30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنیا سے تشریف لے جارہے تھے، فرمانے لگے :رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو میں وُضو کراتا تھا، ایک دن اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مُجھ سےارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں قمیص نہ پہناؤں؟ میں نے عرض کی:یارسولَ اللہ !میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیوں نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے مبارک بدن سے قمیص شریف اُتارکر مجھے پہنا دی ۔ میں نے اسے سنبھال کر رکھ لیااور پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے ناخن( Nail) شریف تراشے(یعنی اپنی مبارک انگلیوں سے جُدا کئے) تو میں نےان کو ایک شیشی میں محفوظ کر کے سنبھال کے رکھ لیا ہے، (حضرت امیر معاویہ حاضرین سے فرمانے لگے: ) جب میرا انتقال ہو جائے تو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اسی قمیض مبارک کو میرے بدن کے ساتھ ملا دینا اور ان مبارک ناخنوں کو باریک کرکے میری آنکھوں میں ڈال دینا ، ممکن ہے اللہ پاک ان تَبَرُّکات کی بَرکتوں سے مجھ پر رحم فرمائے ۔(تاریخ ابنِ عساکر، 59 / 227 ملخصاً)
تَبَرُّک کسے کہتے ہیں؟
سُبْحٰن اللہ ! معلوم ہوا کہ تبرّکات سے برکتیں حاصل کرنا صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کا طریقہ رہاہے،یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، تابوتِ سکینہ کا ذکر قرآنِ کریم میں ہے،وہ تبرکات کامجموعہ تھا، اس کو اٹھا کر لے جایا جاتااوراس کی برکت سے جنگ فتح ہوتی تھی۔
کسی نبی، صحابی ، ولی یا کسی مبارک جگہ سے جس چیز کی نسبت ہوجائے تو وہ تبرّک (یعنی برکت والی) کہلاتی ہے۔جیسے مدینہ ٔپاک کی کھجور اور وہاں کی تسبیح وغیرہ۔ آبِ زَم زَم مکہ ٔ پاک کا خاص تبرّک ہے، کسی بزرگ کے ایصالِ ثواب کےلئےجو نِیاز تقسیم کی جاتی ہے تو اس بزرگ سے نسبت کی وجہ سے وہ تبرّک کہلاتی ہے،محفلِ نعت اور دیگر مَجالسِ خیر میں اور ذکر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع