30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حُبِّ مال اور دنیا سے بے رَغبتی کے بارے میں20 مَدَنی پھول
(1)دنیا کو دنیا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ” دَنِیَّہ یعنی گھٹیا “ ہے اور مال کو مال اس لئے کہتے ہیں کہ یہ مال دار کوٹیڑھاکردیتا ہے ۔ ( اللہ والوں کی باتیں، 7/16)
(2)مال کو مال اس وجہ سے(بھی) کہا جاتا ہے کہ وہ دِلوں کو مائِل کرتا ہے۔( اللہ والوں کی باتیں، 6/531)
(3)لوگوں کی رضا مَندی کی ایسی اِنْتِہا ہے جس تک نہیں پہنچا جاسکتا اور طَلَبِ دنیاکی بھی ایک انتہا ہے مگر اس تک بھی رَسائی نہیں ہو سکتی۔ ( اللہ والوں کی باتیں، 6/531) (یعنی سب لوگوں کو خوش رکھنا ممکن نہیں ہے اور ایسے ہی دنیا وی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔)
(4)بَدْمَزہ کھانا کھانا اور کُھْردَرا لباس پہننا دنیا سے بے رَغبتی نہیں بلکہ دنیا سے بے رَغبتی تو اُمّیدوں کا چھوٹا ہونا (یعنی موت کو پیشِ نظر رکھنا)ہے۔
( اللہ والوں کی باتیں، 6/531)
(5)اگر تمہیں کھانے سے صِرف پیٹ بَھرنے کی ضرورت ہو تو اس کے لئے سوال مَت کرو ۔اگر تمہیں نمک کی ضرورت ہو تو سوال مَت کرو اور یہ جان لو کہ جو روٹی تم نے کھانی ہے نمک مِلا کر اس کا آٹا گوندھ دیا گیا ہے اورتمہیں پانی پینے کی ضرورت ہو تو اپنے ہاتھوں کا استعمال کرو یہ پانی کے برتن کا کام دیں گے۔
( اللہ والوں کی باتیں، 6/526)
(6)مالدار بھی زاہد (دنیا سے بے رَغبت) ہو سکتا ہے جب کہ مصیبت پر صبر کرے اور نعمت پر شکر کرے۔
( اللہ والوں کی باتیں، 6/532)
(7)جب بندہ دنیا سے بے رَغبت ہو جاتا ہے تو اللہ پاک اس کے دل میں حِکمت بَھر دیتا ہے پھر اس حکمت کو اس کی زبان پر جاری فرماتا ہے اور اسے دنیا کے عُیُوب، اس کی بیماریاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع