30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب13:
کلرڈ مقامات کی تفصیل
امام المحدثین رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ کے بیان میں ضمنی طور پر کئی ایسی شخصیات وغیرہ کا تذکرہ بھی ہوا جن کا تعارف کروانا مفیدتھا، مگر سیاقِ کلام میں ایسا کیا جاتا تو کتاب کے اصل موضوع سے ہٹ جانے کا اندیشہ تھا،چنانچہ ان کا تعارف حاشیہ میں لکھا ،جب کتاب فائنل کرنے لگے تو کتاب کے بعض صفحات ایسے تھے کہ ان میں کتاب کے متن کے بجائے صرف حواشی تھے، اس لیےقارئین کی آسانی کے لئے یہی بہتر سمجھا کہ ان سب باتوں کی وضاحت آخر میں ایک باب باندھ کر الگ سے کر دی جائے۔ لہٰذا وہ تمام مقامات جن پر حواشی ہونا ضروری یامفیدتھا، انہیں پوری کتاب میں مخصوص کلر کر کے اس باب(13) میں تحریرکردیا ہے، مزیدآسانی کے لئے درج ذیل فصلیں بھی بنا دی ہیں :
فصل 1: شخصیات کا تعارف
فصل 2: علاقوں اور جگہوں وغیرہ کا تعارف
فصل 3: مساجد کا تعارف
فصل 4: مدارس و جامعات کا تعارف
فصل 5: ماہناموں کا تعارف
فصل 6: تنظیموں اور تحریکوں کاتعارف
فصل 7: کتابوں کا تعارف
باب13 فصل1:
شخصیات کا تعارف
ابو الغوث گرم دیوان
حضرت شاہ ابو الغوث گرم دیوان کے والدشیخ محمد شاہ(وفات:15صفر1114ھ)،دادامخدوم شاہ اسماعیل فاروقی سہروردی (22رمضان 1034ھ تا16جمادی الاخریٰ 1106ھ) اور پردادا قدوۃ الاصفیاء مخدوم شاہ ابو الخیر فاروقی سہروردی(1008ھ تا11شوال 1059ھ ) ہیں۔یہ اولیائے کرام کا خاندان ہے۔حضرت شاہ ابو الغوث گرم دیوان کی پیدائش ربیع الاخر1100ھ میں سلطان پور عرف بھیرہ ولید پورضلع اعظم گڑھ یوپی ہند میں ہوئی اورآپ نے وحدت آباد عرف لُہرا نزدمبارک پورضلع اعظم گڑھ میں 25جمادی الاخریٰ 1178ھ کو وصال فرمایا۔تدفین لُہرانزدمبارک پورضلع اعظم گڑھ میں ہے۔آپ اپنے والدگرامی کے سلسلہ سہروردیہ میں مریدوخلیفہ تھے، مولانامحمد رمضان کچھوچھوی اورمیرسیدغلام احمد محمدآبادی سے علم دین حاصل کر کے مشائخ پیرسیدفتح محمدالہ آبادی چشتی،راجہ خیر اللہ سیدغلام نظام الدین محمدآبادی اورراجہ وانی پیرغلام معین جونپوری رحمۃ اللہ علیہم سے خلافت حاصل کی۔آپ جیدعالم دین،شیخ الشیوخ،قطب ارشاد،بہترین شاعر اور باکرامت ولی اللہ تھے۔آپ نے بطریقہ اویسیہ محبوب یزدانی سلطان اشرف جہانگیرسمنانی رحمۃ اللہ علیہ سے فیوض وبرکات حاصل کئے۔ان کے دوبیٹے حضرت مولانا حافظ شاہ ابواسحاق(وفات:1234ھ) اورحضرت مولانا حافظ شاہ عبدالعلیم تھے۔(1)
ابو سعید چوہڑ انصاری چشتی
حضرت شیخ ابو سعید چوہڑ انصاری چشتی رحمۃ اللہ علیہ ولی کامل اور صاحب کرامات تھے۔آپ حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کی خدمت میں ایک عرصہ تک رہے اور اپنے ظاہر وباطن کی اصلا ح کی،حضرت نے آپ کو سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کی خلافت عطا فرمائی، تدفین سہارن پور میں ہوئی۔(2)
احسان حسین مجددی
صاحبزادہ مولانا احسان حسین مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 2ذوالحجہ 1293ھ میں ہوئی،علوم اسلامیہ والد صاحب،مولانا سلامت اللہ رامپوری،مولانا عبد الغفار رامپوری اور مولانا ظہور الحسین رامپوری سے حاصل کئے اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے،آپ پر کبھی جذب کی کیفیت طاری ہو جاتی اور کبھی آپ درست ہو جاتے۔ (3)
احمد اشرف اشرفی
خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت ،صاحبزادۂ مخدوم الاولیاء حضرت مولانا سیّد ابو المحمود احمد اشرف اشرفی کی ولادت 1286 ھ مطابق 1869ءکچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈ کرنگر، یوپی)ہند میں ہوئی۔آپ عالم باعمل،شیخ طریقت، مناظر اسلام اور سلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ مطابق یکم اکتوبر1928ء کو وصال فرمایا۔ مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(4)
احمد انوار الحق فرنگی محلی
اجل عالم دین،بحرالعلوم علامہ عبدالعلی کے شاگرد شاہ احمد انوار الحق فرنگی محلی سلسلہ قادریہ رزاقیہ کے شیخ طریقت، صوفی باکمال اور ذکر واذکارمیں مشغول رہنے والے بزرگ تھے۔فقروعرفان کی طرف میلان کلی کی وجہ سے طبیعت معقولات کی طرف متوجہ نہیں تھی البتہ کتب منقولات پر خاصی نظرتھی۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے داداجان حضرت حافظ شاہ کاظم علی خان آپ کے مریدوخلیفہ تھے۔علامہ انوارالحق فرنگی محلی کا وصال 6شعبان 1236ھ مطابق 1821ء کو ہوا۔اپنے باغ لکھنؤ میں دفن کئے گئے۔(5)
احمد بن زینی دحلان مکی
شیخ الاسلام حضرت سیّد ابوالعباس احمد بن زینی دحلان جیلانی مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام الحرمین، مفتیِ شافعیہ، شیخ الحدیث، استاذُ العلماء اور کئی کتب کے مصنف تھے، آپ کا گھر بیتِ دحلان علم و دین اور معرفت کا مرکز تھا۔ السیرۃ النبویۃ و الاثار النبویۃ آپ کی 40 کتب میں سے ایک ہے۔ آپ 1232ھ کو مکّہ شریف میں پیدا ہوئے اور وفات 4 صفر المظفر 1304ھ کو مدینۂ منوّرہ میں فرمائی۔ جَنّۃُ البَقِیع میں دفن کئے گئے۔(6)
احمد بن عبد اللہ ابو الخیر مرداد
حضرت شیخ احمد بن عبد اللہ ابوالخیرمردادکی پیدائش 1259ھ کو ہوئی اوروصال 1335ھ کو مکہ مکرمہ میں فرمایا۔انھوں نے علم دین اپنے والد شیخ عبد اللہ بن ابوالخیرمحمدصالح مرداداوردیگرعلمائے مکہ مکرمہ سے حاصل کیا۔آپ مسجدالحرام کے امام، خطیب اورمدرس تھے۔1293ھ سے 1299ھ تک آپ کو شیخ الخطباء کے منصب پر فائز کیا گیا۔انھوں نے الدولۃ المکیۃ اورحسام الحرمین پر تقریظ تحریرفرمائی۔انہی کےکہنے سے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا نے الدولۃ المکیہ میں کچھ مباحث کا اضافہ فرمایا۔(7)
احمد جی چشتی
مفتی ہزارہ حضرت مولانا مفتی احمد جی چشتی کی پیدائش 3ربیع الاول 1288ھ مطابق23مئی 1871ء کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور8جمادی الاولیٰ 1363ھ مطابق 21 اپریل 1945ء کو وصال فرمایا۔آپ جید عالم دین، مدرس اورمفتی اسلام تھے، آپ نے تقریباً 50 سال تدریس وفتاویٰ نویسی کی خدمات سرانجام دیں۔ تحریک ختم نبوت میں اپنے مرشدقبلہ عالم پیرسیدمہرعلی شاہ صاحب کے ساتھ بھرپورشریک رہے۔(8)
احمد حسن محدث کانپوری چشتی
استاذ العلماء، امامِ معقولات و منقولات حضرت مولانا شاہ احمد حسن محدث کانپوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1296ھ میں پٹیالہ (مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور وصال 3صفر 1322ھ کو کانپور (یوپی) ہند میں فرمایا، آپ کا مزار پرانوار یہیں بساطیوں والے قبرستان نزد پنجابی محلہ میں ہے۔ آپ جید عالم، مدرس، مصنف، شارحِ کتب، دوستِ اعلیٰ حضرت اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ تصانیف میں رسالہ تَنْزِیْہُ الرَّحْمٰن کو شہرت حاصل ہوئی۔(9)
احمد حسین مجددی رامپوری
حکیم احمد حسین مجددی رامپوری فارسی کے ماہر اور بہترین طبیب تھے۔آپ کا نسب کچھ یوں ہے:حکیم احمد حسین مجددی بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ درویش احمد بن شاہ فقیر اللہ زین العابدین بن شیخ فیاض الدین بن شیخ ضیا الدین یوسف بن شاہ محمد یحییٰ بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی۔(10)
احمد علی جمال شاہ کمبل پوش
ولی کامل حضرت سید احمد علی جمال شاہ کمبل پوش رحمۃ اللہ علیہ نظامی خاندان یعنی محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا کے چشم وچراغ اور سجادہ نشین تھے۔ آپ سالک نمامجذوب صاحبِ معارف اور حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ رضوی حسنی کے داماد تھے۔ صوفی شاعر حضرت مولانا عبدالشکورنظامی کمبل پوش اکبر آبادی ثم حیدرآبادی (وفات 14ربیع الاخر 1395ھ مطابق 26 اپریل1975ء، مدفون حیدرآباد،سندھ پاکستان )آپ کے ہی خلیفہ ہیں۔(11)
احمد مختار صدیقی قادری
خلیفہ ٔ اعلی حضرت ،مبلغِ اسلام،حضرت مولانا شاہ احمد مختار صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ عالم باعمل،واعظِ خوش بیان، استاذ العلماء، ہمدردِ مِلّت اور بلند پایہ مصنف تھے،آپ کی کوشش سے کئی غیر مسلم دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ 1249ھ مطابق 1833ء میں میرٹھ (یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے اور14 جمادی الاولیٰ 1357ھ مطابق 12 جولائی 1938ء کودَمّن پرتگیز(ہند) میں وصال فرمایا۔(12)
احمد مدنی الوری
خواجہ سید احمد مدنی الوری صاحب سادات کے عظیم خانوادے سے تعلق رکھتے تھے،آپ علاقہ میں معروف ومشہورصاحب نسبت اورخدارسیدہ بزرگ تھے اورہمہ وقت جذب ومستی میں رہا کرتے تھے، ان کے والدحضرت مولانا سید نورمحمد مدنی شاہ نقشبندی شیخ المشائخ علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے خلیفہ اور الور کی ہر دلعزیز شخصیت تھے،ان کا وصال 28رجب 1316ھ مطابق 12دسمبر1898 ء کو ہوا،آپ کو ہسپتال سے متصل ریلوے روڈ پر دفن کیا گیا اور بعد میں خوبصورت مزار تعمیر کیا گیا، مولانامفتی شاہ عبد الرحیم منڈاوری الوری صاحب (تلمیذامام المحدثین) ان کے سجادہ نشین مقررہوئے جبکہ مولانا محبوب لعل شاہ سید نور محمد مدنی شاہ صاحب کے خلیفہ تھے،مدنی شاہ صاحب کے ایک اورخلیفہ سیداعجازحسین شاہ نے آپ کی تعلیمات،ملفوظات اورحالات پر مشتمل رسائل بنام مجموعہ رسائل رحمانی مطبع نامی کانپورمحمدرحمت اللہ سے 1320ھ مطابق 1903ء میں شائع کروائے۔(13)
احمد یار خان نعیمی
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ 1324ھ کو محلہ اوجھیانی بدایوں (اترپردیش ہند) میں پیدا ہوئے۔ وصال 3رَمَضان1391ھ کو فرمایا، مزار گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہے۔ آپ مفسر قرآن، شارحِ مشکوٰۃ، استاذ العلماء، مصنف کُتُبِ کثیرہ اور اکابرینِ اہلِ سنت سے ہیں۔(14)
اخلاق احمد رامپوری
مولانا صوفی اخلاق احمد رامپوری حضرت شاہ رکن الدین کے مرید و خلیفہ تھے۔آپ رامپورکے رہنے والے تھے مگرکثیر عرصہ جھالاواڑ اوراحمدآبادمیں گزارا،ان دونوں مقامات کے علاوہ پچیار،چھترپور،مالوہ اور گرد و نواح میں آپ کے مریدوعقیدت مندبکثرت تھے۔آپ کی وفات 1967ء سے 1972ء کے درمیانی عرصے میں ہوئی۔(15)
اسرار الحق صدیقی رہتکی
طوطی ہند مولانا اسرار الحق صدیقی رہتکی کی پیدائش اپنے نانا کے ہاں یکم صفر 1296ھ کوٹونک ہند میں ہوئی، ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی،پھر مدرسہ عالیہ رامپور میں داخل ہوئے،پھر مدرسہ نعمانیہ لاہور سے فارغ التحصیل ہوئے،آپ ہند کے علاقے رہتک کے بہترین واعظ وعالم تھے مگر ہند میں وعظ ونصیحت کے لیے تشریف لے جاتے،چار سو غیر مسلم آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے،آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے،ان کے بیٹے مولانا ابرار الحق رہتکی دار العلوم نعمانیہ سے فارغ التحصیل ہوئے، مولانا اسرار الحق رہتکی انجمن نعمانیہ کے جلسوں میں شرکت کر کے وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے،قیام پاکستان کے بعد آپ کراچی کی مشہور قصاباں مسجد کے امام وخطیب مقرر ہوئے،یہیں 30جمادی الاولیٰ 1373ھ مطابق 5فروری 1954ء وصال فرمایا، بوستان قریش آگرہ میوہ شاہ قبرستان کراچی میں تدفین ہوئی۔آپ اعلیٰ حضرت سے محبت فرماتے تھے، ہر جمعرات بریلی شریف جا کر اعلیٰ حضرت کو کلام سنایا کرتے تھے۔(16)
اسماعیل بن سید خلیل آفندی
محافظِ کُتُبِ حَرم،عالمِ جَلیل حضرت شیخ سید اسماعیل بن سیدخلیل حنفی قادری آفندی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت اندازاً 1270 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اور وصال 1329 ھ کواستنبول میں فرمایا۔ آپ جَیِّدومُحتاط عالمِ دین، بڑے ذَہین وفَطین،وَجیہ صورت اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے۔(17)
اعجازفاطمہ
سیدہ اعجاز فاطمہ عرف سجادی بیگم تاج العلماء علامہ سید اولاد رسول محمد میاں کی ہمشیرہ ہیں۔ انکاوصال 25محرم1337ھ کو ہوا، صحن پائین درگاہ حضرت شاہ برکت اللہ مارہرہ میں تدفین ہوئی۔ان کا نکاح سید مہدی حسن مارہروی سے ہوا۔سیدمہدی حسن بن سیدظہورحسین چھٹو میاں بن سیدآل رسول مارہروی کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1287ھ کو ہوئی۔آپ کو اپنے چچازادبھائی سراج السالکین علامہ سیدابوالحسین نوری بن سید ظہور حسن اور اپنے والد سید ظہور حسین مارہروی سے خلافت حاصل تھی، والدصاحب کے وصال (17ربیع الاول1213ھ )کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔آپ بہت سخی تھے۔عرس قاسمی برکاتی کو بہت دھوم دھام سے منایا کرتے تھے۔آپ نے 18ذیقعدہ 1361ھ مطابق نومبر1952ء میں وصال فرمایا۔صاحب تذکرہ ٔ نوری نے آپ کے لیے جو القابات لکھے ہیں ان سے آپ کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے:حضوروارث سجادہ برکاتیہ،بہارِ چمن آل احمدیہ،اسداغبرآجام حمزویہ،گوہردرخشانِ معدنِ آل احمدیہ،سیدالشباب والکہول، شمع شبستان آل رسول، سرور سینہ ظہور،قوت بازوے حضورنور،مخدوم زمن۔(18)
اقبال احمد فاروقی
رئیس التحریرحضرت پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب ضلع گجرات (پنجاب پاکستان)کےایک موضع شہاب دیوال کے ایک علمی فاروقی گھرانے میں 1346ھ مطابق1928 ءکو پیداہوئے اور تقریباً 89سال کی عمر میں 16 صفرالمظفر1435ھ مطابق 20دسمبر 2013 کو لاہور میں وصال فرمایا،ان کی تدفین میانی صاحب قبرستان میں خواجہ محمد طاہر بندگی کے مزار اقدس سےمتصل ہوئی۔ آپ ایک متحرک عالم دین،دینی ودنیاوی تعلیم سے مرصع،مکتبہ نبویہ کےبانی،ناشر ِ رضویات، مدیر ماہنامہ جہانِ رضا لاہور، روح رواں مجلس رضااوراکابر علمائے اہل سنت لاہورسےتھے۔ آپ خوش اخلاق،مہمان نواز اور ہردل عزیز شخصیت کےمالک تھے، چھوٹے بڑےسب کو اہمیت دیتے اورعلمی کاموں پر حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے،راقم کو کئی مرتبہ ان کی زیارت وملاقات کا شرف حاصل ہوا،یہ مجھ پرخصوصی شفقت فرماتے اورمجھےاپنا کراچی والا دوست کہاکرتےتھے۔
اللہ بخش تونسوی
پیرطریقت خواجہ اللہ بخش تونسوی کی ولادت ماہ ذوالحجہ 1241ھ مطابق 1826ء میں تونسہ شریف میں ہوئی اوریہیں 29 جمادی الاولیٰ 1319ھ مطابق 13 ستمبر 1901ء کو وفات پائی۔آپ علم شریعت وطریقت کے جامع،آستانہ عالیہ تونسہ شریف کے سجادہ نشین اورحسن اخلاق کے پیکر تھے۔آپ کے فیضان سے ایک زمانہ سیراب ہوا،مشائخ میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔آپ نے 1854ء میں اجمیر،لکشمن گڑھ،جے پور، راجپوتانہ اوردہلی کا سفر کیا، غالباً اسی سفرمیں ان کی ملاقا ت حضرت پیر سید نثارعلی شاہ الوری سے لکشمن گڑھ میں ہوئی،اس کے بعد ان دونوں بزرگوں کا بذریعہ خط و کتابت رابطہ رہا۔ (19)
امام الدین احمد نقوی گلشن آبادی
مؤرخ اہل سنت حضرت مولانا سیّد امام الدین احمد نقوی گلشن آبادی کی ولادت 1266ھ میں گلشن آباد ناسک (مہارا شٹر، ہند)کے علمی وروحانی پیر زادہ حسینی سید خاندان میں ہوئی،17رمضان 1331ھ مطابق 20 اگست1913ء کو وفات پائی، آپ جید عالم دین،عارف کامل،مصنف وشاعر اور سلسلہ چشتیہ ابو العلائیہ کے شیخ طریقت ہیں،آپ کی کتب میں تاریخ الاولیاء (3 جلدیں)اور تذکرۃ الانساب اہم ہیں۔(20)
امانت علی شاہ نظامی
واقف اسرارمعرفت حضرت مولانا پیر سید ابو الحقائق امانت علی شاہ نظامی کی پیدائش موضع گلہوٹی سیداں (تحصیل زیرہ ضلع فیروزآباد)میں 20صفر1322ھ کو ہوئی، آپ شیخ طریقت، بہترین واعظ، خوش الحان مثنوی گو،بانی آستانہ چشتیہ نظامیہ بیت الاما ن مغلپورہ لاہوراوروسیع حلقہ مریدان رکھنے والے تھے، آپ کا وصال7محرم1391ھ مطابق 7مارچ1971ءکو ہوااوراپنے قائم کردہ آستانے میں تدفین ہوئی جس پر خوبصورت گنبدتعمیرہوا۔
امداد اللہ مہاجر مکی
مرجع خلائق حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی پیدائش2 صفر1233ھ موضع نانوتہ ضلع سہارنپور یوپی ہند میں ہوئی اور مکہ مکرمہ میں 13جمادی الاخریٰ 1310ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلیٰ میں تدفین کی گئی۔آپ نسباً فاروقی اور مشرباً چشتی صابری تھے، آپ حافظ قرآن،عالم دین اور خوشنویس تھے۔آپ نے میاں جی نور محمد جھنجھانوی سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔خوب عبادت،ریاضت اور سیاحت کی،مرشد نے خلافت سے نوازا۔عرب وعجم کے علما وصلحا نے آپ سے فیضان حاصل کیا۔ (21)
امداد حسین رامپوری
مولانا امداد حسین رامپوری کی پیدائش 1244ھ میں ہوئی،تمام اسلامی علوم اپنے بڑے بھائی علامہ ارشاد حسین رامپوری سے حاصل کئے،بیعت کا شرف علامہ ولی النبی رامپوری سے حاصل کیا،اپنے بھائی سے خلافت پائی،بھائی کی وفات کے بعد ان کی جگہ وعظ فرماتے تھے،27صفر1312ھ کو وفات پائی،بھائی کے قبہ میں جانب مشرق دفن کئے گئے۔(22)
امیر احمد
حضرت مولانا سید امیر احمد محلہ ذخیرہ بریلی شریف کے باشندے تھے،انھوں نے رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان سے علم دین حاصل کیا اورفارغ التحصیل ہوئے۔یہ اعلیٰ حضرت کے دوست تھے۔انھوں نے پُرزورمطالبہ کیا کہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف میں دارالعلوم کا آغازکریں،اعلیٰ حضرت نے فرمایا: سید صاحب ! آپ کا حکم بسروچشم منظور ہے، مدرسہ قائم کیا جائے گا۔اس کے پہلے ماہ کے سارے اخراجات میں خود آکر دونگاپھر اس کے بعد دوسرے لوگ اس کی ذمہ داری لیں۔جب ان کے استاذبھائی یعنی علامہ نقی علی خان کے شاگرد مولانابرکات احمد قادری برکاتی کا انتقال ہواتو انہیں خواب میں پیارے آقامحمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی اور فرمایا کہ میں برکات احمد کے جنازے میں آیا ہوں۔(23)مزیدحالات بکوشش نہ مل سکے۔
اولادِ رسول مارہروی
سید العابدین حضرت حکیم سید اولادِ رسول مارہروی کی پیدائش 15شعبان 1212ھ کو مارہرہ میں ہوئی۔ آپ حضرت شاہ آل برکات ستھرے میاں کے منجھلے بیٹے اورحضرت شاہ آل رسول مارہروی کے چھوٹے بھائی ہیں۔آپ کی تربیت تایا حضرت شاہ آل احمد اچھے میاں نے فرمائی،بیعت کرکے خلافت بھی عطا فرمائی۔ والدصاحب سے بھی خلافت ملی۔ والدصاحب سےہی فن طبابت سیکھا اوراس میں مہارت تامہ حاصل کی۔والی ریاست ٹونک میرخان اس مہارت کی وجہ سے آپ کامعتقدتھا۔بہت زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے سیدالعابدین کا لقب پایا۔حکمت میں آپ کے شاگردوں کی تعداد کثیرہے۔والدکی وفات کے بعد آپ دونوں بھائیوں سمیت سجادہ نشین ہوئے۔26ربیع الاخر1267ھ کو وصال فرمایا۔ (24)
آل برکات ستھرے میاں
سراج السالکین حضرت سیّد آل برکات ستھرے میاں کی پیدائش زبدۃ الواصلین حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی کے ہاں 10رجب1163ھ کو مارہرہ میں ہوئی۔تعلیم وتربیت والدصاحب سے حاصل کرکے بیعت وخلافت کی سعادت کا شرف پایا۔آپ شریعت وطریقت کے پابند،ذکر الٰہی کا شوق رکھنے والے،مسجدمیں نماز باجماعت کی بہت پابندی کرنے والے، روزانہ دس پارے تلاوت کرتے اورشعروشاعری سے دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کا تخلص آشفتہ تھا۔ آپ کو تعمیرات کا بھی شوق تھا،خانقاہ سرکارِ کلاں کی جامع مسجد اور خانقاہ کے کئی مکانات تعمیرکروائے،محل سرائے زنانہ ازسرنوتعمیرکروائی۔آپ نے اپنے تینوں صاحبزادوں حضرت شاہ آلِ رسول،حضرت شاہ اولادِ رسول اور حضرت شاہ غلام محی الدین امیرعالم کو بدرجہ مساوی سجادہ نشین اور مالک جملہ جائیداد خانقاہی تجویز فرمایا۔وصال 26رمضان 1351ھ کومارہرہ میں ہوا۔ دربارجدمحترم حضرت شاہ آلِ محمد مارہروی سے متصل بجانب مغرب تدفین ہوئی۔ (25)
باسط علی قادری
حضرت شیخ باسط علی قادری کی ولادت آبائی وطن سلطان پورعرف بھیرہ نزدولید پورضلع اعظم گڑھ یوپی میں ہوئی اوروفات دھاوا شریف نزدغازی پورمیں ہوئی۔(26)
برکات احمد قادری برکاتی
مولانا برکات احمد قادری برکاتی بریلی شریف کے باشندے،عالم دین اورنہایت نیک طبیعت کے مالک تھے،رئیس المتکلمین کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔یہ پیرومرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی کے فدائی تھے، کم ایساہواکہ حضرت پیر و مرشدکا نام پاک لیتے اورآنسورواں نہ ہوتے۔جب ان کا انتقال ہوا تو اعلیٰ حضرت میت اتارنے کے لیے قبرمیں اُترے تو انہیں وہ خوشبو وہاں محسوس ہوئی جو پہلی بار روضہ سرکارکے قریب محسوس ہوئی تھی۔ ان کے استاذبھائی مولانا سیدامیراحمد بریلوی نے ان کی وفات کے بعد پیارےآقامحمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں گھوڑے پر سواردیکھا تو سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں برکات احمد کے جنازے میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ انہیں یہ سعادت پیرومرشدکی محبت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔(27)
بشیر احمد قادری نوری چشتی
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الثاقب بشیر احمد قادری نوری چشتی مدظلہ العالی نےدرس نظامی کی تکمیل حضرت علامہ پیر ابوالفیض مفتی محمد عبدالکریم چشتی قادری رضوی محدث ابدالوی سے کی، دورہ حدیث شریف شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی فیصل آبادی سے کیا،بیعت کاشرف فخرالسادات پیر سید محمد معصوم شاہ گیلانی قادری نوری، سجادہ نشین آستانہ عالیہ چک سادہ شریف ضلع گجرات (وفات 29 شوال 1388ھ) سے پایا۔محدث ابدالوی نے خلافت عطافرمائی، آپ نے دارالعلوم برکاتیہ چشتیہ رضویہ مڑھ بلوچاں تحصیل سانگلہ ہل ضلع ننکانہ میں عرصہ درازتک تدریس فرمائی۔
تاج الدّین احمدعرفانی مجددی
صاحب دیوا ن شاعروصحافی مولانا تاج الدین احمدعرفانی مجددی کی ولادت جمادی الاخریٰ 1301ھ مطابق اپریل 1884ء کو لاہورکے ایک علمی وادبی گھرانے میں ہوئی،آپ کا نام تاج الدین احمد،تخلص تاج، کنیت ابوالمعانی ،القابات منشی ،علامہ عرفانی،مؤمن ثانی اورنسبت مجددی جماعتی ہے ۔آپ نے پرائمری کا امتحان پاس کرنے کے بعدحکیم محمدنوازخاں منورصاحب کی شاگردی اختیارکی اوران سے فارسی کی کتب پڑھیں، شعروشاعری کا ذوق بھی ان سے پایا ،اپنے والدمولانا محمدبخش چشتی صاحب سےبھی کلام کو چیک کرکے اصلاح لیا کرتے تھے ، بارہ سال کی عمرمیں ہی اشعارلکھنا شروع کئے اورزندگی بھریہ سلسلہ جاری رہا، شعر وشاعری کے علاوہ دیگرعلوم اسلامیہ میں بھی مہارت تھی ۔ علامہ عرفانی صاحب ایک بلندپایہ ادیب، نڈر صحافی ، بہترین قلمکاراورصوفی باصفا تھے مگرآپ کا اصل میدان شعروشاعری تھی ،اس میں وہ مہارت تھی جوکم لوگوں کے حصے میں آئی ،اس فن میں آپ عبقری شخصیت کے مالک تھے۔آپ نے بیعت کا شرف امیرملت حافظ پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری سے حاصل کیا ۔ علامہ عرفانی صاحب کے والدمحترم بہترین صحافی تھے، ہنٹرکے مدیراوراخبارجعفر زٹلی کے مالک تھے ،علامہ عرفانی نے بھی اسی راستےکو پسندکیا اور1901ء سے لےکر1919ء تک تقریبا سات ماہواریاہفتہ واریا روزانہ اخباراوررسالے شائع کئے ،ان اخبارورسائل کے نام یہ ہیں ،ماہنامہ المجدد،رسالہ قتیل ناز،یومیہ اخبارامام،ہفتہ روزہ انوارالاعظم ،اخبارنشتر،اخبارہنٹر وغیرہ شامل ہیں ، آپ کی کتب میں آفتاب تاج،بہارِ جاوداں ،انوارصدیقی ،انوارفاروقی ،ہندوں سے ترک موالات اور تہذیب قادیانی وغیرہ شامل ہیں ۔آپ نے 3ذیقعدہ1278ھ مطابق 11مئی 1959ء کو لاہورمیں وفات پائی ،قبرستان میانی صاحب میں احاطہ ٔعلامہ طاہر بندگی مجددی میں تدفین کی سعادت پائی۔ مزید معلومات کے لیے راقم کامقالہ لاہورکے ہم زمانہ ہم نام تین علماء کا معالعہ کیجئے۔(28 )
تاج الدین احمد جوہر چشتی سلیمانی فخری
حضرت مولانا خلیفہ حاجی تاج الدین احمد جوہر چشتی سلیمانی فخری صاحب انجمن نعمانیہ کے بانی اراکین میں سے ہیں،یہ انجمن میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے تھے،ان کے پاس انجمن کے مختلف عہدے رہے آپ کو بالترتیب نائب جنرل سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری،جنرل سیکریٹری،ناظم دار العلوم نعمانیہ اور مدیر رسالہ انجمن بنایا گیا،آپ پیشے کے اعتبار سے چیف کورٹ پنجاب کے مقتدر وکیل تھے مگر آپ میں خدمت دین کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،انھوں نے انجمن کو اعتقادی اور مالی طور پر مضبوط کرنے کے لیے کئی سفر کئے مثلاً ٭1890ء میں آپ حافظ چراغ دین صاحب کے ہمراہ بہاولپور تشریف لے گئے وہاں نواب آف بہاولپور کو انجمن کا تعارف کروا کر چندے کی اپیل کی،تقریب میں موجود مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ نے انجمن کی مالی مدد کی ٭ستمبر1890ء میں حافظ چراغ دین صاحب کے ہمراہ ممبئی تشریف لے گئے آپ کی کوشش سے کئی رؤسا نے انجمن کے لیے وظیفے مقرر کئے ٭1313ء میں اعلیٰ حضرت کی دعوت پر مفتی سلیم اللہ خان صاحب کے ہمراہ بریلی شریف حاضر ہوئے،اعلیٰ حضرت کی زیارت سے مستفیض ہوئے ٭ستمبر 1896ء میں خلیفہ عبد اللہ ،مولانا قمر الدین اور حافظ چراغ الدین صاحبان کے ساتھ ملک کے کئی شہروں مثلاً بٹالہ شریف،جالندھر اور گجرات (ہند) تشریف لے گئے اور کافی کامیابی حاصل کی۔ آپ نے انجمن کی کئی سالانہ رپورٹ تیار کیں،1347ھ مطابق 1928ء میں انجمن کا تعارف تحریر فرمایا، ہر سال سالانہ جلسے کے لیے آپ مکتوب روانہ کیا کرتے تھے،ذوالحجہ 1329ھ مطابق دسمبر1911ء میں آپ نے حج کی سعادت حاصل کی،حج سے واپسی پر انجمن کے کئی ذمہ داران آپ کا استقبال کرنے کے لیے ممبئی پہنچے،مولانا محرم علی چشتی صاحب نے نظم لکھی:
جسم لاہور بغیر اس کے ہوا تھا مردہ جسم میں شکر ہے پھر روح کا جوہر آیا
اس کی آمدسے ہے لاہور میں خوشبو ہرسو کیونکہ از بوئے مدینہ ہے معطر آیا
لاہور پہنچنے پر اسٹیشن پر جم غفیر نے استقبال کیا،19جمادی الاولیٰ 1330ھ مطابق 6مئی 1912ء کو آپ کو استقبالیہ دیا گیا، جس میں مولانا نور بخش توکلی اور حاجی شمس الدین صاحبان نے آپ کی شان میں مناقب پڑھیں۔ آپ تاحیات انجمن سے وابستہ رہے،آپ کا وصال 24شعبان 1358ء مطابق9 اکتوبر 1939ء کو لاہور میں ہوا،ملک بھر کے علما نے ہزاروں قرآن پاک، لاکھوں بار قل،کروڑوں توحید وتمجید پڑھ کر آپ کو ایصال کیا،آپ کے تعزیتی اجلاس میں کئی علما شریک ہوئے،اس میں یہ تجویز دی گئی کہ دار العلوم نعمانیہ سے شائع ہونے والے فتاویٰ کا مجموعہ بنایا جائے جس کا نام فتاویٰ تاج الدین احمد ہو۔ یوں بھرپور زندگی گزار کر یہ مجاہد ملت دنیا سے رخصت ہوا۔(29) مزید معلومات کے لیے راقم کا مقالہ لاہور کے ہم نام وہم زمانہ تین علما کا مطالعہ کیجئے۔
تاج الدّین قادری
شیدائے اعلیٰ حضرت، عالم باعمل حضرت مولانا تاج الدّین قادری رحمۃ اللہ علیہ پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں علم دین حاصل کیا اور یہیں کئی مساجد میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ جید عالم دین اور شیخ طریقت تھے۔آپ سلسلہ عالیہ قادریہ غفوریہ میں حضرت پیر عبد الوہاب قادری (آستانہ عالیہ مانکی شریف، نوشہرہ، خیبر پختون خواہ)کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے نوازے گئے، آپ کا وصال 25شعبان1327ھ مطابق 11 ستمبر 1909ء کو ہوا اور اپنی تعمیر کردہ مسجد تاج الدین (محلہ چوبچہ مغل پورہ) سے متصل دفن کئے گئے۔(30)
تقدّس علی خان
تلمیذ اعلیٰ حضرت، مفتی تقدّس علی خان رضوی عالمِ باعمل، شیخ الحدیث اور استاذ العلماء ہیں۔ رجب المرجب 1325ھ مطابق اگست 1907ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور 3رجب 1408ھ مطابق 22 فروری 1988ءمیں پیرجو گوٹھ ضلع خیرپور میرس سندھ میں وِصال فرمایا۔ (31)
تقی علی کاکوروی
علامہ دہر پیر کامل شاہ تقی علی کاکوروی بن غوث ملت شاہ تراب علی قلندرکاکوروی کی پیدائش 17 رجب 1213ھ کوقصبہ کاکوری ضلع لکھنؤ اترپردیش ہندمیں ہوئی۔علمائے عصرسے علوم وفنون میں دسترس حاصل کی۔تقریباً 60سال تدریس میں مصروف رہے۔مفتی سعد اللہ رامپوری جیسے علامہ ٔ وقت آپ کو استاذی کہہ کر مخاطب کرتے۔کہاجاتاہے آپ تفسیروحدیث میں رشک بخاری ومسلم،فقہ میں جانشین امام اعظم ابوحنیفہ، حکمت وفلسفہ میں فخر فارابی،تاریخ میں استاذ ابن اثیراورتصوف میں مثل غزالی تھے۔بیعت وخلافت کا شرف والدصاحب سے حاصل تھا۔ بہت مرجعت ومقبولیت تھی۔ شاگرد ومرید کثیر تھے۔ تصانیف میں روض الازہرمآثرالقلندراورخصائل عشرۂ فطرت شائع شدہ ہیں۔وصال 17رجب 1290ھ کو جائے پیدائش میں ہوا،والدکے پہلومیں جانب مشرق دفن کئے گئے۔بعدمیں روضہ تعمیرکیاگیا جوزیارت گاہِ خاص وعام ہے۔(32)
ثناء اللہ قادری
صوفی باصفا حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ قادری کی پیدائش موہڑہ کدلتھی ضلع چکوال کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔علوم اسلامیہ کی تحصیل اپنے داداقاضی غلام محمد چشتی (مریدوخلیفہ شمس العارفین سیالوی) اور ماموں قاضی عبدالحق جیسے علما سے حاصل کرکے متبحرعالم بنے۔آپ کو تدریس کا بہت شوق تھا۔آپ نے پنجائن میں 90سال درس نظامی کی تدریس کی۔یوں تو آپ تمام علوم میں مہارت رکھتے تھے مگرعلوم نحویہ کی تدریس میں ملکہ حاصل تھا۔آپ کے شاگردکثیرہیں،آپ شیخ طریقت قاضی سلطان محمودقادری آستانہ عالیہ قادریہ اعوان شریف ضلع گجرات سے بیعت تھے۔(33)
جماعت علی شاہ نقشبندی محدّثِ علی پوری
امیرِ ملّت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ نقشبندی محدّثِ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ حافِظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مسلمانانِ برِّعظیم کے متحرّک راہنما اور مرجعِ خاص وعام تھے۔ ایک زمانہ آپ سے مستفیض ہوا، پیدائش 1257ھ میں ہوئی اور 26ذیقعدہ 1370ھ میں وصال فرمایا، مزار مبارک علی پور سیّداں (ضلع نارووال، پنچاب) پاکستان میں مرجعِ خَلائق ہے۔(34)
جمیل احمد نعیمی
استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی جمیل احمد نعیمی کی پیدائش 19ذیقعدہ 1354ھ مطابق12فروری 1936 ءکو بھارت کی سر زمین انبالہ میں ہوئی اور 88سال کی عمر میں یکم ربیع الاخر 1442ء مطابق 17نومبر 2020ءکو کراچی میں وصال فرمایا۔ آپ تاج العلماء حضرت علامہ مفتی عمر نعیمی اشرفی کے تلمیذ،شیخ الفضیلت علامہ ضیاء الدین مدنی کے مرید اور اپنے سسر شیخ طریقت مولانا مسعود احمد چشتی دہلوی کے خلیفہ تھے، آپ دار العلوم نعیمیہ کراچی کے بانی رکن،استاذ الحدیث اور ناظم تعلیمات تھے،آپ کا شمار اہل سنت کے متحرک، فعال،دعوتی وتنظیمی شخصیات میں ہوتا ہے،کثیر علما آپ کے شاگرد ہیں، ان کی اہم ترین خصوصیات میں انکا اکابر واصاغر علما سے رابطے میں رہنا ہے، تقریباً ہر خط کا جواب دینا آپ کے معمولات کا حصہ تھا، آپ نے کثیر کتب پر تقاریظ تحریر فرمائیں،راقم کو ایک سے زیادہ مرتبہ آپ کی زیارت وملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔
حافظ بخش آنولوی
مفتی حافظ بخش آنولوی موضع آنولہ ضلع بریلی یوپی ہندمیں 1265ھ کو پیداہوئے۔اپنے نانا امام بخش آنولوی سے حفظ قرآن اورابتدائی درسی کتب پڑھیں،رئیس المتکلمین سے استفادہ کیا۔بدایوں میں علامہ فضل رسول بدایونی،علامہ عبدالقادربدایونی اورعلامہ نورمحمد بدایونی سے علوم وفنون حاصل کرکے1295ھ میں فارغ التحصیل ہوئے،مدرسہ قادریہ بدایون اورپھرمدرسہ محمدیہ چودھریہ گنج میں تدریس میں مصروف رہے۔ فقہی جزئیات میں بڑاعبورحاصل تھا۔ انھوں نے دومرتبہ حج وزیارت مدینہ کی سعادت حاصل کی۔ تنبیہ الجھال بالالہام الباسط المتعال ان کی مشہور تصنیف ہے۔ ان کا وصال 3جمادی الاخریٰ 1339ھ کو ہوا۔ مولانا قدیربخش مفتی جے پورآپ کے فرزندہیں۔(35)
حامد رضا خان
صاحبزادۂ اعلیٰ حضرت،حجۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ عالم دین،ظاہری وباطنی حسن سے مالا مال اور جانشینِ اعلیٰ حضرت تھے۔بریلی شریف میں ربیع الاول1292ھ مطابق 1875ء میں پیدا ہوئے اور 17 جمادی الاولیٰ 1362ھ مطابق 21جون 1943ءمیں وصال فرمایا اور مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے،تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ اور نعتیہ دیوان بیاضِ پاک مشہور ہے۔(36)
حبیب اللہ، اخبار نویس
صحافی دوراں حضرت سید حبیب اللہ صاحب اردو کے مشہور اور ممتاز اخبار نویس ہیں،یہ 1891ء میں جلال پور جٹاں،ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد لاہور چلے آئے اور رسالہ پھول اور تہذیب نسواں کے مدیر مقرر ہوئے۔اس کے بعد کلکتے سے اپنا ذاتی اخبار نقوش بھی جاری کیا۔ جس نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔بعد ازاں لاہور میں آکر سیاست جاری کیا جسے حکومت نے بند کر دیا۔ 1949ء کے آغاز میں روز نامہ غازی نکالا لیکن چند برس بعد یہ بھی بند ہو گیا۔ سید صاحب نہایت بے باک اور نڈر اخبار نویس تھے۔ ان کی وفات 1951ء میں ہوئی۔
حسن خان میواتی
راجہ حسن خان میواتی لودھی سلطنت(1451ء تا 1526ء)کے تیسرے بادشاہ ابراہیم لودھی (دورِ حکومت: 1517ء تا 1526ء) کا خالہ زاد بھائی تھا،اس نے حکومت میوات اس کے سپردکی،اس نے کوہ اراولی پربت پر 928ھ میں مضبوط قلعہ بنایا جو اب بھی قائم ہے،یہ علم پسند اور شعر وشاعری سے دلچسپی رکھتا تھا، 932ھ میں ظہیر الدین بابر نے دہلی پر قبضہ کر کے سلطنت لودھی کو ختم کیا تو محمود لودھی بن ابراہیم لودھی نے اس کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا،راجہ حسن خان کو مدد کی درخواست کی،حسن خان فقرا سے بہت عقیدت رکھتا تھا،یہ سید جمال بہادر پوری رحمۃ اللہ علیہ کا مرید تھا،اس نے ان سے دعا کے لیے عرض کیا،صاحب کرامت بزرگ تھے، انھوں نے فرمایا: زنہار الف زنہار اس طرف کا قصد نہ کرنا اور ہرگز ہرگز اس راہِ پرخطر میں قدم نہ دھرنا،ورنہ پشیمان ہوگا اور خوف جان ہوگا،کیونکہ بادشاہ قوی بخت اور دین دار ہے، اس پر فتح ہونا دشوار ہے۔ مگر اس نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا اور بابر کے خلاف جنگ میں شریک ہوا،کام آیا،یوں اس میواتی ریاست کا اختتام ہوا۔(37)
حسن رضا خان
صاحبِ دیوان ذوقِ نعت، استاذِ زَمَن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ برادرِ اکبراعلیٰ حضرت، قادرُ الکلام شاعر، کئی کتب کےمصنف اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کے مہتممِ اوّل ہیں، 1276ھ کو محلہ سودا گران بریلی میں پیدا ہوئے، 22 رمضان یا 3 شوال 1326ھ کو وہیں وصال فرمایا، مزار مبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔آپ حضرت شاہ ابو الحسین نوری کے مرید و خلیفہ تھے، اعلیٰ حضرت نے بھی آپ کو خلافت سے نوازا۔(38)
حسین بن صالح جمل اللیل
امام شافعیہ حضرت سیّد حسین بن صالح جمل اللیل شافعی مکہ مکرمہ میں تقریباً 1215ھ میں پیدا ہوئے۔ علمائے مکہ سے علم حاصل کرکے متبحرعالم بننے کی سعادت پائی، تحصیل علوم وفنون کی تکمیل کے بعد مسجدحرام کے امام مقرر ہوئے۔ 1299ھ میں شیخ الخطباء والائمہ بنائے گئے اورتاحیات اس منصب پر فائز رہے۔ آپ کا شمار مکہ شریف کے اہل ثروت وجیہ شخصیات میں ہوتاتھا۔آپ اد بی ذوق بھی رکھتے اور اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ کا وصال 1305ھ کو مکہ مکرمہ میں ہوا،نمازجنازہ میں کثیر اژدھام تھا۔تدفین جنۃ المعلیٰ میں کی گئی۔(39)
حشمت اللہ قادری رضوی
مریدِ اعلیٰ حضرت حشمت علی خان قادری رضوی ایڈوکیٹ بریلی شریف اترپردیش ہند کے رہنے والے تھے۔درسِ نظامی کی اکثرکتابیں خاتم الحکماء مولانا ہدایت اللہ خان اورکچھ کتب رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان قادری رحمۃ اللہ علیہما سے پڑھیں،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خا ن رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف پایا۔دینی تعلیم کے بعد دنیاوی تعلیم حاصل کی۔الہ آبادمیں وکالت شروع کی،کئی حکومتی عہدوں بالخصوص مجسڑیٹ آگرہ پر فائز رہے، آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو دینی ودنیاوی دونوں اعتبارسے معززتھے،تین زبانوں عربی،فارسی اورانگریزی پر عبور تھا، آپ کا وصال 19صفر1338ھ مطابق 14نومبر کو ہوا۔(40)
حمایت اللہ خان مجددی رامپوری
حضرت مولانا حافظ حمایت اللہ خان مجددی رامپوری شمس العلماء کے صاحبزادے وخلیفہ، عالم دین اور صاحب ادراک بزرگ تھے،شمس العلماء کی وفات کے بعد جانشین بنائے گئے،آپ کا وصال 6ربیع الاول 1350ھ کو ہوا۔(41)
حیات محمد سیالکوٹی
حضرت پیر حیات محمد سیالکوٹی کی ولادت سیالکوٹ کے کشمیری گھرانے میں ہوئی اور یہیں 11جمادی الاخریٰ 1361ھ کو وصال فرمایا، آپ امیر ملت پیر سیّد جماعت علی محدث علی پوری کے مرید و خلیفہ، عابد و زاہد، مقبول عوام و علما، کشمیری زبان کے مبلغ، باکرامت ولی اللہ اور شریعت و طریقت کے جامع تھے،ان کی نماز جنازہ میں مفتی شاہ ابوالبرکات سید احمد قادری،فقیہ اعظم محمدشریف کوٹلوی سمیت کثیر علما ومشائخ نے شرکت کی، نماز جنازہ امیر ملت نے پڑھائی۔(42)
حیدر شاہ چوراہی
کالی چادر والی سرکار حضرت پیر خواجہ حیدر شاہ چوراہی شریعت وطریقت کے جامع تھے۔ امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ آپ کے والدصاحب سے محبت فرماتے تھے بلکہ ان کی نمازجنازہ بھی امام المحدثین نے پڑھائی چنانچہ آپ کو بھی امام المحدثین کی زیارت وصحبت حاصل رہی۔ آپ کے والدصاحب نےاپنی حیات میں آپ کو اپنا خلیفہ وجانشین بنایا۔انھوں نے چورہ شریف اورلاہورمیں رشدوہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد چورہ شریف سے تقریباً 30میل کی مسافت پر واقع مقام ڈھوک مٹھین میں قیام فرمایا۔آپ نے کئی حج کئے، مسجدنبوی شریف میں شیخ الدلائل حضرت سیدمحمدامین رضوان مدنی سے دلائل الخیرات کی اجازت لی۔آپ کی وفات30شعبان 1384ھ مطابق26دسمبر 1964ء میں ہوئی۔مزارچورہ شریف ضلع اٹک میں ہے۔آپ کا شجرہ طریقت یہ ہے:خواجہ حیدرشاہ چوراہی، خواجہ غلام احمد نبی چوراہی،خواجہ فقیر محمد چوراہی، خواجہ نورمحمدتیراہی، خواجہ فیض اللہ تیراہی، خواجہ سیدمحمد عیسی، خواجہ سیدجمال اللہ رامپوری، قطب الملت والدین حضرت خواجہ سیداشرف محمد حیدربخاری، حضرت خواجہ محمد ز بیرفاروقی سرہندی،عارف وقت خواجہ حجۃ اللہ نقشبندثانی، عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی، امام ربانی، مجددالف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہم ۔(43)
خان بہادر خانِ زمان خان تنولی
خان بہادرخان ِ زمان خان تنولی 6نومبر1880ء میں ریاست امب کے حکمران خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد نواب محمد اکرم خان تنولی کی وفات کے بعد 1907ء میں ریاست کے حکمران بنے اور وفات 12ستمبر1936ء تک حکمران رہے۔یہ دین اسلام سے محبت کرنے والے اوراسلامی علوم کی اشاعت میں حصہ لینے والے حکمران تھے۔
خدا بخش
حضرت مولانا مفتی احمد علی چشتی قادری بہلولپوری کے والد گرامی مولانا خدا بخش عالم دین، متقی اور صالح ہستی تھے۔آپ ظاہری وباطنی حسن سے متصف اور امرا وفقرا میں یکساں مقبول تھے۔آپ بھٹی چک نزد حافظ آبادکے رہنے والے تھے پھر بہلول پوربھٹیاں آکر بس گئے، یہاں آکر آپ نے ایک کچی مسجدکی بنیاد رکھی جو اَب پختہ و خوبصورت اورعلم وعرفان کا مرکزہے۔ آپ کی مرقدبھٹی چک میں ہے۔(44)
خلیل احمدخادمی صفی پوری
حضرت عین اللہ شاہ خلیل احمدخادمی صفی پوری خانقاہ صفویہ کے سجادہ نشین تھے۔ مجدد سلسلۂ صفویہ، قطب العالم شاہ خادم صفی محمدی قدس سرہ کے منظورنظراورچہیتے مریدو خلیفہ تھے۔آپ بہترین شاعر تھے، آپ کے دیوان فارسی، اردو اورہندی موجود ہیں۔آپ کا وصال 13ربیع الاخر۔۔۔میں ہوااورتدفین خانقاہ صفویہ صفی پورضلع اناؤ ہندمیں کی گئی۔ (45)
خلیل الدین حسن رحمانی
شاعراہل سنت حضرت مولانا قاضی خلیل الدین حسن رحمانی حافظ پیلی بھیتی 1860ء میں پیلی بھیت میں پیدا ہوئے اوریہیں 7رجب 1348ھ مطابق 9دسمبر1929ء کووصال فرمایا۔آپ نے اپنے والد اور ماموں سے ابتدائی علم حاصل کرنے کے بعد مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں داخلہ لیااورعلامہ وصی احمد محدث سورتی سے دورہ حدیث کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔زمانہ تعلیم میں ہی آپ نے اشعارلکھنے شروع کیے۔مولانا امیرمینائی اورداغ دہلوی ہمیشہ آپ کے نعتیہ اشعارکے مداح رہے۔آپ کے 8 نعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔(46)
خلیل الرحمن خان پیلی بھیتی
مولانا حکیم خلیل الرحمن خان پیلی بھیتی جیدعالم دین،حکیم حاذق،صاحب ثروت ووجاہت، فاضل مدرسہ فیض عام کانپور،مجاہداہل سنت،مریدوخلیفہ علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی تھے۔(47)
خلیل الرحمن خان رامپوری ٹونکی
عالم اجل علامہ قاضی خلیل الرحمن خان رامپوری ٹونکی کی ولادت ملا عرفان سواتی رامپوری کے ہاں محلہ گوئیاتالاب رامپوریوپی ہندمیں ہوئی۔آپ نے مولانا غلام جیلانی رفعت اورمفتی شرف الدین رامپوری سے علوم وفنون میں دسترس حاصل کی۔آپ تمام علوم متداولہ بالخصوص علوم ادب واصول اورریاضی میں کامل دسترس رکھتے تھے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں مشغول ہوگئے۔ ریاست ٹونک کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے پھر ریاست جاورہ میں اقامت اختیارکی۔یہیں وصال فرمایا، کئی عربی کتب کے حواشی لکھے۔دس حواشی وتصانیف میں الدائرشرح علی منارالاصول اور رسم الخرات زیادہ اہم ہیں۔تاریخ ولادت اوروفات معلوم نہ ہوسکی۔(48)
دوست محمد صابر ملتانی
حکیم انقلاب، ممتاز الاطباء حکیم دوست محمدصابرملتانی صاحب کی پیدائش 9جولائی1906ء کو ملتان کینٹ میں حکیم نور حسین کے گھرہوئی اور30مئی1972ء کو لاہورمیں وفات پائی، قبرفصیح روڈ نزدمیانی صاحب قبرستان میں ہے، لوح قبرپر یہ القابات لکھے ہیں: مجدد طب،موجدنظریہ مفرداعضاء، فدائے مصطفی، واقف اسرار، امام فن، ابو الشفاء،ابوالنباض وغیرہ۔ آپ ایک طبی محقق تھے، آپ نے جدیدطریقہ علاج قانون مفرد اعضا دریافت کیا اوراس کی تائیدکے لیے 16سے زائدکتب اورکثیرمضامین لکھے آپ کی کوشش سے علم طب میں انقلاب برپا ہوا،آپ کا مطب فیض باغ عیسیٰ سٹریٹ نمبر 10 میں تھا،آپ انجمن خادم الحکمت شاہدرہ لاہورکے بانی بھی ہیں، آپ سے مشاہیرحکما نے تربیت پائی، آپ دین سے بھی لگاؤرکھتے تھے، جب علامہ سیّدفضل حسین شاہ صاحب نے تاجپورہ نزدوسن پورہ میں انجمن معین الدین تاج پورہ بنائی تو آپ اس کے صدر قرار پائے، یہ علما کی صحبت میں رہتےاور دینی تقریبات میں حصہ لیتے تھے، نیز ماہنامہ معین الدین لاہورکے اعزازی اڈیٹربھی تھےجیساکہ ماہ مئی تاماہ اکتوبر1933ء کے شماروں کے سرورق پرآپ کانام اس ذمہ داری کے ساتھ مرقوم ہے۔(49)
رحیم اللہ دہلوی
منشی شاہ رحیم اللہ دہلوی بلندپایہ بزرگ، بہترین خطاط اور فارسی ادا شناس تھے۔ مفتی شاہ محمد مسعود مجددی دہلوی کے مریدوخلیفہ تھے، خط نسخ میں اچھا لکھتےتھے مگرنستعلیق میں بڑاکمال حاصل تھا۔زندگی کا اکثرحصہ الورمیں گزارا،غالباً یہیں وفات ہوئی۔ کچھ عرصہ ریاست میں ملازمت کی۔طلبہ کو خوشنویسی سکھایا کرتے تھے۔منشی صاحب کی خطاطی کے نمونے پاک وہند کے کئی عجائب خانوں میں موجودہیں۔رکن الملت والدین حضرت مولانا شاہ رکن الدین الوری آپ کے مشہور شاگرد ہیں۔(50)
رحیم بخش محمد مسعود مجددی فاروقی دہلوی
فقیہ الہند حضرت مفتی رحیم بخش محمد مسعود مجددی فاروقی دہلوی کی ولادت دہلی کے علمی گھرانے میں 1250ھ مطابق 1834ء کو ہوئی اور یہیں10رجب1309ھ مطابق13نومبر 1891ء کو وصال فرمایا، مزار درگاہ خواجہ باقی ب اللہ میں مسجد کے شمالی جانب ایک احاطے میں ہے۔آپ عالم دین،مفتی وقت، امام وخطیب ومفتی جامع مسجد فتحپوری ودارالافتاء دہلی،مرید وخلیفہ سید امام علی شاہ مجددی،سجادہ نشین آستانہ عالیہ مکان شریف،مشرقی پنجاب ہند،بانی دار الافتا ومدرسہ جامع الاسلامیہ دہلی اور صاحب تصنیف تھے۔(51)
رفیع اللہ رامپوری
اخون زادہ حضرت مولانا علامہ رفیع اللہ رامپوری کی ولادت علامہ عبید اللہ خان سواتی کے ہاں رامپور میں ہوئی۔ والد صاحب اور علمائے رامپور سے علوم اسلامیہ حاصل کر کے مدرسہ عالیہ رامپور میں مدرس مقرر ہوئے، زندگی بھر تدریس درس نظامی میں مشغول رہے۔1282ھ کو رامپور میں انتقال فرمایا۔(52)
ریاست علی خان شاہجہانپوری
استاذالعلماء حضرت مولانا ریاست علی خان شاہجہانپوری جید عالم دین،فقیہ اسلام،مدرس درس نظامی اور شیخ طریقت تھے، آپ تاج المحدثین علامہ ارشاد حسین رامپوری کے شاگرد اور خلیفہ تھے، آپ کئی کتب کے مصنف ہیں،تفسیر قرآن پر آپ کی دو تصانیف ہیں: (1) الزلالین شرح الجلالین ۔آپ کا یہ حاشیہ مطبع منشی نوَلکشور لکھنو سے (1342ھ مطابق1923ء) میں شیخ سلام اللہ دہلوی (متوفیٰ: 1229ھ مطابق 1814ء) کے حاشیہ جلالین موسوم بہ کمالین کے ساتھ شائع ہوا۔جس کے سرورق پر آپ کا نام بھی ہے۔اس وقت جو حاشیہ جلالین کلاں کے نام سے پاک وہند میں شائع ہو رہا ہے اس میں یہ موجود ہے مگر اس میں آپ کا نام تحریر نہیں ہے۔ (2)لباب التنزیل فی حل مشکلات القرآن۔آپ کی وفات 23ربیع الآخر1349ھ میں ہوئی۔(53)آپ کا تذکرہ فتاویٰ رضویہ میں متعدد جگہوں پر ہے اور کفل الفقیہ الفاہم کے آخر میں آپ کی تصدیق ہے۔نیز فتاویٰ رضویہ میں بعض مقامات (مثلاً 445/12، اور 134/15اور 503/17) پر آپ کے استفتاء بھی ہیں۔(54)
ریحان حسین مجددی
صاحبزادہ مولانا ریحان حسین مجددی کی ولادت شوال 1308ھ میں ہوئی، علوم اسلامیہ مدرسہ ارشاد العلوم رامپور سے حاصل کر کے یہاں پڑھانے لگے،ریاست سے انہیں وظیفہ بھی ملتا تھا۔
سراج الحق گورداسپوری
سراج الاولیاء حضرت خواجہ سراج الحق گورداسپوری کی ولادت 14ذیقعدہ1273ھ کرنال(ہند)کے قریشی فاروقی گھرانے میں ہوئی، آپ نے ابتدامیں دنیاوی تعلیم حاصل کی اورنائب تحصیل دارکی نوکری کرنے لگے، ساتھ ساتھ دینی مشاغل بھی جاری رکھے، پھر اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کیا اوردورہ حدیث کر کے فارغ التحصیل ہوئے، بیعت کا شرف حضر ت صوفی سیدمحمد حسین مرادآبادی چشتی صابری سے حاصل کیا، سراج الاولیاء اورآپ کے خلفا نے فتنہ قادیانیت کا ڈٹ کرمقابلہ کیا، آپ سے کئی کرامات کا صدوربھی ہوا، آپ کا وصال 28شوال 1350ھ مطابق 8مارچ 1932ء کوہوا،آپ کا مزارمحلہ غفوری نزدجھولنا محل اندرون ہنومان گیٹ گورداسپور پنجاب ہند میں ہے۔(55)
سفیان ثوری
امیر ُالمومنین فی الحدیث حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت98ھ میں کوفہ (عراق) میں ہوئی اور شعبانُ المعظم 161ھ میں وصال فرمایا۔مزار بنی کُلیب قبرستان بصرہ میں ہے۔آپ عظیم فقیہ، محدث، زاہد، ولیِ کامل اور استاذِ محدثین وفقہا تھے۔(56)
سلیمان اشرف
مفکرِ اسلام،خلیفہ اعلیٰ حضرت پروفیسر حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں میرداد، ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5 ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تَدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور اور الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(57)
سَید رسول چشتی
استاذ العلماء حضرت مولانا سَید رسول چشتی کی پیدائش 1875ء کو علمی گھرانے میں سربھنہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی اوریہیں 25جولائی 1959ء کو وصال فرمایا۔آپ اپنے علاقے کے علما سے علم دین حاصل کر کے ہند تشریف لے گئے اوروہاں علامہ احمدحسن کانپوری، علامہ فضل حق محدث رامپوری اورحجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان اورمفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان سے شرف تلمذ پایا۔بیعت کا شرف قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی سے حاصل کیا۔ز ندگی بھردرس وتدریس میں مشغول رہے۔تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت میں بھی حصہ لیا۔(58)
شرف الدین علوی رامپوری
مفتی رامپور حضرت مولانا مفتی شرف الدین علوی رامپوری فقہائے احناف میں سے ہیں،آپ کا تعلق پنجاب سے ہے، وہاں سے رامپور میں آئے اور یہاں کے قاضی ومفتی بنائے گئے،ریاست نے کئی گاؤں انعام میں دئیے، اہل ثروت تھے۔ افتا وقضا میں یکتا تھے،لوگوں کا بہت رجوع تھا۔طلبہ کا حلقہ وسیع تھا،اتنی محنت سے پڑھاتے کہ طلبہ آپ کے گرویدہ ہو جاتے۔ آپ کو امام ابو یوسف ثانی کہا جاتا تھا۔کئی کتب ورسائل تحریر کئے جن میں سراج المیزان اور شرح سلم بھی ہیں۔ وصال 5شعبان 1268ھ مطابق 25مئی1852ء کو فرمایا۔(59)
شریف حسین بن علی ہاشمی
شریف حسین بن علی ہاشمی (وفات 1350ھ مطابق 1931ء) دار الخلافہ استنبول کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تعینات تھے،انھوں نے 9شعبان 1334ھ مطابق1916ء کو مرکز(خلافتِ عثمانیہ)سے علیحدگی کا اعلان کر کے صوبہ حجاز اور اس سے ملحق بعض علاقوں پر مشتمل مملکت ہاشمیہ حجاز قائم کر لی جسے 1343ھ مطابق 1924ء کو ختم کر کے مملکت سعودیہ میں شامل کر دیا گیا۔(60)
شمس الدین احمد میاں
حضرت مولانا شمس الدین احمد میاں صاحب علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے فرزند،جیدعالم دین، شیخ طریقت، فضل وکمال کے جامع،علوم باطنیہ میں ماہر،طبعاعالی ہمت اوروالدگرامی کے مریدوخلیفہ وجانشین تھے،آپ کا وصال یکم صفر 1335ھ کو ہوا۔(61)
شمس الدین شائق
شمس العلماء حضرت مولانا منشی شمس الدین شائق صاحب ایک علمی شخصیت تھے،آپ نے کئی کتب لکھیں،قرآن پاک کا اشعار میں ترجمہ بھی لکھا جو مطبوع ہونے کے بعد مقبول ہوا،انجمن نعمانیہ کے ابتدائی سالوں میں آپ اس کے صدر بھی رہے۔(62)
شہاب الدین غوری
شہاب الدین غوری تاجک خاندان سے تعلق رکھتا تھا،یہ سلطنت غوریہ (552ھ تا 603ھ) کا دوسرا حکمران تھا، اس سلطنت کا آغاز افغانستان میں غیاث الدین غوری نے کیا اور ہرات کو اپنا دار الحکومت بنایا،شہاب الدین نے اسے بنگال تک وسعت دی، 603ھ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک شخص نے حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔ اس کا مقبرہ ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں چکوال موڑ جی ٹی روڈ سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر چوہان گاؤں میں واقع ہے۔
شہاب الدین محمد شاہ جہاں
شہاب الدین محمد شاہ جہاں خرم کی پیدائش 5 جنوری 1592ءاور وفات 22 جنوری 1666ءکو ہوئی،یہ سلطنتِ مغلیہ کے پانچویں شہنشاہ ہیں، انھوں نے 1628ء سے 1658ء تک حکومت کی۔ ان کا عہد مغلیہ سلطنت کے عروج کا دَور تھا اور اِس دور کو عہدِ زریں بھی کہا جاتا ہے۔انھوں نے ہی مشہورتاج محل اور ممتاز محل بنوائے تھے۔
شیر شاہ سوری
شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ء میں پیدا ہوئے جونپور میں تعلیم پائی۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والئ بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہار اور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے، سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔ شیر شاہ سوری کا دور ِحکومت( 17 مئی 1540 تا 22 مئی 1545) 5 سال اور 5 دن پرمشتمل ہے۔
صادق علی خاں دہلوی
حکیم صادق علی خاں دہلوی خاندانی حکیم تھے،والد حکیم محمد شریف دہلوی اپنے زمانے میں حکما کے سر (head)کی مانند تھے،ان کی صحبت میں رہ کر حکیم حاذق بنے۔حکمت کی تدریس میں بہت ماہر تھے۔علم وعمل اور اوصاف ظاہر وباطن کے جامع تھے۔بطور استاذ الحکماء بھی آپ بے مثال ویکتا تھے۔ان کا شاگرد ہونا لوگوں میں باعث اعزاز تھا۔زمانے کے کامل حکما ان کی شاگردی پر فخر کرتے تھے،اس سے ان کی شخصیت کی اکملیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔یہ حکیم محمد اجمل کے حقیقی دادا ہیں۔یہ اہل سنت اور عقائد اسلاف پر سختی سے عمل کرنے والے تھے۔(63)
صالح آفندی قادری رزاقی
نقیب الاشراف حضرت سید صالح آفندی قادری رزاقی حماہ شریف کے مشائخ قادریہ رزاقیہ میں سے تھے۔ ان کا نسب نامہ کچھ یوں ہے:شیخ صالح بن شیخ محمد مرتضیٰ (وفات:1323ھ) بن شیخ محمد نجیب ثانی بن شیخ محمد الازہری بن شیخ محمد نجیب الکبیرہے۔آخرالذکر مفتی حماہ،شیخ سجادہ تھے ان کی پیدائش 1207ھ اوروفات 1256ھ میں ہوئی۔ (64)
صالح کمال حنفی
مفتیٔ اَعْظم مکہ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 6312ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا، مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دفن کئے گئے۔آپ علامہ دہر، حافظ وقاری، مدرّسِ مسجدِ حَرم، قاضئ جدہ،شیخ الخطباء والائمہ، استاذ العلماء اور مکہ شریف کی مؤثّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمین برجف نُدوۃ المین ، اَلدَّوْلَۃ ُ المَکِّیۃ ، حُسّامُ الحَرَمین ، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہم پر تَقارِیظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔(65)
صدر الدین شاہ گیلانی
حضرت مخدوم سید صدر الدین شاہ گیلانی الملقب مخدوم محمد غوث رابع قادری 1285ھ مطابق 1868ء کو پیدا ہوئے اور10محرم 1366ھ مطابق 5مارچ 1946ءمیں وفات پائی،تدفین جد امجد مخدوم موسیٰ پاک شہید کے احاطے میں ہوئی، آپ کا عرس ہر سال دس محرم کو ہوتا ہے۔آپ خوش شکل وخوب سیرت، دینی ودنیوی وجاہت کے مالک اور دربار مخدوم موسیٰ پاک شہید کے سجادہ نشین تھے،حضرت مخدوم سید غلام مصطفی شاہ گیلانی آپ کے فرزند وجانشین مقرر ہوئے۔(66)
صلاح الدین سعیدی
مولانا صلاح الدین سعیدی صاحب تاریخ اسلام فاؤنڈیشن لاہور کے ڈائریکٹر ہیں،موصوف ماہر قلم کار، زیرک، صاحب مطالعہ،خوش اخلاق اور سادہ طبیعت کے مالک ہیں،کثیر کتب پر آپ کی تقاریظ، اخبارات، رسائل و جرائد میں مضامین ہیں اور کئی کتب کے مرتب ہیں،راقم نے ان کی زیارت پیر زادہ علامہ اقبال احمد فاروقی صاحب کے مکتبہ نبویہ پر کی۔
ضامن علی زیدی
حضرت مولانا سیّد ضامن علی زیدی الور کے مشہور عالم دین، استاذ العلماء،اسلامی شاعراورخلیفہ حضرت میاں صاحب تھے۔ آپ کا تخلص مفتون تھا۔صاحبزادہ سیدشبیرحسین اختر زیدی الورکے مشہورشاعر ان کے صاحبزادے اور سندھ کے معروف شاعرمقبول الوری (وفات 27فروری 1989ء)علامہ ضامن علی زیدی صاحب کے پوتے تھے۔(67)
ضیاء الدین مدنی
قطبِ مدینہ،شیخ العَرَبِ والعجم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنی کی ولادت 1294ھ مطابق 1877ء کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4 ذوالحجہ 1401ھ مطابق2اکتوبر 1981ء کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔آپ عالم ِباعمل،ولیِ کامل، حسنِ اخلاق کے پیکر اور دنیا بھرکے علما ومشائخ کے مرجع تھے۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی، اپنے مکان ِعالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔سیدی ومرشدی امیراہل سنت علامہ محمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ آپ کے مریداورآپ کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن مدنی کے خلیفہ ہیں۔ (68)
ضیائے معصوم کابلی
حضرت خواجہ ضیائے معصوم کابلی رحمۃ اللہ علیہ خاندان حضرت مجدد الف ثانی کے چشم وچراغ تھے، ان کا نسب نامہ یوں ہے:خواجہ ضیائے معصوم بن خواجہ عطائے معصو م بن خواجہ شاہ عبد الباقی بن خواجہ شاہ صفی اللہ بن خواجہ غلام محمد معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی مجددالف ثانی ۔
آپ عالم دین، صوفی باصفا،شیخ طریقت، مرجع خاص وعام، مرشدبادشاہ قابل امیرحبیب اللہ خان، صاحب کرامت ولی اللہ اورصاحب بصیرت وادراک تھے، وصال 29جمادی الاولیٰ 1337ھ کوہوا، مزار مبارک کابل سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مقام بہار باغ صفا افغانستان میں ہے۔(69)
ظہور الحسین مجددی رامپوری
شمسُ العلماء حضرت علّامہ ظہور الحسین مجددی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1274ھ میں ہوئی اور وصال 22 جمادی الاخری 1342ھ کو رامپور میں ہوا۔آپ علومِ عقلیہ ونقلیہ میں ماہر،صدر مدرس دارُ العلوم منظر اسلام بریلی شریف،بشمول مفتیِ اعظم ہند سینکڑوں علما کے استاذ اور کئی درسی کتب کے مُحَشِّی ہیں۔
ظہوراللہ فرنگی محلی
علامہ ظہور اللہ فرنگی محلی کی پیدائش 1174ھ مطابق 1760ء کو ہوئی اور17ربیع الاول 1256ھ کو وصال فرمایا۔ آپ جامع معقول ومنقول،استاذالعلماء،مفتی اودھ اورکتب درسیہ بالخصوص کتب فقیہ میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ تصانیف میں زواھدثلاثہ برمطول حاشیہ یادگارہے۔(70)
عابد علی شاہ قادری چشتی الوری
امام انام حضرت خواجہ حافظ سید عابد علی شاہ قادری چشتی الوری الور کے مشہوربزرگ ہیں۔ آپ حضرت شاہ ولایت امروہی سہروردی کے خاندان سےتھے۔حافظ صاحب کی ولادت 29رمضان 1298ھ مطابق 25 اگست 1881ء کو مرادآباد میں ہوئی۔آپ نے حافظ محمد انورشاہ مرادآبادی (مریدوخلیفہ پیرجی میاں) سے حفظ قرآن کی سعادت پائی،پھرحصول علم دین کے بعد پیرجی میاں احمد شاہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوکر 3صفر 1316ھ کو بیعت ہوئےاور27شعبان1322ھ کو24سال کی عمرمیں خلافت سے نوازے گئے۔ پیرجی میاں صاحب کے حکم سے2رمضان 1322ھ مطابق10 نومبر 1904 ء کو الور تشریف لائے اوررشدوہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کا قیام دوسال چنبیلی باغ (بیرون دروازہ مالا کھیڑا، دامن کوہ الور) میں رہا۔آپ عموماً نماز جمعہ مسجد دائرہ میں ادافرماتے تھے کیونکہ یہ مسجدآپ کے قریب تھی۔ نماز سے فراغت کے بعدآپ میاں صاحب مولاناسید نثار علی شاہ صاحب سے ملاقات کرتےاورباہم علم وعرفان پرمبنی گفتگو ہوتی۔1323ھ مطابق 1905ء میں بحکم مرشد آپ اپنے چھوٹے بھائی حافظ سید واحد علی شاہ الوری کو بھی یہاں لے آئے۔تقریباً دو سال آپ کا قیام خواص کنہیالال جی باغیچی میں رہا۔صرف 28سال کی عمرمیں آپ نے 29رمضان 1326ھ مطابق25 اکتوبر1908ء کو وصال فرمایا۔آپ کی تدفین خانقاہ قادریہ موضع مونگسکہ نزد الور ریلوے اسٹیشن میں ہوئی جس پر عالیشان مزارکی تعمیرکی گئی،آپ کا یوم عرس گیارہ شوال ہے۔(71)
عالم شاہ نقشبندی
خواجہ عالم شاہ نقشبندی بہت بلندمرتبہ ولی اللہ اورخواجہ قادر بخش کے چہیتے مریدتھے۔آپ کمالات ومراتب عالیہ سے متصف، اعلیٰ اخلاق کے مالک،لوگوں کے خیرخواہ اورآستانہ عالیہ کوٹ عبدالخالق متصل جہاں خیلاں کے پہلے سجادہ نشین تھے۔(72)
عباد اللہ الوری
قاری عباد اللہ الوری استاذالقراء قاری قادر علی رٹولوی کے شاگرد تھے،علم قراءت میں ماہر تھے،استاذ قاری قادر علی رٹولوی کو آپ پر اتنا اعتماد تھا کہ اپنے نائب کے طور پر اپنے مدرسے میں مقرر فرمایا۔ان کے متعلق مزید معلوم نہیں ہو سکا۔
عبد الاحد محدث پیلی بھیتی
سلطان الواعظین،خلیفہ اعلیٰ حضرت علّامہ مولانا عبد الاحد مُحدِّث پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ شیخ المحدثین علّامہ وصی احمد محدث سورتی کے صاحبزادے،جیدعالم، استاذُالعلماء، واعظِ خوش بیاں اور مجازِ طریقت تھے۔ 1298ھ میں پیلی بھیت میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنج مراد آباد (ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کئے گئے۔(73)
عبد الباقی فرنگی محلی مہاجر مدنی
شیخ العالم حضرت مولانا عبد الباقی فرنگی محلی مہاجر مدنی کی پیدائش 1286ھ کو فرنگی محل لکھنؤ یوپی ہند میں ہوئی،علمائے فرنگی محل سے علوم وفنون میں مہارت حاصل کرکے یہاں تدریس کرنے لگے۔بیعت کا شرف حضرت شاہ عبدالرزاق قادری فرنگی محلی سے حاصل کیا۔کئی حج کئے اورعلمائے مکہ و مدینہ سے علمی وروحانی استفادہ کیا۔1322ھ میں آپ مستقل مدینہ شریف میں رہائش پذیر ہو گئے اور سلطنت حیدرآباد دکن کے تعاون سے ایک عظیم الشان المدرسۃ النظامیۃ المدینۃ المنورۃ قائم فرمایا۔آپ کے شاگردوں میں عرب و عجم کے کئی جلیل القدرعلماومشائخ ہیں۔آپ کا وصال مدینہ منورہ میں 4ربیع الآخر1364ھ مطابق 1945ء میں ہوا۔تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی۔(74)
عبد الباقی محمد برہان الحق جبل پوری
برہانِ ملت،خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی عبد الباقی محمد برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1310ھ 1892ء کو جبل پور (ایم پی) ہند میں ہوئی اور وصال26ربیع الاول 1405ھ مطابق 10دسمبر 1984ءکو فرمایا۔ مزار مبارک عید گاہ کلاں رانی تال جبل پور میں ہے۔
آپ فاضل دار العلوم منظرِ اسلام، مفتیِ اسلام، عُلومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،نعت گوشاعر،بہترین واعظ، متحرک راہنما،شیخِ طریقت اور درگاہِ قادریہ سلامیہ کے سجادہ نشین تھے۔تصنیف کردہ 26کتب ورسائل میں جذباتِ برہان بھی ہے جو آپ کا نعتیہ دیوان ہے۔(75)
عبد الحق خیر آبادی
شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی 1244ھ میں علامہ فضل حق خیرآبادی کے ہاں دہلی میں پیدا ہوئے، والدگرامی سے علم معقول ومنقول حاصل کرکے 16سال کی عمرمیں فارغ التحصیل ہوئے۔ والدصاحب کے ساتھ الور میں گئے تو انہیں عمائدین ریاست میں شامل کرلیا گیا۔کالکتہ،ٹونک اور حیدر آباد دکن کے مدارس میں تدریس میں مصروف رہے۔عرصہ درازتک مدرسہ عالیہ رامپورکے مدرس وپرنسپل رہے۔ علوم اسلامیہ بالخصوص علوم معقولات پڑھانے میں کمال مہارت رکھتے تھے۔بے انتہاسخی تھے۔آپ کی شہرت حجازاورجامعۃ الازہرقاہرہ مصرتک تھی۔آپ کے گیارہ حواشی میں سے زبدۃ الحکمت،تسہیل الکافیہ اور خاتم الحواشی علی شرح السلم للقاضی شامل ہیں۔آپ کا وصال 23شوال 1316ھ کو اپنے وطن خیرآباد میں ہوا۔داداعلامہ فضل امام خیرآبادی کے قرب میں تدفین ہوئی۔(76)
عبد الحکیم میرپوری
قاضی ٔ کشمیر،استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی علامہ عبد الحکیم میرپوری استاذالعلماء حضرت علامہ حافظ محمد عبد اللہ لدّروی کشمیری کے صاحبزادے، جیدعالم دین، مدرس درسِ نظامی اورمفتی اسلام تھے۔ساری زندگی مدرسہ اشاعت القرآن میرپورکشمیرمیں تدریس فرماتے رہے، آپ سینکڑوں علمائے اہل سنت کے استاذ ہیں۔آپ میرپورکی مرکزی مسجدکے امام وخطیب تھے، اس مسجدکو اَب جامع مسجدمفتی عبدالحکیم کہا جاتا ہے۔ کشمیرمیں قاضیوں اورمفتیوں کے تقررکا نظام آپ کی کوشش سے بنایاگیا۔ آپ کشمیرکے پہلے قاضی تھے۔اتنی بڑی شخصیت ہونے کے باوجودآپ عاجزی کا پیکرتھے، اپنے تلامذہ کے شاگردوں کا بھی احترام کرتے اورانہیں فاضل کے لقب سے ملقب کیا کرتے تھے۔(77)
عبد الحلیم کریالوی
عالم شہیر حضرت مولانا مفتی حافظ عبد الحلیم کریالوی رحمۃ اللہ علیہ کریالہ (تحصیل وضلع چکوال)کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ حافظِ قرآن،مفتی زمانہ،فاضل وقت،محقق ومفکر،خوش الحان مقرر اور صاحب تصنیف بزرگ تھے،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سے گہرے تعلقات تھے،ایک عرصہ تک ممبئی (ہند)میں خدمات دین میں مصروف رہے،ان کی ایک کتاب احتراز الصالحین عن شرور الفاسقین پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے1301ھ مطابق 1883ء میں ایک تقریظ بھی لکھی۔(78)
عبد الحمید ہزاروی
مولانا عبد الحمید ہزاروی عظیم عالم دین اخوندزادہ مولانا محمدعالم قادری ہزاروی قادری کے گھر چمبہ پنڈ میں پیداہوئے، والدسے علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارت حاصل کی، بیعت کا شرف قبلہ عالم پیرسیدمہرعلی شاہ سے حاصل کیا،زندگی بھردرس وتدریس میں مصروف رہے، 3شوال1353ھ مطابق 9جنوری1935ء کو وصال فرمایا،اپنے دونوں بیٹوں شیخ القرآن علامہ عبدالغفورہزاروی اورعلامہ ابوالمعانی غلام ربانی کے علاوہ آپ کے داماد علامہ محب النبی ہاشمی وغیرہ شاگردتھے۔(79)
عبد الحی فرنگی محلی
فقیہ اسلام علامہ ابو الحسنات عبد الحی فرنگی محلی کی پیدائش 26ذیقعدہ 1264ھ کو باندہ( Banda)یوپی ہند میں ہوئی۔ آپ کا 29 ربیع الاول 1304ھ کو لکھنؤ میں وصال ہوا۔آپ حافظ قرآن متبحرعالم دین،مفتی اسلام،محشی کتب درس نظامی اوراستاذالعلماء تھے۔آپ نے اکثرعلوم اسلامیہ والدگرامی علامہ عبدالحکیم فرنگی محلی سے حاصل کئے، شیخ الاسلام سیداحمد دحلان مکی سے سندحاصل کی۔آپ نے کچھ عرصہ حیدرآباد دکن اور اکثر لکھنؤ میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ کی کتب میں سعایہ شرح وقایہ ، التعلیق الممجد حاشیہ مؤطا امام محمد ، التبیان فی شرح المیزان ، الفوائد البہيہ فی تراجم الحنفيہ ، التعليقات السنيہ على الفوائد البہیہ اور مجموعۃ الفتاوی دو جلدیں اہم ہیں۔آپ کے شاگردوں میں علامہ انوار اللہ حیدر آباد دکن، مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی اور مولانا قاری سیدعین القضاہ لکھنوی وغیرہ مشہور ہیں۔(80)
عبد الرحمن پانی پتی
مولانا قاری عبد الرحمن پانی پتی کی پیدائش 1227ھ مطابق 1812ءاور وفات 5ربیع الآخر 1314ھ مطابق 13ستمبر1896ء کو پانی پت (ریاست ہریانہ،ہند)میں ہوئی،آپ عالم دین،تلمیذ ومرید وخلیفہ شاہ اسحاق دہلوی، استاذ القراء والعلماء،مصنفِ کتب تھے۔(81)بعض حضرات کے نزدیک امام المحدثین نے آپ سے بھی قرآن مجید، حدیث اور فقہ کی اجازات حاصل کیں، جو درست نہیں، کیونکہ امام المحدثین نے ان سے براہ راست اجازات نہیں لیں بلکہ آپ کو علامہ عبدالغنی بہاری کے واسطے سے ان کی اجازتیں حاصل ہوئیں۔(82)
عبد الرحیم چشتی رامپوری
قاری حافظ عبد الرحیم چشتی رامپوری مرید وخلیفہ حضرت مولانا سیّد جمال الدین رامپوری(شاگرد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)کے تھے،آپ فن قراءت وحفظ میں رامپور میں مشہور تھے۔(83)
عبد الرحیم رامپوری
استاذ العلماء حضرت مولانا علامہ عبد الرحیم رامپوری کی پیدائش حاجی محمد سعید خان تیراہی کے گھر 1164ھ کو ہوئی۔ فقہ واصول اور علوم عربیہ کے بہترین عالم تھے۔ فنون ریاضی پر بھی دسترس تھی،باعمل وپرہیزگار اور مال ودنیا سے بے رغبت تھے،شاگردوں کے تحائف بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ریاست سے جو وظیفہ ملتا تھا اسی پر اکتفا کیا کرتے،بڑے بڑے علما آپ کے شاگرد ہیں،کتب میں مجمع الصیغ فارسی اور شرح غایۃ البیان فارسی یادگار ہیں۔وصال 1234ھ میں رامپور میں ہوا۔(84)
عبد الشکورصادق چشتی نظامی کمبل پوش
حضرت مولانا عبد الشکورصادق چشتی نظامی کمبل پوش کی ولادت 27رجب 1311ھ مطابق 1894ء کو آگرہ (یوپی، ہند) میں ہوئی اور 14ربیع الآخر1395ھ مطابق 26 اپریل 1975ء کو حیدرآبادمیں وصال فرمایا، آپ حضرت سیداحمدعلی جمال شاہ نظامی کمبل پوش کے مریدوخلیفہ اوراسلامی شاعرتھے، دیوان ذوق تصوف آپ کی یادگارہے جسے آپ کے خلیفہ صوفی محمدیعقوب نظامی کورنگی کراچی نے شائع کروایاہے۔(85)
عبد العزیزخان قادری دہلوی
اخون صاحب حضرت حافظ عبد العزیزخان قادری دہلوی کا لقب شاہ مقبول احمد ہے۔آپ کی پیدائش 1211ھ میں ہوئی۔آباؤ اجداد کا تعلق قدیم شاہ جہان آباد سے ہے۔ آپ نے حفط القرآن کے بعدحضرت شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا کریم اللہ دہلوی اورسراج الہندشاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے شرف تلمذپایا اور اعلیٰ علمی مقام پر فائزہوئے۔ بیعت کا شرف خلیفہ اچھے میاں حضرت شاہ آل احمدمارہروی اور حضرت شاہ سید محمد غوث قادری شہید (شہادت:5شعبان 1255ھ) سے کرکے سلسلہ قادریہ اوردیگرسلاسل میں خلافت حاصل کی۔ آپ ولی کامل جلیل القدرشیخ طریقت اور مرجع خاص وعام تھے۔آپ کا وصال 10محرم 1296ھ کو ہوا۔مزارمبارک احاطہ مزارحضرت خواجہ باقی ب اللہ میں صحن مسجدسے جانب مشرق ہے۔(86)
عبد العلی محمد فرنگی محلی حنفی قادری
بحر العلوم علّامہ عبد العلی محمد فرنگی محلی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت فرنگی محل لکھنو (یوپی،ہند) میں 1142ھ کو ہوئی اور 12رجب 1225ھ کو وصال فرمایا،تدفین مدراس (جنوبی ہند) کی مسجد والا شاہی کے پہلو میں ہوئی۔آپ بانیِ درسِ نظامی علّامہ نظامُ الدّین سہالوی کے لختِ جگر،جامعِ علومِ عقلیہ ونقلیہ،استاذُ العلماء، فَوَاتِحُ الرَّحَمُوْت بِشَرْحِ مُسَلَّمُ الثُّبُوْت سمیت کثیر کتب کے مصنف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔(87)
عبد الغفار خان نقشبندی
استاذ العلماء حضرت مولانا عبد الغفار خان نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1273ھ کو رامپور کے ایک افغانی خاندان میں ہوئی،رامپور کے جید علمائے کرام سے علوم اسلامیہ کو حاصل کیا،دورہ حدیث شریف تاج المحدثین علامہ ارشاد حسین رامپوری سے کیا اور ان سے دستار فضیلت وسند الفراغ حاصل کی، بیعت وخلافت کا شرف بھی ان سے حاصل ہوا،تدریس کا بہت جذبہ تھا،چار دانگ عالم میں ان کے شاگرد دین متین کی خدمت میں مصروف ہوئے۔علم کلام سے خاص شغف تھا۔ انھوں نے اپنے استاذ اور پیر ومرشد کے فتاویٰ کو دو جلدوں میں بنام فتاویٰ ارشادیہ جمع فرمایا۔(88)
عبد الغفور الوری
حضرت مولانا حافظ عبد الغفور الوری عالم دین اورمریدوخلیفہ شیخ طریقت مفتی محمدمسعوددہلوی تھے۔ حفظ القرآن کے بہترین مدرس تھے۔مفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات سیدمحمداحمدقادری الوری صاحب نے آپ سے کلام پاک حفظ کیا۔(89)
عبد الغفور قادری
خطیب کوکل حضرت مولانا عبد الغفور قادری کی پیدائش 1351ھ مطابق 1933ء میں کو کل کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی، دینی تعلیم خاندان بالخصوص اپنے نانا اورماموں سے حاصل کی، مزیداعلیٰ تعلیم کے لیے جھنڈ شریف اورمکھڈشریف ضلع اٹک کے علماسے استفادہ کیا، دورہ ٔ حدیث شریف کے لیےدارالعلوم حزب الاحناف میں داخلہ لیا اورسندفراغ حاصل کی،آپ اپنے خاندانی بزرگوں کی طرح آستانہ عالیہ چھوہرشریف حاضر ہوئے اورحضرت خواجہ محمودالرحمٰن چھوہروی سے بیعت کاشرف حاصل کیا،تحصیل علم کرنے کے بعد وطن واپس آئے اور درس وتدریس میں مصروف ہوگئے، مسجدکوکل میں امامت اورپھر علاقہ والوں کے اصرار پر نمازجمعہ کاآغازکیا یوں آپ خطیب کوکل کہلائے، طویل عمرپا کر 8جمادی الاولیٰ 1436ھ مطابق 28فروری 2015ء کووصال فرمایا، علاقہ کا تاریخی جنازہ تھا، بکثرت علمائے کرام، ائمہ، خطبا اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، ذکر ودُرودوسلام اورقصیدہ بردہ شریف جلوس جنازہ کے ساتھ پڑھاجارہاتھا، تدفین جائے پیدائش میں ہوئی۔(90)
عبد الغفور ہزاروی
شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی کی پیدائش 9ذوالحجہ1329ھ مطابق یکم دسمبر1911ء کو موضع چنبہ پنڈ ضلع ہری پورہزارہ پاکستان میں ہوئی اورآپ نے 7شعبان 1390ھ مطابق 9 اکتوبر1970ء کو وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ پنجاب میں وصال فرمایا، آپ جامع معقول ومنقول،، فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، مرید و تلمیذ قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ، خلیفہ حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان، جید عالم دین، سحر انگیز خطیب، شاعر ومدبر، تحریک پاکستان وتحریک ختم نبوت کے رہنما اوراکابرین اہل سنت سےتھے۔(91)
عبد القادر جیلانی
بانیِ سلسلۂ قادریہ،سردارِ اولیا،غوثُ الاعظم حضرتِ سیّد محیُ الدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی حسنی حسینی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 470 ھ مطابق 1078ء کو جیلان (ایران) میں ہوئی اور 11ربیع الآخِر 561ھ مطابق 14فروری 1166ء کو بغداد شریف (عراق) میں وصال فرمایا،آپ جیّد عالمِ دین،بہترین مدرّس،پُر اثر واعظ، مصنّفِ کتب،فقہا ومحدّثین کے استاذ،شیخ المشائخ اور مؤثّر ترین شخصیت کے مالک ہیں۔آپ کا مزارِ مبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے منبعِ انوار وتجلّیات ہے۔(92)
عبد القادر شاہ نقشبندی
تولیڑے والے باباحضرت صوفی سید عبد القادر شاہ نقشبندی کی ولادت پیر 2 ربیع الاول 1268ھ پھلور ضلع جالندھر مشرقی پنجاب انڈیا میں ہوئی،10ربیع الاول 1381ھ مطابق22 اگست 1961ءبروز منگل سہ پہر تین بجےحیدرآبادسندھ میں وصال فرماگئے، آپکا مزارمبارک ہالہ ناکہ آفتاب آباد حیدرآباد میں مرجع خلائق ہے،آپ کوحضرت سائیں توکل شاہ انبالوی کے پیربھائی حضرت کرم بخش نقشبندی مجددی پھلواری (خلیفہ حضرت خواجہ قادربخش نقشبندی)سے بیعت وخلافت کی سعادت حاصل ہوئی،سائیں توکل شاہ کی صحبت میں بھی رہے،آپ نے سلطان الہندحضرت خواجہ سیدحسن سجزی اجمیری کے روحانی حکم سے قصبہ تولیڑہ ریاست الورمیں قیام فرمایا،آپ کی برکت سے تولیڑہ سے طاعون کی بیماری دورہوئی،1947ء میں پاکستان ہجرت کی،دوسال گوجرانوالہ میں قیام فرمایا اور1949ء میں حیدرآبادتشریف لے آئے،آپ شریعت وطریقت کے جامع تھے،کبھی نماز قضانہ ہوئی۔کئی غیرمسلم آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے،آپ عابدوزاہد، کم سخن، خاموش طبع،صوفی کامل تھے۔اگرچہ آپ کی شخصیت مرجع خلائق تھی مگرآپ نے کسی کو اپنے سلسلے کی خلافت عطانہیں فرمائی۔(93)
عبد القادر غمگین رامپوری
قاضی القضاۃ ریاست رامپور مفتی عبد القادر غمگین رامپوری کی پیدائش 1197ھ مطابق 1783ء کو برلاس رامپور کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔علمائے رامپور سے علم حاصل کر کے 14سال کی عمرمیں فارغ التحصیل ہوئے۔بہت ذہین فطین تھے۔حدیث وفقہ اور ریاضی میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔برطانوی کمپنی میں ملازمت کر کے کئی شہروں میں قیام کیا، مراد آباد میں صدر الصدور کے عہدے پر فائز ہوئے۔بہادر شاہ ظفر کے ہاں بھی ملازمت کی،پھر رامپور آئے اور یہاں کے قاضی القضاۃ مقرر ہوئے،مدرسہ عالیہ رامپور کے مہتمم رہے،اس دوران 23سے زائد کتب لکھیں،اردو فارسی،بھاکا اور میرٹھی میں شعر کہتے تھے۔(94)
عبد القادر محدثِ بدایونی
تاج الفحول، محب رسول،شیخ الاسلام علامہ عبد القادر محبّ ِرسول قادری بدایونی کی پیدائش 17رجب 1253ھ مطابق اکتوبر 1837ء کو بدایون یوپی ہند میں سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول بدایونی کے گھر میں ہوئی۔بچپن سے ذہین وفطین اورعلوم اسلامیہ کی تحصیل کی طرف مائل تھے۔حفظ القرآن کے بعد والد گرامی،علامہ نوراحمد بدایونی،علامہ فضل حق خیرآبادی سے علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارت تامہ حاصل کی۔ والد صاحب سے بیعت کر کے خلافت سے نوازے گئے۔مکہ شریف حاضرہوکر شیخ جمال عمرحنفی مکی سے سند حدیث لی۔ساری زندگی، درس وتدریس،تصنیف تالیف اورفتاویٰ نویسی میں مصروف رہے۔مطالعہ کتب کا شوق تھا۔ جب آپ الور میں علامہ فضل حق صاحب سے پڑھتے تھے تو ایک رات مطالعہ کر رہے تھے کہ اچانک آپ کے استاذ وہاں ٹہلتے ہوئے آگئے اور پوچھا:عبد القادر!کون سی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہو؟جواب دیا:دن میں وقت نہیں ملتا، اب دلائل الخیرات کا حزب مکمل کر رہا ہوں،یہ سن کرازراہ ِ تفنن فرمایا:ایسی کتابیں تمہارے والد علامہ فضل رسول بدایونی صاحب اچھی پڑھا سکتے ہیں یہ انہیں سے پڑھ لیا کرو،جب یہ بدایوں واپس آئے اور اس واقعے کا ذکر والد صاحب سے کیا تو انھوں نے ازراہ محبت فرمایا:تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے والد صاحب تو وہ کتابیں بھی اچھی پڑھا سکتے ہیں جو آپ پڑھاتے ہیں۔
آپ کی21 تصانیف میں سے الکلام السدید فی تحریر الاسانید ، تصحیح العقیدہ فی باب الامیر معاویہ ، احسن الکلام فی تحقیق عقیدۃ الاسلام ، دیوان تاج الفحول مطبوع ہیں۔آپ کے مشہور شاگردوں میں صاحبزادہ علامہ عبد المقتدر بدایونی، سراج السالکین علامہ شاہ ابوالحسین احمدنوری،شاہ جی حضرت علامہ شاہ اسماعیل حسن مارہروی،حافظ بخاری علامہ سید عبد الصمد چشتی،صاحب تفسیر قادری علامہ سید عمر حسینی حنبلی حیدرآبادی اور مولانا عبدالرزاق مکی وغیرہ شامل ہیں۔اعلیٰ حضرت نے 1315ھ میں ان کی شان میں چراغ حسن قصیدہ مدحیہ تحریر فرمایا۔ آپ کا وصال 17جمادی الاولیٰ 1319ھ مطابق ستمبر 1901ء کو بدایون میں ہوا۔والدگرامی علامہ فضل رسول کے پہلومیں جانب قبلہ تدفین ہوئی۔(95)
عبد الکریم پنجابی گنج مراد آبادی
چھوٹے بابا علامہ عبد الکریم پنجابی گنج مراد آبادی کی پیدائش جالندھر کے پنجابی سیّد خاندان میں ہوئی۔ علم حاصل کرنے کے لیے بدایون،سہسوان وغیرہ کا سفرکرکے علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر اسی درکے ہو کر رہ گئے۔ علامہ صاحب سے سندحدیث وخلافت حاصل کی۔علامہ صاحب نے اپنی نواسی کا ان کے ساتھ نکاح کردیا۔آپ زبردست عالم دین،زاہدومتقی،صاحب ِکشف اور عکس علامہ فضل رحمن تھے۔زمین داری وباغات کی دیکھ بھال کرتے،ذکر وفکرمیں مگن رہا کرتے تھے۔انکی بڑی بیٹی کا نکاح علامہ وصی احمدمحدث سورتی کے صاحبزادے خلیفہ اعلیٰ حضرت،سلطان الواعظین علامہ عبد الواحد پیلی بھیتی سے ہوا۔اس نکاح میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان بنفس نفیس شریک ہوئے تھے۔آپ کا وصال 28ربیع الاول 1349ھ کوہوااورآموں والے باغ میں تدفین کی گئی۔(96)
عبد الکریم خان محب رامپوری
مولانا حکیم عبد الکریم خان محب رامپوری جید عالم دین، مدرس درس نظامی اور حاذق طبیب تھے۔ علامہ سعد اللہ دہلوی سے اکثر کتب پڑھی تھیں۔مدرسہ عالیہ رامپور میں تدریس بھی کرتے رہے۔ آپ دین دار اور نیک شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا وصال 1299ھ میں بھیکم پور(نزد علی گڑھ یوپی ہند)میں ہوا اور وہیں تدفین کی گئی۔(97)
عبد الکریم رامپوری
ملا فقیر اخوند شاہ عبد الکریم رامپوری کی پیدائش 4رجب 1143ھ کو گجرات سٹی پنجاب میں ہوئی اور 2 شعبان 1206ھ کو وصال فرمایا،مزارمبارک محلہ زیارت حلقہ والی رامپور میں ہے۔آپ جیدعالم، استاذ العلماء اور عظیم شیخ طریقت ہیں، خلافت حضرت شاہ منور علی الہ آبادی سے حاصل کی۔نواب حافظ رحمت خان جب تک زندہ تھے پیلی بھیت رہتے تھے،ان کی وفات کے بعد مکمل رامپورآگئے،زندگی بھردرس وتدریس میں مصروف رہےمگردرویشی میں کمال پایا۔ اپنی نیکی وتقوی اور افادہ عام کی وجہ سے خاص وعام میں مقبول ہوئے۔نواب آف رامپور فیض اللہ خان نے جاگیر نذر کی،اس لیے آپ کی آمدن کثیر اور دستر خوان وسیع تھا،نوکر چاکر کثیر تھے۔آپ کی تبلیغ سے کئی کفار دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔خانقاہ میں مدرسہ بھی قائم تھا جس میں طلبہ علم دین حاصل کرتے تھے۔ خانقاہ میں کثیر کتب پر مشتمل لائبریری بھی تھی۔ آپ کے مشہور خلفا میں آپ کے صاحبزادے عارف ب اللہ ، قطب الاقطاب میاں غلام شاہ رامپوری،بھائی حضرت شاہ نعمت اللہ رامپوری،حکیم حافظ ملا دریا خان رامپوری،حضرت نواب شاہ علی حسین مرادآباد ی وغیرہ شامل ہیں۔ ملا فقیر اخوند کا نسب کچھ یوں ہے: ملا فقیر اخوند عبد الکریم بن شاہ رحمت اللہ بن شاہ حافظ برخور دار بن شاہ کبیر گجراتی بن شاہ محمدصادق بن شاہ فتح اللہ بن شاہ عبد الصمدبن شاہ عبدالمجیدبن شاہ عبدالقدوس گنگوہی۔ (98)
عبد الکریم ملک پوری آل رسولی قادری برکاتی
استاذ الحافظ حضرت مولانا حافظ قاری عبد الکریم ملک پوری آل رسولی قادری برکاتی وہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے مجدددرگاہِ برکاتیہ علامہ سیداسماعیل شاہ جی میاں اوران کے دونوں بیٹوں کو پڑھایا۔ آپ حضرت شاہ آل رسول مارہروی کے مرید،حافظ قرآن اوربہترین قاری ہیں۔ان کے ایک بیٹے حافظ عبدالحفیظ ملکپوری تھے۔جن سے تاج العلماء کے بڑے بھائی حضرت مولانا سیدغلام محی الدین فقرعالم نے استفادہ کیا۔(99)
عبد اللہ بن مبارک مَروَزِی
امیرالمومنین فی الحدیث حضرت عبد اللہ بن مبارک مَروَزِی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 118ھ کو مَرْو (تُرکمانستان) میں ہوئی اور وِصال 13 رمضان 181ھ کو فرمایا۔ مزار مبارک ہِیت (صوبہ انبار) مغربی عراق میں ہے،آپ تبعِ تابعی،شاگردِ امام اعظم،عالمِ کبیر،مُحَدِّثِ جلیل اور اکابر اولیائے کرام سے ہیں۔ کتابُ الزُّہْدِ وَالرَّقائِق آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ (100)
عبد اللہ نقشبندی قادری
باباجی لاروی حضرت خواجہ میاں عبد اللہ نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش1278ھ مطابق 1862ء شیخ بالاکوٹ ضلع مانسہرہ کے ایک گجربجران خاندان میں ہوئی۔ آپ علم لدنی سے مالامال تھے۔باواجی سرکار حضرت خواجہ نظام الدین کیاں شریف نقشبندی سے بیعت وخلافت تھی۔شیخ المشائخ اخوندسیدوبابا حافظ عبدالغفورقادری صاحب سوات سے سلسلہ قادریہ کی خلافت حاصل ہوئی۔آپ باواجی سرکارکے حکم سے لار،وانگت کنکن ضلع کاندربَل جموں کشمیرمیں تشریف لے گئے، خانقاہ کی بنیادرکھی اورسلسلہ نقشبندیہ قادریہ کی ترویج واشاعت میں مصروف ہوگئے۔آپ سے کئی کرامات کا صدور ہوا۔ مجموعہ ملفوظات نظامیہ، مجموعہ سی حرفی ہا اوراسرارکبیری آپ کی مطبوع کتب ہیں۔آپ کا وصال 15شعبان 1345ھ مطابق 21 فروری 1925ء کو 63سال کی عمرمیں ہوا۔مزارشریف بابانگری لار،وانگت کشمیر میں ہے۔(101)
عبد المقتدر بدایونی
مطیع الرسول حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی کی پیدائش 11جمادی الاخریٰ 1283ھ کو تاج الفحول علامہ عبد القادر بدایونی کے گھر ہوئی۔جدمحترم سیف اللہ المسلول علامہ فضل رسول بدایونی نے نام رکھا اوردعاؤں سے نوازا۔ علم دین والد محترم اورعلامہ نوراحمد بدایونی سے حاصل کیا۔جلدعلوم وفنون میں مہارت حاصل کی اورمدرسہ قادریہ بدایون میں پڑھانے لگے۔ بیعت واجازت والدصاحب سے حاصل ہوئی۔ والدصاحب کے وصال کے بعدجمادی الاخریٰ 1319ھ میں آستانہ عالیہ قادریہ بدایون کے سجادہ نشین مقررہوئے۔سراج السالکین علامہ ابوالحسین احمد نوری نے خرقہ پہنایا۔ساری زندگی رشدوہدایت اور درس وتدریس میں مصروف رہے۔مشہورشاگردوں میں تاج العلماء علامہ اولادرسول محمد میاں مارہروی، محدث اعظم ہندعلامہ سیدمحمد کچھوچھوی اورعلامہ عبدالمجیدآنولوی وغیرہ شامل ہیں۔آپ کا وصال 25محرم 1334ھ کو نمازفجرکے آخری سجدے میں ہوا۔(102)
عبد المنان شہباز گڑھی
صاحبِ حق استاذ العلماء علامہ عبد المنان شہباز گڑھی 1313ھ مطابق 1895ءکو شہباز گڑھ ضلع مردان کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔اپنے علاقے کے علماء سے علوم عقلیہ ونقلیہ سے فراغت کے بعد مدرسہ اندر کوٹ میرٹھ (یوپی ہند) سے دورہ حدیث کیا،مدرسہ نصرۃ الاسلام سے تدریس کا آغاز کیا،پھر دار العلوم منظر اسلام میں پڑھایا،پھر پاکستان میں آکر دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں تدریس کی،1348ھ مطابق 1929ء سے 1350ھ مطابق 1931ء تک آپ نے تین سال یہاں تدریس فرمائی،پھر اپنے گاؤں میں آخر زندگی تک سلسلہ تدریس جاری رکھا اور مسجد بہران خیل کے امام وخطیب مقرر ہوئے۔(103)ان کی وفات 8جمادی الاخریٰ 1399ھ مطابق5 مئی 1979کو شہباز گڑھ میں ہوئی اور انہیں مسجد صاحب حق شہباز گڑھ سے متصل دفن کیا گیا۔(104)کتاب سیدی ابو البرکات کے صفحہ 28اور29 پر دار العلوم حزب الاحناف لاہور کے اساتذہ میں مولانا عبد الحنان نام لکھا ہوا،باوجود تلاش اس نام کے کسی عالم دین کے بارے میں معلومات نہیں ہوئیں جنہوں نے دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں پڑھایا ہو البتہ مولانا عبد المنان صاحب کے بارے میں استاذ العلماء، مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد صدیق ہزاروی صاحب نے لکھا ہے: حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں علوم اسلامیہ کا فیضان جاری کیا۔(105)اس لیے نام درست کر دیا گیا ہے۔
عبد الواحد بلگرامی
صاحب سبع سنابل حضرت علامہ میر سید عبد الواحد بلگرامی کی پیدائش 912ھ کو سانڈی کے زیدی حسینی سادات گھرانے میں ہوئی۔علوم معقول ومنقول کو حاصل کرنے کےبعد شیخ صفی چشتی سے مریدہوئے، ان کے جانشین شیخ حسین چشتی نے خلافت سے نوازا۔آپ عالم دین،عارف کامل،اسلامی ہندی شاعراوراعلیٰ پائے کے بزرگ تھے۔ 3رمضان 1017ھ کو بلگرام میں وصال فرمایا۔15کتب میں سبع سنابل اور شرح الکافیہ فی التصوف مشہورہیں۔(106)
عبد الوحید فردوسی
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مجاہدِ دین وملت حضرت مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی رضوی کی ولادت 1289 ھ عظیم آباد پٹنہ بہار ہندمیں ہوئی،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت،بہترین واعظ،نعت گو شاعر،مفکر و رہنما تھے، آپ نے مجلسِ عالی حمایتِ سنّتِ محمدی بنائی،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلِ سنت وجماعت (مطبع حنفیہ) کا آغاز کیا، دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسۂ اہلِ سنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔ آپ کا وصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوا اور درگاہِ حضرت پیر جگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ میں تدفین ہوئی۔(107)
عبد الوہاب شاہ جیلانی
حضرت سخی عبد الوہاب شاہ جیلانی کا لقب شہنشاہ ِ حیدرآباد ہے، آپ غوث الاعظم دستگیر حضرت سید عبدالقادرجیلانی کے خاندان سے ہیں، مزار حیدر آباد پاکستان میں مرجع خاص وعام ہے، راقم ان کی درگاہ پر حاضری کا شرف پاچکاہے، ان کا مزاردعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔
عبدالجلیل بلگرامی
حضرت علامہ میر عبدالجلیل بلگرامی چشتی کی پیدائش 20رجب 972ھ کو میرعبد الواحدبلگرامی کے گھر ہوئی۔ علوم درسیہ اورتصوف کی تعلیم والدصاحب سے پائی،انہیں سے مریدہوئے اورخلافت سے نوازے گئے۔ مختلف علاقوں کی سیاحت کی بالآخر1007 ھ میں مارہرہ میں قیام فرمایا۔مسلسل 41سال یہاں گزارکر رشد وہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔صفر1057ھ میں مارہرہ میں وفات پائی۔اپنی قائم کردہ خانقاہ میں تدفین کی گئی،آج کل اسے بڑے پیرکی درگاہ کہا جاتاہے۔(108)
1 تذکرہ علمائے بھیرہ ولیدپور،ص 53تا68 ...صحائف اشرفی، 2/154
2 تذکرہ اولیائے سہارن پور،ص 50
3 تذکرہ کاملان رامپور،ص7
4 حیات مخدوم الاولیاء، ص439تا449
5 ممتازعلمائے فرنگی محلی،ص111تا115
6 نفحۃ الرحمن ، ص 15تا51
7 مختصرنشرالنور،ص32 ...امام احمدرضا اور علمائے مکہ مکرمہ، ص 19
8تذکرہ علماء اہل سنت ایبٹ آباد، ص 138تا144
9 تذکرہ محدث سورتی، ص298تا301 ...کانپور نزدیک سے دور تک، ص25،30
10 تذکرہ کاملان رام پور،ص30
11 انوارعلمائے اہلسنت سندھ، ص 547
12 ماہنامہ معارف رضا جون 2012ء،ص29
13 حیات کرم حسین، ص 166،312 ...بزم جاناں، ص 280
14 تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص55تا58
15 بزم جاناں، ص270، 271
16 روشن دریچے، ص 337... تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع اٹک، ص284 ...صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 148،128
17الاجازات المتینہ،ص32 تا 35/تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص36 تا 53/تاریخ الدولۃ المکیہ، ص104
18 تاریخ خاندان برکات،ص 45، 58 ...تذکرہ ٔ نوری،ص 246
19 تذکرہ اکابراہلسنت، ص 72تا75
20تذکرۃ الانساب، ص 27تا35
21 انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام،3/333تا340
22 تذکرہ کاملان رامپور،ص60
23 مولانا نقی علی خان،حیات اورعلمی وادبی کارنامے،ص 82 ... ماہنامہ اعلیٰ حضرت،صدسالہ منظراسلام نمبر،پہلی قسط،مئی تا جولائی 2021ء،ص70،ملفوظات اعلیٰ حضرت کامل،ص 205
24 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 92، 93
25 تاریخ خاندان برکات،ص 26تا28
26 تذکرۂ مشائخ غازی پور، ص421 تا 428
27 مولانا نقی علی خان بریلوی،ص 47 ...ملفوظات اعلیٰ حضرت کامل، ص 205
28تذکرہ شعرائے جماعتیہ ،70تا74 ...تاریخ رفتگان ،2/39 ... معدن التواریخ ،ص 6
29صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 20، 26، 41، 42، 49، 52، 70، 102، 126، 149، 154، 155، 178، 182، 185، 210، 305
30تذکرہ اکابر اہلِ سنّت پاکستان،ص 111
31 مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 268، 273
32 تذکرہ مشائخ کاکوروی،ص 88
33تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع چکوال، ص27
34 تذکرہ اکابرِ اہل سنّت،ص 113تا117
35 مولانانقی علی خان بریلوی،ص 48
36 فتاویٰ حامدیہ،ص48، 79
37مرقع الور،ص 33تا42
38 تذکرۂ علمائے اہل سنت،ص78 تا 79 ...تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص91
39 المختصرکتاب نشرالنور،رقم169، ص177... معارف رضا 1998ء،شمارہ 18، ص188
40 ماہنامہ الرضا، ربیع الاول 1338ھ، شمارہ:3، جلد:1، ص28
41 تذکرہ مولانا حامد علی خام رامپوری،ص144، 145
42تذکرہ خلفائے امیرملت،ص109تا112
43ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق، ص 1، 2 ...جواہرنقشبند،ص471
44احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص1
45 خانقاہ صفویہ،تاریخ اورخدمات کا اجمالی جائزہ،ص53، 54
46 تذکرہ محدث سورتی،ص243
47 محدث تذکرہ محدث سورتی،ص 277تا279
48 تذکرہ کاملان رامپور،ص 122، 123 ...فقہائے ہند، 3/155
49خفتگان خاک لاہور،ص70
50 فتاویٰ مسعودیہ،ص 53،54... رکن دین، ص 15
51 فتاویٰ مسعودیہ، ص 19،42تا47
52 تذکرہ کاملان رامپور،ص143
53 نزہۃ الخواطر،8/168، 169
54 ممتاز علمائے فرنگی محل، ص417تا419
55انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام،3/400تا411
56سیرا علام النبلاء، 7/229، 279 ...طبقات ابن سعد، 6/350
57 تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144... سیدی ضیاء الدین احمد القادری، 2/266 تا 268
58تذکرہ علماء اہل سنت ایبٹ آباد،ص 195تا198
59 تذکرہ کاملان رامپور،ص170 ... فقہائے ہند،3/196
60تاریخ الدولۃ المکیہ، ص 81 ...اعلام للزرکلی،2/ 239
61 مصباح العاشقین، ص20 ... افضال رحمانی،ص 131
62 صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 21، 22، 52
63 آثار الصنادید،ص51 ...حیات رضا کی نئی جہتیں،ص38
64 اتحاف الاکابر،ص405، 406
65 مختصرنشرالنور،ص219 ... اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص 305
66 تاریخ اولیائے ملتان، ص 134تا136...ہفتہ وار رسالہ الفقیہ امر تسر، ص 7تا14دسمبر1946ء،جلد29،ص 6
67 حیات کرم حسین، ص 130... روشن تحریریں،ص 50
68 سیدی قطب مدینہ، ص 17،11،8،7
69 بزم جاناں، ص86، 96 تا 98
70 ممتازعلمائے فرنگی محل،ص 116
71 تجلیات مرشدالمعروف بہ سوانح امام انام حضرت سیدنا عابدعلی الوری، ص 20،23،24، 32، 88،109، 110، 134 ... تذکرہ صوفیائے میوات،ص 571 تا578... تذکرہ کاملان رامپور، ص 20تا22 ... روشن تحریریں، ص 137
72 لمعات قادریہ وتبرکات خالقیہ،ص240
73 تذکرۂ محدثِ سورتی،ص209 تا 218
74 تذکرہ علمائے اہل سنت،ص172
75 برہانِ ملت کی حیات وخدمات، ص 16، 17، 63
76 تذکرہ کاملان رامپور،ص 199تا201
77ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق، ص3
78تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع چکوال، ص 45تا52 ... تقاریظ امام احمد رضا، ص 80
79فیضان شیخ القرآن، ص84تا89
80 ممتازعلمائے فرنگی محل،ص142تا166
81 اساتذۂ امیر ِملّت،ص 61تا68
82 مِیزانُ الادیان،ص 89 ...احسن الکلام،ص 64
83 تذکرہ کاملان رامپور،ص92
84 تذکرہ کاملان رامپور،ص213
85 انوارعلمائے اہل سنت سندھ، ص 547تا551
86 مشائخ قادریہ برکاتیہ،عمدۃ الصحائف،ص 214تا252
87تذکرہ علمائے فرنگی محلی، ص137تا141
88 تذکرہ کاملان رامپور، ص 230تا232...مولاناارشادحسین حیات وخدمات،ص29
89 فتاویٰ مسعودیہ، ص 57 ... تذکرہ اکابراہل سنت،ص 422
90تذکرہ علمائےاہل سنت ایبٹ آباد،ص285تا287
91فیضان شیخ القرآن، ص126، 142، 643
92بہجۃ الاسرار، ص171 ... طبقاتِ امام شعرانی، جزء:1، ص 178 ...مرآۃ الاسرار، ص 563، 571
93 بزم جاناں، ص 284 ...روشن تحریریں، ص 62 ...تذکرہ اولیائے جالندھر،ص347، 348
94 تذکرہ کاملان رامپور،ص234، 235...فقہائے ہند،3/322
95 اکمل التاریخ،ص 328تا344 ... چراغ حسن،ص5 تا 24... تاج الفحول حیات و خدمات،ص73، 74
96 تذکرہ محدث سورتی،ص 288تا290
97 تذکرہ کاملان رامپور،ص336
98 سوانح حیات منورعلی شاہ، ص 32تا37 ...تذکرہ کاملان رامپور، ص 321،297
99 رسالہ مباحث امامت،ص 3
100طبقاتِ امام شعرانی، جز1، ص 84تا86... محدثینِ عظام وحیات و خدمات، ص146تا153
101اسرارکبیری، ابتدائی حالات مصنف
102 تذکرہ علمائے اہل سنت،ص 130، 131 ...تاج الفحول حیات اورخدمات،ص 29تا31
103 تعارف علماء اہل سنت، ص 210
104 حیات صاحب حق،ص85
105 تعارف علماء اہل سنت، ص 211
106 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 75تا77، 208
107سالنامہ معارف رضا2005،ص 251 ...تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص191 ...تذکرۂ علمائے اہلسنت، ص153
108 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 77، 78
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع