30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسین بن مسعود ابن الفراء ابو محمد بغوی شافعی
شیخ حسین بن مسعود ابن الفراء ابو محمد بغوی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش مرواور ہرات کے درمیان واقع بغ میں 433ھ یا436ھ کو ہوئی،آپ کی تعلیم وتربیت مرو میں ہوئی،آپ جیدعالم دین، مفسرِ قرآن، شافعی فقیہ، محدث کبیر،ثقہ راوی حدیث،زہدوتقوی کے پیکر، علم وعمل کے جامع، مصنف کتب اور صوفی باصفا تھے،15تصانیف میں شرح السنہ اور تفسیربغوی معالم التنزیل مشہورہیں، شاگردوں میں صاحبِ تفسیر کبیر امام فخرالدین محمد بن عمررازی رحمۃ اللہ علیہ کے والدمحترم شیخ الاسلام امام ضیاء الدین عمربن حسین رازی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں،آپ کا وصال شوال 510ھ کو مرومیں ہوا،تدفین شیخ قاضی حسین بغوی کےمزارسے متصل قبرستان طالقان میں ہوئی۔(1)
نور الدین عبد الرحمٰن جامی
علامہ نور الدین عبد الرحمٰن جامی کی ولادت 817ھ ہرات کے علاقہ جام (صوبہ غور) افغانستان میں ہوئی اور وصال 18محرمُ الحرام 898ھ میں ہوا۔آپ کا مزار مبارک ہرات (افغانستان) میں قبولیت دعا کا مقام ہے۔ آپ حافظُ القرآن، عالمِ دین، خاتمُ الشعراء، مؤرخ، مصنفِ کتب اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخِ طریقت ہیں۔ بہارستان و رسائلِ جامی، نفحاتُ الانس، شرح ملّا جامی اور شواہد النبوت وغیرہ آپ کی بہترین کتب ہیں۔(2)
عصام الدین ابراہیم اسفرائنی حنفی
حضرت شیخ عصام الدین ابراہیم بن محمد بن عرب شاہ اسفرائنی حنفی کی پیدائش 873ھ کو اسفرائین (شمالی خراسان،ایران)کے ایک علمی گھرمیں ہوئی اورآپ نے 70 سال کی عمرمیں 943ھ کو وصال فرمایا،آپ متبحرعالم دین، جامع معقول ومنقول،ماہراصول وفقہ اور مصنف ومحشی کتب کثیرہ تھے، آپ خراسان،سمرقند اور مکہ شریف میں درس وتدریس اورتصنیف کتب ورسائل میں مصروف رہے۔ 25 کتب و رسائل اورحواشی میں الاطول فی علوم البلاغۃ ، شرح العصام علی کافیۃ ابن الحاجب ، شرح العصام علی متن السمرقندیہ فی علم البیان ، الأطول شرح تلخيص مفتاح العلوم شائع شدہ ہیں۔(3)
علی قاری بن سلطان ہروی مہاجرمکی حنفی
علامہ علی قاری بن سلطان ہروی مہاجرمکی حنفی دسویں صدی ہجری میں افغانستان کے شہر ہرات میں پیداہوئے اورشوال 1014ھ کو مکہ مکرمہ میں وصال فرمایا،جنت معلیٰ میں تدفین ہوئی،آپ علامہ دہر،عالم متبحر، مجددوقت،فقیہ حنفی،زاہدزمانہ،صوفی باصفا،کثیرالعبادت وتقوی اور کثیر کتب ورسائل کے مصنف تھے،148کتب میں مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح بھی ہے۔(4)
محمد بن یعقوب، مجد الدّین فیروز آبادی شافعی
حضرت شیخ محمد بن یعقوب، مجد الدّین فیروز آبادی شافعی کی ولادت 729ھ کازروں (نزد نیشاپور) ایران میں ہوئی۔20شوال المکرم817ھ کو وصال فرمایا، تدفین زبید (دراحاطہ مزارِ شیخ اسماعیل الجبرتی) یمن میں ہوئی۔ آپ امامِ لغت، مفسرِقرآن، فقیہ شافعی، فارسی، عربی اور دیگر کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے محقق عالِم تھے۔ مشہور لغت القاموس المحیط (چار جلدیں) آپ کی تقریباً پچاس کتب میں سے ایک ہے۔(5)
احمد بن رجب بقری شافعی
حضرت ابو سماح احمدبن رجب بقری شافعی کی پیدائش 1074ھ کوہوئی،آپ ذہین وفطین، کثیر العلم، فقیہ شافعی اورمحقق تھے،گھرہویا سفر بہت زیادہ تلاوت قرآن کرتے۔ راتوں کو عبادت میں مصروف رہتے، آپ پڑھنے پڑھانے میں بہت محنت کرتے تھے،زندگی کے آخری سال میں حج کے لئے تشریف لے گئے جب مقام نخل میں پہنچے تو 29یا 30شوال1189ھ کو وفات پائی،وہیں دفن کئے گئے۔(6)
حسن مجتبیٰ
حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادت 15رمضان 3ھ کو مدینۂ منوّر ہ میں ہوئی اوریہیں 5ربیعُ الاوّل 49یا50ھ کو زہر دئیے جانے کے سبب شہادت پائی، مزارِ پُرانوار جنّتُ البقیع میں ہے، آپ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کےبڑے بیٹے، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نورِنظر، نبیِّ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مشابہ اور جنّت کے نوجوانوں کے سردار تھے، شجاعت، سیادت (سرداری)، سخاوت، تقویٰ و عبادت کے خوگر تھے، آپ کی شان میں کئی فرامینِ مصطفےٰ ہیں جن میں سے ایک یہ ہے: میرا یہ بیٹا سردار ہے، یقیناً اللہ پاک اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائےگا۔(7)
رضا علی خان نقشبندی
جدِّ اعلیٰ حضرت،مفتی رضا علی خان نقشبندی عالم، شاعر،مفتی اورشیخ طریقت تھے۔1224ھ میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ میں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔(8)
عثمان بن مظعون
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کےرضاعی بھائی، قدیمُ الاسلام، حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے والے، سادہ و نیک طبیعت کے مالک، کثرت سے عبادت کرنے اور روزے رکھنے والے، اصحابِ صُفَّہ اور بَدری صَحابہ میں سےتھے۔شعبانُ المعظّم3ھ میں فوت ہوئے اور مہاجرین میں سب سے پہلے جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔(9)
معاذ بن جبل انصاری خزرجی
حضرت معاذبن جبل انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ 17 سال کی عمرمیں بارہویں سنِ نبوت کو اسلام لائے،بیعتِ عقبہ اوربدرسمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ حسن وجمال کےپیکر،حلم وحيا وسخاوت سے متصف، ذہین و فطین، اَخّاذ طبیعت کے مالک، جمعِ قرآن کا شرف پانےوالے،کثیراحادیث کے راوی، مرتبۂ اجتہاد پر فائز، پختگیِ علم سے مالامال اورعظیم فقیہ تھے، یمن کے گورنر بنائے گئے، فتحِ مکہ کے وقت نومسلمین کی تربیت کرتے، آپ نے 38سال کی عمرمیں طاعون عمواس(محرم وصفر18ھ)میں وصال فرمایا، فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : يأتي معاذ بن جبل يوم القيامة امام العلماء یعنی معاذبن جبل قیامت کے دن امام العلماء ہو کر آئیں گے۔(10)
مؤید باللہ ہشام ثانی بن حکم
مؤید ب اللہ ہشام ثانی بن حکم سلطنت اندلس بنواُمیّہ کا دسواں اور قرطبہ کا تیسراحکمران تھا،اس کا دورحکومت 976ءتا 1009ء اور دوسرا دور حکومت1010ء تا 1013ء عرصے پر محیط ہے۔
اللہ دتہ ہوشیارپوری لاہوری
حافظ اللہ دتہ ہوشیارپوری لاہوری کی پیدائش 1910ء مرزاپورضلع ہوشیارپورمشرقی پنجاب میں ہوئی، بچپن میں یتیم ہوگئے، مرزاپورکی ایک خاتون ماں جی جنت بی بی نے تربیت کی ان کے بھائیوں سے ابتدائی دینی کتابیں پڑھیں اورگاؤں کے امام مقررہوئے۔قیام پاکستان کے بعد لاہورآگئے اور جامع مسجد صدیقیہ کے نائب امام مقرر ہوئے۔جب تک صحت درست رہی یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔علما سے گہرے مراسم تھے حضرت شاہ ابوالبرکات سیداحمدقادری کی خدمت میں بھی حاضرہوتے اورخدمت کرتے۔شعروشاعری سے دلچسپی رکھتے تھے، برمحل شعرسنادیا کرتے تھے۔ آپ کو فالج ہوگیا، بچوں نے خوب خدمت کی، آپ کا وصال 25شعبان1409ھ مطابق 3 اپریل1989ء کو ہوا۔تدفین انجن شیڈ قبرستان میں ہوئی۔علامہ محمد عبد الغفار ظفر صابری اور علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری آپ کے علمی جانشین تھے۔(11)
مبارک بیگ صابری
مرزا مبارک بیگ صابری الورکی علمی شخصیت اورحضرت میاں صاحب کے خلیفہ تھے،ابتدائے جوانی میں ایسے لوگوں کی صحبت میں رہے جو معمولاتِ اہل سنت بالخصوص میلادوقیام سے اتفاق نہیں رکھتے،پھر انہیں1300ھ میں خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔اپنا خواب امام المحدثین سے بیان کیا توآپ نے فرمایا:بھائی تم بڑے قسمت والےہو،شکرخدابجالاؤکہ اللہ نے تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف فرمایااور(محفل ِ میلادمیں)قیام تعظیمی کے استحباب اور محبوبِ رسول ہونے پر خدا و رسول دونوں کی شہادت مل گئی۔مزیدبھی گفتگوفرمائی یہ سن کر مرزاصاحب نے توبہ کی اور معمولاتِ اہلسنت کے پابند ہو گئے یہاں تک کہ حضرت میاں صاحب مولانا سیدنثارعلی شاہ صاحب نے سلاسل قادریہ اور چشتیہ میں خلافت عطا فرمائی۔آپ فارسی اوراردوکتب کے اچھے مدرس تھے مفسرقرآن حضرت علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری الوری صاحب نے آپ سے اردو و فارسی کتب پڑھی ہیں۔(12)
مبارک شاہ الوری المعروف دادا جی میاں
داداجی میاں حضرت سیدمبارک شاہ الوری کی پیدائش ایک سادات گھرانے میں 897ھ مطابق 1491ء میں ہوئی اوروصال 22محرم 987ھ مطابق 21مارچ 1579ءکو نوے سال کی عمرمیں الورمیں فرمایا۔ آپ کو شہرسے باہرایک پرسکون مقام میں دفن کیا گیا، بعدمیں جہانگیر بادشاہ نے آپ کا عالیشان مزار تعمیرکروایا تھا۔ آپ بہترین عالم دین، محدث وفقیہ،صاحب کرامت ولی اللہ اورکثیرالفیض تھے۔اس لیے لوگوں کا آپ کی طرف بہت رجوع تھا۔ آپ صاحب کمال بزرگ تھے۔آپ کی ذات میں سخاوت اورایثارپسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مخلوقِ خدا پر بے دریغ مال خرچ کیا کرتے تھے۔حاجت مندوں کی مددکرتے،امرابھی خالی ہاتھ نہ جاتے۔(13)
محب النبی ہاشمی
شیخ الجامعہ حضرت مولانا محب النبی ہاشمی کی ولادت 1314ھ مطابق1896ء کو بھوئی گارڈتحصیل حسن ابدال ضلع اٹک کے علمی گھرانے میں ہوئی، آپ اجل علما یعنی والدمولانا احمدالدین ہاشمی، قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ اور خلیفہ اعلی حضرت علامہ مشتاق احمد کانپوری وغیرہ سے مسجدفتحپوری دہلی سے فارغ التحصیل ہوئے، پیر صاحب سے بھی سندلی، پاکستان کے مختلف مدارس میں پڑھاتے رہے، آستانہ عالیہ گولڑہ شریف میں بھی صدر مدرس اورمفتی رہے۔
اعلیٰ حضرت کے دیوان حدائق بخشش سےلگاؤ تھا، اسے پڑھتے رہتے تھے،آپ کے دو بیٹوں مولانا پیر ظہور اللہ ہاشمی اور مولانا فدا النبی ہاشمی نے دارالعلوم حزب الاحناف سے استفادہ کیا۔ آپ کا وصال 20ربیع الاول 1396ھ مطابق21مارچ1976ء میں ہوا،بھوئی گارڈ کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔(14)
محرم علی چشتی لاہوری
حضرت مولانا محرم علی چشتی لاہوری کی پیدائش لاہور کے ایک علمی وروحانی چشتی خاندان میں 6محرم 1280ھ مطابق 23جون1863ء کو ہوئی اور آپ نے28جمادی الاولیٰ 1353ھ مطابق 8ستمبر1934ء کو وفات پائی،لاہور میں دفن کئے گئے،آپ نے اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیاوی تعلیم کی طرف توجہ دی،علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا،بعد میں وکالت کا علم بھی حاصل کیا،آپ کو عربی،فارسی،اردو اور انگریزی میں عبور حاصل تھا،میدان صحافت میں قدم رکھا اور اخبار ”رفیق ہند“ کا آغاز کیا،وکالت بھی کرتے رہے،آپ اچھے اسلامی صاحب دیوان شاعر بھی تھے،کئی اسلامی کتب بھی لکھیں،آپ کا شمار انجمن نعمانیہ کے بانی اراکین میں ہوتا ہے،پھر بالترتیب جنرل سیکریٹری،صدر ثانی،صدر اور دار العلوم نعمانیہ کے ناظم اعلیٰ بنائے گئے،آپ ذہانت وفطانت،جودتِ طبع،تیزیِ خیالات اور ہمدردی قوم وملت میں مشہور تھے، بیرون شہر کے علما جب لاہور آتے تو آپ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے،آپ حضرت مستان شاہ قابلی کے مرید اور قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ صاحب کے عقیدت مند تھے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب سے آپ کا بہترین رابطہ تھا،آپ نے 15جمادی الاخری 1330ھ کو اعلیٰ حضرت کو دس سوالات روانہ کئے،اعلیٰ حضرت نے اس کے جواب میں ایک تاریخی فتویٰ لکھا جو مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے،مولانا ابراہیم علی چشتی (رکن مجلس عاملہ انجمن نعمانیہ لاہور ونگران لائبریری انجمن ہذا)آپ کے فرزند اور جانشین تھے۔(15)
محفوظ الحق شاہ ضیائی
خلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ سید محفوظ الحق شاہ ضیائی اہل سنت کے عظیم عالم دین،جامع معقول ومنقول، بہترین مقرر،کئی کتب کے مصنف ومترجم اورصائب الرائے شخصیت کے مالک تھے، آپ کی پیدائش 1940ء اوروفات 26 محرم الحرام 1443 مطابق 4 ستمبر 2021ء کو بورے والا ضلع پاکپتن پنجاب میں ہوئی، راقم دودفعہ آپ کی خدمت میں زیارت کے لیے حاضر ہو کر آپ کے ملفوظات سے مستفیض ہوا۔
محمد اسحاق قادری
حضرت مولانا محمد اسحاق قادری کی ولادت تقریباً 1338ھ مطابق 1920ء کو کوکل ضلع ایبٹ آبادکے علمی گھرانے میں ہوئی، والدصاحب اوردیگرمقامی علماسے درسیات پڑھ کر دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ چھوہر شریف داخلہ لیا، مکھڈ شریف اورہند کا سفربھی کیا اورفارغ التحصیل ہوئے، خواجہ محمودالرحمن چھوہروی سے بیعت کی، وطن واپس آ کردرس وتدریس اورامامت میں مصروف ہوئے، علاقے میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، لوگوں کا مرجع تھے، وصال یکم ذوالحجہ 1418ھ مطابق 31مارچ1998ء کوہوا، عالی شان مزار مبارک برلبِ سڑک ہے، یہاں ہرسال عرس ہوتاہے۔(16)
محمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں مارہروی
یادگاراسلاف حضرت علامہ حافظ سیّد ابو القاسم محمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 3محرم 1272ھ کو آستانہ عالیہ مارہرہ یوپی ہند میں ہوئی اور یہیں یکم صفر1347ھ کو وصال فرمایا۔ آپ حافظِ قرآن، عالمِ دین اور شیخِ طریقت تھے، سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت اپنے نانا، والدِ محترم اور حضرت شاہ سید ابو الحسین احمد نوری سے حاصل ہوئی، آپ نے خاندانِ برکاتیہ کو دینی تعلیم کی طرف متوجہ کیا، خاندانی لائبریری اور تبرکات کی حفاظت کا اہتمام کیا۔اسی وجہ سے آپ کو مجدد خاندانِ برکاتیہ کہا جاتاہے۔(17)
محمد اسماعیل نحوی
استاذ العلماء مفتی محمد اسماعیل نحوی نسباً علوی،مذہباً حنفی اور مشرباً قادری تھے، آپ کی پیدائش 1281ھ مطابق1865ء کو نورپورنزدسرائے نعمت خان ضلع ہری پورمیں ہوئی، مقامی علما سے علم دین حاصل کرکے مدرسہ عالیہ رامپورہند میں داخلہ لیا اورفارغ التحصیل ہوئے، علامہ عبدالحق خیرآبادی آپ کے اہم استاذہیں، بیعت کا شرف خواجہ عبدالرحمن چھوہروی قادری سے حاصل کیا،فراغت کے بعدمدرسہ رحمانیہ دہلی،جامعہ نعمانیہ لاہور،دارالعلوم معینیہ اجمیر،مدرسہ مکھڈشریف اوردارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پورمیں تدریس کی، آخرالذکرمیں صدرمدرس بھی رہے، کثیر علما آپ کے شاگردہیں۔
زندگی کے آخری سالوں میں موضع کوکل ضلع ایبٹ آبادتشریف لے آئے، درس وتدریس میں مصروف ہوئے، جس کی شہرت چاردانگ عالم میں تھی، آپ اپنے دور کے مشہورقاضی اورمفتی تھے، آپ کا فتویٰ علاقہ ہزارہ میں سند سمجھاجاتاتھا،طویل عمر پاکر شوال1359ھ مطابق 21نومبر1940ء میں وصال فرمایا اور تدفین کوکل میں ہی ہوئی۔(18)
محمد اشفاق جلالی
پروفیسر ڈاکٹرحافظ محمد اشفاق جلالی صاحب کا تعلق کھاریاں ضلع گجرات پنجاب پاکستان سے ہے، آپ عالم دین، فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور،پی ایچ ڈی پنجاب یونیورسٹی اورخطیب خوش بیان ہیں، آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان کی کتاب الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی (افضلیت صدیق اکبرکا تحقیقی بیان)کی تخریج وتحقیق کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔
محمد اعجاز ولی خان قادری
تلمیذِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خان قادری رَضَوی، شیخ الحدیث، استاذُ العلماء، مدرس، فقیہِ عصر، مصنّف، مترجم، واعِظ اور مجازِ طریقت تھے۔ 1332ہجری میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور مرکز الاولیاء لاہور میں 24 شوال 1393ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک میانی صاحب قبرستان میں ہے۔ (19)
محمد اعظم شاہ شاہجہانپوری
مفتی اعظم آگرہ حضرت مولانا سید محمد اعظم شاہ شاہجہانپوری 1916 ء میں جامع مسجد آگرہ کے امام ومفتی مقرر ہوئے، آپ اچھے مقرر تھے انھوں نے انجمن نعمانیہ لاہور کے جلسوں میں متعدد مرتبہ شرکت کی، مثلاً جلسہ 15 تا 17 اکتوبر 1915ء، 28تا30نومبر1919ء (غالباً اسی جلسے کے بارے میں لکھا ہے کہ دوسرے دن کے اجلاس میں رات کے گیارہ بجے مفتی سید اعظم شاہ صاحب مفتی آگرہ کی تقریر نے حاضرین کے دلوں پر سکہ بٹھا دیا، ایک اور مقام پر لکھا ہے کہ آپ نے نہایت زور دار خطاب کیا)اسی طرح جلسہ 25تا27ستمبر1925ء میں بھی آپ کی شرکت کا لکھا ہے۔آپ دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور کے مہتمم بھی رہے چنانچہ صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور میں لکھا ہے:مفتی اعظم مفتی سید اعظم شاہ آگرہ سے تشریف لائے اور انجمن کی دینی خدمات کو دیکھ کر آپ دار العلوم کے مہتمم بن گئے اور اپنے اثر ورسوخ سے انجمن کو ایک عرصہ تک چلاتے رہے۔(20)
محمد اقبال، مفکر پاکستان
مفکر پاکستان،ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کی پیدائش1294ھ/ 1877ء کو سیالکوٹ اور وفات 20صفر 1357ھ مطابق 21 اپریل 1938ءلاہور میں ہوئی،آپ معروف شاعر،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔
محمد امجد علی اعظمی
صاحب بہارِ شریعت صدرُ الشّریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1300ھ مطابق 883ءکو مدینۃ العُلَماء گھوسی (ضلع میو،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذوالقعدہ1376ھ مطابق 31مئی 1957ءکو وصال فرمایا،مزار مبارک گھوسی میں ہے۔آپ جیّد عالم ومدرّس،متقی وپرہیز گار، مصنف ِکتب،استاذ العُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ، مؤثر شخصیت کے مالک اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(21)
محمد امیر شاہ کابلی
حضرت مولانا میاں محمد امیر شاہ کابلی کی ولادت رامپورکے محلہ زیارت حلقہ والی میں ہوئی۔فارسی وعربی علوم میں دسترس حاصل کی۔میاں غلا م شاہ رامپوری سے بیعت ہوئے۔29شوال1247ھ میں چالیس دن کا چلہ کیا،محنت ومجاہدہ میں مشہورتھے۔
آپ نہایت بااثر،فقیرمنش درویش تھے۔کثیرلوگوں نے بیعت کی اور خلافت سے نوازے گئے۔ کئی کتب تحریرکیں،رسالہ کشفیہ بزبان فارسی،دعوت دعائے سیفی بزبان فارسی اور تعلیم الخواص بزبان فارسی یادگار ہیں۔آخرالذکرکتاب ایک ہزارصفحات پر مشتمل ہے جس میں اپنے سلسلے کی مکمل تعلیمات لکھ دی ہیں۔ 23صفر1290ھ کو وصال فرمایا۔صاحب تذکرہ کاملان رامپورکے والدنے مزار تعمیرکیا جہاں ہرسال عرس ہوتا ہے۔ (22)
محمد امیراللہ بریلوی
استاذ العلماء حضرت مولانا حافظ حاجی حکیم محمد امیر اللہ بریلوی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان کے ہم عصر ہیں۔ 1904ء میں دارالعلوم منظراسلام بریلی کا آغازہواتو آپ اس کے اولین اساتذہ میں سے ہیں۔آپ کے اہم شاگردوں میں ملک العلماء علامہ شاہ ظفرالدین محدث بہاری بھی ہیں۔(23)
محمد امین اندرابی ایڈوکیٹ
مولانا حافظ سید محمد امین اندرابی ایڈوکیٹ،قادری سادات خاندان کے چشم وچراغ تھے،حافظ قرآن، اردو، فارسی اور عربی کے فاضل تھے،لاہور کے مشہور عالم دین علامہ پیر سید عبد الغفار شاہ کاشمیری کے تلمیذ رشید تھے،پیشے کے اعتبار سے آپ ایڈوکیٹ (وکیل)تھے مگر خدمت دین کے جذبے سے سرشار، تصوف سے گہرا لگاؤ رکھنے والے اور متحرک شخصیت کے مالک تھے،زندگی بھر انجمن نعمانیہ لاہورسے وابستہ رہے،دامے درمے سخنے انجمن کی معاونت کرتے رہے،12جولائی 1944ء میں انجمن کی ترقی کے لیے ایک انتظامی بورڈ بنایا گیا،اس میں آپ کو صدر منتخب کیاگیا، آپ کی تصانیف میں انیس المشتاقین،القول المقبول اور جذب الاصفیاء فی حقوق المصطفی ہیں، آپ کی وفات لاہورمیں11ربیع الآخر1382ھ مطابق 22 نومبر 1961ء میں ہوئی، تدفین قبرستان سادات اندراب اسلامیہ اسٹریٹ نمبر139نزد لکشمی چوک لاہور میں ہوئی۔(24)
محمد امین رضوان مدنی حسنی شافعی
شیخ الدلائل حضرت شیخ سید ابو عبد اللہ محمد امین رضوان مدنی حسنی شافعی کے آباؤاجدادکا تعلق دمنھور ضلع بحیرہ مصرسے ہے۔ آپ کے دادا شیخ سیدرضوان بن عبدالفتاح رحمۃ اللہ علیہ دمنھورمصر سے ہجرت کرکے مدینہ شریف میں بس گئے۔ہجرت سے پہلے آپ جامعہ الازہرمیں پڑھاتے تھے، مدینہ شریف میں آکر مسجد نبوی میں پڑھانے لگے۔ان کا وصال مدینہ شریف میں 1255ھ کوہوا۔تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی۔شیخ محمد امین کے والدشیخ احمد بن رضوان (1226ھ تا رجب1302ھ )بھی شافعی عالم دین اور مسجد نبوی کے مدرس تھے۔ علامہ شیخ سیدمحمد امین رضوان کی پیدائش مدینہ شریف میں 1252ھ کو ہوئی۔آپ نے شیخ عبدالغنی دہلوی، شیخ احمد ابوالخیر مکی اورشیخ محمد بن احمد ابوخضیردمیاطی مدنی جیسے علما سے علوم وفنون حاصل کئے اور اسناد و اجازات حاصل کیں۔آخرالذکر سے آپ نے دلائل الخیرات کی اجازات لیں جو آپ کی شہرت کی وجہ ہے۔ آپ نے چھوٹی عمرسے ہی مسجد نبوی میں پڑھانا شروع کیا اورکثیر علما نے آپ سے استفادہ کیا۔آپ کا وصال 28ربیع الآخر1313ھ مطابق 17 اکتوبر1895ھ میں ہوا،تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی۔آپ کے تین قابل فخرصاحبزادےشیخ عبدالمحسن مدنی(ذوالحجہ 1292ھ تا جمادی الاخریٰ 1381) شیخ محمد عبدالباری مدنی (1295ھ تا 1358ھ)اورشیخ عباس مدنی(ذوالحجہ1293ھ تا 18 رمضان 1346)تھے۔یہ تینوں عالم دین، محدث اور استاذ العلماء تھے۔(25)
محمد آفاق دہلوی
حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی کی ولادت 1160 ھ میں ہوئی اور7محرم 1291ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک سبزی منڈی مغل پورہ دہلی میں ہے،آپ قطب زماں،فخرزماں،محرم اسراراورمخزن انوار تھے۔ آپ افغانستان بھی تشریف لے گئے،وہاں کابادشاہ آپ کا معتقداورمریدتھا۔آپ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے شیخ طریقت اورحضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے خاندان کے چشم وچراغ تھے۔آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے: شیخ احسان اللہ خان، شیخ محمد اظہرالدین خان،شیخ محمد تقی،شیخ عبدالاحدوحدت سرہندی، حضرت خواجہ محمد سعید سرہندی، حضرت خواجہ مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی۔(26)
محمد جلال الدین قادری
مفسر قرآن، محقق اہلسنت علامہ محمد جلال الدین قادری موضع چوہدو(تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات) میں یکم جمادی الاخریٰ 1357ھ 29 جولائی1938ء کو پیدا ہوئےاور2محرم الحرام 1429ھ بمطابق 12جنوری 2008ء کو وصال فرمایا،مزار جامعہ اسلامیہ کھاریاں (ضلع گجرات)کے پہلومیں ہے، آپ عالم باعمل، تلمیذ ومرید محدث اعظم پاکستان،خلیفہ مفتی اعظم ہند،مؤرخ اورمحقق اہلسنت، مفسرقرآن اوربانی جامعہ اسلامیہ کھاریاں ہیں، 14تصانیف میں اہم ترین تفسیراحکام القرآن ہے جو سات جلدوں پرمشتمل ہے۔(27)
محمد چشتی
مصباح پیا حضرت مصباح العاشقین شیخ محمد چشتی کی پیدائش 9محرم 810ھ پانی پت میں ہوئی۔علوم اسلامیہ علامہ محمد سعید پانی پتی سے حاصل کئے۔سندحدیث ملتان آکر شیخ بہاؤالدین زکریاملتانی کےمزارپر قائم مدرسے میں مولانا محمد حسین ملتانی کی خدمت میں رہ کرحاصل کی۔اس کے بعدسفرحج فرمایا اوربعدحج حجاز مقدس میں ایک سال سات ماہ مقیم ہو کر علمائے مکہ ومدینہ سے سندحدیث حاصل کی، اسی لیے علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی فرمایاکرتے تھے:ہمارے بزرگوں نے مکہ شریف میں حدیث پاک پڑھی اورپڑھائی اور وہیں سے سندبھی لائے۔واپس آکر آپ نے شاہ تاج بخش مخدوم شیخ جلال گجراتی چشتی سے بیعت کاشرف پایا اور خلافت سے نوازے گئے۔آپ نے ملاواں میں مسجدوخانقاہ قائم کی اور یہاں نمازجمعہ کاآغازفرما کر رشد وہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ نے یکم رجب 939ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک ملاواں میں ہے۔(28)
محمد حسنین رضا خان رضوی
استاذُ العلماء حضرت مولانا محمد حسنین رضا خان رضوی بن برادر اعلیٰ حضرت علامہ حسن رضا خان کی ولادت 1310ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ اعلیٰ حضرت کے بھتیجے، داماد، شاگرد وخلیفہ،جامع معقول ومنقول،کئی کتب کے مصنف،مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام،صاحبِ دیوان شاعر، بانی حسنی پریس وماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔آپ نے اعلیٰ حضرت،اساتذہ دار العلوم منظر اسلام بریلی کے ساتھ ساتھ علمائے رامپور بالخصوص تاج المحدثین سے بھی علوم اسلامیہ حاصل کیے۔زندگی بھر دین متین کی خدمات میں مصروف رہے۔ آپ کا وصال5 صفر المظفر 1401ھ میں ہوا۔ مزار بریلی شریف میں ہے۔(29)
محمد حسین جماعتی
سراج الملت حضرت علامہ حافظ سید محمد حسین جماعتی کی ولادت تقریباً 1297ھ مطابق 1880ء کو علی پور سیداں ضلع نارووال میں ہوئی اوریہیں6جمادی الاولیٰ1381ھ مطابق 16 اکتوبر 1961ء کووصال فرمایا، امیر ملت کے پہلو میں دفن ہوئے، آپ حافظ قرآن، متبحرعالم دین، مدرس درس نظامی اور فقیہ حنفی تھے۔(30) امیر ملت حضرت علامہ پیرسید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے 1916ء میں مدرسہ نقشبندیہ جماعتیہ علی پور سیداں(موجودہ ضلع نارووال،پنجاب) قائم فرمایاتو اس کے پہلے مہتمم و استاذ آپ ہی مقرر ہوئے، ابتدا میں مدرسہ بڑی حویلی میں شروع ہوا، جب مسجد نور کے ساتھ اس کی عمارت بن گئی تو اسے یہاں منتقل کر دیا اور جب یہ عمارت پرانی ہوگئی تو اسے دربار امیر ملت کے ساتھ تعمیرکیاگیا۔اس سے کئی علما نے استفادہ کیا۔(31)
محمد حسین میرٹھی
ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سید محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ مطابق 1804ء کوبریلی شریف ہند میں ہوئی۔ آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے رہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دار الیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گلبہار کراچی میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ مطابق 24جولائی 1964ءمیں وصال فرمایا،تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(32)
محمد حشمت علی خان رضوی لکھنوی
شیر بیشہ سنّت، مولانا ابو الفتح عبید الرضا محمد حشمت علی خان رضوی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ 1319ھ کو لکھنو (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے۔آپ حافظُ القراٰن، فاضل دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف،مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام،مصنف، مدرس، شاعر،شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔چالیس تصانیف میں الصوارم الہندیہ اور فتاویٰ شیر بیشہ سنّت زیادہ مشہور ہیں۔وصال8 محرم الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔(33)
محمد دین بدھوی
امام المعقولات مولانا محمد دین بدھوی رحمۃ اللہ علیہ موضع بدھوضلع راولپنڈی کے ایک علمی گھرانے میں تخمیناً 1884ء کو پیداہوئے، ابتدائی درس نظامی کی کتب والدصاحب سے پڑھ کرعلامہ فضل حق رامپوری اور حکیم برکات احمدٹونکی کی خدمت میں حاضرہوکرسات سال تک تحصیل علم دین میں مصروف رہے، غالباً آپ قبلہ عالم پیرسیدمہرعلی شاہ صاحب کے بیعت ہوئے، آپ منطق وفلسفہ میں بہت ماہرتھے۔ آپ نے اپنے علاقے میں ہی درس وتدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، آپ کی لگن، طلبہ پرتوجہ اوربہترین تدریس کا شہرہ چار دانگ عالم میں تھا، ہند کے علاوہ کابل، بخاراسے بھی طلبہ آئے، بعدازاں آپ بشمول دارالعلوم حزب الاحناف کئی علمی مراکز میں تدریس کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ کو پنجابی،پشتو،فارسی وغیرہ زبانوں میں کامل دسترس حاصل تھی،ان زبانوں کے طلبہ کو ان کی زبان میں پڑھایا کرتے تھے۔پڑھانے کا اندازاتنا پراثر ہوتا تھا کہ بعض اوقات طلبہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔سینکڑوں علماآپ کے شاگرہیں۔آپ نے 11 شوال 1383ھ مطابق 25فروری 1964ء کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا۔(34)
محمد دین کلیم قادری
مؤرخ لاہور میاں محمد دین کلیم قادری صاحب ایک علمی شخصیت کے مالک تھے،لکھنا ان کی فطرت ثانیہ تھا، ان کی پیدائش دلیل پور کلانور ضلع گورداسپور میں1335ھ مطابق 1917ء کو ایک قاضی خاندان میں ہوئی، انھوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا،یہ حکیم اہل سنت حکیم محمد موسیٰ امر تسری کے رفقا میں شامل تھے، 127سے زیادہ کتب ورسائل کے مصنف تھے، ان کا انتقال23ربیع الاول 1410ھ مطابق 24 اکتوبر 1989ء کو ہوا،تدفین گورستان باجہ لائن علامہ اقبال روڈ گڑھی شاہو لاہور میں ہوئی۔(35)
محمد رحیم بخش آروی
استاذُ العُلَماء حضرت علامہ مفتی محمد رحیم بخش آروی رَضَوی،جیِّد مُدَرِّس،مُنَاظِر،واعظ،مجازِ طریقت اور بانی مدرسہ فیضُ الغُرَبَاء (آرہ بہار،ہند)تھے۔ 8شعبان 1344ھ مطابق 21فروری 1926ءمیں وفات پائی، مولا باغ قبرستان آرہ (ضلع شاہ آباد بہار) ہند میں تدفین ہوئی۔(36)
محمد رضا خان
برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ عِلمُ الفرائض (وراثت کے علم) کے ماہر تھے۔ 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 21 شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا۔ مزار قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی،ہند) میں ہے۔(37)
محمد رکن الدین الوری
رکن الملت والدین حضرت مولانا مفتی شاہ محمد رکن الدین الوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع کھیڑلا ضلع گڑگانوہ نزد دہلی ہند میں ہوئی اور انتقال 21شوال 5513ھ کو الور میں ہوا، مزارِ مبارک یہیں ہے۔آپ ایک فقیہ، عالم، سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخِ طریقت، صاحبِ تصنیف بزرگ ہیں،نماز کے مسائل پر مشتمل مشہور کتاب رکن دین آپ کی ہی تصنیف ہے۔آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سے بذریعہ ڈاک سوال کر کے استفادہ کیا،اعلیٰ حضرت ان کی بہت قدر فرماتے تھے۔
محمد رمضان خان
مفتی محمد رمضان خان صاحب 1916ء سے قبل جامع مسجد آگرہ کے امام وخطیب اور مفتی تھے،فتاویٰ دیداریہ میں آپ کے بارہ فتاویٰ شائع ہوئے ہیں۔(38)
محمد سردار احمد قادری چشتی
محدثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1323ھ میں ضلع گورداسپور (موضع دیال گڑھ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور یکم شعبان 1382ھ کو وصال فرمایا،آپ کا مزار مبارک فیصل آباد پنجاب پاکستان میں ہے۔آپ استاذ العلماء، محدثِ جلیل، شیخ طریقت، بانیِ سنّی رضوی جامع مسجد و جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد اور اکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔(39)
محمد سلامت اللہ محدث رامپوری
سراجُ الدین حضرت علّامہ مفتی حافظ ابو الذکاء محمد سلامت اللہ محدث رامپوری کی وِلادت ضلع اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی۔جیِّد عالمِ دین،متقی وپرہیز گار،مجازِ طریقت،مصنف کتب اور مدرس وناظم مدرسہ ارشاد العلوم رامپور تھے۔8جمادی الاولی 1338ھ کو وِصال فرمایا،تدفین دَرگاہِ اِرشادیہ رام پور میں ہوئی۔(40)
محمد سلیم اللہ خان لاہوری
شفاء الملک حضرت مولانا حکیم مفتی محمد سلیم اللہ خان لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1264ھ مطابق 1848 ء کو لاہور میں ہوئی، آپ نے علم دین اپنے والد ماجد مفتی محمد عظیم اللہ خان پشاوری اور مولانا خلیفہ حمید الدین لاہوری وغیرہ سے حاصل کیا، حکمائے لاہور سے حکمت سیکھی،بیعت کا شرف قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ صاحب سے حاصل ہوا،آپ جید عالم دین، مفتی اسلام،حاذق حکیم اور درد قوم وملت سے مالا مال تھے،آپ شفا خانہ سلیمی کے مہتمم اور محافظ اور فنانشل کمشنر پنجاب تھے، آپ انجمن نعمانیہ کے بانی اراکین میں سے تھے،اس کے کئی عہدوں پر فائز رہے،مثلاً جنرل سیکریٹری،ناظم ومفتی دار العلوم نعمانیہ۔آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان سے رابطے میں تھے،فتاویٰ رضویہ میں آپ کے چار استفتاء موجود ہیں،اعلیٰ حضرت کے رسالے الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن پر آپ کی تصدیق بھی موجود ہے۔(41)
محمد شریف الحق امجدی
شارحِ بخاری،فقیہِ اعظم ہند حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1339ھ قصبہ گھوسی ضلع مؤ (یوپی ہند) میں ہوئی اوریہیں 6 صفرالمظفر 1421ھ کو وصال فرمایا۔ آپ مفتی اسلام، شیخ طریقت، استاذالعلماء، شرح بخاری (9جلدیں) سمیت 20کتب کے مصنف اور اکابرینِ اہلسنت سے ہیں۔ آپ نے ہندکے دس مدارس میں 35سال تدریس کی، 11سال بریلی شریف اور 24سال الجامعۃ الاشرفیہ کے مفتی رہے،پچاسی ہزارفتاویٰ لکھے یا لکھوائے۔ انھوں نےمیرے شیخ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس قادری مدظلہ العالی کو کئی سلاسل میں خلافت سے بھی نوازا۔(42)
محمد شریف لاہوری
حکیم محمد شریف لاہوری صاحب مولانا محرم علی چشتی صاحب کے احباب میں سے تھے 12جولائی 1944 ء مطابق 21رجب 1363ھ کو حکیم محمد شریف صاحب کو دار العلوم نعمانیہ کا ناظم تعلیم منتخب کیا گیا تھا۔(43)
محمد شریف محدث کوٹلوی
فقیہ اعظم،خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی ولادت 1277ھ مطابق 1860ءمیں کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ پاکستان میں ہوئی۔ 6ربیع الآخر1370 ھ مطابق 15جنوری 1951ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال ضلع سیالکوٹ پاکستان میں جامع مسجد شریفی سے متصل ہے۔آپ عالم باعمل،شیخ طریقت، مفتی اسلام، استاذالعلماء، واعظ خوش بیان، مناظر اسلام، بانی ماہنامہ الفقیہ، شاعروادیب اور صاحبِ تصنیف تھے۔(44)
محمد شریف نوری
خطیب پاکستان مولانا محمد شریف نوری بن مولانامحمد دین چکوڑوی کی پیدائش 1353ھ مطابق 1935ء کو موضع چکوڑی، کنجاہ ضلع گجرات کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔میٹرک کے بعد چچاجان مولانا غلام دین اشرفی نے دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپورضلع اوکاڑہ میں داخل کروادیا۔1372ھ مطابق 1953ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل اورادیب فاضل کے امتحانات بھی پاس کئے۔زمانہ طالب علمی میں ہی قصور میں خطابت کرنے لگے۔آپ کا بیان پر سوز اور سحر انگیز ہوتا تھا، پنجابی لہجے میں بہترین تقریر کیا کرتے تھے۔بیعت کا شرف فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی سے حاصل ہوا۔اسی لیےنوری کہلائے۔ 1961ء میں لاہورآگئےمسجد شاہ عالم مارکیٹ، سرائے رتن چنداور پھرجامعہ محمدیہ مسجدبرلب راوی روڈمیں خطابت فرمائی۔یہاں جامعہ محمدیہ مدرسے کی بنیادبھی رکھی۔نعت خوان محمد علی ظہوری کے ساتھ مل کر ماہنامہ نور وظہور اوربعدمیں الحبیب شائع کرنے لگے۔آپ کی کوششوں سے ہزاروں غیرمسلموں نے اسلام قبول کیا۔آپ حسن اخلاق کے پیکر، ملن ساز اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔چارحج کئے اورآخری حج سے واپسی پر بیمارہوئے اور28ربیع الاول 1392ھ مطابق 13مئی 1972ء کو وصال فرمایا۔جامعہ محمدیہ سے متصل تدفین ہوئی۔وفات سے 30سال بعد سڑک کی توسیع کے لیے قبرکھولی گئی تو بدن بالکل سلامت تھا۔ وعظ کی مشہورکتاب بارہ تقریریں آپ کی تحریرکردہ ہے۔(45)
محمد صادق مارہروی
حضرت پیرسیدمحمدصادق مارہروی کی پیدائش 7رمضان 1248ھ کو مارہرہ میں ہوئی۔ والد صاحب حضرت شاہ اولادِ رسول سے تعلیم وتربیت پائی۔ چچا حضرت شاہ سیدغلام محی الدین امیرعالم مارہروی سے بیعت وخلافت پائی۔ تایا حضرت سید آل رسول مارہروی اور والد حضرت سید اولادِ رسول نے بھی خلافت عطافرمائی۔حکمت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ لاکھوں مریضوں کو شفا ملی۔ابتدائے ہوش سے ہی شریعت، نماز روزہ کے پابندتھے،آپ نے سیتاپور میں رہائش اختیارکرلی،مالی طور پر بھی مستحکم تھے۔اشاعتی ادارہ مطبع صبح صادق سیتاپورشروع فرمایا۔ کئی اسلامی کتب بالخصوص اعلیٰ حضرت کے والدگرامی رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کی کتب شائع کیں۔ خدمت خلق سے بھی سرشار تھے کئی کنویں اورمساجد بنوائیں۔ سیتاپور میں آپ نے جامع مسجدصادقی اور خانقاہ تعمیر کروائی اورباغات لگوائے۔ 24شوال 1336ھ بروزجمعرات وصال فرمایا۔سیتاپورمیں ہی تدفین ہوئی۔(46)
محمد صدر الدین آزردہ حنفی دہلوی
مجاہد جنگ آزادی،صدر الصدورحضرت علامہ مفتی محمد صدر الدین آزردہ حنفی دہلوی اہل سنت کے جید عالم دین، مفتی اسلام، استاذ العلماء،عربی،اردواورفارسی کےنامورشاعرتھے۔ان کی پیدائش 1204ھ مطابق 1790ء کو دہلی میں ہوئی، سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی اورعلامہ فضل امام خیرآبادی سے علم حاصل کیا۔دہلی میں صدر الصدوراورمفتی دہلی کے عہدے پر فائز ہوئے۔کافی عرصہ مدرسہ دار البقا دہلی میں تدریس فرمائی۔آپ دہلی میں مرجع خاص وعام تھے۔جنگ آزادی 1857ء میں فتاوی جہاددے کر عملاً شریک ہوئے۔جس کی وجہ سے جائیدادضبط ہوگئی۔ آپ کاوصال 24ربیع الاول 1285ھ مطابق 1868ء کو دہلی میں ہوا، درگاہ حضرت چراغ دہلی ہند میں دفن کئے گئے۔بلاشبہ آپ تیرہویں صدی ہجری کے جلیل القدر عالم دین اورحنفی فقیہ تھے۔(47)
محمد صدیق چشتی
مولانا نور اللہ کے والد ماجد مولانا محمد صدیق چشتی صاحب کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے: مولانا محمد صدیق چشتی بن مولانا احمدالدین بن سلطان العارفین مولانا محمد ابراہیم بن مولاناجمال الدین بن مولانا حافظ محمد حبیب اللہ برقع پوش ملوٹی فیروزپوری۔آپ کی وفات 1380ھ مطابق 1961ء میں ہوئی، تدفین دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور ضلع اوکاڑہ کے صحن میں ہوئی، ان کی مرقد مزارفقیہ اعظم میں ہی ہے۔
محمد ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی
استاذ ُالعلماء،مولانا ابو المساکین محمد ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت شوّال المکرم 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہاں پوریوپی ،ہند) میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔آپ جید مدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر،شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثر شخصیت تھے۔(48)
محمد ظفر الدین بہاری
ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدّین رضوی محدِّث بِہاری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت،استاذ العلماء اور صاحبِ تصانیف ہیں،حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ مطابق 1886ءمیں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ مطابق 17 نومبر 1962ء میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(49)
محمد عالم آسی
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی کی ولادت 8شعبان 1298ھ مطابق جولائی 1881ء کو موضع راگھو سیدن ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی اور28 شعبان 1363ھ مطابق 18 اگست 1944ء کو امرتسر میں وصال فرمایا، تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی، آپ دارالعلوم نعمانیہ لاہورکے فارغ التحصیل ہوکراس کے صدر مدرس بنے، پنجاب یونیورسٹی اورطبی کالج میں امتحانات دے کران سے بھی اسناد حاصل کیں، حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی دہلوی سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کا شرف پایا، لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم اے او کالج بنا تو آپ عربی کے پروفیسرمقرر ہوگئے اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے،تصانیف میں الکادیہ علی الغاویہ (ردِ مرزائیت) مشہور ہے۔(50)
محمد عبد الحق صدیقی محدثِ الٰہ آبادی
شیخ الدلائل حضرت مولانا محمد عبد الحق صدیقی محدثِ الٰہ آبادی نقشبندی حنفی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1252ھ ضلع نیوان الٰہ آباد (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال16شوَّالُ المکرَّم 1333ھ مکۃ المکرمہ میں ہوا۔ آپ استاذُالعلماء، مفسرِقرآن، صوفیِ باصفا، قطبِ مکۂ مکرمہ، جامع علم و عمل، مقرّظِ حسامُ الحرمین اور اکابر علمائے اہلِ سنّت سے ہیں۔ متعدد تصانیف میں الاکلیل علیٰ مدارک التنزیل مطبوع ہے۔(51)
محمد عبد الحکیم شرف قادری
شرفِ ملت حضرت علّامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1363ھ مطابق 1944ء کو مزار پور (ضلع ہوشیار پور پنجاب) ہند میں ہوئی۔ آپ استاذالعلماء، شیخ الحدیث و التفسیر، مصنف و مترجم کتب، پیرِ طریقت اور اکابرِینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔ 18شعبان 1428ھ مطابق یکم ستمبر2007ءکو وصال فرمایا، مزار مبارک جوڈیشنل کالونی لالہ زار فیز-2 لاہور پاکستان میں ہے۔(52)
محمد عبد الحمید حنفی قادری
مولانا حکیم ابو الفرح محمد عبد الحمید حنفی قادری،لاہور کے باشندے تھے،لاہور میں قائم ہونے والی بزم حنفیہ کے سیکریٹری اور بعد میں صدر منتخب ہوئے،آپ نے بذریعہ استفتاء اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب سے استفادہ کیا،فتاویٰ رضویہ میں آپ کے چار استفتاء موجود ہیں،آپ اعلیٰ حضرت سے کتنی عقیدت رکھتے تھے، اس کا اندازہ ان القابات سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے اپنے استفتاءمیں لکھے ہیں،ملاحظہ کیجئے: بحضرت فیض درجت، عظیم البرکت،فاضل کبیر،کامل تحریر، امام العلماء المحققین،مقدام الفضلاء المدققین، عالم عظیم الشان،اعلیٰ حضرت،مولانا المکرم،ذا المجد والکرام،مولانا مولوی حاجی صوفی حافظ مفتی محمد احمد رضا خاں صاحب ادام اللہ فیوضھم ۔(53)
محمد عبد الرّحمٰن محبی صدیقی نظامی
مُحِبِّ اعلیٰ حضرت، علّامہ حافظ محمد عبد الرّحمٰن محبی صدیقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1272ھ مطابق 1856ء کو پوکھریرا (ضلع سیتا مڑھی بہار، ہند) میں ہوئی۔آپ عالمِ باعمل،مناظرِ اسلام،شیخِ طریقت،مصنّفِ کتب، استاذُ العلماء،مدرسہ نورُ الہدیٰ،انجمن نورُ الاسلام اور رسالہ نورُ الہدیٰ کے بانی تھے۔31تصانیف میں رسالہ اِثباتِ تقلیدِ شرعی بھی ہے۔ 18جُمادَی الاُخریٰ 1351ھ مطابق 19 اکتوبر1932ء کو وصال فرمایا مزار پوکھریرا میں ہے۔(54)
محمد عبد الرحیم نقشبندی باغدروی
حضرت بابا پیرقاضی محمد عبد الرحیم نقشبندی باغدروی کی پیدائش باغدرہ ضلع اٹک کے دینی گھرانے میں 1296ھ مطابق 1876ء میں ہوئی، علم دین مختلف مقامات سے حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے، بیعت کا شرف حضرت خواجہ بابا جی محمد قاسم موہڑوی سے حاصل کرکے خلافت سے نوازے گئے، آپ عالم باعمل اور باکرامت ولی اللہ تھے، آپ کا وصال 8جمادی الاولیٰ 1366ھ مطابق 31جنوری 1947ء کو ہوا، مزار مبارک سالک آبادشریف،حسن ابدال ضلع اٹک میں مرجع خلائق ہے،حضرت خواجہ پیرمحمد اعظم نقشبندی آپ کے جانشین ہیں۔(55)
محمد عبد السلام رضوی جبل پوری
عید الاسلام،حضرتِ مولانا مفتی حافظ محمد عبد السلام رضوی جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1283ھ مطابق 1866ء میں جبل پور(ایم پی، ہند) میں ہوئی،تعلیم والد گرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مرید وخلیفہ ہیں،جبل پور میں دارُ الافتاء عید الاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ مطابق 10 فروری 1952ءکو جبل پور میں وصال فرمایا،مزار شریف مشہور ہے۔(56)
محمد عبد الکریم محدث ابدالوی
حضرت علامہ پیر ابو الفیض مفتی محمد عبد الکریم چشتی قادری رضوی محدث ابدالوی کی پیدائش یکم فروری 1930ء کو موضع ابدال ضلع سرگودھا کے ایک زمین دارگھرانے میں ہوئی، بچپن میں ہی غازی کشمیر پیر محمد شاہ چشتی بھیروی سے بیعت ہوئے اور بعدمیں خلافت سے بھی نوازے گئے۔آپ نے مولاناسیف الدین سالمی، مولانا سلطان احمدحاصلانوالہ گجرات سے درس نظامی کی کتب پڑھ کرمرشدکریم کے حکم سے1951ء میں دورہ حدیث شریف محدث اعظم پاکستان علامہ سرداراحمد چشتی قادری سے کرنے کی سعادت پائی، انہیں سے سلسلہ چشتیہ قادریہ کی خلافت بھی حاصل ہوئی۔فراغت کے بعد للیانی میں کچھ عرصہ خدمات دینیہ سرانجام دینے کے بعد بحکم محدث اعظم 1954ء میں خانقاہ ڈوگراں تشریف لے آئے اورپھریہیں کے ہو کر رہ گئے۔آپ نے یہاں 1958ء میں دارالعلوم چشتیہ رضویہ کی بنیادرکھی اور زندگی بھراس میں تدریس فرمائی، 1993ء میں آپ نے دورہ حدیث شریف شروع فرمایا اورزندگی بھریہ خدمت سرانجام دیتے رہے۔ آپ نے 15کتب ورسائل بھی تحریرفرمائیں۔آپ سے کئی کرامات کا صدورہوا۔آپ نے 50سال خدمات دینیہ سرانجا م دے کر 4رمضان 1424ھ مطابق 31 اکتوبر2003ء کووصال فرمایا۔مزارمبارک خانقاہ ڈوگراں میں ہے۔آپ کے صاحبزادگان مولانا محمدنورالمصطفیٰ رضوی، مولانا نورالمجتبیٰ چشتی، مولانا غلام مرتضیٰ شازی،مولانافیض اللہ فیضی، حاجی عطاء المصطفیٰ رضوی اورمولانا ضیاء المصطفیٰ دین متین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔(57)
محمد عبد اللہ پگلینوی
مستفتیٔ اعلیٰ حضرت، استاذ العلماء علامہ محمد عبد اللہ پگلینوی المعروف پہاڑ والے مولوی صاحب کی پیدائش موضع پگلین شریف نزد عبد اللہ پور(سابقہ نام ہری پور)یونین کونسل کھمباہ (Khambah)تحصیل سماہنی ضلع بھمبرکشمیرکے گجر خاندان میں ہوئی، ابتدائی تعلیم والدمولانا محمد بخش سے حاصل کرکے علم دین کے حصول کے لیے پندرہ سال پنجاب اورہندکے شہروں کے سفرپر رہے اوردورہ حدیث شریف کرکے سند الفراغ حاصل کی۔بیعت کا شرف غریب نوازخواجہ سید غلام حیدرعلی شاہ جلالپوری (جلالپورشریف،تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم)سے حاصل کیا۔آپ نے اپنے گاؤں میں تدریس کاآغازکیا، آپ کے تلامذہ میں کئی جیدعلما شامل ہیں، آپ فارسی اورپنجابی کے شاعربھی تھے، آپ نے کئی کتب بھی لکھیں۔ آپ نے 4ذوالحجہ 1333ھ مطابق 13 اکتوبر1915ء میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان کو استفتاء بھی بھیجا جو فتاویٰ رضویہ جلد 10ص297 پر موجودہے۔آپ استاذالعلماء، جیدعالم دین اورولی کامل تھے۔آپ کا وصال 28ذیقعدہ 1345ھ مطابق 31مئی 1927ء کو ہوا،مزارمبارک جائے پیدائش میں ہے، جس پر گنبدتعمیرکیاگیا ہے، جہاں ہرسال عرس بھی ہوتاہے، مشہورہے کہ آپ کے مزارپر شیرحاضری کے لیے آتاتھا۔(58)
محمد عبد اللہ عتیق نقشبندی رضوی
حضرت مولانا علامہ پیر محمد عبد اللہ عتیق نقشبندی رضوی مدظلہ العالی زاہدآبادشریف چک 2نزدکوٹلی سوہلناں میں16محرم 1364ھ مطابق یکم جنوری 1945ء کو پیدا ہوئے۔علوم اسلامیہ کی تحصیل کا آغاز والد گرامی سے کیا، فارغ التحصیل ہوئے اورکوٹلی کے موضع بَل ڈماس(bal damas) کی جامع مسجدمیں دستاربندی ہوئی۔ والدگرامی سے ہی بیعت ہوئے اورخلافت سے نوازے گئے۔ مزیدتحصیل علم کے لیے مدرسہ اشاعت القرآن میرپورکشمیرمیں داخلہ لیااوروہاں علامہ مفتی قاضی عبدالحکیم میرپوری سے مستفیض ہوئے۔آپ کو عارف کبیرپیر غلام محی الدین غزنوی نیروی، حضرت پیر محمدزاہدخان موہڑوی، شیخ الفضیلت مولانا ضیاء الدین احمد قادری مدنی،تاج الشریعہ مفتی محمداختررضا خان اورشرف ملت شیخ الحدیث علامہ عبد الحکیم شرف قادری اوردیگرکئی مشائخ سے بھی خلافت حاصل ہے۔(59)
محمد عبد اللہ لدّروی کشمیری
استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ محمد عبد اللہ لدّروی کشمیری کی پیدائش1264ھ مطابق 1877ء کو موضع لدر(Lidder)ضلع میرپور کشمیر میں ہوئی اوریہیں تقریباً 85سال کی عمرمیں1381ھ مطابق 1962ء میں انتقال فرمایا۔آپ عارف ب اللہ حاجی امداد اللہ مہاجرمکی کے مریدوخلیفہ تھے۔آپ نے مولانا نور افغانی مہاجر مکی سے ملاجامی مع حاشیہ ملاعبدالغفور پڑھ کر شرف تلمذحاصل کیا جو مجاہدتحریک آزادی،فاتح عیسائیت، بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ حضرت مولانارحمت اللہ کیرانوی مہاجرکے شاگردتھے۔(60)
محمد عبدالخالق مجددی
شمس الکونین حضرت خواجہ محمد عبدالخالق مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1270ھ کو جہاں خیلاں میں ہوئی، بچپن میں والدگرامی شہیدہوگئے،تربیت حضرت خواجہ توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ علیہ نے کی، جید علما سے استفادہ کیا، افسر المشائخ حضرت حافظ حاجی محمود آرزو جالندھری کے مریدوخلیفہ ہوئے، خانقاہ کوٹ عبد الخالق متصل جہاں خیلاں کی بنیاد رکھی،رفاہی کاموں میں کافی دلچسپی رکھتے تھے،خانقاہ کے ساتھ یتیم خانہ خالقیہ قائم کیا، بعد میں مدرسے کا بھی آغازفرمایا۔ آپ نے 17محرم 1350ھ کو وصال فرمایا،تدفین مزار والد کے ساتھ ہوئی۔(61)
محمد علی اور شوکت علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر کی پیدائش1295ھ مطابق 1878 ء کو رامپور میں اور وفات4 جنوری 1931ء کو انگلستان میں ہوئی،تدفین یروشلم بیت المقدس فلسطین میں ہوئی جبکہ مولانا شوکت علی آپ کے بڑےبھائی تھے ان کی پیدائش 1872 کو رام پور میں ہوئی اور 26 نومبر 1938 کو دہلی میں اس دار فانی سے کوچ کیا، تدفین درگاہ سرمد شہیددہلی کے جوار میں ہوئی۔ دونوں بھائی دینی دنیاوی تعلیم کے جامع،بہترین مقرر، اچھے قلم کار تھے،تحریک خلافت میں بھرپور حصہ لیا،اس تحریک میں دونوں سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی کی کوشش سے ان کے ہاتھ پرتائب ہوئے۔(62)
محمد علی حسین خیرآبادی مہاجرمدنی قادری
عالم متبحر حضرت مولانا محمد علی حسین خیر آبادی مہاجر مدنی قادری کی پیدائش مولانا شاہ اعظم حسین خیرآبادی کے ہاں 21ربیع الآخر1312ھ کو بھوپال میں ہوئی۔بچپن میں ہی والدصاحب کے ساتھ مدینہ شریف ہجرت کر گئے۔ علمائے مکہ ومدینہ اورعلمائے ہند سے علوم وفنون میں مہارت حاصل کی اورفارغ التحصیل ہوئے۔سلسلہ قادریہ میں والد گرامی سے بیعت کی۔علامہ یوسف نبہانی سمیت دس مشائخ عرب وعجم سے خلافتیں اوراجازتیں حاصل ہوئیں۔ المدرسۃ النظامیۃ المدینۃ المنورۃ میں تدریس کرتے رہے،بعد میں گھر میں درس وتدریس کیا کرتے تھے۔12جمادی الاخریٰ 1374ھ کو بعدفجر اللہ اللہ کہتے ہوئے وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔صاحبزادہ شاہ ابوالبرکات محمد علاؤالدین مدینہ مالک فندق طیبہ آپ کے جانشین ہیں،صاحبزادہ صاحب کو بھی مخدوم الاولیاء نے خلافت سے نوازاتھا۔(63)
محمد علی خان ملک
آپ بریلی کے باشندے،عالم دین اور صاحب تصنیف ہیں،آپ نے کتاب تصحیح الایمان ردتقویت الایمان مرتب فرمائی،اس میں علمائے بریلی کے فتاویٰ اورتصدیقات ہیں۔ان کی دادی جان نے بریلی کی مشہور مسجد بی بی جی صاحبہ محلہ بہاری پور تعمیرکرائی جس میں دارالعلوم مظہرِاسلام بریلی شریف قائم ہوا۔(64)
محمد علیم الدین نقشبندی مجددی
حضرت علامہ مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 5نومبر1942ء کو ہوئی اور آپ نے 17 جمادی الاخری 1440ھ مطابق 23فروری 2019ء کو وصال فرمایا،آپ اہل سنت کے ثقہ عالم دین اور دار العلوم سلطانیہ کالادے شریف جہلم سٹی کے مدرس تھے،آپ نے تدریس کے ساتھ کئی قلمی کام بھی کئے ہیں،آپ کی سبل الہدی والرشاد مترجم،سیرت سید الانبیا،سمیت دس کتب شائع ہوچکی ہیں،آپ مؤرخ ومفسر حضرت علامہ مفتی جلال الدین قادری (بانی جامعہ اسلامیہ کھاریاں ضلع گجرات، پنجاب)کے شاگرد اور چھوٹے بھائی ہیں۔(65)
محمد فضلِ حق خیر آبادی چشتی
قائدِ جنگِ آزادی حضرت علامہ محمد فضلِ حق خیر آبادی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1212ھ مطابق 1797 ء خیر آباد، ضلع سیتا پور (یوپی،ہند) میں ہوئی اور وصال 12صفر 1278ھ مطابق20 اگست 1861ء کو جزیرہ انڈمان میں ہوا۔ مزار یہیں ساؤتھ پوائنٹ پورٹ بلیر میں ہے۔ آپ علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،منطق وحکمت میں ایک معتبر نام، استاذ العلماء، سلسلہ خیر آبادیہ کے چشم وچراغ،لکھنو کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) اردو وعربی کے شاعر،کئی کتب کے مصنف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔(66)
محمد فضل شاہ چشتی جلالپوری
امیر حزب اللہ حضرت صاحبزادہ پیر سید محمد فضل شاہ چشتی جلالپوری کی پیدائش 4جمادی الاول 1312ھ مطابق3نومبر1894ءکوآستانہ عالیہ چشتیہ جلالپورشریف تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں ہوئی۔ جدامجد غریب نوازپیرسیدغلام حیدرعلی شاہ جلالپوری کی زیرنگرانی تربیت پائی۔آپ عالم دین، پابند قرآن وسنت، متحرک قومی رہنمااورفعال شیخ طریقت تھے، جدامجدکے وصال کے بعد سجادہ نشین بنائے گئے، 1927ء میں عظیم قومی تحریک حزب اللہ کا آغازفرمایا جس کا مقصدمسلمانوں میں اسلامی شعور پیدا کرنا، اللہ ورسول کے احکامات پر عمل کروانا اورقومی وملی مسائل کےحل کے لیے کوشش کرنا تھا، اسی کے ذریعے آپ نے تحریک پاکستان میں بھرپورحصہ لیا، وصال 17 شعبان 1386ءکو ہوااورجدامجدکے پہلومیں دفن کئے گئے۔(67) راقم فقیر قادری کے والدگرامی حاجی محمد صادق مرحوم بھی آپ کے مرید تھے۔
محمد قاسم صادق موہڑوی
بابا جی سرکار حضرت خواجہ محمد قاسم صادق موہڑوی کی ولادت تقریباً 1242ھ کو ہوئی اور وصال 13 ذوالقعدہ 1362ھ کو ہوا۔ آپ کا مزارِ پُرانوار موہڑہ شریف نزد کوہِ مری، ضلع راولپنڈی (پاکستان) میں مرجع خلائق ہے۔ آپ عالمِ دین، مدرس اور سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخِ طریقت ہیں، آپ کے خلفا نے گھمکول شریف، نیریاں شریف، کوٹ گلہ شریف سمیت کئی خانقاہیں قائم فرمائیں۔(68)ان کے صاحبزادے زبدۃ الفقراء والعلماء حضرت پیرمحمد مبارک خان تھے، آپ انجمن ارشاد الاسلام ضلع گجرات کے تین روزہ تبلیغی جلسے میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔(69)
محمد محمود الوری
حضرت مولانا مفتی حکیم محمد محمود الوری رحمۃ اللہ علیہ شاہ رکن الدین کے ہاں 5ذوالحجہ 1322ھ مطابق 10 فروری1905ء کو الور میں پیدا ہوئے اور حیدر آباد سندھ پاکستان میں 12شعبان1407ھ مطابق 12 اپریل1987ء کو وصال فرمایا،مزارمشہورہے۔آپ عالم دین، تلمیذ صدر الشریعہ و مفتی شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی، مصنف کتب اورشیخ طریقت تھے۔(70)
محمد مرتضیٰ حسینی بلگرامی زبیدی
امام شریعت وطریقت حضرت امام سیّد محمد مرتضیٰ حسینی بلگرامی زبیدی مصری قادری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1145ھ بلگرام میں ہوئی اور 17 شعبان 1205ھ قاہرہ مصرمیں وصال فرمایا، مزار مبارک مشہد سیدہ رقیہ میں ہے۔آپ حافظ الحدیث، صوفی ِ کامل،جامع العلوم، فقیہ حنفی، کثیرالتصانیف اور تیرھویں صدی کے مجدد تھے۔آپ کی سو کے قریب تصانیف میں سے تاج العروس(40جلدیں)اور اتحاف السادۃ المتقین (احیاء لعلوم کی شرح)کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔(71)
محمد مسعود احمد دہلوی
یادگارِ اسلاف حضرت مولانا حافظ محمد مسعود احمد دہلوی علامہ کرامت اللہ دہلوی کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی ولادت 1325ھ مطابق 1907ء کو دہلی میں ہوئی اور 21 ذیقعدہ1406 ھ مطابق 28جولائی 1986ء کو کراچی میں وصال فرمایا۔آپ حسین وجمیل اور ذہن وفطین تھے،ابتدائی کتب دہلی میں پڑھنے کے بعد دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا،پھر دورہ حدیث دار العلوم نعیمیہ مراد آباد سے کیا،فارغ التحصیل ہونے کے بعد والد گرامی کے مدرسے میں درس وتدریس کرتے رہے، تقسیم ہند کے بعد لاہور پھر کراچی تشریف لے آئے،کراچی کی صابری مسجد رنچھوڑ لائن آپ نے تعمیر کروائی۔مشہور عالم دین مفتی جمیل احمد نعیمی آپ کے داماد تھے۔(72)
محمد مصطفےٰ رضا خان نوری رضوی
صاحبزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1310ھ مطابق1892ء کو رضا نگر محلّہ سودا گران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔آپ فاضل دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم وفنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی وشاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما ومشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف وتالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرمُ الحرام 1402ھ مطابق 12نومبر1981ء میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان کے پہلو میں دفن ہوئے۔(73)
محمد مظہر اللہ دہلوی
مفتی اعظم شاہ محمدمظہر اللہ دہلوی حضرت شاہ مسعود دہلوی کے پوتے اور مولانا محمد سعید دہلوی کے بیٹے ہیں، آپ کا نام محمد مظہر اللہ ، لقب مفتی اعظم اور کنیت ابو مسعود تھی۔آپ کی پیدائش 15رجب1303ھ مطابق 21 اپریل1886ھ کو دہلی میں ہوئی۔ حفظ قرآن کے بعد چچا جان مولانا عبد المجید اور دیگر علما سے علوم وفنون حاصل کئے، پھر عمیق مطالعہ سے ان میں رسوخ پایا۔ آستانہ عالیہ مکان شریف کے سجادہ نشین حضرت سیدصادق علی شاہ سے بیعت کرنے کی سعادت پائی۔طویل عرصہ مولانا رکن الدین الوری کی صحبت میں رہے اور خلافت سے نوازے گئے۔
جوانی میں چچا مولانا عبد الرشید دہلوی نے جامع مسجد کی امامت وخطابت ان کے حوالے کی جسے آپ نے 60سال سے زائد عرصے بحسن و خوبی سرانجام دیا۔بہت استقامت کے ساتھ اہل دہلی کو مستفیض کرتے رہے۔ ساری عمر درس وتدریس اورافتانویسی میں گزارکر 14شعبان 1386ھ مطابق 28نومبر1966ء کو وصال فرماگئے۔تدفین جامع مسجدفتح پوری کے صحن میں جانب شمال مشرق میں واقع درگاہ حضرت میراں شاہ نانو سے متصل ہوئی۔آپ عالم ومفتی ہونے کے ساتھ باکرامت شیخ طریقت بھی تھے۔آپ کی تصانیف میں ارکان دین، مظہر اخلاق، مظہرالعقائد،تحقیق الحق، رسالہ درعلم توقیت، خزینۃ الخیرات، فتاویٰ مظہریہ اور تفسیر قرآن مظہرالقرآن یادگارہیں۔(74)
محمد نظام الدین رضوی
سراج الفقہاء،محقق مسائل جدیدہ حضرت مولانا مفتی محمد نظام الدین رضوی جید عالم دین،مفتی اسلام، استاذ العلماء الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ یوپی ،ہند کے سابق صدر المدرسین اور دار الافتاء شارح بخاری مبارکپور کے مفتی صاحب ہیں۔آپ کی پیدائش 2 مارچ 1957ء کو موضع بھوجولی ضلع کشی نگر اتر پردیش کے ایک دین دار انصاری گھرانے میں ہوئی۔انجمن معین الاسلام بستی،مدرسہ عزیز العلوم نانپارہ اور جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے علوم وفنون میں دسترس حاصل کی۔ 1980ء میں درس نظامی وشعبۂ تحقیق فی الفقہ سے فراغت حاصل کی۔آپ کئی کتب اور مقالات کے مصنف ہیں۔
محمد نظام الدین ملتانی
رئیس المناظرین مولانا ابو منظور محمد نظام الدین ملتانی کی ولادت ملتان میں ہوئی، آپ جیدعالم دین، قادری سروری سلسلے میں بیعت، مصنف کتب کثیرہ اوربہترین مناظرتھے، 27تصانیف میں سلطان الفقہ المعروف فتاویٰ نظامیہ (گیارہ حصے)آپ کی بہترین یادگارہے۔آپ کا وصال وزیرآبادضلع گوجرانوالہ کے دروازہ موج دین میں ہوا،یہاں آپ کی رہائش تھی، تاریخ وسن ولادت اوروفات نہ مل سکا۔(75)
محمد نعیم الدّین مراد آبادی
صدر الافاضل حضرت علامہ حافظ سیّد محمد نعیم الدّین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1300ھ مطابق 1882ء کو مراد آباد(ہند) میں ہوئی اور آپ نے 18ذوالحجہ 1367ھ مطابق22 اکتوبر1948ء کو وفات پائی۔ آپ دینی عُلوم کے ماہِر، شیخ الحدیث، مفسرِقرآن، مُناظِرِ ذيشان،مُفتیٔ اسلام، درجن سے زائد کُتُب کے مصنف، قومی رَاہنما وقائد، شیخِ طریقت، اسلامی شاعر، بانیِ جامعہ نعیمیہ مُرادآباد، استاذ العلماءاوراکابر اہلِ سنّت میں سے تھے۔ کُتُب میں تفسیرِخزائنُ العِرفان مشہور ہے، جوانی میں اعلیٰ حضرت سے آپ کا رشتہ محبت وعقیدت قائم ہوا اور زندگی بھر قائم رہا، بلاشبہ آپ چودھویں صدی کی مؤثر شخصیت تھے۔(76)
محمد نعیم اللہ خاں قادری
جناب محمد نعیم اللہ خاں قادری صاحب دینی جذبے سے سرشار نوجوان ہیں دینی ودنیاوی تعلیم سے آراستہ ہیں، ان کے تعارف میں لکھا ہے کہ بی ایس سی،بی ایڈ اور پنجابی،اردو،تاریخ میں ایم اے کر چکے ہیں، انھوں نے علمائے اہل سنت کی کئی کتب شائع کی ہیں۔
محمد نور الحق فرنگی محلی
آپ نے بحر العلوم علامہ عبدالعلی فرنگی محلی اور والدمحترم علامہ انوار الحق سے علم حاصل کیا۔ آپ متبحر عالم دین،استاذ العلماء ،منکسر المزاج،پیکرحسن اخلاق،حواشی کتب درس نظامیہ،سلسلہ قادریہ رزاقیہ کے شیخ طریقت اور باکرامت ولی اللہ تھے۔ہزاروں شاگردوں میں علامہ سیدشاہ آل رسول مارہروی،علامہ فضل رسول بدایونی اور علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی بھی شامل ہیں۔آپ نے 22ربیع الاول 1248ھ کو وصال فرمایا۔(77)
محمد وارث
مولانا الحاج محمد وارث اور ان کے بیٹے مولانامحمد عبد اللہ دونوں عالم دین تھے، شیخوپورہ کے کسی مدرسے سے علم دین حاصل کیا، یہ دونوں حضرات مسجدبوہڑوالی میں دینی کتب پڑھاتے تھے، طلبہ دوردرازسے پڑھنے کے لیے مسجدبوہڑوالی میں آتے تھے حتی کہ قدیم لاہورکے مشہورعالم وولی اللہ حافظ میاں محمد اسماعیل سہروردی المعروف میاں وڈّا صاحب کے خاندان کے کئی افرادبھی ان دونوں کے پاس پڑھنے آیاکرتے تھے۔ یہ دونوں حضرات فی سبیل اللہ امامت وتدریس کیا کرتے تھے، مولانا محمد وارث صاحب کا انتقال 20 جمادی الاخریٰ 1373ھ مطابق25فروری 1954ء کوہوااوربوہڑوالی مسجدکے ایک گوشے میں تدفین کی گئی، جبکہ آپ کے بیٹے محمد عبد اللہ صاحب 1382ھ مطابق 1963ء میں فوت ہوئے۔
محمد یحییٰ مجو میاں ترمذی
آپ بریلی کے نومحلہ کے اجلہ ترمذی سادات سے تھے۔آپ کے پردادا سید معصوم شاہ ترمذی شہیدِ وطن حافظ رحمت خاں کے پیر ومرشد تھے۔ جن کا نسب 6واسطوں سے پیر بابا سید علی ترمذی (ضلع بونیر، کے پی کے پاکستان)سے مل جاتاہے۔ان کا مزارنومحلہ مسجد بریلی شریف کے احاطے میں ہے۔ یہ نو محلہ مسجد گورنمنٹ انٹر کالج بریلی کے سامنے سے ایوب خاں چوراہے کو جانے والی سڑک کے وسط میں واقع ہے۔ (78)
محمد یونس نعیمی اشرفی
استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی محمد یونس نعیمی اشرفی سنبھل کے رہنے والے تھے،جامعہ نعیمیہ مراد آباد سے فارغ التحصیل ہوئے اورتقسیم ہندکے بعد اس کے مہتمم بنائے گئے،1347ھ میں شیخ المشائخ نے آپ کو خلافت سے نوازا،یہ بانی جامعہ نعیمیہ لاہورمفتی محمد حسین نعیمی صاحب کے بہنوئی ہیں۔(79)
محمدحسن علمی نقشبندی
مولانا محمد حسن علمی بریلی کے پنجابی سوداگران کے چشم وچراغ،علامہ رضا علی خان نقشبندی کے شاگردومرید،عالم دین اور شاعرومصنف تھے۔آپ کی پیدائش بریلی میں ہوئی اوریہیں 1283ھ کو وصال فرمایا۔تدفین مسجد نومحلہ بریلی سے متصل کی گئی۔خلیفہ امیرالدین آزادنے وفات پر قطعہ تاریخ کہا۔آپ نے 1229ء میں خطبات علمی کوترتیب دیا جس کی دھوم پاک وہند میں ہے،سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا تحریرفرماتے ہیں: مولانا محمدحسن علمی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سنی صحیح العقیدہ اورواعظ وناصح اورحضوراقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مداح اور میرے حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے شاگرد تھے۔(80)
محمدحسن گرم دیوانی غازی پوری
حضرت شاہ محمدحسن گرم دیوانی غازی پوری،عالم دین، پیرطریقت اورخاندان دھاواشریف کے جلیل القدر بزرگ تھے۔آپ کی ولادت دھاوا شریف (نزد غازی پور، یوپی، ہند) میں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔ مزار خاندانی خانقاہ دھاوا شریف میں ہے۔آپ کے صاحبزادے حافظ شاہ احمدکریم آپ کے جانشین مقرر ہوئے پھران کے بیٹے شاہ فخرالدین (وفات،14ربیع الثانی مطابق14مارچ1979ء)اپنے باپ دادا کی مسند پر بیٹھے اور خانقاہ کے فیضان کو عام کیا۔(81)بعد میں اسی خاندان کی ایک شخصیت شیخ شاہ محمودحسن ولیدپوری کومخدوم الاولیاء نے خلافت سے نوازااوراکرام اللہ شاہ کا لقب دیا۔(82)
محمدعبد الحی کتّانی حسنی مالکی
عالمِ جلیل، حضرت شیخ سیّد محمدعبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1305ھ فاس مغرب (یعنی مراکش) میں ہوئی۔ 12رجب 1382ھ کو وصال فرمایا۔ نیس(Nice) فرانس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ آپ مُحَدِّ ث ِ عرب وعجم، عالمِ باعمل، کئی کتب کے مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کی کتاب فہرس الفہارس علمائے سیرت میں معروف ہے۔ (83)
محمدموسیٰ امرتسری
حکیم اہل سنت حکیم محمدموسیٰ امرتسری کی ولادت 28 صفر 1346ھ مطابق27 اگست 1927ء امرتسر مشرقی پنجاب ہند میں ہوئی اور8شعبان 1420ھ مطابق17 نومبر 1999ءکو لاہور میں وفات پائی، مقابر چشتیاں، قبرستان نتھے شاہ، جوارِ دربار میاں میر قادری(لاہور کینٹ) میں مدفون ہیں،آپ طبیب حاذق، دینی و دنیاوی تعلیم کے جامع،صاحب تصنیف،درد امت سے سرشار،سلسلہ چشتیہ صابریہ میں مرید اور قطب مدینہ کے خلیفہ تھے۔آپ نے زندگی بھر طبابت کی،آپ کا مطب ریلوے روڈ لاہور میں تھا، یہ مریضوں کے لیے مقام دوا اور معرفت وعلم کے طالبوں کے لیے سرچشمہ علم وحکمت تھا، آپ کی دس ہزار سے زائد کتب پر مشتمل شاندار لائبریری بھی اہل علم کے یہاں آنے کا سبب بنتی تھی،آپ نے 1388ھ مطابق 1968ء میں مرکزی مجلس رضا کی بنیاد رکھی۔(84)
محمود احمد قادری رفاقتی مظفر پوری
مؤرخِ اہلِ سنّت،محمود ملت حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری رفاقتی مظفر پوری( سجادہ نشیں خانقاہ اشرفیہ رفاقتیہ بھوانی پور ضلع مظفر پوربہار)امین شریعت،استاذالعلماء حضرت علامہ رفاقت حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند،عالم دین، مصنف کتب اور ایک متحرک شخصیت کے مالک تھے،آپ کی کتاب تذکرہ علمائے اہل سنت آپ کی پہچان ہے۔ آپ کا وصال 10 رمضان1439ھ مطابق 26 مئی2018ء کو ہوا۔(85)
محمود الرحمن چھوہروی
حضرت خواجہ محمود الرحمن چھوہروی کی ولادت 1907ء میں اپنے آبائی گاؤں چھوہرشریف میں ہوئی، آپ نے اپنے والدخواجہ عبدالرحمن چھوہروی سے تربیت پائی اورخانقاہ قادریہ خضریہ چھوہر شریف کے پہلے سجادہ نشین قرارپائے اورانہوں نے رشدوہدایت کا سلسلہ جاری رکھا،آپ دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ کی ترقی کے لیےبہت جدوجہدفرماتے،آپ نےاس کے معاملات کو بہتربنانے کے لیے 1357ھ مطابق 1937ء میں رحمانیہ ٹرسٹ بنایا، آپ کا وصال 1986ء میں ہوا۔(86)
محی الدّین غلام گیلانی شمس آبادی
استاذُالعلماء حضرت مولانا قاضی محی الدّین غلام گیلانی شمس آبادی 1285ھ میں شمس آباد (تحصیل حضروضلع اٹک) پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ فاضل مدرسہ عالیہ رامپور، مبلغِ اسلام، مُناظرِ اہلِ سنّت، سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے پیرِطریقت اور کئی کتب و رسائل کے مصنف تھے۔ اپنے آبائی علاقے کے علاوہ گجرات ہند اور بنگال میں خدمتِ دین کی سعادت پائی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان سے خاص تعلق تھا، کئی مرتبہ بریلی تشریف لے گئے۔ آپ کا وصال 24ذوالقعدۃ الحرام 1348ھ کو مقامِ پیدائش میں ہوا، یہاں کے بڑے قبرستان میں دفن کئے گئے۔(87)
مشتاق احمد صدیقی کانپوری
جامع علوم وفُنون حضرت مولانا حافظ مشتاق احمد صدیقی کانپوری،استاذُ العلماء، مدرِّس، واعِظ، شیخ الحدیث والتفسیر اور جیّد عالم تھے۔ 1295ھ مطابق 1878ءمیں سہارن پور (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور کانپور ہند میں یکم شوال 1360ھ مطابق 22 اکتوبر1941ء کو وِصال فرمایا۔آپ کو بساطیوں والے قبرستان پنجابی محلہ کانپور(یوپی) ہند میں والدِ گرامی استاذ العلماء علامہ احمد حسن کانپوری کے مزار سے متصل دفن کیا گیا۔(88)
مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی
حضور احسن العلماء حضرت مولانا حافظ قاری سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی کی پیدائش 10شعبان 1345ھ مطابق 13فروری 1927ء میں ہوئی اور15ربیع الآخر1416ھ مطابق 11ستمبر1995ء کو وفات پائی۔ بیعت کاشرف ناناجان مولانا سیدابوالقاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں سے حاصل کیااورخلافت حاصل ہوئی۔ ماموں تاج العلماء سے بھی خلافت پائی اور جانشین مقررہوئے۔انہیں 3شعبان1375ھ مطابق 17مارچ 1965ء کو بموقعہ چہلم تاج العلماء تولیت جملہ اوقاف خانقاہ عالیہ برکاتیہ سپردہوئی۔(89)
مظفر علی احمد خاں مراد آبادی
حضرت شیخ مظفرعلی احمد خان مرادآبادی کا تعلق مرادآبادیوپی ہندسے تھا،آپ کی پیدائش 1247ھ کو ہوئی۔حضرت توکل شاہ کی خدمت میں حاضرہوئے۔آپ نے انہیں1272ھ میں اپنے دادامرشدحافظ حاجی محمودجالندھری کا مرید بنایا۔ انہیں ان دونوں بزرگوں سے خلافت واجازت حاصل تھی۔آپ ہی حضرت توکل شاہ انبالوی کے پہلے سجادہ نشین مقرر ہوئے۔آپ نے 91سال کی عمرمیں 24جمادی الاخریٰ 1338ھ کو وصال فرمایا،مزارمبارک حصار سٹی، ریاست ہریانہ ہندمیں ہے۔(90)
مظہر حسین بدایونی انصاری
استاذ العلماء حضرت مولانا مظہر حسین بدایونی انصاری کی پیدائش 7رجب 1355ھ مطابق 1936ء کو حویلی کوکمالی محلہ ناگراں بدایون سٹی میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم کے بعد درس نظامی کے لیے مدرسہ شمس العلوم گھنٹہ گھربدایون میں داخلہ لیا۔دیگرمدارس میں بھی پڑھا۔اسی دوران 22صفر1372ھ مطابق 1953ء میں تاج العلماء علامہ سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی کے مریدہوئے۔انہیں تاج الشریعہ مفتی اختررضاخان سے خلافت حاصل ہوئی۔دورہ حدیث شریف دارالعلوم منظراسلام بریلی سے کرکے1382ھ مطابق 1963ء فارغ التحصیل ہوئے۔ایک مینارہ مسجد لائنز ایریا کراچی میں خطابت وتدریس،مدرسہ نور الاسلام شیرپور کلاں ضلع پیلی بھیت،مدرسہ رحمانیہ کھٹیمہ (Khatima) ضلع نینی تال میں تدریس کرتے رہے اوراب مدرسہ قاسمیہ برکاتیہ محلہ ناگراں بدایون میں تدریس کررہے ہیں۔ (91)
معوان حسین مجددی
صاحبزادۂ تاج المحدثین حضرت مولانا معوان حسین مجددی 1306ھ مطابق 1889ء کو محلہ کھاری کنواں رامپور کے علمی وروحانی گھرانے میں پیدا ہوئے،علمائے رامپور سے علم دین حاصل کر کے مدرسہ ارشاد العلوم کے مدرس بنے،اپنے والد صاحب کے بعد انہوں نے مدرسے کے نظام کو مربوط ومضبوط کیا اور اس کے مہتمم ومنتظم قرار پائے،کثیر طلبہ علم نے آپ سے علمی وروحانی فیض حاصل کیا،آپ منکسر المزاج وخلیق انسان اور زہد وتقویٰ وعلوم وفنون میں اپنے والد گرامی کے پرتو تھے،وعظ بھی اچھا کرتے تھے 4تا6ربیع الاول1338ھ مطابق 28تا30نومبر1919ءکو آپ لاہور میں انجمن نعمانیہ جلسے میں پہلی مرتبہ تشریف لائے آپ کی تقریر اتنی پر مغز تھی کہ انجمن اسلامیہ پنجاب نے آپ کو لاہور کی بادشاہی مسجد کا خطیب مقرر کر دیا،اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے،آپ کا وصال 16ربیع الاول 1352ھ مطابق 9جولائی 1933ء کو رامپور میں ہوا،آپ کے جنازے میں تقریبا دس ہزار لوگوں نے شرکت کی،یوں دنیا ایک عظیم عالم دین،ماہر علوم حدیث وفقہ،استاذ العلماء اور بہترین خطیب سے محروم ہوگئی۔(92)
محمد نطام الدین دھمالوی
استاذ العلماء مفتی محمد نطام الدین دھمالوی کی پیدائش1881ء کو موضع دھمال (Dhamal)تحصیل چڑھوئی ضلع کوٹلی کشمیرمیں ہوئی، وفات1380ھ مطابق 1961ء میں پائی۔آپ نے علامہ حافظ محمدعبد اللہ لدّروی کشمیری اورعلمائے کشمیر، پنجاب اوراترپردیش (ہند)سے علوم وفنون میں مہارت حاصل کی۔(93)
منور علی شاہ عمر دراز الہ آبادی
شیخ العالم حضرت شیخ منور علی شاہ عمر دراز الہ آبادی کا نسب دوواسطوں(شیخ عبد اللہ اورشیخ عثمان )کے ذریعے شیخ الشیوخ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے مل جاتا ہے،آپ کی ولادت 11رمضان 491ھ کو ہوئی۔ آپ مرید اورخادم خاص حضور غوث اعظم ہیں اور نسبی طور پر پیر زادے بھی۔ 42سال بارگاہِ غوثیہ میں رہے۔ وصالِ غوث پاک کے بعدآپ حضرت سیدکبیرالدین شاہ دولہ احمدآبادی کی صحبت میں 16سال رہے اور انہیں کے ساتھ ہندتشریف لائے،شاہ دولہ نے ان کی تربیت فرمائی اور587ھ میں خلافت سے نواز کر الہ آبادروانہ فرمادیا۔آپ نے708سال کی طویل عمرپاکر 4جمادی الاخریٰ 1199ھ کووصال فرمایا۔ تدفین محلہ ہمت گنج الہ آبادمیں ہوئی۔(94)
مہر علی شاہ گیلانی گولڑوی
قبلۂ عالم،تاجدارِ گولڑہ، حضرت علامہ پیر سید مہر علی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1275ھ مطابق 1859ء میں گولڑہ شریف (اسلام آباد، پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور 29 صفر 1356ھ مطا بق 11مئی 1937ء کو وصال فرمایا،آپ کا مزار گولڑہ شریف میں زیارت گاہِ خاص وعام ہے۔آپ جید عالمِ دین،مرجعِ علما،شیخِ طریقت،کئی کتب کے مصنف، مجاہدِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر اور عظیم ومؤثر شخصیت کے مالک تھے۔ فرقۂ مرزائیہ کی بیخ کنی میں آپ کا کردار مثالی ہے۔(95)
مہر محمد اچھروی
امام المحققین، استاذ المدرسین مولانا مہر محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1314ھ مطابق 1896ء کو موضع چوکھنڈی مضافات اٹک پاکستان میں ہوئی اور بروز پیر 2 ربیع الثانی1374ھ مطابق 29 نومبر 1954ءکو وصال فرمایا، آپ حافظ قرآن، جیدعالم دین، قبلہ پیرسیدمہرعلی شاہ صاحب کے مرید، صدر مدرس جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور تھے،پوری زندگی تدریس میں گزاری، بڑے بڑے علما نے آپ سے استفادہ کیا، ملک المدرسین امام المناطقہ حضرت مولانا عطا محمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے شاگردہیں۔(96)
مہر محمد خاں ہمدم
پیر طریقت حضرت علامہ مہر محمد خاں ہمدم کی پیدائش1334ھ مطابق 1916ء میں سنور (پٹیالہ، ہند) ایک علمی اور روحانی گھرانے میں ہوئی۔ حفظ و تجوید سے فراغت کے بعد مفتی اعظم ریاست پٹیالہ علامہ مولانا محبوب علی خان قادری صاحب سے دینی علوم، فقہ، منطق، فلسفہ اور دیگر علوم و فنون حاصل کئے۔بعد ازاں مولانا عبد الجلیل خاں صدرمدرس دارالعلوم عربیہ حنفیہ کریمیہ جالندھر سے شرح جامی، ہدایہ، مشکوٰۃ شریف اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی۔ لاہور میں آپ نے دارالعلوم حزب الاحناف کے بانی مفتی اعظم علامہ ابو البرکات سید احمدشاہ قادری سے درس حدیث لے کر سند فراغت و سند خلافت بھی حاصل کی۔قیام پاکستان کے بعد چونیاں ضلع قصورتشریف لے آئے اوریہاں خدمت دین میں مصروف رہے، آپ جیدعالم دین، شیخ طریقت، بہترین واعظ، اسلامی شاعراورکئی کتب کے مصنف ہیں۔آپ 15 رجب1403ھ مطابق 28اپریل 1983ء کومحفل میلاد میں یارسول اللہ یانبی اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے وصال فرماگئے۔(97)
میراں جی شاہ جیون ابو العلائی
حضرت میراں جی شاہ جیون ابو العلائی الور کے قریبی شہر تجارہ کے سلسلہ ابو العلائیہ کے مشہور ولی اللہ ہیں،آپ کا وصال 26رجب 1167ھ مطابق1753ء کو تجارہ میں ہوا،یہیں مزار ہے۔(98)
میراں حسین خنگ سوار مشہدی
ولی کامل حضرت سید میراں حسین خنگ سوار مشہدی شہاب الدین غوری کے ساتھ ہند آئے،تزکیہ ظاہری وباطنی میں بے نظیر تھے،مگر اپنے آپ کو چھپانے کی غرض سے فوجی لباس میں رہتے تھے،انھوں نے سلطان الہندحضرت خواجہ سید معین الدین حسن سجزی کی صحبت پائی،دشمنوں نے 607ھ یا 610ھ کو آپ کو شہید کر دیا،نماز جنازہ سلطان الہند نے پڑھائی،مزار مبارک بالائے کوہ تارا گڑھ اجمیر شریف میں ہے۔(99)
نبی بخش حلوائی
مفسرقرآن علامہ نبی بخش حلوائی کی ولادت 1266ھ مطابق 1850ء کو اکبری منڈی، محلہ مولویاں، اندرون دہلی دروازہ لاہورکی ارائیں برادری میں ہوئی، آپ نے 14ذیقعدہ1363ھ مطابق یکم نومبر 1944ء کو وصال فرمایا، مسجدنبویہ سے متصل اپنے حجرے میں مدفون ہوئے، بچپن سے حلوائی کام میں مصروف رہے اس کے ساتھ علم دین حاصل کرکے عالم بھی بنے، درس وتدریس، تصنیف وتالیف آپ کا دینی اور حلوائی کی دوکان آپکا دنیاوی مشغلہ تھاالبتہ زندگی کے آخری پندرہ سالوں میں آپ نے اپنے آپ کو صرف دینی مصروفیت کے لیے وقف کردیا تھا،23سے زیادہ تصانیف میں 15جلدوں پر مشتمل پنجابی اشعارکے ذریعے کی گئی بے مثال تفسیرنبوی اورکئی مشہورتلامذہ مثلاً پیرزادہ اقبال احمد فاروقی،حافظ محمد عالم سیالکوٹی اور مولانا باغ علی نسیم وغیرہ یادگارہیں، آپ متبحرعالم دین، مفسرقرآن، استاذالعلماء،کثیرکتب ورسائل کے مصنف،پنجابی،اردو،فارسی کے بلندپایہ شاعر،سلسلہ نقشبندیہ جماعتیہ کے شیخ طریقت، غریب،یتیم طلبہ کے کفیل ومددگار،اوراد ووظائف کے پابند اورفعال اہل ثروت شخصیت کے مالک تھے۔(100) آپ نے اپنی زرعی زمین، آبائی مکان اوردوسری تمام جائیدادیں بیچ کر بیرون دہلی دروازہ سٹی کوتوالی کی شمالی دیوارکے ساتھ دومنزلہ مسجدنبویہ قائم فرمائی،جس کی تکمیل غالباً 1354ھ کو ہوئی، اس سے متصل جنوبی وشمالی جانب حجرے تعمیرکئے گئے جنوبی حجرے شاگردوں کے لئے اورشمالی حجروں میں آپ مقیم رہے، مسجدکے فرنٹ پر ایک پتھر لگوایا جس پر یہ لکھا تھا:یہ مسجدخالص حنفیہ کرام کی ہے، کوئی غیرمذہب یہاں آکراپنے افعال ادا نہیں کر سکتا جس سے مناقشت پیدا ہو۔فقیرمحمد نبی بخش متولی مسجدہذا(مؤلف تفسیرنبوی)1354ھ،یوں اہلسنت کا اعتقادی ونظریاتی مرکز تھا۔(101)
نذیر احمد شاہ نقشبندی
دیسولے والے پیرصاحب حضرت میاں سید نذیر احمد شاہ نقشبندی لکھنو کی پیدائش قصبہ موہان ضلع اناؤ ریاست اترپردیش میں ہوئی تعلیمی مراحل لکھنو میں طے کئے،آپ حضرت علامہ شاہ شمس الدین احمدمیاں گنج مراد آبادی (صاحبزادے وجانشین حضرت علامہ شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی)کے مرید و خلیفہ تھے،انہیں کے حکم سے قصبہ دیسولہ ریاست الورمیں قیام فرمایا،1947ء میں لاہورپھرشیخوپورہ اورآخرمیں بہاولپورتشریف لائے اوریہیں25ربیع الاول1388ھ مطابق 22جون 1968ء کو دوران نعت خوانی وصال فرمایا۔غزالی زماں حضرت علامہ سیداحمدسعیدشاہ کاظی اورفیض ملت حضرت مولانا فیض احمداویسی نے بھی ان سے استفادہ فرمایا،علامہ کاظمی صاحب کو غزالی زماں کا لقب بھی آپ نے عطافرمایا۔(102)
نسیم احمد دہلوی
مولانا حافظ نسیم احمد دہلوی علامہ کرامت اللہ دہلوی کے شاگرد مولانا حبیب احمد دہلوی کے صاحبزادے تھے، انھوں نے حفظ قرآن والد صاحب سے کیا، اسلامی تعلیم مدرسہ عربیہ فتح پوری مسجد دہلی میں حاصل کی اور والد صاحب نے اپنی جگہ شاہی سنہری مسجد چاندنی چوک دہلی کی امامت سپرد کی،آپ نے یہ خدمت 35سال نبھائی۔ دہلی کی فلاحی تنظیم انجمن مؤید الاسلام میں خدمات سر انجام دیں،اس کے تحت بطور مبلغ رنگون اور برما وغیرہ کے تبلیغی دورے کئے۔اپنے سسر علامہ کرامت اللہ دہلوی سے مرید ہوئے اور خلافت سے نوازے گئے۔ان کے انتقال کے بعد مسلسل 20سال ان کی جگہ چھوٹی مسجد باڑہ ہند وراؤ میں بعد فجر درس قرآن اور درس مثنوی دیتے رہے۔قیام پاکستان کے بعد کراچی آئے اور یہاں موتی مسجد مارٹن روڈ تعمیر کر کے 10سال اس میں امامت وخطابت فرماتے رہے۔یہاں بھی بعد نماز فجر درس قرآن اور درس مثنوی دیا کرتے تھے۔آپ کا انتقال بعدمغرب 11ربیع الاول 1375ھ مطابق 1957ء کو ہوا۔اپنی زندگی کی آخری نمازِ مغرب بھی لیٹے لیٹے ادا کی۔آپ کی تدفین قبرستان خاموش کالونی میں کی گئی۔(103)
نصرت علی دہلوی
مطبع نصرت المطابع دہلی کے مالک حضر ت مولانا سید نصرت علی دہلوی تھےجو عالم دین،مجازطریقت اور صحافی تھے۔ یہ امام المناظرحضرت مولاناسیدناصرالدین ابوالمنصور دہلوی (صاحب ِ نویدجاوید)کے ہاں دہلی میں پیدا ہوئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہ اپنے والدکے ساتھ لکھنؤ چلے گئے بچپن وہیں گزرا۔جب حالات بہتر ہوئے تو یہ اپنے خاندان کے ساتھ دہلی آگئے اوریہاں مطبع نصرت المطابع دہلی قائم کیا جس سے کئی کتب شائع ہوئیں۔ آپ نے یکم جنوری 1873ء میں نصرت الاخباردہلی شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا،اس میں دین اسلام کی فوقیت وحقانیت پر مضمون لکھے جاتے تھے۔ قومی وملی مسائل پر تحریریں شائع ہوتی تھی۔ یہ بڑا نڈر اور حق گو پرچہ تھا حالات حاضرہ کا ناقدانہ جائزہ لیا جاتاتھا۔اس کا ضمیمہ مہرِ درخشاں بھی شائع ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک پندرہ روزہ ناصرالاسلام بھی جاری کیا جس کا مقصد دین اسلام کی ترویج واشاعت تھا۔ یہ ایک خالص مذہبی اخبارتھا۔اس میں خانقاہ کچھوچھہ کی خبریں بھی شائع ہوتی تھیں۔ کہا جاتاہے انھوں نے ایک عربی اخبار النفع العظیم بھی نکالنا شروع کیاتھا۔اردوکے مضمون نگار،ادیب ومحقق اورمقالہ نویس خان بہادر میر ناصر علی دہلوی ان کے بھائی تھے۔(104)
نواب الدین رامداسی چشتی
فاتح قادیان حضرت مولانا نواب الدین رامداسی چشتی کی ولادت 1870ء میں رامداس ضلع امرتسر ہندمیں ہوئی اور وصال 21جمادی الاخریٰ 1365ھ مطابق 25مئی 1946ء کو ہوا،آپ جیدعالم دین، بہترین واعظ اورصاحب تصنیف تھے، زبان میں ایسی شیرینی اورسوزوگدازتھا کہ جب آپ تقریرکرتے تھے مجمع کو رلادیتے تھے، تحقیق الادیان فی اعجازالقرآن المعروف پیامِ حق آپ کی یادگارتصنیف ہے۔(105)
نواب خاں افغانی نقشبندی مہاجر مکی
علامہ نواب خاں افغانی نقشبندی مہاجر مکی کی پیدائش ضلع پشاور کے علاقے لَونی میں تقریبا1229ھ میں ہوئی،عربی وفارسی کی تعلیم وہیں حاصل کی،پھر لکھنؤ اور رامپور آگئے،علوم منطق وفلسفہ مجاہد جنگ آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی سے حاصل کئے،دہلی میں دورہ حدیث شریف کیا۔فن طب کی تحصیل حکیم امام الدین دہلوی سے کی،فراغت کے بعد لکھنؤ میں مطب قائم کیا،اس میں شہرت حاصل ہوئی اور ولی عہد ریاست رامپور نواب کلب علی کے استاذ مقرر ہوئے۔بھوپال میں مطب کرتے رہے۔آخر کار مکہ معظمہ ہجرت کر گئے، وہاں حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی،وہاں مطب کیا کرتے تھے۔اہل ہند کے اصرار کے باوجود واپس نہ آئے۔خواجہ علامہ احمد سعید مجددی مہاجر مدنی سے بیعت کا شرف پایا،شیخ ابرہیم رشیدی خضروی سے خلافت حاصل کی۔جمادی الاخریٰ 1309ھ کو مکہ مکرمہ میں وصال فرمایا اور یہیں تدفین ہوئی۔ (106)
نوازش رسول بیتھوی
حضرت مولانا سید نوازش رسول بیتھوی درگاہ بیتھو شریف(Bitho Sharif Dargah) نزدگیا بہار ہند کے سجادہ نشین تھے۔آپ محبوب یزدانی سلطان سمنانی کی حقیقی بہن کے خاندان سے ہیں۔انھوں نے اپنے بھتیجے حضرت مخدوم سید شاہ چاند اشرف کو اپناجانشین مقررفرمایا تھا۔ان کے والدجب درگاہِ محبوب یزدانی پر پہنچے اوررو رو کرآپ سے استغاثہ کیا تو محبوب یزدانی کا دست مبارک قبرسے باہرنکل آیا اورمولانا کا ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا:تم ہماری اولادہو۔کسی کے انکارکرنے سے کیاہوتاہے۔حضرت کا دست مبارک مولانا کے ہاتھ میں آنا تھا کہ تمام منازلِ سلوک طے ہوگئیں۔(107)
نور النبی رامپوری
استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی نور النبی رامپوری پنجابی نے اپنے خاندان میں علوم اسلامیہ حاصل کئے۔ تمام علوم بالخصوص فقہ،ریاضی اور تفسیر میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔عرصہ دراز تک مدرسہ عالیہ رامپور میں مدرس رہے۔کثیر فتاویٰ پر آپ کی تصدیقی مہر ہوا کرتی تھی۔تین پاروں پر عربی میں مفصل تفسیر تحریر فرمائی۔ مولانا حیات النبی آپ کے چھوٹے بھائی بھی عالم دین تھے۔آپ کا وصال 1287ھ میں ہوا۔شاہ بغدادی صاحب کے مزار میں تدفین ہوئی۔آپ کے شاگرد کثیر ہیں۔(108)
نور بخش توکلی
مصنف کتب کثیرہ حضرت علامہ نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1305ھ مطابق 1887ء کو موضع چک قاضیاں (ضلع لدھیانہ،مشرقی پنجاب،ہند)میں اوروفات13جمادی الاولیٰ 1367ھ مطابق 24مارچ 1948ء کو فیصل آباد پاکستان میں ہوئی،جنرل بس اسٹینڈکے قریب مزارحضرت نورشاہ ولی قدّس سرّہ کے احاطے میں تدفین ہوئی، آپ نے ایم اے عربی کاامتحان علی گڑھ یونیورسٹی سے پاس کیا،علمائے اہل سنت سے علم دین حاصل کیا،حضرت سائیں توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کرکے خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ نےمختلف اسکولزوکالج میں تدریس کی،دارالعلوم انجمن نعمانیہ کےناظم تعلیمات،رسالے کے ایڈیٹر تھے،آپ نے بیس سے زائدکتب و رسائل تالیف فرمائے،آپ نے بطورمستفتی اعلیٰ حضرت سے استفادہ کیا۔ ردِّابطال پر مشتمل بہترین کتاب انوارِآفتابِ صداقت (وہ تاریخی کتاب جسے اعلیٰ حضرت نے مصنف سے خودسن کرتصدیق وتقریظ عطافرمائی ) کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا:خاکسارنے انوارِآفتاب صداقت مصنفہ مولانا مولوی حاجی قاضی فضل احمدصاحب لدھیانوی کو متعدد مقامات سے دیکھا۔مصنف نے ہرجگہ عقیدۂ اہل سنت وجماعت کے ثبوت میں دلائل واضحہ وبراہین قاطعہ پیش کئے ہیں اوران مسائل پرقلم اٹھایاہے جن کی تردید نہایت ضروری ہے۔(109)
نوران شاہ کاظمی نقشبندی
حاجی بابا حضرت پیر سید نوران شاہ کاظمی نقشبندی کی پیدائش 1286ھ مطابق 1869ء کو سچ سیداں بالاکوٹ ضلع مانسہرہ، ہزارہ kpk میں ایک کاظمی مشہدی سید گھرانے میں ہوئی۔آپ نے اپنی والدہ ٔ محترمہ،ماموں مولانا سیدرسول شاہ کاظمی اوربڑے بھائی مولاناسیدمخدوم شاہ وغیرہ سے علم دین حاصل کیا۔ 1877ء میں آپ کا خاندن لاہ شریف کشمیرمنتقل ہوگیا۔1896ء میں آپ کے بڑے بیٹے مولانا سیدحبیب اللہ شاہ کی ولادت ہوئی، اس کے بعد پیدل حج کے لیے روانہ ہوئے۔حج سے واپسی پر تقریباً 1904ء میں باباجی صاحب حضرت پیرخواجہ عبد اللہ لاوری نقشبندی سے بیعت کرکے خلافت سے نوازے گئے۔آپ نے لاہ شریف میں خانقاہ قائم فرمائی اوررشدوہدایت کا سلسلہ شروع فرمایا۔کئی غیرمسلموں نے آپ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔کئی گمراہ وبے عمل صرا ط مستقم پرآئے۔قیام پاکستان کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے اورنورپورسیداں تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں خانقاہ کی بنیادرکھی۔آپ کا وصال 27جمادی الاخریٰ 1386ھ مطابق 13 اکتوبر1966ء کو ہوااورخانقاہ میں دفن کئے گئے۔(110)
ہدایت اللہ خان رامپوری و جونپوری
استاذ العلماء حضرت مولانا ہدایت اللہ خان رامپوری کی ولادت رامپور کے ایک افغانی خاندان میں ہوئی اور یکم رمضان المبارک 1326ھ میں وصال فرمایا،درگاہ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبد الرشید جونپوری رحمۃ اللہ علیہ واقع رشید آباد میں تدفین ہوئی، آپ معقولات کے تاجدار تھے۔ علمائے عصر سے علوم اسلامیہ حاصل کئے۔مجاہد تحریک آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی رامپور تشریف لائے تو ان کی شاگردی اختیار کی۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ عالیہ رامپور میں تدریس کرنے لگے۔1870ھ میں مدرسہ حنفیہ جونپور کے مہتمم ومدرس مقرر ہوئے۔آپ کثیرالتلامذہ جید عالم دین،جامع معقول ومنقول،سلسلہ قادریہ میں بیعت، وسیع الاخلاق، خندہ رو، دوست آشنا، سادہ وضع،متورع ومتقی اور شاگردوں پر نہایت شفیق تھے،صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی اور پروفیسر علامہ محمد سلیمان اشرف بہاری آپ کے کثیر الفیض شاگرد ہیں۔ (111)
ہدایت اللہ خان مجددی رامپوری
حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ خان مجددی رامپوری شمس العلماء کے صاحبزادے وخلیفہ، مفتی اسلام تھے۔ آپ پیری مریدی سے دور رہنے کی کوشش کیا کرتے تھے،اسی لیے چھوٹے بھائی حافظ حمایت اللہ خان کو سجادہ نشین بنایا اور ان کے تحت رہ کر خدمات سر انجام دیں مگر جب ان کا انتقال ہوگیا تو پھر خاندان کے اتفاق سے آپ سجادہ نشین ہوئے۔آپ کا وصال 29جمادی الالیٰ 1357ھ کو ہوا۔(112)
ہدایت رسول لکھنوی
سلطانُ الواعظین مولانا ابو الوقت شاہ ہدایت رسول لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ واعظ،مناظر، شیخِ طریقت، شاعر، مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے، تصانیف میں فیوضِ ہدایت ترجمہ ایھاالولدمطبوع ہے، غالباً 1276ھ رامپور میں پیدا ہوئے، 23 رمضان المبارک 1332ھ کو یہیں وصال فرمایا۔تدفین مزارشاہ درگاہی رامپوری کے پائینتی جانب ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان نے ان کو سلسلہ قادریہ رضویہ کی خلافت عطا فرمائی۔ آپ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:اگرمجھ جیسالکھنے والااورمولانا ہدایت رسول جیسابولنے والاخطیب ہندوستان میں اورہوتاتو بدمذہبیت کا نام ونشان تک نہ رہتا۔(113)
واحد علی شاہ قادری چشتی
پیرِ طریقت حضرت پیر سید واحد علی شاہ قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ 1305ھ کو خاندانِ شاہِ ولایت امروہی مرادآباد میں پیدا ہوئے، تعلیم و تربیت “ الور “ میں ہوئی، آپ عالمِ دین، پیرِ طریقت اور عظیم روحانی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا وصال 11ربیعُ الآخر 1366ھ کو کراچی میں ہوا، مزار بارگاہِ واحدیہ (سخی حسن چورنگی، نارتھ ناظم آباد)کراچی میں ہے۔(114)
وزیر علی شیدا اکبر آبادی
آپ سینئرطبیب اورشاعر تھے۔ان کا علاج حیرت انگیز ہوتا تھا، مایوس لوگ ان کے علاج سے شفاپاتے تھے۔ ریاست کے راجہ نے انہیں ریاستی طبیب مقررکیا تھا۔آپ نے 1855ء کو مرآۃ الہند (تذکرہ ٔ مشاہیر دہلی، لکھنؤ، بریلی وغیرہ) کتاب لکھی جو ایک سال بعد 1856ء میں شائع ہوئی۔آپ بہترین شاعربھی تھے۔یہ میاں صاحب کے مریدوخلیفہ حضرت مولانا سیدمبارک علی شاہ حسنی صاحب کے جدامجدتھے۔آپ بلگرام سے دہلی اوردہلی سے الور تشریف لائے تھے۔(115)
وزیر علی کاظمی کرک مانکپوری
مولانا سید وزیر علی کاظمی کرک مانکپوری صاحب کے بارے میں مجاہداہل سنت علامہ سیدمحمدعلی رضوی حیدرآبادی صاحب نے لکھا ہے کہ مولانا سیدوزیرعلی کاظمی صاحب میرے بڑے پھوپھا تھے۔(116) جبکہ امام المحدثین بھی آپ کے پھوپھا ہیں،یوں یہ دونوں حضرات آپس میں ہم زلف ہوئے۔ مولاناسیدوزیرعلی صاحب کے بارے مزید معلومات نہ مل سکیں۔
وصی احمد محدث سورتی
استاذالعلماء والمحدثین،مولانا وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ محدِّثِ کبیر،عالمِ باعمل،مفتی اسلام، بانیِ مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت اور علامہ فضل حق گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے،آپ کا شمار اکابر علما میں ہوتا ہے،تصانیف میں جامع الشواہد، حاشیہ شرح معانی الآثار اور حاشیہ منیۃُ المصلی،التعلیقُ المجلی مشہور ہیں۔ ولادت1286ھ مطابق1869ء میں راندھیر سُورت ،ہند میں ہوئی اور 8جمادی الاولیٰ1334ھ مطابق 12 اپریل 1916ء میں پیلی بھیت (ہند) میں وصال فرمایا۔ مزار مبارک یہیں بیلوں والی مسجد سے متصل قبرستان میں ہے۔محدثِ سورتی سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے گہرے دوست بلکہ جانثار تھے۔(117)
ولایت شاہ گجراتی جماعتی
شہنشاہِ ولایت حضرت مولانا حافظ پیر سید ولایت شاہ گجراتی جماعتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1306ھ مطابق کو موضع رانیوال (گجرات پنجاب) میں ہوئی اوروصال گجرات شہر میں بحالت نماز 26جمادی الاولیٰ 1390ھ کو فرمایا، اپنی بنائی گئی شاہ ولایت مسجد میں مزار بنایا گیا۔آپ حافظ قرآن،فاضل جامعہ نعمانیہ لاہور، واعظ خوش بیان، استاذ العلماء، مدرسہ تعلیم القرآن و مدرسہ انجمن خدام الصوفیہ کے بانی، اہل سنت کے متحرک رہنما اور سلسلہ نقشبندیہ جماعتیہ کے شیخ طریقت تھے۔(118)
ولی اللہ فرنگی محلی
مصنف کتب کثیرہ حضرت علامہ ولی اللہ فرنگی محلی کی پیدائش 1186ھ مطابق 1768ء کو ہوئی اورآپ نے صفر 1271ھ مطابق 1853ء میں وصال فرمایا۔آپ علمی بلندیوں پر فائز تھے،مالی دنیاوی طورپر بھی مضبوط تھے۔ ساری زندگی درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں گزاری، فارسی میں تفسیرقرآن (فارسی) سمیت20تصانیف وحواشی تالیف فرمائے۔(119)
راقم کو کتب و رسائل فراہم کرنے والی چند شخصیات
امام المحدثین کی کئی کتب ورسائل مثلاً مختصر المیزان ، فضائل الشعبان والرمضان ، علامات اہل الحدیث والبدعۃ ، سلوکِ قادریہ تک رسائی برادرم قاری محمد ابرار عطاری (داتا نگر لاہور) کی بدولت ہوئی۔ اس کے علاوہ تقدیس المرسلین اور ہدیۃ الاغبیاء دونوں رسائل کے ناموں کی رہنمائی بھی ان سے ہی ملی، نیز امام المحدثین نے جن کتب پر تصدیقات وتقاریظ لکھیں ان سے متعلق معلومات کی فراہمی میں بھی ان کا کافی تعاون رہا،بلاشبہ قاری صاحب یادگار اسلاف ہیں، بزرگوں کی کتب کو تلاش کر کے اپنے پاس محفوظ کرنا ان کا مشغلہ (Hobby) ہے۔ اللہ پاک ان کو جزائے خیر عطا فرمائے، فقیر قادری ان کا انتہائی شکر گزار ہے۔
تفسیر میزان الادیان کے دوسرے حصے کی تلاش اور دیگر مقاصد کے لیے راقم نے 2021ء کے آخر میں لاہور کا سفر کیا،کئی اہل علم سے ملاقات کی، الحمدللہ ! دوسرا حصہ برادرِ اسلامی محمد ثاقب رضا قادری صاحب (محقق ومرتب کتب کثیرہ) کے پاس موجود تھا،انہوں نے اس کی خوبصورت ہارڈ کاپی راقم کو بھیجی،اسی طرح دورانِ ملاقات حضرت صاحبزادہ مولانا پیر سید نثار اشرف رضوی صاحب (مصنف،مدرس درس نظامی،مہتمم مدرسہ، سجادہ نشین،Phd اسکالر) نے اس کا ایک قدیم نسخہ عطا فرمایا جس کے کچھ صفحات کرم خوردہ تھے،اس کی پی ڈی ایف بنانے کی ذمہ داری برادرِ اسلامی مولانا عرفان حفیظ عطاری مدنی صاحب (مصنف، مقالہ نگار،پی ایچ ڈی اسکالر) نے لی اور پھر مجھے بھیج بھی دی،راقم دونوں حضرات کا انتہائی شکر گزار ہے۔
دیوانِ دیدار علی فارسی مفتی محمد نعیم اختر نقشبندی صاحب (مہتمم ومفتی دار العلوم حبیبیہ رضویہ کامونکی ضلع گوجر انوالہ، سابق مفتی دار العلوم حزب الاحناف)کی لائبریری میں موجود ہے،راقم کے گزارش کرنے پر مفتی صاحب کے صاحبزادے اسامہ صاحب کامونکی سے لاہور تشریف لائے،اس کی خوبصورت پی ڈی ایف بنوائی اور حضرت مولانا حافظ عرفان حفیظ عطاری مدنی صاحب کے ذریعے بھیجی،راقم اس پر ان کا شکر گزار ہے۔
دیوان دیدار علی اردو کا حصول مولانا محمد عامرعطاری مدنی چشتیانی فاضل ومدرس جامعۃ المدینہ جوہر ٹاؤن لاہورکے ذریعے ہوا۔انہوں نے اسے پی ڈی ایف کی صورت میں روانہ فرمایا ۔اس پر حاجی محمد عارف قادری ضیائی مصنف سیدی ضیاء الدین احمد قادری( رحمۃ اللہ علیہما )کےنام کی مہر ہے۔ عامربھائی نے بتایا کہ حاجی عارف صاحب کی لائبریری کی آدھی کتب جامعۃ المدینہ جوہرٹاؤن لاہورمیں ہیں جس میں یہ دیوان بھی تھا۔ فقیرقادری عامربھائی کا شکرگزار ہے۔
1 مشکوۃ المصابیح،ص 7تا10
2 نفحات الانس مترجم، ص20تا28
3 اعلام للزرکلی،1/66 ... شذرات الذهب 8/ 291
4 مرقاۃ،1/7تا9
5 الشقائق النعمانیہ، ص21 ...بغیۃ الوعاہ، 1/273 ...طبقات المفسرین، 2/275تا 280
6 ہدیۃ العارفین، 1/179 ...تاريخ عجائب الآثار، 1/650
7 بخاری، 2/546، حدیث:3746 ...الاصابہ، 2/60تا65 ... صفۃ الصفوۃ، 1/386
8 معارف رئیس اتقیا،ص17
9حلیۃ الاولیاء، 1/147تا151 ...جامع الاصول، 13/313
10معجم الکبیر، 20/29، حدیث:40...الاصابہ، 6/107 ... الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 3/460
11نورنورچہرے، ص 28تا54
12 روشن تحریریں، ص 140...رسول الکلام فی بیان المولد والقیام، ص 158 ... تذکرہ اکابراہل سنت، ص422
13 سیدی ابوالبرکات،ص 118... نزہۃ الخواطر،4/251 ... روشن تحریریں، ص 130 ... مستفاد منتخب التواریخ،ص623
14تاریخ علمائے بھوئی گارڈ،ص133تا135
15امام احمد رضا اور علمائے لاہور، ص 35تا53 ...تجلیات مہر انور، ص 817 ...فتاویٰ رضویہ،29/591 تا611 ...صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص102، 154، 194
16تذکرہ علمائے اہل سنت ایبٹ آباد، ص452، 453
17 تاریخ خاندان برکات، ص57تا64
18تذکرہ علمائےاہل سنت ایبٹ آباد،ص397
تذکرہ علماومشائخ سرحد،2/310
19 تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63
20فتاویٰ دیداریہ، ص 39...صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 85، 87تا90، 92
21 تذکرہ صدر الشریعہ، ص 5، 41
22 تذکرہ کاملان رامپور،ص 60،61
23 جہان ملک العلماء،ص 390
24صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 129، 193...تذکرہ علمائے پنجاب،ص 841...خفتگان خاک لاہور، ص307
25 اعلام من ارض النبوۃ،ص277تا291
26 دلی کے بائیس خواجہ،261تا264 ...ملفوظات شاہ فضل رحمن،ص11
27ماہنامہ احکام القرآن،کھاریاں، صفر1429ھ،ص13، 26
28 افضال رحمانی،ص 58تا76
29 تجلیات تاج الشریعہ، ص95 ...صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81
30سیرت امیرملت، ص 670تا689
31سیرت امیرملت، ص 361،362
32 تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213 ... سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236 تا 238
33تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316
34 تذکرہ اکابراہل سنت، ص466، 467
35لاہور کے اولیائے سہرورد، ص 232 ...تذکرہ حضرت میاں میر، ص 270...تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص 404
36 تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص137
37 معارف رئیس الاتقیاء،ص32 ...تجلیاتِ تاج الشریعہ، ص89 ...تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص91
38فتاویٰ دیداریہ، ص 27، 28
39 حیاتِ محدثِ اعظم، ص334،27
40 اعلام الاَذکیاء، ص 34تا37... تذکرہ کاملان رامپور، ص 158
41امام احمد رضا اور علمائے لاہور، ص 54تا60 ... تجلیات مہر انور، ص 347 ...صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ،ص 37
42 فتاویٰ شارح بخاری، 1/72 تا 110
43 صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 193
44تذکرہ فقیۂ اعظم،ص97، 100
45تذکرہ اکابراہل سنت، ص 486تا488... حضرت فقیہ اعظم کے مکتوبات ِ مدینہ،ص165
46 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 93، 94
47 تذکرہ علمائے ہند،رقم 253،ص 224... تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص105... حدائق حنفیہ، ص 498... جام نور، نومبر 2011ء، ص58
48تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275
49 حیاتِ ملک العلماء، ص 9، 16، 20، 34
50تذکرہ علمائے اہل سنت، ص 242،243
51 اعلام للزرکلی، 6/186 ...انوارِ قطبِ مدینہ،ص73، 189،191
52 شرفِ ملت نمبر لاہور، ص 126
53امام احمد رضا اور علمائے لاہور، ص 103تا107
54تذکرہ علمائے اہلِ سنّت سیتا مڑھی، ص 328تا335
55نوائے وقت، 16دسمبر2012ء
56 برہان ملت کی حیات وخدمات،ص 28تا37
57تذکرہ محدث ابدالوی، ص 35تا103
58معارف رضا، سالنامہ 2008ء ص 203تا208 ...ثبت شیخ محمد عبد اللہ عتیق،ص3
59ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق، ص 1تا4
60ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق، ص1، 2
61 مشائخ ہوشیارپور، ص 168تا170
62تحریک پاکستان اور علمائے اہل سنت کا کردار، ص54تا58 ... حیات صدر الافاضل،ص171،172
63 تذکرہ علمائے اہل سنت،ص190تا192 ...حیات مخدوم الاولیا، ص310
64 حیات رضا کی نئی جہتیں،ص 18
65فتاویٰ دیداریہ، ص 16، 17
66 قائد انقلاب علامہ فضل حق خیر آبادی،ص11تا19
67نوائے وقت، 7جون 2013،مضمون ازمیاں اظہرمحمود
68تذکرۂ اکابرِاہلِ سنّت، ص502
69الفقیہ امرتسر،2 اپریل 1941،ص6، 7
70 بزم جاناں، ص 242تا250 ...گلستان الور،ص 40
71 حلیۃ البشر،جز:3، 1/1492، حدائق الحنفیہ،ص477
72 انوار علمائے اہل سنت سندھ، ص 900تا903
73جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130
74 تذکرہ مظہرمسعود،ص 149، 153، 161، 308
75تذکرہ اکابراہل سنت، ص549تا550
76 حیات صدرالافاضل،ص9تا19
77 ممتازعلمائے فرنگی محلی، ص111تا115
78 تاریخ خاندان برکات،ص 68
79 حیات مخدوم الاولیا،ص356،301
80 تذکرے اپنے آبا کے،ص 253تا255 ...حیات رضا کی نئی جہتیں،ص 17 ...فتاویٰ رضویہ،8/447
81 تذکرۂ مشائخ غازی پور،ص421 تا 428
82 حیات مخدوم الاولیاء،ص309
83 نظامِ حکومتِ نبویہ مترجم، ص 27 ...اعلام للزرکلی، 6/187
84حکیم محمد موسیٰ امر تسری... الخ، ص 13، 25، 41،26
85 ماہنامہ کنزالایمان دہلی،ستمبر2018ء،ص34
86مشائخ خانقاہ قادریہ چھوہر ہری پور ... الخ، ص9، 13
87معارف رضا، شمارہ دہم 1990ء، ص125تا135
88 تذکرہ محدثِ سورتی، ص289 ، 290
89 سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص715
90 تذکرہ مشائخ نقشبندیہ،ص 910
91 تجلیات تاج الشریعہ،ص 606، 607
92 کاملان رامپور، ص407 ...صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 87تا90 ...وفیات مشاہیر الفقیہ، ص104
93ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق،ص2
94 سوانح حیات منورعلی شاہ، 6تا10، 29، 30
95 مہرِ منیر، ص61، 335 ... فیضانِ پیر مہر علی شاہ، ص4، 32
96تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص543
97نوائے وقت، 11 اکتوبر2013ء
98 حیات کرم حسین،ص23
99تحفۃ الابرار،ص 92
100مفسرقرآن علامہ نبی بخش حلوائی، حیات وخدمات، ص 2تا6 ... مجالس علما، ص 220تا245
101مجالس علما، ص 222،231
102 اولیائے بہاولپور،ص 287،288
103 روشن دریچے،ص343تا346
104 حیات مخدوم الاولیاء ،ص83، 84
105بزرگان امرتسر،ص65
106 تذکرہ کاملان رامپور،ص422تا424
107 صحائف اشرفی،2/161، 162
108 تذکرہ کاملان رامپور،ص435، 436
109سیرت رسول عربی،ص 17تا20 ... فتاوی رضویہ قدیم،7/ 480، 485 ... انوارِآفتاب صداقت،ص 46
110ذکرمخدوم، ص 87تا128 ...ششماہی مجلہ تصفیہ، خانقاہ کاظمیہ قلندریہ تکیہ شریف کاکوری، لکھنؤ،یوپی ہند، جلد3، شمارہ 1، ص 447تا472
111 تذکرہ کاملان رامپور،ص450تا453
112 تذکرہ مولانا حامد علی خام رامپوری،ص 145
113 مولانا نقی علی خان بریلوی،ص 48 ...تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص353 تا 363
114 اللہ والے، کلیاتِ مناقب، ص689
115 مرجع الور، ص146... حیات کرم حسین، ص 130... تذکرۂ مبارک، ص 16، 17
116روشن تحریریں،ص 143
117 تذکرۂ محدث سورتی، ص180،177،111،65،44
118 تذکرہ خلفائے امیرملت،ص313
119 ممتازعلمائے فرنگی محل،ص 118تا121
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع