30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عبادہ بن حمزہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیلا عمامہ شریف باندھ رکھا تھا اور اس کا شملہ اپنے منہ پر ڈالے ہوئے تھے، جب فرشتے نازل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ بھی اپنے سروں پر پیلے رنگ کے عمامہ کا تاج سجائے ہوئے ہیں۔([1])
باکرامت برچھی:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 346 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ کراماتِ صحابہ‘‘ صَفْحَہ 121 پر ہے:جنگ بدرمیں سعید بن العاص کا بیٹا’’عبیدہ‘‘سر سے پاؤں تک لوہے کا لباس پہنے ہوئے کفار کی صف میں سے نکلا اورنہایت ہی گھمنڈاورغرورسے یہ بولا کہ اے مسلمانو! سن لو کہ میں ’’ابو کرش‘‘ہوں ۔ اس کی یہ مغرورانہ للکارسن کر حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جوشِ جہاد میں بھرے ہوئے مقابلے کے لیے اپنی صف سے نکلے تو یہ دیکھا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو لوہے میں چھپاہوا نہ ہو۔ آپ نے تاک کر اس کی آنکھ میں اس زور سے برچھی ماری کہ برچھی اس کی آنکھ کو چھیدتی ہوئی کھوپڑی کی ہڈی میں چبھ گئی اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرااورفوراًہی مرگیا۔حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اس کی لاش پر پاؤں رکھ کر پوری طاقت سے برچھی کو کھینچا تو بڑی مشکل سے برچھی نکلی لیکن برچھی کا سرا مڑکر خم ہوگیا تھا۔یہ برچھی ایک باکرامت یادگار بن کر برسوں تک تبرک بنی رہی۔ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ برچھی طلب فرمالی اوراس کو اپنے پاس رکھا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پاس یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہی اوریہ حضرات اعزاز و احترام کے ساتھ اس برچھی کی خاص حفاظت فرماتے رہے۔ پھر حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فرزندحضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس آگئی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں جب بنو امیہ کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی نے ان کو شہید کر دیا تو یہ برچھی بنوامیہ کے قبضہ میں چلی گئی۔ پھر اسکے بعد لاپتہ ہو گئی۔([2])
غزوۂ اُحد میں بہادری:
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوۂ احد (شوال ۳ ھ ) کے موقع پر ایک کافر کو بڑھ چڑھ کر حملہ کرتا ملاحظہ فرمایا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اسے ٹھکانے لگانے کا حکم دیا۔ پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چیتے کی پھرتی سے اس کی طرف بڑھے اور شیر کی طرح اس پر جھپٹ پڑے، دونوں میں زبردست معرکہ ہوا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے دونوں زمین پر گر گئے مگر حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کمال پھرتی سے اس کے سینے پر سوار ہو کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ واپسی پر سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا پرتپاک استقبال کیا اور ان کی بے مثل شجاعت پر انعام میں بوسہ سے نوازا اور خوش ہو کر فرمایا: ’’میرے چچا اور ماموں سب تم پر فدا ہوں۔‘‘([3])
یہودی پہلوانوں کا غرور خاک میں مل گیا:
اُسَیر یہودیوں کا انتہائی طاقتور اور مشہور پہلوان تھا، غزوۂ خیبر کے موقع پر طاقت کے نشے میں چور جب میدانِ کارزار میں اتر کر چیخ چیخ کر شمع رسالت کے پروانوں کو دعوتِ مبارزت دینے لگا یعنی لڑائی کے لئے حریف طلب کرنے لگا تو جاں نثاری کے جذبے سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع