30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے لیکن اس میں سے ایک درہم بھی آپ کے گھر میں داخل نہ ہوتا بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تمام کا تمام مال صدقہ کردیا کرتے تھے۔([1])
ایک بار حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپناایک گھر چھ لاکھ میں فروخت کیاتو آپ سے عرض کی گئی: ”اے ابو عبد اللہ! آپ کو تو نقصان ہو گیا۔“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں ، خدا کی قسم! تم جان لوگے کہ میں نے نقصان نہیں اٹھایا کیونکہ میں نے یہ مال راہِ خدا میں دے دیا ہے۔([2])
فتح مکہ کے موقع پر میسرہ کے سالار:
رمضان المبارک ۸ ھ میں فتح مکۂ مکرمہ کے موقع پر حضرتِ زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکرِ اسلام کے مَیْسَرَہ (فوج کے بائیں بازو) کے سالار تھے اور حضرتِ مقداد بن اسود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمَیْمَنَہ(فوج کے دائیں بازو) کے سالار تھے۔([3])
غزوۂ بدر کے شہسوار :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے اور ان میں سے ایک گھوڑے پر حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سوار تھے۔ ([4])
مالِ غنیمت میں حصہ:
حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے (مالِ غنیمت سے) چار حصے مقرر تھے، دو آپ کے گھوڑے کے سبب، ایک بذاتِ خود جہاد میں شرکت کرنے اور چوتھا قرابت داری یعنی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پھوپھی زاد ہونے کی وجہ سے ملتا تھا۔([5])
سرکار کے بلاوے پر لبیک کہنے والے:
قرآنِ پاک میں ہے:
اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ﳍ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ(۱۷۲) (پ۴، ال عمران : ۱۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ اُنہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے۔
ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے بھانجے حضرت عروہ سے اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے میرے بھانجے! تمہارے نانا جان یعنی حضرتِ ابوبکر صدیق اور تمہارے والد حضرتِ زبیر بن عوام بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب غزوۂ اُحد میں مشرکین کی جانب سے سخت صدمہ اٹھانا پڑا تو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ دوبارہ حملہ نہ کر دیں۔ چنانچہ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کون ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع