30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللهِ١ؕ (پ۲، البقرہ:۲۰۷)([1])تلاوت کی۔([2])
اللہ اللہ! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا جذبۂ عشقِ مصطفےٰ مرحبا صد کروڑ مرحبا! آخری سانسیں ہیں مگر بجائے اہل و عیال یا مال و متاع کے فقط خواہش کی تو کس کی صرف دورکعت نماز کی۔
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اے کاش! ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کروڑو یں حصے کا جز ہی مل جائے، وہ تلواروں کے سائے میں ، تختۂ دار سامنے ہونے کے باوجود عشقِ مصطفےٰ اور فراقِ مجتبےٰ میں بے قرار ہو رہے ہیں ، موت کا بھی کوئی ڈر نہیں اور ایک ہم ہیں کہ نوکِ زبان تک تو عاشق ہیں مگر حال یہ ہے کہ محبت ِ رسول میں زلفیں رکھنا تو درکنار، داڑھی شریف کو اپنے ہاتھوں سے کاٹ کر گندی نالیوں میں بہا دیتے ہیں۔ نماز ہمارے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور ہم ہیں کہ محبت رسول میں تہجد تو درکنار نمازِ فجر میں بھی اُٹھا نہیں جاتا۔ کاش! اللہ عَزَّوَجَلَّ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے صدقے ہمیں سچا عاشقِ رسول بنا دے۔
میری آنے والی نسلیں تیرے عشق ہی میں مچلیں
اِنہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے
سیِّدُنا ذو النورین کی گواہی:
ایک سال امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مرضِ نکسیر کا عارضہ لاحق ہوا جو اس قدر شدت پکڑگیا کہ حج کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ بن گیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی بگڑتی ہوئی صحت کو بھانپتے ہوئے اپنی وصیت بھی تحریر فرما دی۔ اِسی دوران قریش کا ایک شخص حاضرِ خدمت ہو کر عرض گزار ہوا: ”عالیجاہ! اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامْزد کر دیجئے۔“ اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاستفسار فرمایا: ’’ کیا یہ فقط تمہاری رائے ہے یا قوم کا مطالبہ ہے؟‘‘ عرض کی: ’’قوم کا مطالبہ ہے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’ تمہاری رائے میں کون منصبِ خلافت کے لائق ہے؟‘‘ اس پر اُ س نے کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر میں حضرتِ حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی حاضرِ خدمت ہو کر قوم کایہی مطالبہ دہرایا تو حضرتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’کس کو بناؤں ؟‘‘ جواب میں حضرتِ حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی خاموش رہے تو امیر المومنین نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ قوم کی رائے شاید حضرت زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حق میں ہو گی۔ اِس پر حضرتِ حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے عرض کی: ”بالکل قوم کی رائے انہی کے حق میں ہے۔“ تو حضرتِ عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جہاں تک مجھے علم ہے وہ قوم کے بہترین آدمی ہیں اور رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کے ساتھ بہت محبتتھی۔“([3])
جنات کے وفد سے ملاقات:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع