دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hazrat Adam Kay Baray Main Dilchasp Maloomat | حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں دلچسپ معلومات

Sab Se Afzal Makhlooq

book_icon
حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں دلچسپ معلومات

سب سے اَفضل مخلوق

عظیم تابعی بُزرگ حضرتِ سعید بن جُبیر  رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتےہیں: اولادِ آدم   کا آپس میں اِس بات پر جھگڑاہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عزت والی مخلوق کونسی ہے؟ بعض نے کہا :حضرتِ آدم  علیہ السّلام کیونکہ اللہ پاک نے اِنہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا،فرشتوں کو اِن کے سامنے سجدہ کروایا۔بعض نے کہا: اللہ پاک کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عزت والی مخلوق فرشتے ہیں جو اُس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ دوسروں نے کہا: ہمارے اورتمہارے درمیان اِس بات میں حضرتِ آدم علیہ السّلام فیصلہ کریں گے پھر اُنہوں نے حضرتِ  آد م  علیہ السّلام   کی خدمت میں حاضر ہوکر اِس بات کاسوال کیا تو آپ نے اِرشاد فرمایا: میرابیٹا محمد  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مخلوق میں سب سے افضل  ہیں  ۔اللہ پاک نے جب میرے اَندر  روح پھونکی اورروح میرے قدموں تک پہنچ گئی تو میں اطمینان کے ساتھ بیٹھ گیا ،پھر میرے لئے عرش کی بجلی چمکی اور  میں نےعرش پر نظر کی تو  اُس پر ”مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ“ لکھا ہواتھا 
لہٰذا اللہ پاک کے نزدیک لوگوں میں سب  سے افضل حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک ذات ہے۔( تاریخ ابن عساکر،7/386،رقم:578)
ظاہِرمیں میرے پھول حقیقت میں     میرے نخل اِس گُل کی یاد میں یہ صَدا بوالبشر کی ہے
(حدائق بخشش ،ص208)
الفاظ معانی: گُل:پھول۔ صدا :آواز۔ ابوالبشر :تمام انسانوں کے والد حضرت ِ آدم علیہ السلام۔
شرحِ کلامِ رضا:حضرتِ آدم  علیہ السّلام   ہمارے پیارے پیارے آخری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    کو  اِس طرح یاد فرمایا کرتے تھے  یَاابْنِیْ صُوْرَةً وَّمَعْنیً اَبِیْ یعنی اے میرے بیٹےآپ صورت میں میرے  بیٹے ہیں لیکن حقیقت میں آپ میرے والد ہیں کیونکہ اگر آپ نہ ہوتے تومیں بھی نہ ہوتا بلکہ کچھ بھی نہ ہوتا۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو جان ہیں وہ جہان کی جان ہے توجہان ہے
( حدائقِ بخشش، ص178)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

جنّتی اورجہنمی

اللہ پاک کی عطا سے غیب کی خبریں بتانے والے پیارے پیارے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    نے اِرشادفرمایا: اﷲ  پاک نے حضرت ِآدم کو پیدا فرمایا پھر اُن کی پیٹھ  پر اپنا سیدھا ہاتھ پھیرا تواِس سےاُن کی اَولادنکلی،اللہ پاک نے فرمایا: میں نے اِنہیں جنّت  کے لئے پیدا فرمایا ہےیہ جنتیوں والےکام کریں گےپھردوبارہ اُن کی پُشت پر ہاتھ پھیراتواِس سے اَولادنکلی پھر فرمایا : میں نے انہیں  جہنّم کے لئے پیدا کیا ہے یہ لو گ دوزخیوں والے کام  کریں گے۔
(ترمذی،5/52، حدیث: 3086)
حضرتِ مفتی احمدیارخان  رحمۃُ اللہِ علیہ  حدیثِ پاک کے اِس حصے ”حضرتِ آدم   علیہ السّلام  کی پیٹھ پر سیدھاہاتھ پھیرا“کے بارے میں فرماتےہیں:یہ عبارت متشابہات میں سے ہے یعنی ان کی پشت مبارک پر توجّہِ قدرت فرمائی ورنہ رب ہاتھ کے ظاہری معنیٰ اور داہنے بائیں سے پاک ہے،نطفہ مرد کی پیٹھ میں رہتا ہے،اس لیے توجہ پشت پر فرمائی گئی۔    (مرآۃ المناجیح،1/104)

حضرتِ داؤد علیہ السّلام کا حُسن

ایک اورروایت میں ہے: جب اﷲ  پاک نے حضرتِ آدم  علیہ السّلام   کو پیدا فرمایااور اُن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اُن کی پشت سےتاقیامت اُن کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں اﷲ  پاک پیدافرمانے والا ہے اور اُن میں سے ہرانسان کی  دونوں  آنکھوں کے درمیان نور کی چمک دی ، پھر اُنہیں  حضرتِ آدم   علیہ السّلام پر پیش فرمایا،وہ بولے: اے رب یہ کون ہیں؟ فرمایا: تمہاری اولاد،  اِن میں ایک شخص کو دیکھاتو اُس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۔ آپ نے عرض کیا:اے رب! یہ کون ہے؟فرمایا: داؤد( علیہ السّلام  )۔ عرض کیا: اے رب! اِن کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے؟ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:60سال۔ آپ نے عرض کیا :مولا! میری عمر میں سے چالیس سال اِنہیں بڑھادے۔( ترمذی ،5/53، حدیث:3087)

کیا انسان پہلے بند ر تھا

بانیِ دعوتِ اسلامی شیخِ طریقت امیرِاہلِ سنت حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ ارشادفرماتےہیں :کافی پُرانی بات ہے کہ میرا کسی دُنیوی پڑھے لکھے سے واسطہ پڑا  ۔ باتوں ہی باتوں میں نہ جانے اُسے کیا سوجھی کہ تخلیقِ انسانی کے بارے میں بات کرنے لگا کہ قرآنِ پاک انسان کی پیدائش کے بارے میں کہتا ہے کہ حضرتِ آدم  صفی اللہ  علیہ السّلام  سے انسان پیدا ہوا اور انہی سے انسان کی نسل چلی جبکہ ڈارون کہتا ہے کہ انسان بندر سے وجود میں آیا ۔ اِس کے بعد اُس نے یہ بکا کہ ”ڈارون کی بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے ۔ “یہ سن کر میں بالکل پریشان ہوگیا کہ اس نے تو اپنے ایمان کا جنازہ اُٹھادیا ہے کیونکہ اس نے قرآنِ پاک پر شک کیا  اور کہا کہ ”ڈار ون کی  بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے ۔ “قرآنِ کریم کے مقابلے میں کسی کی بات تھوڑی بھی کیوں سمجھ آئے؟ ایسی سمجھ کو چولہے میں ڈال دینا چاہیے، یہ کس کام کی ہے ؟ بہرحال پھر میں نے موقع   ملتے ہی اس کو سمجھاکر توبہ کروائی اور  کلمہ پڑھایا کہ یہ بات تو اسلام سے خارج کر دینے والی ہے ۔  ( ملفوظات امیرِاہلِ سنّت،قسط:51 )

تخلیقِ انسانی کے حوالے سے دُرست اوراسلامی عقیدہ

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانوں کی ابتداحضرتِ آدم   علیہ السّلام   سے ہوئی اور اسی لئے آپ  علیہ السّلام  کو اَبُوالْبَشَر یعنی انسانوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔ اور حضرت آدم  علیہ السّلام   سے انسانیت کی ابتدا ہونا بڑی قوی(یعنی مضبوط) دلیل سے ثابت ہے مثلاً دنیا کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ آج سے سو سال پہلے دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اِس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح ماضی کی طرف چلتے چلتے اس کمی کی انتہا ایک ذات قرار پائے گی اور وہ ذات حضرت آدم  علیہ السّلام   ہیں یا یوں کہئے کہ قبیلوں کی کثیر تعداد ایک شخص پر جاکر ختم ہوجاتی ہیں مثلاً سیّد دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر اُن کی انتہا رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم     کی ایک ذات پر ہوگی، یونہی بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا اختتام حضرتِ یعقوب  علیہ السّلام  کی ایک ذات پر ہوگا ۔ اب اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام کنبوں ، قبیلوں کی انتہا ایک ذات پر ہوگی جس کا نام تمام آسمانی کتابوں میں آدم ہے اور یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص پیدائش کے موجودہ طریقے سے پیدا ہوا ہو یعنی ماں باپ سے پیدا ہوا ہو کیونکہ اگر اس کے لئے باپ فرض بھی  کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے اور پھر جسے باپ مانا وہ خود کہاں سے آیا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہو اور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین وہ اِس طریقے سے ہٹ کر پیدا ہوا اور وہ طریقہ قرآن نے بتایا کہ اللہ پاک  نے اسے مٹی سے پیدا کیا جو انسان کی رہائش یعنی دنیا کا بنیادی جز ہے ۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ایک انسان یوں وجود میں آگیا تو دوسرا ایسا وجود چاہیے جس سے نسلِ انسانی چل سکے تو دوسرے کو بھی پیدا کیا گیا لیکن دوسرے کو پہلے کی طرح مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کرنے کی بجائے جو ایک شخص انسانی موجود تھا اسی کے وجود سے پید افرما دیا کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی تھی چنانچہ دوسرا وجود پہلے وجود سے کچھ کم تر اور عام انسانی وجود سے بلند تر طریقے سے پیدا کیا گیا یعنی حضرت آدم  علیہ السّلام   کی ایک بائیں پسلی ان کے آرام کے دوران نکالی اور اُن سے اُن کی بیوی حضرتِ بی  بی حوا  رضی اللہُ عنہا کو پیدا کیا گیا ۔ چونکہ حضرتِ بی بی حوا   رضی اللہُ عنہا   مرد وعورت والے باہمی ملاپ سے پیدا نہیں ہوئیں اِس لئے وہ اولاد نہیں ہو سکتیں ۔ (تفسیر صراط الجنان، پ4، النساء، تحت الآیۃ :2،1 /139بتغیر قلیل) 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن