30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمیان دو زخم آئے اور ایک زخم پہلے سے موجود تھا جو کہ غزوۂ بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے حضرت عروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ وہ زخم اتنے گہرے تھے کہ میں بچپن میں ان میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔(؎[1])
راہِ خدا میں زخم:
حضرت حفص بن خالد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ موصل سے ایک بڑی عمر کے بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ میں ایک سفر میں حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ تھا۔ ایک چٹیل میدان میں جہاں دور دور تک پانی تھا نہ گھاس اور نہ ہی کوئی انسان۔ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نہانے کی ضرورت پیش آ گئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ نہانے کے لئے ذرا پردے کا انتظام کر دو۔ میں نے ان کے لئے پردے کا انتظام کیا، اچانک میری نظر (دورانِ غسل) ان کے جسم پر پڑ گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے سارے جسم پر تلوار کے زخموں کے نشانات ہیں ، میں نے ان سے عرض کی: میں نے آپ کے جسم پر زخموں کے جتنے نشانات دیکھے ہیں کسی کے جسم پر آج تک نہیں دیکھے۔ فرمایا: کیا آپ نے دیکھ لئے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ایک ایک زخم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں رہتے ہوئے لگا ہے۔“([2])
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان راہِ خدا میں کیسی کیسی تکالیف برداشت کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرت کے اس گوشے سے ہمیں یہ مدنی پھول ملتا ہے کہ مدنی قافلوں میں سفر کرتے ہوئے سامان چوری ہونے یا کسی چوٹ کے لگنے یا مچھروں کے کاٹنے کے سبب کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ ے تو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر بے صبری کا مظاہرہ کر کے اپنا ثواب ضائع نہ کریں بلکہ اپنا ذہن یوں بنائیں کہ میری یہ مصیبت صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی راہِ خدا کی آزمائشوں کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ یوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ صبر کر کے اجر کمانا آسان ہو جائے گا۔
واعظِ قوم کی پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صا حب اوصاف حجازی نہ رہے
اولاد :
حضرت سیِّدُنا زُبَیربن عَوَام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف اوقات میں کل نو شادیاں کیں مگر اولاد صرف چھ ازواج سے ہے۔ چنانچہ، (1) حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق سے عبد اللہ …عروہ … منذر … عاصم … مہاجر …خديجة الكبرى …ام حسن…
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع