اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
حاضریِ مدینہ کا نسخہ ( )
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۱صفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ شَآءَ اللہ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: مجھ پر دُرود شرىف پڑھو اللہ پاک تم پر رَحمت بھىجے گا۔ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سُوال: کىا مدىنے شریف جانے کى تڑپ رکھنے کی برکت سے مدىنے شریف جانے کے اَسباب بن جاتے ہىں ؟
جواب:ظاہر ہے جب بارگاہِ رسالت مىں عرض کرتے رہىں گے اور دُرود شرىف کى کثرت کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ بُلاوا آ ہى جائے گا۔ کئی کروڑ پتی اور ارب پتى اىسے ہىں جنہوں نے فرض حج نہىں کىا ہوا، کیونکہ ان کے پاس فُرصت ہی نہىں ہوتى۔اگر ایسوں کو سمجھایا جائے تو جواب ملتا ہے:ہمارے پاس مَرنے کى فُرصت نہىں آپ حج کرنے کی بات کر رہے ہیں! حالانکہ ایسوں کو مَرنے کے بعد ان کے خاندان والے گھر میں نہیں رکھیں گے،بلکہ اندھیری قبر میں دفنا آئیں گے! بہرحال ہر ایک کو مرنا ہے،لہٰذا جن پر حج فرض ہے انہیں فوراً حج کر لىنا چاہیے اور بِلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ حدیثِ پاک میں ہے:جسے حج کرنے سے نہ حاجتِ ظاہرہ مانع ہوئی، نہ ظالم بادشاہ ، نہ کوئی ایسا مَرض جو روک دے پھر بغیر حج کیے مَر گیا تو چاہے یہودی ہو کر مَرے،چاہے نَصرانی ہو کر۔ ( )میں نے ایسے کئی غریب لوگ دیکھے ہیں جنہیں صحیح سے بات بھی کرنی نہیں آتی تھی،لیکن مدینے جانے کی سچی تڑپ تھی،لہٰذا وہ مدىنے پہنچ گئے۔ چنانچہ
اىک دىوانہ جسے لوگ منہ نہ لگاتے تھے،دیکھنے میں وہ انتہائی بد شکل تھا،اس وقت ٹیپ ریکارڈر کا دور تھا،لہٰذا کسی نے اسے ٹىپ رىکارڈر دِلوا دیا جس پر وہ کثرت سے نعتیں سُنا کرتا تھا،اس کی حالت پر کسى کو رحم آ گىا اور اس نے اس دیوانے کو مدىنے بھىج دىا۔”جب بُلاىا آقا نے خود ہى انتظام ہو گئے! “اسى طرح ”چل مدینہ“ کے سفر میں ایک سیدھا سادہ دیوانہ ہمارے سفىنے مىں سُوار ہوگیا ،شاید کسی شخص نے اس کی حج کی ترکىب بنا کر اسے سفینے میں سُوار کروا دیا تھا،اسے معلوم نہیں تھا کہ ”چل مدینہ“ کیا ہوتا ہے،حتّٰی کہ اسے گھر میں اِستعمال ہونے والی عام چیزوں کے متعلق بھی علم نہ تھا!لیکن ہم نے اسے اپنے ساتھ ”چل مدینہ“ کے قافلے میں شامل کر لیا ۔
کہاں کا منصب کہاں کى دولت قسم خدا کى یہ ہے حقىقت
جنہىں بُلاىا ہے مصطفےٰ نے وہى مدىنے کو جا رہے ہىں
سُوال:نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم کے اِیصالِ ثواب کی نیّت سے صدقۂ فطر دینا کیسا؟ (سائل:محمد عامر عطاری،کولمبو)
جواب:اِىصالِ ثواب کی نیّت سے صدقۂ فطر ادا کرنا سمجھ میں نہىں آ رہا، کیونکہ دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صدقۂ فطر واجب ہی نہیں رہتا( ) تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کى طرف سے صدقۂ فطر کیسے دیا جاسکتا ہے؟ البتہ اپنے دئیے ہوئے صدقۂ فطر کا ثواب انہیں اِیصال کیا جا سکتا ہے۔
سُوال:نماز کے جلسے میں یعنی دو سجدوں کے درمیان کچھ پڑھنا چاہیے یا نہیں ؟
جواب: جلسے( ) میں” اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِىْ“پڑھنا چاہیے،( )اور بالکل سیدھا بیٹھنا چاہیے،کیونکہ دو سجدوں کے درمىان اىک بار”سُبْحٰنَ اللہ“ کہنے کی مقدار سىدھا بىٹھنا واجب ہے۔( ) اکثر لوگ سجدے سے اُٹھتے ہی فوراً دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہىں جس کی وجہ سے اُن کا واجب چھوٹ جاتا ہے۔یادرکھیے!ایسا کرنا نا جائز و گناہ ہے، اگر اس سے پہلے جان بوجھ کر ىا مسئلہ معلوم نہ ہونے کے سبب ایسا کرتا رہا ہو تو پچھلی ساری نمازىں بھی دہرانى ہوں گی۔( )افسوس!لوگوں کی اس مسئلے کی طرف بالکل بھی توجہ نہىں ہوتی،انہیں چاہیے کہ وہ اس مُعامَلے کو سنجیدہ لیں ۔ ( )
سُوال:میرے پاس حَرَمین طیبین کے دو اِحرام ہیں،کیا میں انہیں گھر کے کسى کام مىں اِستعمال کر سکتا ہوں؟
جواب:وہ اِحرام آپ کی ملکیت ہیں،لہٰذا جس کام میں چاہیں اِستعمال کیجیے،لیکن یادرہے! اُن اِحرام کو مکے مدىنے کى ہواؤں نے چوما ہوگا،لہٰذا اُن سے دُھول مٹی جھاڑنا مناسب نہیں۔البتہ ان سے اىسا کام لیا جا سکتا ہے جو بے ادَبى نہ کہلائے ۔
سُوال:بعض لوگ رَمَضانُ المبارَک کی طاق راتوں میں گھر کی مصروفیات کے باعث مسلسل عبادت نہیں کر پاتے،اِس کا حل اِرشاد فرما دیجیے۔ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب:رَمَضانُ المبارَک کی طاق راتوں میں مسلسل اىک ہى طرح کى عبادت کرنے کا معمول بنانے سے اُ کتاہٹ محسوس ہوسکتی ہے،کیونکہ ہر وقت نماز یں پڑھنا،مسلسل تلاوتِ قرآن اور ذِکر و اَذکار میں مصروف رہنا سب کے لیے ممکن نہیں۔لہٰذا رَمَضانُ المبارَک کی طاق راتوں میں عبادت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اىک گھنٹہ تلاوت کریں،اىک گھنٹہ دُرود شرىف،کلمہ شرىف اور دىگر اَوراد و اَذکار پڑھیں، پھر کچھ دیر دىنى کتب کا مُطالعہ کریں کہ اچھى اچھى نىتوں کے ساتھ دینی کتب کا مُطالعہ کرنا ثواب کا کام اور عبادت ہے،نیز ہمت ساتھ دے تو کچھ نوافل بھی ادا کر لیں۔ممکن ہے بُزرگانِ دىن رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم بھی اسی انداز میں عبادات بجالاتے ہوں۔بہرحال اگر رَمَضانُ المبارَک کی طاق راتوں میں اِس طرح کریں گے تو زىادہ عبادت ہو سکے گی اور رات گزارنا بھی آسان ہو جائے گا۔
سُوال: بے خیالی میں بے وُضو تلاوتِ قرآن کرنے کا فدیہ کتنا ہوتا ہے؟ (سائل:سىد زاہد على قادرى اشرفى،سرجانى ٹاؤن)
جواب:قرآنِ کرىم کو چھوئے بغیر بے وُضو تلاوت کرنا جائز ہے( ) جیسے ایک با وُضو شخص قرآنِ کرىم کھولے رکھے اور دوسرا بے وُضو شخص اُس میں سے دیکھ کر پڑھے کہ اس میں کوئى گناہ نہىں۔اسی طرح زبانى ىا دیوار پر لگے ہوئے فرىم میں لکھی ہوئی آیات کو بے وُضو پڑھنا بھی گناہ نہىں ۔ اگر بے خىالى مىں بے وُضو تلاوتِ قرآن کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کو چُھونا بھی پاىا گىا تو نہ تَوبہ واجب ہے نہ ہی کَفَّارہ ،البتہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تو تَوبہ کرنى ہوگى۔
…… یہ رِسالہ ۲۴ رَمَضانُ الْمُبارَک (بعد نمازِ عصر) ۱۴۴۱ ھ مطابق 18مئی 2020 کو ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے،جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت)
…… الکامل لابنِ عدی،رقم:۱۱۴۱،عبدالرحمن القطامی بصری،۵/۵۰۵۔
…… دارمی،کتاب المناسک،باب من مات ولم یحج، ۲/ ۴۵،حدیث: ۱۷۸۵۔
……فتاویٰ ھندیة،کتاب الزکاة،الباب الثامن فی صدقة الفطر،۱/۱۹۲۔
…… نماز میں دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنے کو ”جلسہ“ کہتے ہیں ۔(بہار شریعت ، ۱ / ۵۱۸ ، حصّہ : ۳)
……فتاویٰ رضویہ،۶/۱۸۲ ماخوذاً۔
…… در مختار مع رد المحتار،کتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،مطلب قد یشار الی المثنی...الخ ،۲ / ۱۹۳۔
……اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : فرض کے تر ک میں پھر(دوبارہ نماز ) پڑھنا فرض ہے کہ پہلی(پڑھی ہوئی)نماز اصلاً(ہرگز)نہ ہوئی اور واجب بھول کر چھوٹا تو سجدۂ سہو کا حکم ہے اور قصداً (جان بوجھ کر) چھوڑا یا بھول کر چھوٹا تھا مگر سجدۂ سہو نہ کیا تو اِعادہ (نماز کو دوبارہ پڑھنا) واجب ہے اور سُنَّت کے تر ک میں سُنَّت اور مستحب کے تر ک میں مستحب ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۷ / ۳۰۶ )
……اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :عموماً دیکھا جاتا ہے کہ رُکوع سے ذرا سر اُٹھا یا اور سجدے کی طرف چلے گئے۔سجدے سے ایک بالِشت سر اُٹھایا یا بہت ہُوا ذرا(مزید) اُٹھالیا اور وہیں دوسرا سجدہ ہو گیا۔حالانکہ(رُکوع کے بعد )پورا سیدھا کھڑا ہونا اور(دو سجدوں کے درمیان کم ازکم ایک سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار) بیٹھنا چاہیے۔ اس طر ح(یعنی رُکوع وسجود کو ناقص طور پر ادا کرنے والا) اگر 60برس نماز پڑھے گا قبول نہ ہوگی۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۹۱)
…… بہار ِشریعت،۱/۳۲۶، حصہ:۲۔