30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیادہ محبت کیوں ہے؟‘‘میں نے عرض کی: اگرآپ اُنہیں دیکھ لیتے تواُن کی طرح اللہ پاک سے مُناجات کرنے والا ،اُن کی طرح نماز پڑھنے والا،اللہ پاک کی ذات کے بارے میں اِس قدر مضبوط اوراُن سے زیادہ سخی کسی کو نہ پاتے۔(مستدرک،4 /711،حدیث: 6392)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!نماز میں اللہ پاک کی عظمت پیش ِنظر ہو، دُنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو، نماز میں دِل لگا ہواہو اور سکون سے کھڑا رہے ،اِدھر اُدھر نہ دیکھے، اپنے جسم اور کپڑوں کے ساتھ نہ کھیلے اور کوئی عَبث وبے کار کام نہ کرے۔ یہ نماز کا خشوع ہے ۔ (تفسیر کبیر،8/256ماخوذا، مدارک، ص751،صا وی،4 /1356)
علامہ بَدْرُالدّین عینی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : نماز میں خشوع مستحب ہے۔ (عمدۃ القاری، 4/391، تحت الحدیث:741)میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہل ِ سُنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : نماز کا کما ل ، نماز کا نور، نماز کی خوبی فہم وتدبر و حضورِ قلب(یعنی خشوع) پر ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،6/205) مطلب یہ کہ اعلیٰ درجے کی نماز وہ ہے جو خشوع کے ساتھ ادا کی جائے۔
رِزق میں برکت اور غم دُور کرنے کا بہترین وظیفہ
حضرتِ اِمام برہان الدین ابراہیم زَرنوجی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا اور علمِ دین حاصل کرنےمیں لگے رہنا فکر وغم کو دُور کردیتا ہے ۔ اور روزی میں برکت کا مضبوط ترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان نماز کو خشوع و خضوع، تَعدیلِ اَرکان (یعنی ارکانِ نماز ٹھہر ٹھہر کرادا کرنے) کا لحاظ کرتے ہوئے اور تمام واجبات اور سنن وآداب کی پوری طرح رعایت کرتے ہوئے ادا کرے ۔ (راہِ علم، ص 87-92)
ہر عبادت سے بَرتَر عبادت نَماز ساری دولت سے بڑھ کر ہے دولت نَماز
قلبِ غمگیں کا سامانِ فَرحت نَماز ہے مریضوں کو پیغامِ صِحَّت نَماز
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
جنّتی ابنِ جنّتی،صحابی ابنِ صحابی حضرتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما کی عبادات کی بھی کیا ہی بات ہے، آپ رضی اللہُ عنہ نے راتوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا، ایک رات کھڑے ہو کر عبادت کرتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ، ایک رات رُکوع میں گزار دیتے، حتی کہ صبح فجر کا وقت ہوجاتا جبکہ ایک رات حالت ِسجدہ میں یوں گزارتے کہ صبح ہوجاتی۔ (اُسد الغابہ، 3/245)کسی نے آپ کی امی جان حضرتِ بی بی اَسما رضی اللہُ عنہما سے آپ کے متعلق پوچھا توانہوں نے فرمایا: میرے بیٹے کی اکثر راتیں قیام (یعنی عبادت) میں جبکہ دن روزے میں کٹتے تھے، اِسی وجہ سے انہیں حَمَامُ الْمَسْجِد(یعنی مسجد کا کبوتر) کہا جانے لگا۔ (حلیۃ الاولیاء،1/411،رقم:1183)
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت! کاش!صحابیِ رسول حضرتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما کی عبادات اور نماز میں خشوع وخضوع کا ہمیں بھی کوئی ذرّہ نصیب ہوجائے، اَفسوس!ہمارا عبادت میں دِل لگتا ہے نہ تِلاوت میں ،بَس جیسے تیسے نماز پڑھی اورواپس آگئے، ہمیں نماز میں کیسے خشوع وخضوع ملے کہ ہمارے تو کاروبار کے حساب کتاب اور دیگر مصروفیات کےشیڈول بھی نماز میں بَن رہے ہوتے ہیں ،یقیناً نماز پڑھنے سے پہلےنمازکےلئے تیار ی کرنی ہوگی لہٰذا حتی المقدورذہن کو دُنیاوی خیالات سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے،اللہ پاک ہمیں دِل لگا کر اپنی عبادت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اپنی عبادت کی لذّت عطا کرے۔
میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نَمازیں اللہ! عبادت میں مِرے دل کو لگا دے
پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود اُن پہ سَدا مَیں اور ذِکْر کا بھی شوق پئے غوث ورضا دے
(وسائلِ بخشش،ص114)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
آستانۂ عرش نشان میں باربا ر حاضری
حضرتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ظاہری زندگی مبارک کے 8سال چارماہ پائے اس دوران آپ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں حاضر ہوتے رہتے تھے کیونکہ آپ (ایک طرح سے) حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آلِ پاک میں سے تھے لہٰذا آپ اپنی خالہ جان حضرتِ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کے گھر میں (بکثرت ) آتے جاتے رہتے تھے۔مُسلمانوں کی امی جان حضرتِ بی بی عائشہ رضی اللہُ عنہا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد اپنے والدِ محترم حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ اوراِن کےبعد حضرتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہما سے بڑھ کر کسی سےمحبت نہ فرماتی تھیں۔ (سیراعلام النبلا،4/465-460)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع