30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راہِ سنّت پر چلانا، اپنی الفت میں گُمانا
یا نبی سلامٌ علیكَ یا رسول سلامٌ علیكَ
یا حبیب سلامٌ علیكَ صلوٰۃُ اللہِ علیكَ
سلطنت دو نہ حکومت، دو نہ تم دنیا کی دولت
دو فَقَط اپنی مَحَبَّت، اے شَہَنشاہِ رسالت
یا نبی سلامٌ علیكَ یا رسول سلامٌ علیكَ
یا حبیب سلامٌ علیكَ صلوٰۃُ اللہِ علیكَ
اے شہنشاہِ مدینہ، عشق کا دیدو خزینہ
ہو مِرا سینہ مدینہ، عرض کرتا ہے کمینہ
یا نبی سلامٌ علیكَ یا رسول سلامٌ علیكَ
یا حبیب سلامٌ علیكَ صلوٰۃُ اللہِ علیكَ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ان دس جلیل القدر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جن کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان چھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے بھی ایک ہیں جنہیں امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لانے کی عمر میں اختلاف ہے ایک روایت میں ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پندرہ برس کی عمر میں اور ایک روایت کے مطابق اٹھارہ برس کی عمر میں اسلام لائے اس طرح بعض روایتیں اور بھی ہیں کسی میں بارہ سال کی عمر ملتی ہے تو کسی میں سولہ سال کی عمر کا تذکرہ ہے۔ بہرحال اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سابقین اولین میں سے ہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے راہِ خدا میں دو مرتبہ ہجرت کی۔ چنانچہ،
کم سن مہاجر:
مشرکینِ مکہ کے ظلم و ستم جب حد سے بڑھ گئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا اذن دیا۔ جب کفارِ مکہ کے ستائے ہوئے ان مسلمانوں کا قافلہ سوئے حبشہ روانہ ہوا تو ان میں سب سے کم عمر مہاجر حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس موقع پر بھی بڑی ہی دلیری کا مظاہرہ کیا۔ چنانچہ،
ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حبشہ ہجرت کرنے والے تمام مسلمان امن و آشتی سے رہ رہے تھے کہ اچانک حبشہ کے ایک شخص نے حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا جس کا انہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع