30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس قدر دکھ ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اور انہیں یہ خوف دامنگیر ہوا کہ اگر وہ شخص حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر غالب آ گیا تو ممکن ہے کہ مسلمانوں کی پاسداری نہ کرے۔ چنانچہ، جب حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس باغی کیسرکوبی کے لئے روانہ ہوئے اور دریائے نیل کے دوسرے کنارے پر جہاں اس باغی سے آمنا سامنا ہونا متوقع تھا، جا ٹھہرے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپس میں مشورہ کیا کہ دریا کی دوسری جانب جا کر کسی شخص کو وہاں کے حالات معلوم کر کے آنا چاہئے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جو اس وقت تمام مہاجرین میں سب سے کم عمر تھے، نے خود کو اس خدمت کے لئے پیش کرتے ہوئے عرض کی: اس خدمت کی بجاآوری کی سعادت مجھے سونپی جائے۔ تو سب ان کی کم عمری پر متعجب ہوئے مگر ان کے جذبے کو سراہا اور آخرکار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اصرار پر انہیں بھیجنے پر رضا مند ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بحفاظت دریا کے دوسرے کنارے تک تیر کر پہنچانے کے لئے یہ ترکیب بنائی گئی کہ ایک مشکیزے میں ہوا بھری گئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس مشکیزے کے ذریعے تیر کر آسانی سے دریا کے دوسری طرف پہنچ گئے اور واپس اس حال میں لوٹے کہ خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھےاورسب کویہ خوشخبری دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فتح عطا فرمائی ہے۔ یہ سنکر سب اس قدر خوش ہوئے گویا اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس کم سن مہاجر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار ہجرت کاحکم ہوا اور مسلمانوں نے مکہ مکرمہ کو خیرآباد کہہ کر مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھا تو سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سوا کوئی بھی صحابی اپنے پورے خاندان کے ساتھ ہجرت نہ کر سکا بلکہ ان کے اہلِ خانہ فرداً فرداً مدینہ منورہ پہنچے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سوا کسی صحابی نے اپنی والدہ کے ساتھ ہجرت نہ کی۔([2])
اسلام لانے کی وجہ سے جہاں دیگر مسلمانوں کو بہت سی تکالیف کا سامنا تھا وہیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مشرکینِ مکہ کی شر انگیزیوں سے محفوظ نہ رہے۔ ہجرت سے قبل مسلمان جس کرب و تکلیف کا شکار تھے اس کا اندازہ کفر کے ایوانوں میں نیکی کی دعوت عام کرنے والوں کو ہی ہو سکتا ہے اور اس وقت اسلام کی اشاعت و ترویج کے لئے صبر و تحمل جیسے اوصاف کا حامل ہونا از بس ضروری تھا۔ لہٰذا ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر بہت سخت آزمائشیں آئیں مگر انہوں نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور جب مدینہ منورہ میں باقاعدہ ایک اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تو اسکی حفاظت کے لئے انہوں نے میدانِ کارزار میں اپنے خون سے شجاعت کی ایسی داستانیں لکھیں کہ دنیا آج تک حیران ہے۔
غزوۂ بدر میں کارنامہ:
رمضان المبارک ۲ ھ میں جب کفار بدر کے مقام پر تقریباً ایک ہزار کا لشکر لے کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے ناپاک ارادہ سے صف آرا ہوئے جبکہ دینِ اسلام کے سپاہیوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی۔ چنانچہ،
فرشتوں کے عمامے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع