30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: اے ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!کیاتم نے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیاکسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اس مسئلہ کے بارے میں کچھ سناہے کہ’’جب نمازی کوتعداد ِرکعات میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟‘‘تو حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نفی میں جواب دیا۔ اتنے میں حضرت ِسیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے توامیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہی سوال اُن سے دہرایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: جی ہاں !بالکل میرے پاس اسکا جواب ہے۔ حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا!ہاں واقعی۔چلو جلدی بتاؤ کہ بے شک آپ ہم میں انصاف پسند اور قابلِ اعتماد ہیں توحضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحدیث پاک بیان کی کہ’’جب تم میں سے کسی کو تعدادِ رکعات میں شک ہوجائے کہ دو ہوئیں یا ایک؟ تو وہ ایک شمار کرے، یوں ہی دوسری،تیسری میں شک ہوجائے تو دوسری۔یاتیسری اورچوتھی میں شک ہوجائے تو تیسری گمان کرے۔مطلب یہ کہ جب بھی زیادتی میں گما ن ہو تو ایک کم شمار کرے اور پھر بقیہ رکعات مکمل کرکے آخر میں سجدۂ سہو کرلے۔‘‘{ 1 }
{ 1 }…السنن
الکبرٰ ی للبیھقی ، کتاب الصلوۃ ، باب من شک فی صلوتہ، الحدیث: ۳۸۰۴ ،ج ۲،ص۴۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع