30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پتا چلا کہ جبلہ بن ایہم کی فوج انہیں قیدی بنا کر لے گئی ہے اور اس کی فوج کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اجازت سے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دس صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ساتھ لے کر ان مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ابھی راستے میں ہی تھے کہ ان کا مقابلہ کفار کے ایسے لشکرسے ہو گیا جو تقریباً دس ہزار فوجیوں پر مشتمل تھا، حضرت خالدبن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت دس صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسی جواں مردی سے لڑے کہ کفار کا لشکر بوکھلا گیا، یعنی ایک مسلمان کفار کے ایک ہزار کے مقابلے پر تھا، بالآخر مسلمان لڑتے لڑتے تھکن سے بے حال ہو گئے اور کفار بظاہر ان پر غلبہ پانے لگے۔ عین اسی وقت مقام شیزر میں امیر لشکر حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے خیمے میں آرام فرما رہے تھے کہ اچانک گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور لشکر کو جنگ کے لیے فوراً تیار ہونے کا حکم دیا، اس اچانک حکم سے تمام لوگ گھبرا گئے اور آپ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے: ’’حضور کیا بات ہے؟ آپ نے اچانک ہی جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ابھی ابھی میں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع