30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِنہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے
جنّت کی بشارت:
امام ابو عیسیٰ ترمذی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی(مُتَوَفّٰی ۲۷۹ھ) نے ترمذی شریف میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد، سعید اور ابو عبیدہ بن جراح (رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) سب جنتی ہیں۔([1])
دنیا و آخرت کے حواری:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جانثاری و وفا شعاری میں اپنی مثال آپ تھے لیکن بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی انفرادی خصوصیات کی وجہ سے انہیں بارگاہِ نبوت سے مختلف اعزازات بھی ملے جن پر بلاشبہ رشک کیا جا سکتا ہے۔ پس اگر یہ پوچھا جائے کہ صدیق کون ہیں ؟ تو ہر ایک کی زبان پر ایک ہی نام آئے گا: امیر المومنین سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ فاروق کون ہیں ؟ تو فوراً امیر المومنین سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام زبان پر آئے گا اور اگر کوئی پوچھے کہ ذو النورین کون ہیں ؟ تو امیر المومنین سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سوا کسی کا نام نہیں لیا جائے گا اور اگر یہ سوال ہو کہ ابو تراب، حیدرِ کرار اور شیرِ خدا کون ہیں ؟ تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے علاوہ کسی اورکا نام زبان پر نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ ذرا یہ تو بتائیے کہ کیا حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں (جانثار ساتھیوں ) کی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھی حواری ہیں ؟ توبلا جھجھک بتا دیجئے کہ ہاں ! ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حواری بھی ہیں۔ چنانچہ،
بخاری شریف میں حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:”ہر نبی کے حواری ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔“([2])ایک روایت میں ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جمع کر کے ارشاد فرمایا کہ آج رات میں نے تم سب کے جنت میں مقام و مرتبہ کا مشاہدہ کیا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُنا ابو بکر صدیق ، سیِّدُنا عمر فاروق ، سیِّدُنا عثمانِ غنی ، سیِّدُنا علی المرتضیٰ ، سیِّدُنا طلحہ، سیِّدُنا زبیر بن عوام اور سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا جنت میں مقام ومرتبہ بیان کیا اور حضرت طلحہ و زبیر بن عوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: ”اے طلحہ و زبیر! ہر نبی کے حواری ہیں اور میرے حواری تم دونوں ہو۔ “([3])
جنتی پڑوسی:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع