30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بے شک یزید بیٹا تھا لیکن پلید اور نالائق تھا، ہم یزید کو اچھا بولتے ہی نہیں، البتّہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہ کہا جائے بلکہ ان کی شان بیان کی جائے۔ ہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت ِعلی رضی اللہ عنہ سے افضل نہیں مانتے۔
مولیٰ علی رضی اللہ عنہ جنگ میں حق پر تھے
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، مولیٰ علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم ا کے درمیان جنگ ہوئی ،اس جنگ میں دونوں طرف صحابہ تھے،ان میں کوئی کسی کادشمن نہیں تھا،کسی کو کسی سے بُغض نہیں تھا اور دونوں طرف جو قتل ہوئےشہید تھےلیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ اس جنگ میں حق پر تھے اور حضرتِ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ خَطا پر تھےلیکن یہ خطا ئے اِجْتِہَادی تھی،کیونکہ یہ مُجْتَہِد تھے،مُجْتَہِد بہت بڑا عالم ہوتاہے اور مجتہد کوخَطا پر بھی ایک اَجر ملتا ہے اور اِجْتِہادی خطا میں کسی کو بُرا نہیں کہا جاتا ،ورنہ فقہ کے مشہور چار امام جن میں فِقہی مَسائل ( مثلاً نماز اور وضو وغیرہ کے بارے میں کئی احکام) میں اِختِلاف ہے، علمِ دِین رکھنے والا ان کو بُرا بھلا نہیں کہتا ۔اسی طرح امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس مُعاملے میں اجتہادی خطا ہوئی، مولیٰ علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے لیکن اس وجہ سے امیر معاویہ کو بُرا بولنا فِسْق (یعنی گناہ ) ہے۔ فَسادْ فِی الْاِعْتِقاد فَساد فِی الْعَمل (یعنی عقیدے کا خراب ہونا عمل کے خراب ہونے) سے زیادہ خطرناک ہوتاہے،ہم اہلِ سنّت صحابۂ کرام اوراہلِ بیتِ اطہار کے طُفیل اہلِ جنّت ہیں ۔
یہ باتیں یاد رکھیں اِن شاءَ اللہ کوئی آپ کو نہیں بہکاسکے گا۔ اپنا ذہن بنالیجئے!
”ہرصحابِی نبی جنّتی جنّتی“
اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع