30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ آجائے اورا س مَقام تک انسان علم کی قوّت کے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ (احیاء العلوم ، 3/220)
اے عاشقانِ رسول!اِس بات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کیجئےکہ اگر کسی نے کوئی مشورہ دیا اور اس کامشورہ قبول نہ کیا گیا جس کے سبب اُسے غصّہ آگیا اور اُس نے کہا کہ میرے مشورے پر عمل کیوں نہیں کیا؟ تو در اَصل ایسا شخص مشورہ دینے کا اہل ہی نہیں ہے، معاشرے میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بات کو کہتے تو مشورہ ہیں لیکن سمجھتے آرڈر ہیں۔
بِن مانگے مشورہ دینا
شاید مجھے بِن مانگے مشورے ہزاروں ملے ہوں ۔دعوتِ اسلامی کے شروع میں لوگ راستے میں روک روک کر بِن مانگے مشورے دیتے تھے، ایک مرتبہ ایک صاحب نے آکر مجھے کہا: فلاں جگہ (شاید پنجاب کے کسی شہرکا کہا کہ وہاں ) دعوتِ اسلامی کے کام کی بہت ضرورت ہے، آپ وہاں قافلہ لے کر جائیں! مَیں اُن دِنوں میں کراچی کے علاقے کھارادر کی شہید مسجد میں اِمامَت کرتا تھا، میں نے کہا : آپ ساتھ چلیں گے؟ تو وہ کہنے لگا:میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ اس طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس صرف مشورہ دینے کا ٹائم ہوتا اور وہ بھی بِن مانگا۔
ککری گراؤنڈ(کھارادر،کراچی) میں جن دِنوں اجتماع ہوتا تھا،ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ” آپ اجتماع گاہ کے باہر دروازے پر کوئی بکس وغیرہ لگواکر کچھ لوگوں کو کھڑا کر دیں کہ جوبھی اجتماع میں داخل ہونا چاہتاہے تووہ ایک روپے کا نوٹ چندہ دیتا جائے اس سے چندہ بھی مل جائے گا اور آنے والوں کی تعداد بھی پتا چل جائےگی۔“
اس مشورے پر اس لئے بھی عمل نہیں ہوسکتا تھا کہ ” دِینی اجتماع میں داخل ہونے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع