30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) (پ21 ،الروم: 47)
(ترجَمۂ کنزُ العِرفان: اور مسلمانوں کی مدد کرناہمارے ذمّہ ٔکرم پر ہے) ۔
( شرح السنہ، 6 / 494، حدیث: 3422)
اس حدیثِ پاک کی شرح میں حضرتِ مفتی احمدیارخان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ فرمانِ عالی بہت ہی عام ہے، جو کوئی کسی مسلمان کی آبْرو (یعنی عزّت)کسی طرح بچائے خواہ اس کے سامنے یا اس کے پَسِ پُشت (یعنی اُس کی غیرموجودگی میں) اللہ پاک اُسے دوزخ کی آگ سے بچائے گا ’’مسلمان کی عزّت اللہ کو بڑی پیاری ہے۔‘‘
دوستو! آج حضراتِ صحابہ پر بہت طَعن ہورہے ہیں (یعنی ان حضرات کو بُرا بھلا کہنے والے لوگ پیدا ہوگئے ہیں)، اُٹھو! اِن(صحابۂ کرام) کی عظمتوں کے ڈَنکے بجاؤ ، دیکھو پھر ربّ تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آستانوں سے کیسے انعام ملتے ہیں،ان حضرات (یعنی صحابۂ کرام )کی حمایت میں کتابیں چھاپنا، تقریریں کرنا،ان کے فضائل کی آیات و اَحادیث شائِع ( یعنی پِرنٹ)کرنا سب ہی قُربِ اِلٰہی (یعنی اللہ پاک کی نزدیکی پانے)کا ذریعہ ہے۔
(اس کے بعد مفتی صاحب عاجِزی کے طور پر اپنے آپ کوفقیر کہتے ہوئے فرماتے ہیں:) فقیر نے ایک رسالہ ’’حضرتِ امیر ِمعاویہ ( رضی اللہ عنہ ) پر ایک نظر‘‘ لکھا ہے،جس میں حضراتِ صحابہ خصوصًا جنابِ امیر مُعاوِیہ رضی اللہ عنہم کے فضائل کی احادیث و آیات جمع کرکے ان کے فضائل بیان کیے ہیں، یہ حقیر سی خدمت اس فرمانِ عالی (یعنی جو ابھی حدیثِ پاک بیان کی گئی مسلمان کی عزّت بچانے کے تعلّق سے،اس )کی برکت سے قبول ہوجاوے اور ربّ تعالیٰ میری سِیاہ کاریاں مُعاف فرمادے۔(مراٰۃالمناجیح،6/569)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع