30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرشار حضرت سیِّدُنا محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس دشمن اسلام کا غرور خاک میں ملانے کے لیے نکلے اور اسے جہنم کی وادیوں کی سیر کے لئے سفر آخرت پر روانہ کر دیا۔ پھر یہود کے ایک اور نامی گرامی طاقتور پہلوان نے میدان میں اتر کر دعوتِ مبارزت دی، یہودیوں کے اس پہلوان کا نام یاسر تھا، یہ بڑا ہی ماہر نیزہ باز تھا جس کی شہرت بڑی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی لاف زنی (شیخی، خود ستائی) کا منہ بند کرنے کے لئے جب شیرِ خدا سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم میدانِ کارزار میں قدم رکھنے لگے تو حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’اے علی! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ اس ناہنجار کا سر قلم کرنے کے لئے میں ہی کافی ہوں بس آپ مجھے اجازت دیں۔‘‘پس حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرتِ زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بات مان لی۔ جب یاسر پہلوان اپنے چھوٹے سے نیزے کو ہلاتا اور لوگوں کو ہنکاتا غرور و تکبر سے پھنکارتا آگے بڑھا تو حضرتِ زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس کا غرور و نخوت سے بھرا سر پاؤں تلے کچلنے کے لئے میدانِ کارزار کی جانب بڑھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے جب یہ دیکھا کہ ان کا لختِ جگر ہاتھی نما یہودی سے نبرد آزما ہونے کے لئے بڑھ رہا ہے تو عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا میرا بیٹا اس مغرور یہودی کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرے گا؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اس کی کیا مجال جو آپ کے بیٹے کا بال بھی بیکا کر سکے، یقیناً آپ کا جگر گوشہ ہی اس ہاتھی کو جہنم رسید کرے گا۔ چنانچہ، حق و باطل کے اس معرکے میں حضرتِ زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کمالِ شجاعت و مہارت سے اس یہودی کو واصل جہنم کر دیا۔ اس پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خوش ہو کر ارشاد فرمایا: ’’ میرے چچا اور ماموں تم پر قربان۔ ‘‘ نیز فرمایا: ’’ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری (وفادار دوست) ہوتا ہے اور زبیر میرے حواری اور میرے پھوپھی کے بیٹے ہیں۔([1])ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب یاسر پہلوان کو واصلِ جہنم کر کے لوٹے تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمالِ محبت و شفقت سے آگے بڑھ کر آپ کو گلے لگا لیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔([2])
سب سے زیادہ بہادر:
ایک بار امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ایک شخص نے استفسار کیا: ”اے ابوالحسن! لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟“ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وہ جو چیتے کی طرح غضب ناک اور شیر کی طرح جھپٹنے والا ہے۔([3])
زخمی جسم:
جنگ یرموک (رجب المرجب ۱۵ھ) میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: آپ آگے بڑھ کر حملہ کیوں نہیں کرتے تا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر حملہ کریں ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: اگر میں نے حملہ کیا تو تم میرا ساتھ نہ دے سکو گے۔ پس ایسا ہی ہوا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دشمن پر ایسا حملہ کیا کہ ایک سرے سے داخل ہوئے تو صفیں چیرتے ہوئے دوسرے سرے سے جا نکلے۔ واپسی میں دشمنوں نے آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور لڑتے ہوئے آپ کو کندھوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع