30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یارسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کیامیں اُن میں سے ہوں؟ غیب کی خبر دینے والے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: تم اُن میں سے ہو۔(بخاری،2 / 288، حدیث:2924)
میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ یہ حدیثِ پاک لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:اور یہ بات معلوم ہے کہ یہ جنگ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ، حضرت ِعثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ ٔخِلافت میں حضرتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں ہو ئی تھی۔(عمدۃ القاری،10/242، تحت الحدیث:2924) لہٰذا ثابت ہوا کہ حضرتِ معاویہ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں سے ہیں، جن کے لیے جنّت واجِب ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ تواُس لشکر کے اَمیر(یعنی سِپہ سالا ر اور چیف) تھے۔(تعليقات امام اہل السنۃ على العلل المتناہیۃ، ص5، مخطوط) آپ کی یہ شان تھی ۔
پہلے بادشاہِ اسلام
امامِ اہلِ سنّت،سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت امیرِمعاویہ رضی اللہ عنہ تو اَوّل مُلُوکِ اِسلام اور سلطنتِ محمّدیہ کے پہلے بادشاہ ہیں۔ اسی کی طرف توراتِ مُقَدَّس میں اِشارہ ہے کہ: ” مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ، وَمُهَاجَرُهُ بِطَيْبَةَ، وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ “ یعنی وہ آخِر ی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکّے میں پیدا ہوگا اور مدینے کو ہجرت فرمائے گا اور اس(آخِری نبی) کی سلطنت شام میں ہوگی۔ ( المستدرک،3/526، حدیث: 4300 ملتقطاً) (پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ظاہِری طور پرشام میں بادشاہت نہیں فرمائی، امامِ اہلِ سنّت آگے فرماتے ہیں : ) تو امیر معاویہ( رضی اللہ عنہ ) کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے مگر کس کی؟ محمد رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی۔
( فتاویٰ رضویہ، 29 / 357)
مُسلّم الثُّبوت ہے فضیلتِ معاویہ عَیاں ہے شَمس کی طرح کرامت ِ معاویہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی الله علٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع