30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ربُّ العلمین میں یوں دعاکی:’’اے میرے مولی1! اگرواقعی امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بعدمجھے خلافت کے لیے منتخب فرمایا ہے تومجھے ان سے پہلے ہی موت عطافرما۔‘‘چنانچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور چھ ماہ کے اندر اندر حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےپہلے ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلافت سے بیزاری کااظہارکرتےہوئےیوں ارشادفرمایا:’’تم دھاری دار خنجر میرے گلے پررکھ کرتیزی سے چلادو،مجھے یہ بات امیر المومنین بننے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ { 1}
اگریہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہوتو۔۔۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولاتوایسی ذمہ داری سےدوررہنے ہی میں عافیت ہے لیکن کسی کویہ اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہوتواسے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس معاملے میں اللہ1کی مدد طلب کرے اوررضائے الٰہی 1 پر راضی رہے، نیز اپنے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتے ہوئے عدل و انصاف سے کام لے، نیز احکامِ شرعیہ کے مطابق اس ذمہ داری کو ادا کرے۔ چنانچہ ایسے شخص کے لیے تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے:
{1 }…تاریخ مدینہ دمشق،عبدالرحمن بن
عوف،ج۳۵،ص۲۹۱،۲۹۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع