30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’میں آگے بڑھنے سے پہلے تم سے اجازت لینا بھول گیا تھا کیا تم میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو؟‘‘ سب نے عرض کی : ’’جی ہاں ! ہم سب راضی ہیں اور حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حواری (دوست) کی اقتدا میں نماز پڑھنے کو کون اچھا نہ سمجھے گا؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’میں نے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی قوم کا امام بنے اور وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں تو اس کا نماز پڑھانا جائز نہیں۔
(المعجم الکبیر، الحدیث : ۲۱۰، ج۱، ص۱۱۵)
پیارے اسلامی بھائیو! صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی عاجزی و انکساری پر قربان جایئے! حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ اس لئے نہیں فرمایا تھا کہ آپ کو لوگوں کے اعتراض کا خدشہ تھا بلکہ آپ نے تو احتیاطاً دریافت فرمایا تھا کہ کسی کو میرے نماز پڑھانے پر اعتراض تو نہیں ؟ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ جس کو محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جنت کی خوشخبری دی ہو لوگ اس کی اقتدا کو اچھا نہ سمجھیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنتقویٰ و پرہیز گاری کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور وہ ہمیشہ کوشش کرتے کہ سنت کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگیاں قران و سنت کی ترویج واشاعت میں صرف کر دیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کی کچھ پرواہ نہ کی۔ چنانچہ،
بعض صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے روایتِ حدیث کو قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت کاذریعہ بنایا اور بعض نے اپنی زندگیوں کو ہی اس طرح سرکار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کی اتباع کے سانچے میں ڈھال دیا کہ ان کے شب و روز کے معمولات لوگوں کو سنتوں پر عمل کی ترغیب دلایا کرتے۔ ایسے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناحادیث بیان کرنے میں بڑے محتاط تھے محض اس ڈر سے کہ بیان کرنے میں کچھ کمی بیشی نہ ہو جائے۔ اگر انہیں ذرہ برابر شک ہوتا کہ یہ الفاظ سرورِ دو جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نہیں ہیں تو وہ کبھی بیان نہ کرتے۔ چنانچہ،
پیرانہ سالی میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کہ اگر مجھے غلطی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور احادیث بیان کرتا۔
(سنن الدارمی، مقدمہ، باب اتقاء الحدیث، الحدیث : ۲۳۵، ج۱، ص۸۸)
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بھی ان جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم احادیث روایت کی ہیں۔ چنانچہ،
حضرت علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۸۵۵ھ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلق شرح ابو داؤد میں فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کل اڑتیس (38) احادیثِ مبارکہ مروی ہیں ان میں سے تین احادیث بخاری شریف میں اور چار مسلم شریف میں ہیں۔(شرح ابی داؤد للعینی، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلی، الحدیث : ۶۶۶، ج۳، ص۲۴۲)
جنگ جمل کے دوران گیارہ جمادی الاخریٰ ۳۶ھ (بروز جمعرات) مروان بن حکم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ٹانگ میں ایک تیر مارا جس سے خون کی رگ بری طرح کٹ گئی، جب اس کا منہ بند کرتے تو ٹانگ پھول جاتی اور اگر چھوڑتے تو کثرت سے خون بہنے لگتا۔ پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع