ سہو واجب۔بعض سُنَّتِ مُؤکَّدہ کہ اس کے تر ک کی عادت گناہ اور بعض مستحب کہ کریں تو ثواب،نہ کریں تو گناہ نہیں۔(بہارِ شریعت،۱/۵۰۷،حصہ:۳)
……بہار شریعت،١/١٢٨،حصہ:١۔2…… فتاویٰ رضویہ،۷/۳۸۴۔3……فتاویٰ رضویہ،۷/۳۸۴۔
…… عمدة القاری،کتاب فضل لیلة القدر،باب التماس لیلة القدر… الخ،۸ /۲۵۳ ،تحت الحدیث:۲۰۱۵۔
……اتحاف السّادة،کتاب اسرار الصوم،۴/۳۹۲ ماخوذاً۔
……ارشاد الساری،کتاب فضل لیلة القدر،باب رفع معرفة لیلة القدر… الخ ،۴/۶۷۸،۶۷۷،تحت الحدیث:۲۰۲۳ ۔
……بہارِ شریعت ، ۱/۵۸، حصہ: ۱۔
…… یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنَّت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔(شعبہ ملفوظاتِ اَمیرِ اَہلِ سُنَّت)
……بہار شریعت،۲/۵۶۲،۵۶۱،حصہ:۱۰ماخوذاً۔2…… فتاویٰ ھندیة،کتاب الصلاة،الباب السابع فیما یفسدالصلاة...الخ، ۱/ ۱۰۱ ۔
3…… فتاویٰ رضویہ، ۱۶/ ۵۷۴ ماخوذاً۔4…… وقارالفتاویٰ،۲/۳۱۷۔