30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے
شمعٔ نبوت کے اس پروانے نے جب یہ سناکہ جانِ جہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرما گئے ہیں تویہ پختہ ارادہ کر لیا کہ اہلِ جہاں کو بھی اس جہانِ آب و گل میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ پس یہ ارادہ باندھا اور تمام اہلِ مکہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کا جذبہ لے کر اس جواں مرد نے تلوار نکالی اور اس حال میں اہلِ مکہ کی طرف دوڑ پڑا کہ جسم پر مناسب لباس بھی موجود نہ تھا، بس جس حالت میں تھا چل پڑا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا :
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشا لبِ بام ابھی
یہ نوجوان ابھی کچھ دور ہی پہنچاتھاکہ سامنے سے دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رخِ زیبا کا دیدار ہو گیا اور اس کی جان میں جان آئی۔ شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس نوجوان کی یہ حالت و کیفیت دیکھ کر سبب دریافت فرمایا تو اس نےشیطان کی کارستانی کا سارا ماجرا عرض کر دیا۔ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سب سن کر دریافت فرمایا: تم کیا کرنے والے تھے؟ عرض کی: بس میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ بغیر کسی تمیز کے اہلِ مکہ کو تہِ تیغ (تلوار سے قتل) کرتا چلا جاؤں گا، خون کی نہریں بہا دوں گااور کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا۔ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس نوجوان کاعشق و مستی سے سرشار جذبہ دیکھ کر تبسم فرمایا اور نہ صرف اپنی چادرمبارک عطا فرمائی بلکہ انہیں اور ان کی تلوار کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جان قربان کرنےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دشمنوں کی جان لینے کا جذبہ رکھنے والے اس بہادر نوجوان کو آج ساری دنیا حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام سے جانتی ہے۔
کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
سیّدُنا زُبَیر بِن عَوَّامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تَعَارُف:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 346 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’کراماتِ صحابہ‘‘ صَفْحَہ 120 پر شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْغَنِی حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تعارف کچھ یوں ذکر فرماتے ہیں کہ یہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے فرزند ہیں ۔ اس لئے یہ رشتہ میں شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت سیدہ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھتیجے اور حضرت ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے داماد ہیں۔ یہ بھی عشرۂ مُبَشرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے ہیں جن کو حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےجنّتی ہونے کی خوشخبری سنائی۔([2])
1 الریاض النضرۃ، الباب السادس فی ذکر مناقب الزبیر بن العوّام، الفصل السادس فی ذکر خصائصہ، ج۲، ص۲۷۴، تاریخ مدینۃ دمشق، ج۱۸، ص۳۴۴
[2] کرامات صحابہ، ص۱۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع