30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں مسجدِ نبوی شریف میں نماز پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر استفسار فرمایا: ”تم میں سے کون آج رات جنّات کے وفد سے ملاقات کے لیے میرے ساتھ چلے گا؟“ سب ہی خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی سوال تین بار دہرایا مگر کوئی جواب نہ ملا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے دامنِ رحمت میں لے کر چلنے لگے، طویل سفر طے کرنے کے باوجود سرِ راہ کچھ محسوس نہ ہوا، ہم اس قدر دور پہنچ گئے کہ مدینے کے باغات پیچھے رہ گئے اور مقام بوار آ گیا۔ اچانک وہاں کچھ لوگ نظر آئے جو نیزے کی مانند دراز قد اور پاؤں تک لمبے کپڑے پہنے ہوئے تھے، انہیں دیکھتےہی مجھ پر ہیبت طاری ہو گئی یہاں تک کہ میرے قدم خوف کے مارے لرزنے لگے۔ پھر جب ہم اِن کے مزید قریب پہنچے تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مبارک پاؤں کے ذریعے زمین پر ایک گول دائرہ کھینچ کر مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اس کے درمیان بیٹھ جاؤ۔‘‘ جیسے ہی میں درمیان میں بیٹھا سارا خوف جاتا رہا، نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مزید آگے تشریف لے گئے اور جنات پر قرآنِ کریم کی تلاوت پیش کی اور صبح نمودار ہونے کے وقت واپس میرے پاس تشریف لائے اور مجھے ساتھ چلنے کو فرمایا، میں ساتھ ساتھ چلنے لگا، اسی دوران ہم بالکل اجنبی جگہ پہنچ گئے تو وہاں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: ’’ غور کرو اور دیکھو تمہیں پہلے نظر آنے والی چیزوں میں سے کیا نظر آرہاہے؟‘‘ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! میں بہت بڑی ایک جماعت دیکھ رہاہوں۔سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دستِ اقدس سے زمین کو نرم فرما کر کچھ لے کر ان کی طرف پھینکا اور پھر ارشاد فرمایا: ’’یہ قومِ جنات کا ایک وفد تھا جو راہِ راست پر آ گیا۔ ‘‘([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پتا چلا کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ فیض سے حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں نے وہ کچھ دیکھا جو دوسروں کو نظر نہ آتا تھا۔
سرِ عرش پر ہے تیری گزر دلِ فرش پر ہے تری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں ([2])
بیان حدیث میں اِحتیاط:
حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی:آپ احادیثِ مبارکہ کیوں نہیں بیان کرتے جیسا کہ دوسرے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کرتے ہیں ؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا: خدا کی قسم! میں جب سے اسلام لایا ہوں ہمیشہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہا ہوں مگر (احادیثِ مبارکہ بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے: ”جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“([3])
حافظ ابن عساکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تاریخ مدینہ دمشق المعروف تاریخ ابن عساکر میں فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع