دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hazrat Sayyiduna Talha bin Ubaidullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ | حضرت سیدنا طلحہٰ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

book_icon
حضرت سیدنا طلحہٰ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

چڑھ کر محفوظ ہو جائیں  مگر وہ شہید ہو گئے۔ اس طرح ایک ایک کر کے تمام انصاری صحابہ  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی جانیں  آقا کے نام پر قربان کر دیں  اور سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کفار کو مزید آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے کفار پر ایسا حملہ کیا کہ انہیں  چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔ اور آخر کار کفارِ بد اطوار کو اپنے مذموم ارادے میں  کامیابی کی کوئی راہ نظر نہ آئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایک روایت میں  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود فرماتے ہیں  کہ کفار کے اس حملے میں  ایک شخص نے تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر وار کرنا چاہا تو میں  نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا جس کی وجہ سے میرا ہاتھ شل ہو گیا اور تکلیف کی شدت سے منہ سے آواز نکل گئی تو شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’اے کاش! تم بسم اللہ کہتے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے تو فرشتے تمہیں  اپنے پروں  پر اٹھا لیتے اور لوگ تمہیں  اپنی آنکھوں  سے آسمان میں  پرواز کرتا ہوا  دیکھ لیتے۔‘‘

(دلائل النبوۃ للبیھقی،  باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصحابہ علی القتال یوم احد الخ،  ج۳،  ص۲۳۶)

شجاعت کے ستر سے زائد تمغے :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ غزوۂ احد میں  جب ہم حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف متوجہ ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے جسمِ اطہر پر ستر سے زائد چھوٹے بڑے زخم ہیں  اور ان کی انگلیاں  بھی کٹ چکی ہیں۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم،  معرفۃ طلحۃ بن عبید اللہ،  الحدیث : ۳۶۹،  ج۱،  ص۱۱۲)

پیارے اسلامی بھائیو! میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نام پر مر مٹنے میں  جو مزہ ہے وہ دنیا کی دوسری کسی بھی شے میں  نہیں ، یہی وجہ ہے کہ انصاری صحابہ پروانوں  کی طرح رسالت کی شمع پر اپنی جانیں  وار کر رہتی دنیا تک اپنے نقوش چھوڑ گئے۔

جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اعلیٰحضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا الشاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَحْمٰن نے حدائق بخشش میں  اپنے جذباتِ عشق کا اظہارکچھ یوں  فرمایا ہے :  

کروں  تیرے نام پہ جاں  فدا، نہ بس ایک جاں  دو جہاں  فدا

دو جہاں  سے بھی نہیں  جی بھرا، کروں  کیا کروڑوں  جہاں  نہیں

نذر پوری کرنے والے :

پیارے اسلامی بھائیو! وہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجنہیں  کسی وجہ سے غزوۂ بدر میں  جہاد کا موقع نہ مل سکا تو انہوں  نے یہ عہد کر لیا کہ اب اگر انہیں  سیِّدعالم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر جان قربان کرنے کی سعادت ملی تو وہ ثابت قدم رہیں  گے اور لڑتے رہیں  گے یہاں  تک کہ شہید ہو جائیں۔ ان عہد کرنے والوں  میں  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی، سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ، سعید بن زید، سیِّدُنا امیر حمزہ اور سیِّدُنا مصعب بن عمیر عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوغیرہ بھی تھے۔ چنانچہ،

اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے اس عہد کو اس طرح بیان فرمایا ہے :  

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳)(پ۲۱،  الاحزاب : ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  مسلمانوں  میں  کچھ وہ مرد ہیں  جنہوں  نے سچّا کردیا جو عہد اللہ  سے کیا تھا تو ان میں  کوئی اپنی منت پوری کر چکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن