30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گھر آئی دولت واپَس کر دی(واقِعہ)
عظیم بُزُرگ حضرتِ سُفیان ثَوری رحمۃُ اللہ علیہ کے بھائی حضرت ِمُبارَک بن سعید رحمۃُ اللہ علیہ ذِکْر کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ِسفیان ثَوری رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس دِرہم سے بھری ایک یا دوتھیلیاں لے کرآیا، اس کے والدآپ رحمۃُ اللہ علیہ کے دوست تھے اورآپ ان کے پاس بہت جایا کرتے تھے ، آنے والے نے عرض کی: ابوعبدُ اللہ (یہ حضرت سفیان ثوری رحمۃُ اللہ علیہ کی کنیت ہے )! کیا آپ کے دل میں میرے والدکی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ پاک تمہارے والدپر رحم فرمائے،وہ توایسے ایسے تھے (یعنی آپ نے اس کے والد کی تعریف کی) اس نے عرض کی: ابو عبدُ اللہ ! میں چاہتاہوں کہ آپ اِن دَرَاہِم کو لے لیجئے اور اپنے گھر پرخرچ کیجئے۔آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اس سے وہ دِرہم لے لیے اورجب وہ شخص اُٹھ کر وہاں سے نکلنے لگاتو آپ نے وہ تھیلی مجھے دیتے ہوئے فرمایا: مُبارَک! یہ اسے دے دو اور اس شخص سے فرمایا: اے میرے دوست کے بیٹے ! میں چاہتا ہوں کہ یہ مال تم لے لو۔ اس نے عرض کی: ابو عبد اللہ ! کیا آپ کو اس کے بارے میں کوئی شک ہے ؟ فرمایا: نہیں، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ تم لے لو۔ آپ نے اسے کئی مرتبہ کہا تو وہ اسے لے کر چلا گیا۔ جب وہ چلا گیا تو میں خود کو روک نہ سکا اور اپنے بھائی حضرت ِسُفیان رحمۃُ اللہ علیہ سے ناراض ہوتے ہوئےعرض کی : آپ پرافسوس ہے!آپ کا دل ہے یا پتّھر؟ کیاآپ کومُجھ پر رَحم نہیں آتا؟ کیاہمارے اوراپنے بچوں پر رَحم نہیں آتا؟اس کے علاوہ میں نے انہیں اوربھی بہت کچھ کہا، آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ ! اے مُبارَک! مطلب یہ کہ تم اس مال کومزے سے کھاؤ اور اس کا حِساب مُجھ سے ہو۔ ( اللہ والوں کی باتیں، 7/6) اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہو اور اُن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع