30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ارشاد فرمایا تھا کہ بنی قریظہ کی خبریں کون لائے گا؟ پس میں نے یہ خدمت سرانجام دی اور جب واپس بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لئے اپنے والدین کریمین کو جمع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : فِدَاکَ اَبی وَ اُمی۔ یعنی اے زبیر تم پر میرے ماں باپ قربان۔([1])
دین کا ستون:
ایک بار امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی سے کوئی عہد کرتا یا اپنے بعد مال واسباب چھوڑتا تو زُبَیر بِن عَوَّام کو ان کا حقدار بنانا پسند کرتا کیونکہ وہ دین کا ایک ستون ہیں۔([2])
کریم الناس:
حضرت ابو اسحاق سَبِیْعِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مجلس میں موجود بیس سے زائد صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پوچھا کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں کریم الناس (لوگوں میں سب سے زیادہ معزز) کون تھا؟ تو سب نے یہی جواب دیا کہ بارگاہِ نبوت میں حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سب سے معزز تھے۔([3])
دیانت داری:
امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنی، سیِّدُنا مقداد، سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف اور سیِّدُنا عبد اللہ ابن مسعود سمیت دیگر سات جلیل القدر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی امانت و دیانت کے سبب انہیں اپنے بعد اپنے مال کا والی مقرر کیا۔ پس حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑی دیانتداری کے ساتھ ان کے مالوں کی حفاظت فرماتے اور ان کی اولاد پر اپنی کمائی سے خرچ کیا کرتے۔([4])
کامیاب تاجر:
حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ انتہائی کامیاب تاجر تھے ، ایک بار ان سے کامیاب تاجر ہونے کا راز پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں نے کبھی بِن دیکھے کوئی چیز نہ خریدی اور کم نفع کو کبھی رد نہ کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے برکت سے نواز دیتا ہے۔([5])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس میں ہمارے ان بھائیوں کے لیے نصیحت ہے جو ہر وقت زیادہ سے زیادہ نفع کے حصول کی تلاش میں رہتے ہیں اور یوں بے جا نفع حاصل کرنے کی کوشش میں مسلمانوں کے لیے مزید پریشانی اور اپنے لیے بے برکتی کا سامان کرتے ہیں۔
صدقہ وخیرات:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک ہزار غلام تھے جو آپ کوزمین کی پیداوار اور فدیہ وغیرہ دیا کرتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع