دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hayat e Muhaddis ul Wari | حیات محدث الوری

book_icon
حیات محدث الوری
            

عبدالرشید عظیم آبادی

استاذ العلماء ،خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی حافظ سیّد عبدالرشید عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ شاہ ظفر الدین بہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شَمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24 شوال 1357ھ میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔ (1)

عبدالعلیم

حضرت شاہ عبدالعلیم قدس سرہ اپنے بھائی حافظ ابواسحاق کے ساتھ سلطان پورعرف بھیرہ نزدولید پور ضلع اعظم گڑھ یوپی سے دھاواشریف منتقل ہوگئے اوریہاں خانقاہ اورمدرسہ بنایااورساری زندگی درس وتدریس میں گزاری۔(2)

عزیز احمد قادری بدایونی

قطبِ لاہور، استاذِ حکیمُ الاُمّت، حضرت علّامہ مفتی حافظ عزیز احمد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1319ھ کو آنولہ (بانس بریلی، یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال یکم ذوالحجۃ الحرام1409ھ کو لاہور میں فرمایا، مزار قبرستان حضرت جان محمد حضوری (نزد چوک گڑھی شاہو) میں ہے۔ آپ حافظِ قرآن، فاضلِ مدرسہ قادریہ بدایون، ماہرِ علومِ نقلیہ و عقلیہ، استاذُ العلماء، شیخ الحدیث والتفسیر، مفتیِ اسلام، زیارتِ اعلیٰ حضرت سے مشرف، عارف ب اللہ ، خلیفۂ قطبِ مدینہ تھے۔ امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری کو تمام سَلاسِل میں اجازت بھی عطا فرمائی۔(3)

عزیز احمد قادری بدایونی

حضرت مولانا مفتی عزیز الحسن بریلوی کا شمارچودھویں صدی ہجری کے بریلی شریف کےبڑے علما وحکما میں ہوتاہے، آپ جیدعالم دین،حکیم حاذق،صاحب تصنیف اور مفتی اسلام تھے۔ان کے والدگرامی مولانا محمد حسن خان بریلوی بھی جیدعالم دین اورعارف تھے،مفتی صاحب نے اپنے والدصاحب کے لیے جامع معقول ومنقول،مجمع کمالات ظاہری وباطنی،رأس المحققین،قدوۃ المتقین،صدید الاذکیاء کے القابات لکھے جس سے ان کے والدصاحب کی خصوصیات سے آگاہی ہوتی ہے۔مفتی صاحب نے حکمت کے موضوع پر رسالہ التبصرہ فی احوال کثرۃ التفسرہ 1326ھ میں لکھا جوعربی اور اردو زبان میں ہے۔اس میں کئی علمااورحکما نے تقاریظ لکھیں اور اسے رفاہ عامہ پریس سے 1908ء کو 40صفحات پر شائع کروایا گیا ہے۔ان کے صاحبزادے مولانا مفتی حکیم ابوالحسن بریلوی کو مخدوم الاولیاء نے 10ذیقعدہ 1345ھ کو خلافت سے نوازا۔(4)

عطا محمد بندیالوی

استاذ العلماء حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1334ھ مطابق 1916ء کو موضع پداھڑتحصیل وضلع خوشاب پنجاب میں ہوئی اورڈھوک دھمن ضلع خوشاب میں 4ذیقعدہ1419ھ مطابق 22 فروری 1999ءمیں وصال فرمایا، آپ جامع معقول ومنقول، امام المناطقہ،ملک المدرسین، استاذ العلماء، کثیر التلامذہ اور20سے زائدکتب ورسائل اور مقالہ جات کے مصنف ہیں۔آپ کا عرصہ تدریس 50سال پرمحیط ہے، دارالعلوم حزب الاحناف میں آپ نے ایک سال پڑھایا تھا۔(5)

علاؤ الدین قادری گیلانی

صاحبزادۂ غوث الوریٰ حضرت پیر سید علاؤ الدین قادری گیلانی کی ولادت 18ربیع الاول 1352ھ مطابق 11جولائی 1933ء کو بغدادمیں ہوئی، آپ نے دینی تعلیم مسجد سید سلطان علی بغدادسے حاصل کی۔ 1956ء کو آپ پاکستان آئے اور1967ء کو آپ کی شادی خان آف قلات کی صاحبزادی سے ہوئی، آپ کاوصال 24ذیقعدہ 1411ھ مطابق 7 جون1991ء میں ہوا،تدفین بغدادٹاؤن نزدٹاؤن شپ لاہور پاکستان میں کی گئی، آپ خاندان غوثیہ کے چشم وچراغ، شیخ طریقت اورروحانی شخصیت کے مالک تھے۔

علم الدین شہید

غازی علم الدین شہید 8 ذیقعد 1366ھ مطابق 3 دسمبر 1908ء کو لاہور کے محلہ سرفروشاں میں پیدا ہوئے اور27جمادی الاولیٰ 1348ھ مطابق 31 اکتوبر 1929ء کو جام شہادت نوش فرمایا۔کم وبیش6 لاکھ عشاق رسول نے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کی،مزار میانی صاحب قبرستان میں ہے۔

علی بن عثمان ہجویری

منبع فیض عالم،مظہر نورِ خدا حضرت داتا گنج بخش سید علی بن عثمان ہجویری جنیدی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً 400ھ مطابق 1010ءکوغزنی شہر (مشرقی افغانستان) میں ہوئی۔ آپ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع، سلسلہ جنیدیہ کے عظیم المرتبت شیخ طریقت، مشہور زمانہ کتاب کَشْفُ الْمَحْجُوْب کے مصنف اور برعظیم کے بہت بڑے ولی کامل ہیں۔ آپ نے 20صفر 465ھ مطابق 5نومبر1972ءکو وصال فرمایا، مزار لاہور (پاکستان) میں دعاؤں کی قبولیت اور انوار و تجلیات کا مقام ہے۔(6)

عماد الدین اشرف لکڑ

شیخ عمادالدین اشرف لکڑ صاحب ِ جذب کامل تھے۔آپ کا وصال 19رمضان 1290ھ کو کچھوچھہ مقدسہ میں ہوا۔آپ کو محبوب یزدانی سے ازراہِ اویسیہ ارادت حاصل تھی۔(7)

عمر علاء الدین لاہوری

مخدوم العالم،گنج نبات حضرت شیخ عمر علاء الدین لاہوری ثم پنڈوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 701ھ کو لاہورمیں ہوئی،آپ اپنے وقت کے عالم وفاضل،مفتی وفقیہ،نحوی وصرفی،صوفی وولی اورخطیب وداعی تھے،آپ کا وصال یکم رجب 800ھ کو پنڈوہ شریف(ضلع مالدہ،مغربی بنگال،ہند) میں ہوا،آپ کی خانقاہ مرکز علم وعرفان تھی،بیک وقت پانچ سوسے سات سوتک علما یہاں تربیت پاتے تھے۔آپ مرجع خاص وعام تھے۔ قطبِ عالَم حضرت شیخ نورُ الحق احمد چشتی نظامی پنڈوی رحمۃ اللہ علیہ آپکے لائق وسچے جانشین تھے۔(8)

عمر فاروقِ اعظم

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت ابو حفص عمر فاروقِ اعظم عدوی قرشی رضی اللہ عنہ کی ولادت واقعۂ فیل کے 13سال بعد مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔آپ دورِ جاہلیت میں علمِ انساب،گھڑ سواری،پہلوانی اور لکھنے پڑھنے میں ماہر اور قریش کے سردار وسفیر تھے، اعلانِ نبوت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے۔آپ جلیلُ القدر صحابی، دینِ اسلام کی مؤثر شخصیت،قاضیِ مدینہ،قوی و امین، مبلغ عظیم،خلیفۂ ثانی،پیکرِ زہد وتقویٰ،عدل وانصاف میں ضربُ المثل اور عظیم منتظم ومدبر تھے۔آپ کے ساڑھے10 سالہ دورِ خلافت میں اسلامی حدود تقریباً سوا 22 لاکھ مربع میل تک پھیل گئیں۔آپ نے یکم محرم 24ھ کو مدینہ شریف میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔(9)

عمو جان دہلوی

منشی میر عمو جان دہلوی مرد سنجیدہ، کار گزار، آزمودہ کار، اپنے وقت کے وحیدوفریدروزگارتھے۔آپ دہلی کے رہنے والے تھے۔ ریاست الورکےراجہ نے آپ کو1254ھ مطابق 1838ءکو دہلی سے بلاکر عہدۂ دیوانی پر مقرر کیا۔ انھوں نے کچھ ہی عرصے میں ریاست کےخالی خزانے کو بھردیا۔عرصہ درازتک اس عہدے پر فائز رہے، ریاست میں یہ کافی مؤثر شخصیت کے مالک تھے۔الورمیں منشی عموجان باغ انہوں نے ہی لگوایا تھا، کئی کتب میں ان کا نام منشی اموجان لکھا ہے۔(10)

غلام اللہ شرقپوری

حضرت ثانی لاثانی میاں غلام اللہ شرقپوری مجددی شیخ طریقت، جانشین شیرربانی، بانی جامعہ میاں صاحب اورکئی مساجد کی تعمیروآبادی میں مصروف رہنے والے تھے، آپ کی پیدائش 1309ھ مطابق 1891ء کو شرقپور میں ہوئی اوریہیں 7 ربیع الاول 1377ھ مطابق 13اکتوبر 1957ء کو وصال فرمایا، آپ کو شیرربانی میاں شیر محمدشرقپوری کے پہلو میں دفن کیا گیا،ان کو مساجدبنانے کا بہت شوق تھا۔

غلام جیلانی رفعت خاں رامپوری

عالم ربانی علامہ غلام جیلانی رفعت خاں رامپوری علامہ عبد العلی کے پھوپھا تھے،ان کی پیدائش 1155ھ میں پیلی بھیت یوپی ہند میں ہوئی۔یہ بحر العلوم علامہ عبد العلی لکھنوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ علوم معقولات ومنقولات میں مہارت کے ساتھ اعلیٰ درجے کے شاعر تھے،عربی،فارسی اور اردو میں شعر کہتے تھے، جنگ نامہ مجموعہ اشعار اردو معروف ہے۔آپ پیلی بھیت سے رامپور آئے محلہ راج دوارہ میں رہائش پذیر ہوئے۔زندگی بھر درس وتدریس میں مصروف رہے،علوم ظاہری کےساتھ علوم باطنی میں بھی کمال تھا، حضرت خلیل احمد خاں شاہجہانپوری سے بیعت کی۔آپ کے شاگرد کثیر ہیں۔مفتی شرف الدین رامپوری، مولانا غیاث الدین رامپوری اور علامہ علی احمد عباسی چریا کوٹی آپ کے مشہور شاگرد ہیں۔80 سال کی عمر میں 27 ذو الحجہ1234ء میں وصال فرمایا۔ان کے مزار پر حاجتمند آتے ہیں اور دلی مرادیں لے کر جاتے ہیں۔(11)

غلام حسن نقشبندی

بانی آستانہ عالیہ چک بھٹی باوا جی حضرت خواجہ غلام حسن نقشبندی کی پیدائش حافظ آبادکے قریبی گاؤں نوروز پور(Naurozpur)میں ہوئی، یہاں حضرت محمد موسیٰ چشتی صاحب اور پھر للیانی شریف ضلع سرگودھا کے عالم دین حضرت علامہ غلام مرتضیٰ سے علم دین حاصل کیا، بیعت کا شرف حضرت بابا جی خواجہ محمد خان عالم مجددی (وفات 3ذوالحجہ 1288ھ)کی خدمت میں باولی شریف (سرائے عالمگیر، ضلع گجرات)جا کر حاصل کیا اورپھر خلافت سے نوازے گئے۔تبلیغ دین کے لیے آپ مستقل طورپر چک بھٹی نزدپنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد میں تشریف لے آئے۔آپ عالم دین، مبلغ اسلام اورصاحب کرامت ولی اللہ تھے۔کئی غیرمسلم آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ آپ کا وصال 21 پاگھن کوہوا۔مزارمبارک چک بھٹی میں ہے جہاں ہر سال مارچ کے پہلے ہفتےاوراتوار کو عرس منعقدہوتاہے۔

غلام دستگیر قصوری ہاشمی نقشبندی

مناظرِ اہلِ سنّت،حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری ہاشمی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت اندرونِ موچی دروازہ لاہور میں ہوئی۔ جید عالمِ دین، مناظرِ اسلام، مصنّفِ کتب اور مجازِ طریقت تھے۔ 15 سے زیادہ تصانیف میں تقدیسُ الوکیل کو شہرت حاصل ہوئی۔ 20محرم1315ھ مطابق 21جون 1897ء کو وصال فرمایا، مزار مبارک بڑا قبرستان (کچہری روڈ) قصور پاکستان میں ہے۔(12)

غلام دستگیر نامی

مؤرخ اہل سنت حضرت مولانا غلام دستگیر نامی صاحب کی پیدائش 23جمادی الاخریٰ 1300ھ مطابق یکم مئی 1883ء کو رتّہ پیراں ضلع شیخوپورہ اپنے نانا کے گھر میں ہوئی،محسن اہل سنت غلام دستگیر قصوری کے نام پر آپ کا نام غلام دستگیر رکھا گیا،آپ کے والد گرامی لاہور کے مشہور ولی اللہ شیخ عبد الجلیل چوہٹر بندگی سہروردی کے خاندان سے تھے،آپ فارسی، اردو اور عربی پر دسترس رکھتے تھے،تاریخ گوئی،علم الانساب اور شاعری آپ کا میدان تھا،محکمہ تعلیم میں خدمات سرانجام دے کر ریٹائرڈ ہوئے،آپ نے 100 سے زائد کتب ورسائل لکھے،جن میں بزرگان لاہور،تاریخ جلیلہ اور اسلامی قانون وراثت مشہور ہیں،آپ کا وصال 7رجب 1381ھ مطابق 16دسمبر1961ء کو لاہور میں ہوا،تدفین دربار قلندر شاہ رتہ پیراں ضلع شیخو پورہ کے بائیں جانب کی گئی۔(13)

غلام رسول لکھنوی

حضرت خواجہ غلام رسول لکھنوی حضرت خواجہ خدابخش صابری کے مریدوخلیفہ تھے،آپ مہونہ(ضلع لکھنؤ یوپی ہند) سے لکھنؤ منتقل ہو گئے تھے، لکھنؤ کے علاقے یحیی گنج میں چوبیس سال رشدوہدایت کا کام کرتے رہے۔1288ھ مطابق 1871ء کو وصال فرمایا۔ترک دنیا اور توکل میں مشہورتھےتفصیلی حالات کتاب چشمہ ٔ رحمن میں ہیں۔(14)

غلام شاہ رامپوری

عارف ب اللہ ، قطب الاقطاب میاں غلام شاہ رامپوری ملافقیراخوندشاہ عبدالکریم کے قابل فخرفرزند ہیں۔ ان کی پیدائش 1180ھ کورامپورمیں ہوئی،جب چارسال چار ماہ چاردن کے ہوئے تو والدصاحب نے تعلیم ظاہری شروع کروائی، سات سال تک پڑھایا۔تمام علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی۔11سال کی عمر میں والدصاحب نے بیعت کیا۔ایک حجرہ کھود کر ایک سال چلہ کشی کروائی۔اس حجرے سے تیز خوشبو آتی تھی ملافقیراخوند نے یہیں اپنے دفن کی وصیت کی۔چلہ کشی کے بعد انہیں قطب الاقطابی کی خوشخبری دی گئی۔یہ بہت عبادت گزاراورنفلی روزے رکھنے والے تھے۔ چھ سال کی عمرسے کبھی تکبیراولیٰ فوت نہ ہوئی۔ پورا ماہ رمضان مسجدمیں اعتکاف کرتے تھے۔رات کاایک حصہ عبادت میں گزارتے۔دن میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھتے۔7جمادی الاخریٰ 1243ھ کووصال فرمایا۔ والدصاحب کے مزارکے ساتھ تدفین ہوئی۔(15)

غلام علی اوکاڑوی رضوی اشرفی

شیخ القرآن حضرت علامہ مولانا غلام علی اوکاڑوی رضوی اشرفی کی ولادت 1338ھ مطابق 1919ء گجرات (پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور وصال 11صفر 1421ھ مطابق16مئی 2000ء کو فرمایا۔ مزار آپ کے قائم کردہ جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ میں ہے۔ آپ تلمیذ و خلیفہ شاہ ابوالبرکات رضوی، استاذ العلماء، کئی رسائل کے مصنف اور اکابرینِ اہل سنت سے ہیں۔(16)

غلام علی آزاد چشتی بلگرامی

حسان الہند علامہ میر سید غلام علی آزاد چشتی بلگرامی بارہویں صدی ہجری کے عظیم مؤرخ، محدث، عالم، شاعر، صوفی باصفا اور سیاح ہیں۔آپ کی پیدائش 25صفر1116ھ کو بلگرام میں ہوئی۔ علم دین میرطفیل محمد بلگرامی اورعلامہ میرعبدالجلیل بلگرامی سے حاصل کیا۔ میرسیدلطف اللہ بلگرامی سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت کی۔زندگی کے ابتدائی سالوں میں خواب میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی تو صبح حرمین طیبین روانہ ہوگئے۔وہاں جاکرحج وزیارت مدینہ سے بہرہ ورہوئے۔حضرت شیخ محمد حیات سندھی مدنی سے علم حدیث حاصل کیا۔آپ ہندی اورعربی زبان کے بہترین شاعرتھے۔ تصانیف میں سبحۃ المرجان فی آثارِ ہندوستان ، مآثرالکرام ، شمامۃ العنبر اور روضۃ الاولیاء مطبوع اور مشہور ہیں۔ آپ نے بخاری شریف کے باب الزکوۃ کی شرح بھی لکھی ہے۔آپ کا وصال 24 ذی القعده 1200ھ کو خلد آباد جنوبی ہند میں ہوا۔مزارپر ہرسال عرس ہوتاہے۔(17)

غلام قادر اشرفی

مبلغِ اسلام حضرت مولانا غلام قادر اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14محرم الحرام 1323ھ کو ریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور، مشرقی پنجاب، ہند میں ہوئی اور 2شوال 1399ھ کو وفات پائی، خانقاہ اشرفیہ، برلب جی ٹی روڈ، لالہ موسیٰ ضلع گجرات میں مدفون ہیں۔ آپ فاضل جامعہ نعیمیہ مراد آباد، خطیبُ العصر، مدرس درس نظامی، 17کتب و رسائل کے مصنف، فعال راہنما، اردو، ہندی، باشا، گورمکھی، گیانی اور سنسکرت زبانوں کے ماہر، حضرت شاہ سیّد علی حسین اشرفی اور شیخ الفضیلت علّامہ ضیاءُ الدین احمد مدنی کے خلیفہ اور مجاہدِ تحریک ردِ اِرتداد و تحریک پاکستان تھے۔(18)

غلام قادر امرتسری

حضرت مولانا غلام قادر امرتسری مذہباً حنفی،مولداً بسالوی،مسکناً امرتسری اور امام وخطیب جامع مسجد کوچہ مرزا (کٹڑہ مہاں سنگھ متصل کوتوالی امر تسر)تھے،آپ نے کئی کتب و رسائل تحریر فرمائے،مزید معلومات نہ مل سکیں،محسن اہل سنت حکیم محمد موسیٰ امر تسری کے بڑے بھائی حکیم غلام قادر امرتسری،مولانا غلام قادر امرتسری کے ہم عصر اور صاحب علم وتصنیف تھے۔(19)

غلام قادر بیگ فاروقی

حضرت مولانا حکیم غلام قادر بیگ فاروقی کی پیدائش حکیم احسن جان بیگ کے گھرمحلہ جھوائی ٹولہ لکھنؤ میں یکم محرم 1243ھ مطابق 26جولائی 1827ء کوہوئی۔والدلکھنؤ سے بریلی کے محلہ قلعہ (جامع مسجدکی مشرقی جانب) آکر مستقل رہائش پذیرہوئے۔حکیم قادر بیگ کے بھائی حکیم مطیع اللہ بیگ جامع مسجدبریلی کے متولی تھے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے ان سے درس نظامی کی ابتدائی کتب پڑھیں مگربعد میں انھوں نے اعلیٰ حضرت سے ہدایہ شریف پڑھی۔ اعلیٰ حضرت ان کا بہت احترام کرتے اوران کی سفارش کو قبول کرتے۔ آپ کے ایک بیٹے رنگون برماپھرکلکتہ میں مطب کرتے رہے،حکیم غلام قادربیگ ان سے ملنے وہاں جاتے تھے، انھوں نے کئی استفتاء اعلیٰ حضرت کو وہاں سے بھیجے، یہ سلسلہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے، ان کے خاندان کے لوگ اعلیٰ حضرت سے بیعت کرکے سلسلہ قادریہ رضویہ سے منسلک ہوئے۔حکیم صاحب کا وصال یکم محرم 1336ھ مطابق 18 اکتوبر1917ء کو 90 سال کی عمرمیں ہوا۔محلہ باقر گنج حسین باغ بریلی میں دفن کئے گئے۔(20)

غلام قادر ہاشمی سیالوی بھیروی

استاذِ قطبِ مدینہ حضرت علّامہ غلام قادر ہاشمی سیالوی بھیروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1265ھ مطابق 1848ء کو بھیرہ شریف سرگودھا پاکستان میں ہوئی۔ 19 ربیعُ الاوّل 1327ھ مطابق 10 اپریل 1909ء کو وصال فرمایا، مزار مبارک بیگم شاہی مسجد نزد مستی گیٹ لاہور پاکستان میں ہے۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، چشتی سلسلے کے شیخِ طریقت، بہترین مدرِّس اور درجن سے زائد کُتُب کے مصنّف ہیں، ”اسلام کی گیارہ کتابیں“ آپ کی ہی تصنیف ہے۔(21)

غلام محمد بگوى

عالم باعمل حضرت مولانا مفتى حافظ غلام محمد بگوى کی ولادت ایک علمی گھرانے میں 1255ھ/1839ء کو بگہ (تحصیل پنڈ دادنخان)ضلع جہلم میں ہوئی، علم دین والدِگرا می استاذ الکل مولانا غلام محی الدین بگوی سے حاصل کیا، سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ فقیر محمد چوراہی سے بیعت وخلافت کا شرف پایا، حصول علم و عرفان کے لئے لاہور آگئے،علم وتقویٰ کی وجہ سے یہاں عام و خواص کا رجوع آپ کی جانب تھا، آپ کی کوششوں سے لاہور کی بادشاہی مسجد آباد ہوئی اور آپ اس کے امام وخطیب،متولی اور صدر دار الافتاء بنائے گئے، آپ انجمن نعمانیہ لاہور کے بانیان میں سے بھی تھے، آپ کا وصال 4جمادی الاخریٰ 1318ھ/29ستمبر1900ء کو ہوا۔ مزار میانی قبرستان میں ہے۔(22)

غلام محی الدین فقیر عالم مارہروی

حضرت مولانا حافظ سید شاہ غلام محی الدین فقیر عالم مارہروی کی پیدائش 4ربیع الآخر1302ھ کو حضرت مولانا سیّدابوالقاسم محمد اسماعیل شاہ جی میاں کے ہاں مارہرہ میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم مارہرہ میں حاصل کی۔ حفظ قرآن کی تکمیل حضرت حافظ عبدالکریم آل رسولی ملکپوری سے کی،آوازاچھی تھی،تجویدکے ساتھ تلاوت کرتے تو بہت بھلامعلوم ہوتا۔تامین گنج سیتاپورمیں منشی فرزندحسن پالوی اورمنشی آل حسن پالوی سے فارسی درسی کتب پڑھیں،آخرالذکرسے فن خطاطی سیکھا اوراس میں کمال پایا۔عربی درسیات کے لیے مدرسہ قادریہ بدایوان میں علامہ عبدالقادربدایونی اور محب احمد بدایونی سے پڑھا،والدماجداورمولانا حافظ امیر اللہ بریلوی سے متوسطات کتب پڑھیں۔بیعت کا شرف والد صاحب سے پایا اورداداجان کے چہلم 4ذوالحجہ 1326ھ میں خلافت سے نوازے گئے۔نانا جان حضرت سید ابوالحسین نوری سے بھی خلافت حاصل ہوئی۔انگریزی میں بھی اچھی استعدادرکھتے تھے۔کئی کتب عقائدمنظوم،رسالہ مباحث امامت،طردالمبتدعین عن مجالس المسلمین،مکتوب ردقادیانی یادگارہیں۔وزیرریاست خیرپورنے علوم قدیمہ وجدیدہ کا ایک مدرسہ انبیٹھ میں بنایا۔آپ نے اس میں کچھ عرصہ خدمات سرانجام دیں پھر بیمارہوگئے اور مارہرہ تشریف لے آئے۔ اسی بیماری میں 28رمضان 1330ھ صرف 28سال کی عمرمیں لکھنؤ میں وصال فرمایا۔ناناجان شاہ ابوالحسین نوری کے مزارسے ملحق پس پشت تدفین ہوئی۔(23)

غلام محی الدین نقشبندی

خواجہ غلام محی الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ آستانہ عالیہ باؤلی شریف( Bawli-sharif)تحصیل سرائے عالمگیرضلع گجرات میں حضرت خواجہ محمدخان عالم نقشبندی کے گھر پیداہوئے، علوم اسلامیہ مختلف علما سے حاصل کئے، مطالعہ کا بے حدشوق تھا، دوران سفربھی مطالعہ والی کتب ساتھ ہوتیں، جب حضرت خواجہ فقیرمحمد چوراہی باؤلی شریف آئے توان کے والدصاحب نے انہیں بیعت کرنے کی عرض کی،آپ نے بیعت کیا اور خلافت بھی عطافرمائی، زندگی بھرترویج سلسلہ میں مصروف رہے، وصال 25 صفر 1330ھ مطابق 14فروری 1912ء کو ہوا،والدگرامی کےپہلومیں دفن کیاگیا۔(24)

فتح محمد بہاولنگری

حضرت مولانا فتح محمد بہاولنگری کی ولادت 1304ھ مطابق 1886ء کو حبیب کے ضلع بہاولنگر میں ہوئی اور بہاولنگر شہر میں رمضان 1389ھ مطابق نومبر 1969میں وصال فرمایا، آپ جیدعالم دین، مدرسہ عبد الرب دہلی سے فارغ التحصیل اور استاذ العلماء تھے، آپ نے کئی مدارس میں تدریس فرمائی اور بہاولنگر میں مدرسہ مفتاح العلوم کے بانی ہیں، آپ کے شاگرددس ہزارسے زائدہیں۔(25)

فرزند حسن پالوی

منشی فرزند حسن پالوی مہتمم مطبع صبح صادق سیتا پورتھے۔ان کےبڑے بھائی منشی آل حسن پالوی تھے جو فارسی وخطاطی کے استاذتھے،یوں تو دونوں بھائی خوشنویس تھے مگربڑے بھائی اس فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔(26)

فیاض الدین منڈاوری

قاضی فیاض الدین منڈاوری فقیردوست انسان تھے۔آپ مفتی ٔ ریاست الورقاضی مفتی عبدالرحیم منڈاوری صاحب کے بھائی اور حضرت مولانا بہاءالدین امروہی نقشبندی صاحب کے مریدتھے۔ آپ قصبہ منڈاور،ضلع دوسا راجستھان کے رہنے والے تھے جو الور سے جانب جنوب مشرق 68کلومیٹرواقع ہے۔(27)

فیروز الدین

حاجی فیروز الدین صاحب ایک مذہبی شخصیت تھے،ان کا ایک حلقہ اثر تھا،6اپریل 1944ء مطابق 12ربیع الاخر 1363ھ میں مجاہد ملت علامہ عبد الستار خان نیازی اور حاجی فیروز الدین صاحب کو انجمن نعمانیہ کی مجلس عاملہ کا رکن بنایا گیا تھا۔(28)

فیروز شاہ تغلق

بادشاہ فیروز شاہ،تغلق سلطنت (1320ءتا1414ء)کا تیسرا بادشاہ تھا،اس نے 1351ء سے 1388ء تک حکومت کی، 20 ستمبر 1388ء کو وفات پائی،تدفین جونپوریوپی میں ہوئی۔

قادر بخش نقشبندی

شمس العرفاں حضرت خواجہ قادر بخش نقشبندی کی ولادت 17شوال1237ھ کو جہاں خیلاں (ضلع ہوشیار پور، مشرقی پنجاب،ہند)میں ہوئی اوروصال 1272ھ میں ہوا، مزار مبارک کوٹ عبدالخالق متصل جہاں خیلاں کے یتیم خانہ خالقیہ کے ہائی اسکول کی پشت پر ایک چاردیواری میں ہے۔ آپ مرشدکامل،کثیرالفیض اورصاحب کرامت تھے۔(29)

قطب الدین ایبک

قطب الدین ایبک شہاب الدین غوری کا وفادار غلام تھا،اس کے انتقال کے بعد ہند کا پہلا اسلامی حکمران بنا،سلطنت غلاماں کا بانی قرار پایا،اس کا دورِ حکومت 1206ء سے 1210ء تک رہا، 607ھ مطابق 1210ء میں لاہور میں فوت ہوا اور انار کلی کے ایک کوچے (ایبک روڈ) میں دفن کیا گیا۔

قلندر علی گیلانی سہروردی

تلمیذِ اعلیٰ حضرت،امام السالکین حضرت علّامہ سید ابو الفیض قلندر علی گیلانی سہروردی کی پیدائش 1312ھ مطابق 1894ءمیں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُ العلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب،صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صفر المظفر 1377ھ مطابق 23ستمبر 1957ء کو وصال فرمایا،مزار مبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(30)

قیام الدین چشتی

مفتی حافظ قیام الدین چشتی 1244ھ مطابق 1829ء کو دہم توڑضلع ایبٹ آباد میں پیداہوئے اور 21 ربیع الآخر1331ھ مطابق 30مارچ 1913ء کو وصال فرمایا، آپ علامہ فضل رسول بدایونی، علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی، علامہ عبدالحق رامپوری اورعلامہ احمدحسن کانپوری کے شاگردہیں، آپ خواجہ اللہ بخش تونسوی کے مرید تھے، آپ حافظ قرآن، ممتازعالم دین، بہترین مدرس، خوش نویس اورکاتب تھے۔(31)

کبیر الدین شاہ دولہ احمد آبادی

قطب الاسرارحضرت سید کبیر الدین شاہ دولہ احمد آبادی بن سیدموسیٰ حنبلی بغدادی کی پیدائش 5محرم499ھ کو قصبہ گیلان میں ہوئی۔521ھ میں 22سال کی عمرمیں غوث پاک سے بیعت ہوئے۔ 27سال کے بعدخلافت سے نوازےگئےاورمرتبہ قطبیت پر فائزفرمایا۔آپ نے 586سال کی عمرمیں 1085ھ میں وصال فرمایااوراحمدآبادگجرات ہند میں دفن کئے گئے۔(32)

کفایت علی کافی مراد آبادی

صاحب دیوان شاعر،شہیدوطن حضرت مولانا کفایت علی کافی مرادآبادی کی پیدائش بجنوریوپی ہندکے سادات گھرانے میں ہوئی۔علمائے بریلی اوربدایون سے علوم وفنون میں مہارت حاصل کی۔ حضرت ابوسعید مجددی سے دورہ حدیث شریف کیا۔شیخ مہدی علی ذکی مرادآبادی سے شاعری میں اصلاح لیا کرتے تھے۔علم طب مصنف تذکرہ علمائے ہند کے والد مولانا حکیم شیرعلی قادری سے حاصل کیا۔آگرہ اکبرآبادمیں دینی خدمامت میں مصروف ہوئے۔نثرسے زیادہ شاعری کی طرف مائل تھے۔آٹھ کتب میں بہارخلد منظوم ترجمہ شمائل ترمذی اوردیوان کافی مطبوع ہیں۔1841ء میں حج وزیارت مدینہ کی سعادت حاصل کی۔جنگ آزادی 1857ء میں فتویٰ جہاد دے کر عملاً حصہ لیا۔ اسی وجہ سے 22 رمضان 1274ھ مطابق 6مئی 1858ء کوپھانسی دے کر شہیدکیاگیا۔تدفین مرادآبادیوپی ہندکی جیل کے پیچھے کی گئی۔30سال کے بعدسڑک بنانے کے لیےکھدائی جاری تھی توغلطی سے آپ کی قبرکھل گئی،دیکھا تو جسم بالکل سلامت تھا،کثیرلوگوں کی موجودگی میں نہایت احترام سے قبرکو دوبارہ بند کیاگیا اورسٹرک کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔(33)

کلب علی خان

نواب کلب علی خان کی پیدائش1832ء اور وفات 1887ء میں ہوئی۔یہ ریاست رامپور کے دسویں نواب، خوش عقیدہ،دین دار،با شرع،عربی وفارسی کے فاضل تھے، اہم کارناموں میں جامع مسجد رامپور اور رضا لائبریری کی جدید تعمیر ہے،انھوں نے دنیا بھر سے مخطوطات اس میں جمع کروائے۔آپ کا دورِ حکومت 1865ء تا1887ء رہا۔

کمال الدین خان مجددی رامپوری

حضرت بھورے میاں کمال الدین خان مجددی رامپوری مشہور ولی اللہ حضرت شاہ درگاہی مجددی رامپوری کے مرید وخلیفہ تھے۔دن رات ذکر وفکرمیں رہتے۔آپ نے اپنے پیر شاہ درگاہی اور دادا پیر حضرت جمال اللہ مجددی رامپوری کے مزارات کی درستی کروائی۔آپ کا وصال 4رمضان 1284ھ کو ہوا۔ محلہ پل پختہ رامپور میں تدفین کی گئی۔کچھ عرصے بعد گنبد دار مزار تعمیر ہوا۔(34)

کمیل اشرف کچھوچھوی

شیخ الہند حضرت سید کمیل اشرف کچھوچھوی مخدوم ثانی حضرت سیدشاہ طفیل احمد اشرفی کے بیٹے،عالم ربانی، حضرت شاہ احمد اشرف کے نواسے اور سرکار کلاں سید مختار اشرف کے بھانجے تھے۔آپ مخدوم الاولیاء سید شاہ علی حسین اشرفی (پرنانا) کے گھر 1934ء کو پیدا ہوئے۔پرنانانے نام رکھا۔ابتدائی علم دین کچھوچھہ میں حاصل کرکے جامعہ اشرفیہ مبارکپورمیں داخلہ لیا۔1957ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔آپ بہترین خطیب تھے، 60 برس وعظ و خطابت میں گزارے۔بوقت بغداد حاضری نقیب الاشراف شیخ یوسف گیلانی بغدادی نے شیخ الہند کا لقب عطا فرمایا۔ آپ نے 18 ربیع الاول 1442 ھ مطابق5 نومبر 2020ء کووصال فرمایا۔ دارالعلوم محبوبِ یزدانی کچھوچھہ، درسگاہ جامعہ عزیزہ للبنات کچھوچھہ آپ کی یادگارہیں۔

عبداللہ سراج مکی

حضرت شیخ عبد اللہ سراج مکی کی ولادت 1200ھ میں مکہ مکرمہ میں ہوئی اوریہیں 1264ھ میں وصال فرمایا،آپ نے علمائے مکہ سے علم دین حاصل کرکے تفسیر،حدیث اورفقہ میں اعلیٰ مقام پایا، مسجدحرام میں تدریس فرمایا کرتے تھے جس سے کثیرعلمانے استفادہ کیا،آپ کو پہلے جدہ، پھر مکہ مکرمہ کا قاضی بنایا گیا، آپ مکہ میں پہلے رئیس العلماء مقرر ہوئے، آپ نے نظم ونثرمیں کئی کتب ورسائل تالیف فرمائے،آپ عوام وحکام دنوں میں معزز تھے۔(35)

محمد حسین کتبی مصری

حضرت شیخ سیّد محمدحسین کتبی مصری مہاجرمکی کی ولادت 1202ھ کو مصرمیں ہوئی اورمکہ مکرمہ میں 1280ھ یا 1281ھ میں وصال فرمایا،آپ مفتی اعظم مصرعلامہ سیداحمد طحطاوی کے شاگرد رشید،جامعۃ الازہرقاہرہ اور مسجد حرام مکہ کے مدرس اور مفتی احناف مکہ مکرمہ،سلسلہ خلوتیہ کے مرشد،کئی کتب فقہ کے محشی اورصاحب فتاویٰ تھے۔(36)

محمد بن احمدخطیب شوبری شافعی

حضرت شیخ محمد بن احمدخطیب شوبری شافعی کی ولادت 11رمضان 977ھ اوروفات 16جمادی الاولیٰ 1069ھ کو قاہرہ مصرمیں ہوئی،تربت مجاورین میں تدفین کی گئی، آپ فقہ شافعیہ کے امام،حجۃ الاسلام اورجیدعالم دین تھے، جامعۃ الازہر میں تحقیق،تدریس اورافتاء آپ کی زندگی کا معمول رہا،آپ صوفیائے کرام سے بھی محبت کرتے تھے، کثیر جید علما نے آپ سے استفادہ کیا،آپ کئی کتب کے محشی،مصنف اورمؤلف تھے۔(37)

خلیل بن ولی بن جعفر حنفی

ابن ولی حضرت شیخ خلیل بن ولی بن جعفر حنفی فقیہ اسلام اورفن عروض کے ماہرتھے، المورد الصافی فی شرح الكافی فی علمی العروض والقوافی اور المقصد التام فی معرفۃاحكام الحمام یادگار تصانیف ہیں۔آپ کاوصال 1106 ھ یا 1108ھ میں ہوا۔(38)

بدر الدین عینی

علامہ بدرُالدین ابومحمد محمود بن احمد عینی حافظُ الحدیث، مُؤرخِ جلیل، مُصنّفِ کُتُبِ کثیرہ اور استاذ العلماء ہیں، تقریباً 40سال تدریس فرمائی، کُتُب میں عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری اُمّتِ مُسلمہ کے لیے نایاب تحفہ ہے۔ ولادت 762ھ کو عین تاب (صوبہ غازی عین تاب) جنوبی ترکی اور وصال 4 ذوالحجہ 855ھ کو قاہرہ مصر میں ہوا۔ مزار مبارک مدرسۃُ العینی (نزدجامعہ ازہر، قاہرہ) مصرمیں ہے۔(39)

فضل امام خیرآبادی

علامہ زماں فضل امام خیرآبادی کی ولادت خیرآبادمیں ہوئی،جیدعلمائے کرام سے علم حاصل کیا،جامع معقول ومنقول اورماہر مدرس درس نظامی بنے،دہلی میں مفتی پھر صدر الصدورکے عہدے پر فائز ہوئے، درس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا،آپ کے شاگردوں کی تعدادکثیرہے، میرزاہد اور ملاجلال پر تفصیلی حواشی ہیں، 5ذیقعدہ 1244ھ کو وصال فرمایا،احاطہ درگاہ سعدالدین خیرآبادی میں تدفین ہوئی۔(40)

رشید الدین خان دہلوی

علامہ رشیدالدین خان دہلوی حضرت شاہ عبدالعزیز اوران کے بھائیوں کے شاگرد تھے، حافظہ کمال کا تھا، تمام علوم عقیلہ ونقلیہ بالخصوص علم الکلام،علم ہندسہ اورہئیت میں عبوررکھتے تھے،کئی کتب تحریر فرمائیں،زندگی بھرسلسلہ تدریس جاری رکھا،1443ھ یا 1449ھ میں وصال فرمایا۔(41)

رفیع الدین محدث اکبرآبادی

علامہ رفیع الدین محدث اکبر آبادی کا تعلق شیرازسے تھا علم دین دیگرعلماکے علاوہ علامہ محقق جلال الدین دوانی سے حاصل کیا،پھر حج کے لیے حجازمقدس گئے اوروہاں علامہ شمس الدین محمد سخاوی کی صحبت پائی، پھرہندآئے اور آگرہ (اکبر آباد، یوپی،ہند)میں سکونت اختیارکی،آپ کا وصال 954ھ کو آگرہ میں ہوا، آپ ہندکے بڑے علماسے تھے۔ (42)

شریف علی بن محمد حنفی جرجانی

علامہ میر سید شریف علی بن محمد حنفی جرجانی کی ولادت 740 ھ جرجان(صوبہ گلستان) ایران میں ہوئی۔ آپ متکلم، منطقی، حکیم، صوفی، مترجم، ادیب، شاعر، مفسر،مدرس، مناظر اور شارح و حاشیہ نویس بزرگ تھے۔ آپ نے 6 ربیع الآخر 816 ھ کو وصال فرمایا،مزار مبارک شیراز، ایران میں مرجعِ خلائق ہے۔

سالم بن عبداللہ بصری شافعی مکی

حضرت شیخ سالم عبد اللہ بصری شافعی مکی مکہ شریف کے جلیل القدر محدث،جید عالم دین، جود و سخا کے مالک،مسند الحجاز،مرجع علم و علما اور وسیع و عریض لائبریری کے مالک تھے، آپ نے اپنی اسناد واجازات کو الامداد بمعرفۃ علوالاسناد کے نام سے جمع فرمایا،آپ نے 2 محرم 1160ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے۔(43)

مرزا مظہر جانِ جاناں علوی دہلوی

مرزمظہرجانِ جاناں علوی دہلوی کی ولادت 11 رمضان 1110ھ میں ہوئی، آپ دینی و دنیاوی علوم و فنون میں ماہر،فارسی و اردو کے بہترین شاعر، حسن ظاہری و باطنی سے مالا مال، پابند شریعت و سنت، مذہباً حنفی اور مشرباً نقشبندی و شیخ طریقت تھے،ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے اور 10 محرم 1195 ھ کو جام شہادت نوش فرمایا، مزار خانقاہ شاہ ابو الخیر دہلی میں ہے،چھ کتب میں دیوان مظہر (فارسی) بھی ہے۔(44)

نعیم اللہ بہرائچی نقشبندی

علامہ نعیم الدین بہرائچی نقشبندی کی ولادت 1153ھ کو موضع بھدوانی ضلع بہرائچ میں ہوئی اور 5 صفر المظفر 1218ھ بہرائچ میں نمازکی حالت میں وصال فرمایا،آپ جید عالم دین،شیخ طریقت اور مصنف کتب تھے۔ بہرائچ اور لکھنؤ میں درس و تدریس اور رشد و ہدایت میں مصروف رہے،دو درجن کتب میں سے معمولات مظہریہ،بشارات مظہریہ اور رسالہ در احوال خود بھی ہیں۔(45)

محمد بن عبد الرسول برزنجی

علامہ شیخ سید محمد بن عبد الرسول برزنجی مدنی شافعی کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق)میں 1040ھ کو ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قرآن، جامعِ معقول و منقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90 کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ برزنجی کے جدِّ امجد ہیں۔(46)

محمد علاؤ الدین حصکفی دمشقی حنفی

علامہ علاؤالدین حصکفی دمشقی حنفی کی ولادت 1025 ھ دمشق شام میں ہوئی اور وصال 10 شوال 1088 ھ کو فرمایا، مزار باب الصغیر (دمشق)شام میں ہے۔آپ جامع معقولات و منقولات اور عظیم فقیہ تھے۔ اپنی کتاب درمختار شرح تنویر الابصار کی وجہ سے مشہور ہیں۔(47)

نافع بن عمرو اصبحی حمیری

حضرت ابوعامرنافع بن عمرواصبحی حمیری ایک قول کے مطابق صحابی رسول ہیں،غزوہ بدرکے علاوہ آپ نے تمام غزوات میں شرکت کی، ان کے بیٹے حضرت ابو انس مالک بن نافع رحمۃ اللہ علیہ کبارتابعین سے ہیں، انھوں نے حضرت عمر، حضرت طلحہ، حضرت عائشہ ،حضرت ابوہرير ہ اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ م سے احادیث سماعت کیں،یہ ان چار افراد میں سے تھے جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کفن ودفن میں شرکت کی، دوسری روایت کے مطابق حضرت ابوعامرنبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات ظاہری میں موجودتھے مگران کو زیارت مصطفیٰ کی سعادت حاصل نہیں ہوئی البتہ انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے احادیث کی سماعت کی،اس لیے یہ تابعی ہیں۔(48)

معاویہ بن ابوسفیان

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولادت اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئی اور آپ کا وصال 22 رجب 60ھ میں ہوا۔(49) آپ کاتب وحی، مجاہدفی سبیل اللہ ،مکےکے معزز فرد وسردار، حلیم وبردبار،ذہین وفطین اورمعاملہ فہمی میں کمال رکھتے تھے، آپ کا زریں دورِ حکومت 41ھ تا 60ھ تک محیط ہے، اس میں بےشمارفتوحات ہوئیں اور اسلامی سرحدیں دوردورتک پھیل گئیں،اس دورکا امن وامان بھی بہترین تھا۔ مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب فیضان امیرمعاویہ کا مطالعہ کیجئے۔

محیُ الدّین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نَوَوِی شافعی

شیخ محی الدین ابوزکریایحییٰ شرف نووی شافعی کی ولادت631ھ میں نویٰ (مضافاتِ شہرِ حوران) شام میں ہوئی اور یہیں 24 رجب 676ھ کو وصال فرمایا۔ آپ محدثِ کبیر،فقیہ و محرِّرِ فقہِ شافعی، ماہرِ علمِ لغت، زہد و تقویٰ کے جامع، تقریباً40کتب کے مصنّف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ پاک و ہندمیں آپ کی کتب میں سے ریاض الصالحین اور شرح صحیح مسلم مشہور ہیں۔(50)

عائشہ صِدِّیقہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادت مکّہ شریف میں اعلانِ نَبوّت کے چوتھےسال ہوئی اور وصال 17رمضان 57ھ کوہوا۔ مزارجنّتُ البقیع میں ہے۔ آپ عالمہ،محدّثہ،مفتیہ، اشعارِ عرب و علمِ انساب میں ماہر تھیں۔ صحابہ وتابعین کی جماعتِ کثیرہ نے آپ سے 2ہزار 210 احادیث روایت کی ہیں۔(51)

ابو سعید خدری انصاری

حضرت ابو سعید سعدبن مالک خدری انصاری رضی اللہ عنہ بڑے عالم،فقیہ، احادیث کے ماہراورحق گو صحابی ہیں، آپ ہجرت سے ایک سال قبل مدینہ شریف میں پیداہوئے،کم سنی کی وجہ سے غزوہ بدراورغزوہ احدمیں شریک نہ ہوسکے،اس کے بعد غزوات میں شرکت رہی،آپ زمانہ خلافت فاروقی وعثمانی میں فتویٰ دیا کرتے تھے، آپ کا وصال 74ھ کو مدینہ شریف میں ہوااورجنت البقیع میں تدفین ہوئی،آپ سے مروی احادیث کی تعداد 1170 ہے۔(52)

عبداللہ بن عباس

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ہجرت سے تین سال قبل مکہ میں ہوئی اور آپ نے 67ھ کو طائف میں وصال فرمایا،مزارمبارک مسجدعبد اللہ بن عباس طائف کے قریب ایک احاطے میں ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے لیے علم وحکمت،فقہ دین اور تاویل کتاب مبین کی دعافرمائی،آپ علم تفسیر، حدیث، فقہ، شعر، علم وراثت وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے، آپ کے القابات بحرالعلوم، امام المفسرین، ربانیِ امت، اجمل الناس، افصح الناس اور اعلم الناس ہیں۔(53)

محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری

شیخ محمدبن اسحاق بن خزینہ نیشاپوری کی ولادت 223ھ کو نیشاپور (ضلع خراسان رضوی) ایران میں ہوئی اور وصال 2 ذوالقعدہ 311ھ کو فرمایا، تدفین نیشاپورمیں ہی ہوئی۔آپ حافظِ قرآن، محدّثِ جلیل، فقیہِ شافعی، مجتہد علی الاطلاق اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے، صحیح ابنِ خزیمہ آپ کا ہی مجموعۂ حدیث ہے۔(54)

عبد الملک ابو المعالی جوینی شافعی

حضرت ابو المعالی عبد الملک جُوینی شافعی کی پیدائش ایک علمی گھرانے میں 419ھ کو جُوَیْن سبزوار نزد نیشاپور (ایران) میں ہوئی اور بُشتَ نِقان نزد نیشاپورمیں 25ربیعُ الآخر 478ھ کو وِصال فرمایا،آپ کی تربت اسی شہرکے قدیمی حصّے کے قبرستان تلاجرد میں ہے۔ آپ علمِ فقہ، اُصول اور عقائد پر کامل دسترس رکھنے والے عظیم فقیہ، عبقری شخصیت کے مالک، ایک درجن سے زیادہ کُتُب کے مُصنّف، بانیِ مدرسہ نظامیہ نیشاپور، استاذِ امام غزالی اور اکابر عُلمائے شَوافِع سے ہیں۔ کتاب نِهَايَةُ الْمَطْلَبْ فِيْ دِرَايَةِ الْمَذْهَب آپ کی یادگار ہے۔(55)

عبد الکریم بن ہَوَازِن قشیری

شیخ عبدالکریم بن ہوازن قشیری کی ولادت 376ھ میں ہوئی اور وفات17ربیع الآخر 465ھ کو پائی، آپ کا مزار مبارک نیشاپور (ضلع خراسان) ایران میں اپنے پیر ومرشد شیخ ابو علی دَقَّاق کے پہلو میں ہے۔ آپ عالم، فقیہ، ادیب، شاعر، صوفی،واعظِ شیریں بیاں اور مفسرِقرآن تھے،آپ کی تصنیف رسالہ قشیریہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(56)

محمد حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری

علامہ محمد حاکم ابوعبد اللہ نیشاپوری کی ولادت321ھ کو نیشاپور میں ہوئی۔ 3صفر 405ھ میں وصال فرمایا۔آپ قاضی نیشاپور، حافظُ الحدیث، فقیہ شافعی، صاحب تصنیف و تالیف اور استاذُ المحدثین تھے۔ کتب میں اَلْمُسْتَدْرَک عَلی الصَّحِیحین مشہور ہے۔(57)

ایوب بن حسن نیشاپوری حنفی

حضرت ایوب بن حسن نیشاپوری حنفی حضرت امام محمدبن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے، اپنی فقاہت اور زہدوتقویٰ کی وجہ سے مشہورتھے،آپ کا وصال ذیقعدہ 251ھ کو ہوا۔

احمد بن حنبل

حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 164ھ میں بغداد میں ہوئی اور 12 ربیعُ الاوّل 241ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کو بغداد شریف کے غربی جانب بابِ حرب میں دفن کیا گیا پھر دریائے دجلہ میں طُغیانی کی وجہ سے سجد عارف آغا، حیدر خانہ (شارع الرشید بغداد) میں منتقل کردیا گیا۔ آپ مجتہد، حافظ الحدیث، عالمِ اجلّ، اُمّتِ محمدی کی مؤثر شخصیت اور ائمۂ اربعہ میں سے ایک ہیں۔ 40 ہزار احادیث پر مشتمل کتاب مسند امام احمد بن حنبل آپ کی یادگار ہے۔(58)

زیدبن ارقم خزرجی انصاری

جلیل القدرصحابی حضرت زیدبن ارقم خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ کے والدکا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا، حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پرورش کی،آپ نے غزوہ خندق سمیت 17غزوات میں حصہ لیا، 68ھ میں کوفہ میں وصال فرمایا۔آپ مرجع علم وفضل اورصاحب الرائے تھے۔آپ نےکثیراحادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہیں، بہت سارےتابعین نے آپ سے احادیث روایت کیں۔(59)

یسار: ابولیلی اوسی انصاری

حضرت یساربن ہلال ابولیلی اوسی انصاری رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدرکے علاوہ سب غزوات میں شرکت فرمائی،بعدمیں کوفہ منتقل ہوگئے اور دار جہینہ میں سکونت اختیارکی،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں حصہ لیا،آپ کی شہادت جنگ صفین (صفر37ھ) میں ہوئی۔بعض کے نزدیک آپ کا نام داؤد بن یسار تھا۔(60)

حسن بصری

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 21ھ کو مدینہ شریف میں ہوئی اور وِصال یکم رجب 110ھ کو فرمایا، مزارِ مبارَک مدینۃ الزبیر (ضلع بصرہ) عراق میں ہے۔آپ اُمُّ المومنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں پرورش پانے والے، حافظ قرآن، سیّدالتابعین، عالمِ جلیل، فقیہ و محدِّث،فصیحِ زمانہ، رقیقُ القلب (نرم دل)، ولیِ کامل، خلیفۂ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سلسلۂ چشتیہ کے تیسرے شیخِ طریقت ہیں۔(61)

محمد بن سیرین بصری

حضرت محمد بن سرین بصری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 33ھ میں ہوئی اور وصال 10 شوال 110ھ میں بصرہ میں ہوا۔آپ تابعی،ثقہ راویِ حدیث، عظیم فقیہ،امام العلماء،تقویٰ وورع کے پیکر اور تعبیر الرؤیا (خوابوں کی تعبیر) کے ماہر تھے۔(62)

حَمد بن محمد بستی، ابو سلیمان خطابی شافعی

شیخ حَمدبن محمدبستی ابوسلیمان خطابی شافعی کی پیدائش 319ھ بست(صوبہ ہلمند،افغانستان)میں ہوئی اور یہیں 16ربیع الاخر388ھ کو وصال فرمایا، آپ محدث العصر، فقیہ شافعی، عالم کبیر،عابدوزاہداورمصنف کتب تھے،حصول علم دین کے لیے حجاز مقدس، بغداد،بصرہ،خراسان،نیشاپور اوربلاد ما وراء النهرکے اسفار کئے، ایک درجن سے زائدکتب میں شرح صحیح بخاری اعلام السنن،شرح سنن ابوداؤد معالم السنن اورغریب الحدیث مشہورہیں۔(63)

ابراہیم ابو اسحاق فیروز آبادی شیرازی

شیخ ابراہیم ابواسحاق فیروزآبادی شیرازی کی ولادت 393 ھ کو فیروز آباد (صوبہ فارس) ایران میں ہوئی اور21جمادی الاخریٰ 476 ھ کو بغداد میں وصال فرمایا، تدفین باب ابرز بغداد عراق میں ہوئی۔آپ فقہ شافعی کے مجتہد،امیرُالمؤمنین فی الفقہ، مصنف کتب کثیرہ، اخلاقِ حسنہ سے متصف، فصاحت وبلاغت کے جامع اورمدرس مدرسہ نظامیہ بغداد تھے۔ النكت فی المسائل المختلف آپ کی علمی یادگارہے۔(64)

بِشر حافی

حضرت بَشرحافی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 150ھ میں ”مرو“ خُراسان (ایران) میں ہوئی۔ 13ربیعُ الاوّل 227ھ کو بغداد میں وِصال فرمایا، مَزار شریف مقبرۂ قُریش (کاظمیہ شمالی بغداد) عِراق میں ہے۔ آپ عابد و زاہد، مُحِبِّ عُلما و اولیا، بُلند دَرَجات کے مالِک اور اَکابِر اولیا سے ہیں۔(65)

عبدالرحمن بن عوف قرشی زہری

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے دس سال بعدمکہ مکرمہ میں ہوئی اور 31یا 32ھ میں وصال فرمایا،تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی،آپ جلیل القدر صحابی، حسن ظاہری وباطنی سے متصف،خوش بخت ونیک خصلت، دعائے مصطفی کی برکت سے مال داراورعشرہ مبشرہ صحابہ سے تھے،آپ کی شان میں دوفرامین مصطفی: ٭عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں اورجنت میں ان کے رفیق حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے۔٭عبدالرحمن بن عوف مسلمان شرفا کے سردارہیں۔(66)

لیث بن سعد مصری

حضرت لیث بن سعدمصری کی ولادت 94ھ قرقشندہ(القلَج صوبہ قلیوبیہ) مصر میں ہوئی۔ محدثِ زمانہ اور مفتی اہلِ مصر تھے۔ 15شعبان 175ھ کو مصر میں وصال فرمایا، مزار مبارک قَرافہ صُغریٰ (شارع امام لیث، قاہرہ) مصر میں ہے۔(67)

محمد بن ادريس غطفانی رازی

حضرت شیخ محمد بن ادريس بن منذر ابو حاتم حنظلی غطفانی رازی کی ولادت 195ھ کو رے ایران میں ہوئی اورشعبان277ھ کو مدینہ منورہ میں وصال فرمایا،آپ جید امام حدیث، ماہر جرح وتعدیل، ثقہ ومعتبرراوی حدیث، علم وفضل اورورع وتقوی میں مشہورتھے، مصنف کتب کثیرہ، مفسر قرآن علامہ ابن ابوحاتم عبدالرحمن رازی آپ کے بیٹے اورعلمی جانشین ہیں۔(68)

جویریہ ام المومنین

اُمّ المؤمنین حضرت جُویرِیہ رضی اللہ عنہا سردارِ قبیلہ بنومصطلق کی شہزادی، حسنِ ظاہری وباطنی کی جامع اور کثرت سے ذکر و عبادت کرنے والی تھیں۔ آپ نے ربیع الاوّل 50ھ میں وصال فرمایا اور جَنۃ البَقِیْع میں دفن ہوئیں۔(69)
1 جہانِ ملک العلماء، ص 863، 959، 965 2 تذکرۂ مشائخ غازی پور،ص421 تا 428 3احوال و آثار مفتی عزیز احمد قادری بدایونی، ص 29، 53، 108 4 التبصرہ،ص1تا5 ...حیات مخدوم الاولیاء، ص 312 5 ذکرعطاء فی حیات استاذالعلماء، ص 45تا50 6 فیضان داتا علی ہجویری، ص4، 74 7 حیات مخدوم الاولیاء، ص 68، 69 ...صحائف اشرفی، 1/264 8 آئنہ ہندوستان ، ص255تا273 9تاریخ الخلفاء، ص 86تا117 ... العبر فی خبر من غبر، 1/20 10 مرقع الور، ص 143،146،147 11 تذکرہ کاملان رامپور،ص284تا286 12رسائل قصوری، ص65،47 13 تذکرہ اکابر اہلسنت،ص311 تا314 14 نور الرحمن،ص 136 15 تذکرہ کاملان رامپور،ص297، 298 16اشرف الرسائل فی تحقیق المسائل، ص6،27 ... انوارِ قطبِ مدینہ، ص263 17 روضۃ الاولیا مترجم،ص6تا10 18 سوانح اشرف المشائخ، ص7، 13، 25، 27 19مجموعہ قادریہ،ص28،55،65...بزرگان امرتسر، ص 114 20 حیات رضا کی نئی جہتیں،29تا37 21سیدی ضیاء الدین احمد القادری،1/613...تذکرۂ اکابرِ اہلِ سنت، ص326 22تذکرہ علماء اہلسنت و جماعت لاہور، ص218 ... امام احمد رضا اور علمائےلاہور، ص 155 23 رسالہ مباحث امامت،ص3تا15 24تذکرہ وشجرہ جات طریقت حضرت خواجہ فقیرمحمد چوراہی، ص41 25تذکرہ اکابراہل سنت، ص 371 26 رسالہ مباحث امامت،ص 5 27 تجلیات مرشد، ص 66... تذکرہ صوفیائے میوات، ص 575 ... حیات کرم حسین، ص130 28 صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 193 29 مشائخ ہوشیارپور،ص 186تا190...لمعات کمالات قادریہ وتبرکات خالقیہ، ص 139،220 30تذکرۂ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص234تا289 ... تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302 31تذکرہ علماء اہل سنت ایبٹ آباد، ص 377تا387 32 سوانح حیات منورعلی شاہ، 19تا22 33 تذکرہ علمائے اہل سنت،ص 219 34 تذکرہ کاملان رامپور،ص86، 87 35 مختصرنشرالنور،ص 297 36 مختصرنشرالنور، ص 475 ... دالائل الخیرات کی سند نعیمی، ص 42 37 خلاصۃالاثر، 3/ 385 38 معجم المؤلفین،4/130 ... اعلام لزرکلی،2/323 39 عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، 1/11تا17 40 تذکرہ علمائے ہند، ص 327،620،621 41 تذکرہ علمائے ہند، ص 179،529،530 42 نزہۃ الخواطر، 4/ 104 43 مختصر نشر النور، ص202 ...شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ، ص 48 44 مرزا جان جاناں کے خطوط،ص11تا20 ... دلّی کے بائیس خواجہ،ص 236 45 تاریخ مشائخ نقشبندیہ،ص696تا722 46 الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13 ...تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59 47 جد الممتار،1/ 79، 242، 245 48 تزیین الممالک بمناقب الامام مالک،ص 19 49 سیراعلام النبلاء،4/285،314 50 دلیل الفالحین، 1/11تا 21 51 زرقانی علی المواہب، 4/381،392...مدارج النبوۃ، 2/ 468، 473 52 تاریخ الاسلام للذھبی،2/895 53 تنویرالمقیاس،ص7تا32 54 النجوم الزاہرہ فی ملوک مصر والقاہرہ، 3/209 ...محدثین عظام حیات وخدمات،ص391، 398 55 وفیات الاعیان، 2/80، 81 56 اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،16/ 168، الجزء الثانی 57 مستدرک للحاکم، 1/7 تا 56 ... وفیات الاعیان،2/364 58 البدایہ والنہایہ، 7/339 59 اسدالغابہ،2/328 60 الاصابہ،7/292،رقم:10478 61 سیراعلام النبلاء، 5/456تا 473...تذکرۃ الاولیا، 1/34تا 48 ...اجمال ترجمہ اکمال، ص19 62 الطبقات الکبریٰ، 7/143تا 154...تاریخِ بغداد، 2/422،415 63 معالم السنن،1/13تا21 ...الامام الخطابی ومنھجہ فی العقیدہ، ص 25تا28 64 سیر اعلام النبلاء، 14/7تا12 65 تاریخ الاسلام للذہبی، 5/540،544...الوافی بالوفیات، 10/92،91 ... المعارف، ص 228 66 اصابہ،8/203 ...الریاض النضرہ،2/306، 1/35 67حدائق الحنفیہ، ص140 ...تاریخ ابن عساکر، 50/349،347 68 شذرات الذهب، 2/171 69 الاستیعاب، 4/366، 367...شرح زرقانی، 4/428،427

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن