دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hazrat Sayyiduna Abdur Rehman bin Auf | حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ

book_icon
حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ

علامہ عبد الرؤوف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشادفرماتے ہیں :’’غنی کی دو قسمیں ہیں غَنِی بِالشَّئ وَالْمَال یعنی جومال ودولت حاصل کرکے مالدار ہوجائے۔ اور غَنِی عَنِ الشَّئ یعنی جومال ودولت سے بے پرواہو،اسے کسی شے کی حاجت و طلب نہ ہو۔{ 1 }

حقیقی غنی کون ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرچہ مال ودولت والا شخص بھی غنی کہلاتا ہے لیکن حقیقی غنی وہی ہے جومال ودولت سے بے پرواہو،مال ودولت کی کثرت کانام ’’غَنَا‘‘نہیں بلکہ’’غَنَا‘‘ تودل کے غنی ہونے کا نام ہےچنانچہ،

حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرْضِ وَلٰكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ‘‘یعنی ْغِنَىمال و اسباب کی کثرت کا نہیں بلکہ دل کے غنی ہونے کا نام ہے۔{ 2 }

معلوم ہوا کہ’’ غَنَا‘‘دو طرح کی ہے یعنی کوئی مال واسباب کی کثرت کے سبب غنی و مالدار کہلاتا ہو تو ضروری نہیں حقیقت میں بھی مالدار ہو کیونکہ حقیقی غنی تو وہ ہے جس کادل نورِالٰہی سے منور ہو،اس کے دل میں مال ودولت کی محبت کے

{1 }…فیض القدیر، تحت الحدیث:۳۳۹۹، ج۳، ص۳۷۰

{2 }…صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب الغنی غنی النفس، الحدیث:۶۴۴۶، ج۴، ص۲۳۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن