30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریف میں شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کے حصول کے حوالے سےبڑی ہی پیاری روایت ذکر فرمائی ہے جس کا مفہوم یہ ہے: ایک صحابی نے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں مومن کب بنوں گا؟ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سچا مومن کب بنوں گا؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے لگے گا۔ عرض کی: میرا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کا تعلق کب استوار ہو گا؟ ارشاد فرمایا: جب تو اس کے رسول کو (ہر شے سے) محبوب جانے گا۔ عرض کی: محبتِ رسول کا حقدار کیسے بنا جا سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: جب تو ان کےطریقےکی پیروی کرے اور ان کی سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے گا، اور تیری محبت و نفرت اور دوستی و دشمنی کا محور انہی کی ذات سے وابستہ ہو جائے گا تو تو محبت رسول کا شرف پا لے گا اور یاد رکھنا کہ لوگوں کے ایمان وکفر میں مقام ومرتبہ کی پہچان کا معیار یہ ہے کہ جس قدر وہ مجھے محبوب جانیں گے ایمان کے نزدیک ہوں گے اور جس قدر مجھ سے بغض رکھیں گے ایمان سے دور اور کفر کے نزدیک ہوں گے۔ خبردار! اس کاایمان نہیں جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب سے پیار نہیں۔([1])
پیارےاسلامی بھائیو! ذراغورفرمائیے!اوراپنےاندر جھانک کر دیکھئے کہ ہم محبت کے کس مقام پر فائز ہیں۔ محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو محبوب کو پسند ہو وہی اپنایا جائے اور جو ناپسند ہو اسے دیکھا بھی نہ جائے مگر ہم عاشقِ مصطفےٰ ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود سنّتِ مصطفےٰ سے کوسوں دور اور فرنگی تہذیب وثقافت کے نشے میں چور ہیں۔ سنّتوں پر عمل تو کجا فرائض کو بھی فراموش کئے ہوئے ہیں۔ یہ سب بری صحبت کا نتیجہ ہے کہ عشقِ مصطفےٰ کی شمع ہمارے دلوں میں ماند پڑ گئی ہے۔ آئیے! تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلوں کے مسافر بن جایئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے فرائض کی پابندی اور سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ عشقِ مصطفےٰ کی شمع بھی ہمارے دلوں میں فروزاں ہو گی۔
تم مکینِ لامکاں ہو اور حق کے رازداں ہو
اِذنِ ربّ سے غیب داں ہو، کیا ہے جو تم سے نِہاں ہو
یا نبی سلامٌ علیكَ یا رسول سلامٌ علیكَ
یا حبیب سلامٌ علیكَ صلوٰۃُ اللہِ علیكَ
حُبِّ دنیا سے بچا لو، مجھ نکمّے کو نبھا لو
دل سے شیطاں کو نکالو، اپنا دیوانہ بنا لو
یا نبی سلامٌ علیكَ یا رسول سلامٌ علیكَ
یا حبیب سلامٌ علیكَ صلوٰۃُ اللہِ علیكَ
دردِ عِصیاں کو مِٹانا، نیک مجھ کو تم بنانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع