30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تجھے سامنے ہی پاتا تو کچھ اور بات ہوتی
کیوں مدینہ چھوڑ آیا تجھے کیا ہوا تھا عطارؔ
وَہیں گھر اگر بساتا تو کچھ اور بات ہوتی
اسی دوران کفار نے نیزوں کے پے درپے وار کرکے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کر دیا۔ اُدھر عاشق کی سچی تڑپ کام آئی اور سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کی حالت ِ زار کی خبر ہو گئی۔
فریاد اُمتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو
پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو کوئی خبیب کا جسدِ خاکی سولی سے اُتار کر لائے گا اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام نے سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دلِ بیقرار کی اس پکار پر فوراً لبیک کہتے ہوئے عرض کی: ”یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں اور میرے ساتھی حضرت مقداد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس سعادت کے لیے حاضر ہیں۔“جب مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یہ دونوں سفیر دن رات سفر کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کفار بد اطوار نے تختۂ دار کے گرد چالیس نیام بردار پہرے دار کھڑے کر رکھے تھے اور حضرتِ خبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسدِ عالی چالیس دن گزرنے کے بعد بھی بالکل ترو تازہ تھا۔
جبیں میلی نہیں ہوتی دھن میلا نہیں ہوتا
غلامانِ محمد کا کفن میلا نہیں ہوتا
حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑی ہوشیاری سے عاشقِ مصطفےٰ کے لاشہ مبارک کو گھوڑے پر رکھا اور چل پڑے مگر اسی اثنا میں ستر کفارِ ناہنجار نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گھیر لیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیسے ہی مجبوراً جسد خاکی کو زمین پر رکھا تو عاشق کے فراق میں پہلے سے بے تاب زمین نے لاش کو ہمیشہ کے لئے اپنی آغوش میں لے لیا یہی وجہ ہے کہ حضرت خبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ”بَلِیْعُ الْاَرْض“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ پس حضرتِ زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کفار کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اے گروہِ قریش! تمہیں ہمارے خلاف تلوار اٹھانے کی جراءت کیسے ہوئی؟ پھر اپنا عمامہ سر سے اتار کر فرمانے لگے: مجھے پہچانو! میں زُبَیر بِن عَوَّام ہوں ، میری والدہ حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی حضرتِ صفیہ ہیں اور میرے رفیق مقداد اسود ہیں۔ ہم دونوں اپنے شکار کو پل بھر میں دبوچنے والے شیر ہیں ، اب تمہاری مرضی چاہو تو لڑ لو اور چاہو تو ہمارا راستہ چھوڑ کر واپس اپنی راہ کو پلٹ جاؤ۔ کفار نے دونوں کا راستہ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے میں ہی عافیت جانی۔ جب یہ دونوں بارگاہِ مصطفےٰ میں حاضر ہوئے تو حضرتِ جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے حاضرِ خدمتِ اقدس ہو کر ان دونوں کے حق میں یہ بشارتِ عظمیٰ سنائی: ”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آج تو فرشتے بھی آپ کے ان دو ساتھیوں پر فخر کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ آیتِ مبارکہ : وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع