30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دورِ خلافت آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معزول کر کے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شام کا گورنر مقرر فرما دیا، نئی تقرری کا یہ مکتوب دورانِ جنگ موصول ہوا تھا لہٰذا حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو چھپا دیا، جب جنگ ختم ہوئی تو حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی معزولی اور حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تقرری کا علم ہوا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’آپ نے مجھے اس مکتوب کے متعلق کیوں نہیں بتایا جس میں آپ کی تقرری کا حکم تھا، گورنری کا عہدہ آپ کے پاس تھا آپ پھر بھی میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیار بھرے انداز میں ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے، میں نے آپ کو نہیں بتایا لیکن دیگر لوگوں نے آپ کو بتا دیا، میں جنگ کے اختتام کا منتظر تھا اگر دورانِ جنگ بتاتا تو شاید جنگی معاملات میں خلل واقع ہوتا، ارادہ یہ ہی تھا کہ مناسب موقعے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع