30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شانِ امیر معاویہ بزبانِ سیّدنا عبدُ اللہ بن مُبارک
عظیم تابِعی بزرگ حضرتِ عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی :حضرت ِامیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہتر ہیں یا حضرتِ عُمر بن عبدُ العزیز رحمۃُ اللہ علیہ ؟ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ (غَزوے میں) حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں داخل ہونے والا غُبار(یعنی مٹّی ) بھی حضرت ِعمر بن عبدُالعزیز رحمۃُ اللہ علیہ سے افضل ہے۔
(کتاب الشریعۃ للآجری، 5 / 2466)
تابِعی کا صحابی سے کیسے مُوازَنہ
حضرت ِمُعافیٰ بن عمران رحمۃُ اللہ علیہ سے سوال ہوا: حضرتِ امیر ِمعاویہ رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا حضرت ِعمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللہ علیہ ؟یہ سوال سنتے ہی آپ غصّے میں آگئے اور سائل سے ارشاد فرمایا: کیا تم ایک صحابیِ نبی کو تابعی کی طرح قرار دیتے ہو؟ حضرت ِ معاویہ رضی اللہ عنہ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحابی، سُسرالی رشتہ دار، کاتبِ وحی اور اللہ پاک کی طرف سے عطاکی گئی وَحی کے اَمین (یعنی اَمانت دار) ہیں۔(البدایۃ و النھایۃ،5/ 643)
یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتنے قابلِ اعتماد صحابی ہیں اور تم ایک تابعی سے مِلانے کی بات کر رہے ہو اور واقعی یہ حقیقت ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا تابعی یا ولی کسی صحابی کا مرتبہ نہیں پاسکتا۔
”صَحابی“ اور ” تابِعی“ کسے کہتے ہیں؟
حضرت علّامہ حافِظ ابنِ حَجر عَسقَلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جن خوش نصیبوں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع