30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ہاں۔ تو آپ نے والدہ کی طرف سے غلام آزاد کر دیا۔{ 1}
اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
انکے ٹکڑو ں سے اعزاز پا کر تاجداروں کی صف میں کھڑا ہوں
آپ کی پیدائش:
حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عمر میں محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تقریباً دس سال چھوٹے تھے۔اس لیے کہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عام الفیل کے دس سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے۔ {2 } جبکہ باذنِ پروردگار دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعۂ فیل کے سال دنیامیں تشریف لائے۔
اولاد و ازواج:
حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےکم وبیش ۱۵ نکاح فرمائے، جن سے آپ کے ۲۰بیٹے اور ۸ بیٹیاں ہوئیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ازواج کے نام اور ان سے پیداہونے والی اولاد کی تفصیل کچھ یوں ہے:
{ 1 }…الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،کتاب النساء، الرقم ۱۱۳۸۰ الشفاء بنت عوف، ج۸، ص۲۰۳
{ 2
}…الطبقات الکبری،ومن بنی زھرۃ بن کلاب بن مرۃ، ج۳، ص۹۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع