30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے مال ودولت حاصل کرتاہے وہ اللہ 1 سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اِس پر غضب ناک ہوگا۔‘‘ { 1 }
مال ’’خَیْر‘‘ ہے:
مال و دولت اگر شرعی تقاضوں کے مطابق ہو اور اس کا استعمال بھی خیر کے کاموں میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ اللہ 1 نے خود قرآن پاک میں مال کو خیر فرمایا ہے ۔چنانچہارشادفرمایا:اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ (پ۲،البقرۃ:۱۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر کچھ مال چھوڑے تو وصيت کر جائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ مال ہی ہے جس کے ذريعے اللہ 1 اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتاہے احسان فرماتا ہے۔ اگر تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ مالداری بھی ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى‘‘ یعنی متقین کے غنی ہونے میں حرج نہیں۔{ 2 } اور ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام
{1 }…شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزہد وقصر الامل، الحدیث: ۱۰۳۷۵، ج۷، ص۲۹۸
{ 2 }…سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات،
باب الحث على المكاسب، الحدیث:۲۱۴۱، ج۳، ص۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع