دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hayat e Muhaddis ul Wari | حیات محدث الوری

book_icon
حیات محدث الوری
            
باب 12 فصل 4:

امام المحدثین کے تلامذہ ٔ کشمیر وسندھ وبلوچستان

محمد فضل الٰہی نقشبندی کشمیری

مفتی اعظم کشمیر، عارف ب اللہ حضرت مولانامفتی محمد فضل الٰہی نقشبندی کی پیدائش تقریباً 1303ھ مطابق 1886ء کو زاہد آباد شریف چک 2 نزد کوٹلی سوہلناں ضلع کوٹلی کشمیرمیں ہوئی۔ابتدائی عمرمیں آلہ گری اور اسلحہ سازی کا کام کرتے تھے، پھر حصول علم دین کی جانب متوجہ ہوئے اورپھر ساری زندگی دین اسلام کی تبلیغ واشاعت میں مصروف رہے۔آپ نے علم صرف ونحومیں عبور علامہ محمد عبد اللہ پگلینوی کی خدمت میں رہ کر پایا۔ اکثر علوم عقلیہ ونقلیہ اپنے خاندان کے عالم دین استاذ العلماء مفتی محمد نطام الدین دھمالوی سے حاصل کئے اورعلم فقہ کی اجازت بھی انہوں نے ہی دی۔استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ محمدعبد اللہ لدّوری کشمیری سے صحیح بخاری وصحیح مسلم پڑھنے کے بعد سندحاصل کی۔اس کے بعد لاہور تشریف لے گئے اوربانی دارالعلوم حزب الاحناف امام المحدثین سے ہدایہ شریف پڑھی۔(1)بیعت کا شرف کالی چادروالی سرکار حضرت پیرخواجہ حیدر شاہ چوراہی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا اوران سے سلسلہ نقشبندیہ اور دیگر سلاسل کی اجازات حاصل کیں۔انہوں نے مفتی صاحب کو دلائل الخیرات شریف کی اجازت بھی دی۔ باباجی سرکار حضرت پیر خواجہ محمد قاسم صادق موہڑوی اور حضرت پیرخواجہ غلام محی الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہما باولی شریف نے بھی آپ کو خلافت عطافرمائی۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعدجامع مسجدشہر ڈماس ضلع کوٹلی کی بنیادرکھی ،جمعہ شروع فرمایا ، اس کے ساتھ درس وتدریس بھی کیاکرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد قاضی ٔ کشمیر،استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الحکیم میرپوری نے آپ کو کوٹلی کا مفتی مقررکیا، اگرچہ آپ پرتصوف کا غلبہ تھا مگرمفتی عبدالحکیم میرپوری آپ کے استاذ کے بیٹے تھے اس لیے ان کے کہنے پر آپ نے یہ عہدہ قبول کیا اورکچھ عرصہ یہ ذمہ داری نبھائی۔آپ مرجع فتاویٰ تھے، زندگی کے آخری ایام تک فتاویٰ تحریرکرنے کا سلسلہ جاری رہا۔آپ کے لکھے ہوئے کئی فتاویٰ خاندان میں محفوظ ہیں۔مطالعہ کا بہت شوق تھا،رات کا ایک حصہ اورکبھی کبھی تو ساری رات مخصوص لکڑی چیٹر(جس میں جلدآگ لگ جاتی ہے)کو جلاکر مطالعہ میں مصروف رہتے۔آپ کی اجازت سے کئی مقامات پر نماز جمعہ کا آغاز ہوا۔ مفتی عبدالحکیم کی جانب سے آپ کو صدر صدور المبلغین بھی مقرر کیا گیا، تبلیغ دین کے لیے آپ نے کشمیربھرکاسفرکیا، نیکی کی دعوت کا اتناجذبہ تھاکہ گاڑی میں بھی لوگوں کو قرآن وسنت پر عمل کی ترغیب دلاتے، نمازروزے کی تلقین کرنےکے ساتھ ایک مشت داڑھی رکھنے کی تلقین بھی کیاکرتے تھے۔آپ ہمیشہ توبہ واستغفاراوردرودوسلام کی کثرت کا ذہن دیتے۔آپ کی ان خدمات کے بہت بہترنتائج ظاہرہوئے، کئی بے نمازی اوردین سےبیزارلوگ نمازروزے کے پابندہوگئے اورسنت مصطفیٰ کے مطابق زندگی گزارنے لگے۔ آپ کی کوششوں سے کئی مدارس بھی قائم ہوئے۔آپ کی تمام دینی خدمات فی سبیل اللہ تھیں، گھرکی گزربسرکے لیے گاشت کاری اورآٹے کی چکی تھی ،جس پر ملازمین کام کرتے تھے اور یہی آپ کا ذریعۂ معاش تھا۔ تبلیغ دین پر آپ کسی سے کوئی مالی منفعت حاصل نہ کرتے تھے حتی کہ کسی کے گھرسے پانی پینابھی پسندنہ کرتے۔اپنے بیٹوں کو بھی یہی تلقین کرتے تھے کہ دینی خدمات اخلاص کے ساتھ سرانجام دینی ہیں اور اس کا معاوضہ نہیں لینا، دنیاوی ضروریات اللہ پاک اپنے خزانے سے پوری فرمائے گا۔ الحمدللہ !آپ کی تمام اولادنمازروزے اورشریعت کی پابندہے۔ آپ نے تحریک پاکستان میں عملی طورپر حصہ لیا۔تحریک آزادی کشمیرمیں اپنے استاذ مفتی محمد نطام الدین دھمالوی اور کوٹلی کے دیگرعلمائے کرام کے ساتھ مل کر دامے درمے اورسخنے حصہ لیا، مجاہدین کے حوصلے بلند کئے، کئی مرتبہ گھرسے کھانا پکواکر انہیں کھلایا۔آپ طبیعت کے سخی تھے۔مہمانوں کابہت اکرام فرماتے اور ہر طرح کی خدمت کرتے۔شریعت کے بہت پابند تھے اورگھروالوں کو بھی اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔آپ خوف خدااورعشق رسول کے پیکرتھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام نامی سنتے تو آنکھوں سے آنسوجاری ہوجایاکرتے تھے۔پیرانِ پیرحضورغوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی الحسنی سے بہت عقیدت تھی، ان سے یوں کلام کرتے جیسے وہ قریب موجودہیں۔اپنے شیخ خواجہ حیدر شاہ چوراہی سے ایسی محبت تھی کہ گھریلو اخراجات سے جو رقم بچ جاتی اسے اپنے مرشد کے لیے محفوظ کر لیتے اورجب ان کی خدمت میں حاضر ہوتے توبطورنذرپیش کرتے، کئی مرتبہ ان کی سواری کےلیے گھوڑیاں بھی خریدکر پیش کیں۔آپ کا وصال 22رمضان 1409ھ مطابق 22مئی 1988ء کو 102سال کی عمر میں ہوا، آپ کا مزار مبارک زاہدآبادچک 2نزدکوٹلی سوہلناں،ضلع کوٹلی کشمیرمیں ہے ، جس پر سفیدرنگ کا گنبدتعمیرکیاگیاہے۔ حضرت مولانا علامہ پیرمحمد عبد اللہ عتیق نقشبندی رضوی مدظلہ العالی آپ کےصاحبزادےاور علمی وروحانی جانشین ہیں۔ مفتی اعظم کشمیر کے متعلق معلومات آپ کے پوتے مولانا ڈاکٹرمحمد منورعتیق رضوی اور نواسے مولانا فضیل رضا عطاری (المتخصص فی الفقہ الاسلامی بجامعۃ المدینہ لاہور) نے دیں، آخرالذکر نے اپنے ماموں اور صاحب تذکرہ کے صاحبزادے علامہ پیر محمد عبد اللہ عتیق نقشبندی رضوی صاحب کے دوصوتی پیغامات بھی بھیجے، ان معلومات کی روشنی میں یہ مضمون تحریرکیا ہے۔نیز مولانا فضیل رضا عطاری نے مزارمبارک کی تصاویر بھی واٹس ایپ کیں۔راقم ان سب علما کا شکرگزار ہے۔

حبیب اللہ ضیاء شاہ کاظمی

محرک تحریک آزادی کشمیر،پیرطریقت حضرت علامہ مولاناپیرسیّدمحمدحبیب اللہ ضیاء شاہ شورش جبالی کاظمی نقشبندی قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش1313ھ مطابق 1896ء کو موضع لاہ شریف تحصیل تھانہ منڈی ضلع راجوری جموں وکشمیرکے کاظمی مشہدی سیّدگھرانے میں ہوئی۔ نسب نامہ یہ ہے: مولاناپیرسیّد حبیب اللہ ضیاء شاہ، پیرسیدنوران شاہ،سیدمریدعلی شاہ،سیدمحمد علی شاہ،سیدحبیب شاہ،سیدجلال شاہ، سید عبد الباقر شاہ، سید شاہ جنید،سیدشاہ ابراہیم، سیدمحمد اولیا،شاہ عبدالعزیز،سیدعبدالغالب، سیدعبدالغنی، سیدحسین، سید آدم، سیدعلی شیر،سیدعبدالکریم، سیدوجیہ الدین، سیدولی الدین، سیدمحمدثانی الغازی،سیدرضاء الدین، سید صدر الدین، سیدمحمداحمدسابق،سیدابوالقاسم حسین مشہدی، سیدعلی امبربربرکے پیر،سیدعبدالرحمن ریئس الزمان، سید اسحاق ثانی، سیداول حسن زاہد،سیدمحمدعام، سیدعبد اللہ قاسم، سیدمحمداول، سیداسحاق قطب، سید امام موسیٰ کاظم، سیدامام جعفرصادق،سیدامام محمدباقر،سیدامام زین العابدین علی اوسط،سیدالشہداء امام حسین، شاہ ِ ولایت حضرت علی المرتضیٰ۔ (2) آپ کے والدگرامی حاجی بابا حضرت پیر سیدنوران شاہ کاظمی نے پہلے لاہ شریف میں خانقاہ قائم فرمائی اور پھر قیام پاکستان کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے اورنورپورسیداں تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں خانقاہ کی بنیادرکھی۔علامہ حبیب اللہ صاحب نے ابتدائی تعلیم والدصاحب کی سرپرستی میں لاہ شریف میں حاصل کی۔فارسی کتب عالم باعمل، پیرطریقت اور درس نظامیہ کی کتب فارسیہ کے بہترین مدرس حضرت مولانا پیر سید محمد عبد اللہ شاہ سے موضع لسانہ ضلع پونچھ سے پڑھیں۔پھر چکوال میں موضع پنجائین میں صوفی باصفا حضرت مولاناقاضی ثناء اللہ قادری سے صرف ونحوکی کتب پڑھیں۔اس کے بعد علی پورسیداں ضلع نارووال پنجاب تشریف لے گئے اور امیرملت پیرسیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری کی زیارت کی۔آستانہ عالیہ امیر ملت میں قائم مدرسہ نقشبندیہ کے اساتذہ سے استفادہ بھی کیا۔آپ نے1922ء میں دہردُون میں تین سال مقیم رہ کرتعلیمی مراحل طے کئے۔اس کے بعد آپ الورتشریف لے گئے اور رکن الملت والدین علامہ محمد رکن الدین الوری سے اکتساب فیض کیا۔1932ء میں آپ نے دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا۔یہاں امام المحدثین سے شرف تلمذکی سعادت پائی۔1939ء یا1940ء میں آپ مفتی اعظم پاکستان علامہ شاہ ابوالبرکات قادری سے دورہ حدیث کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔سیّدصاحب قبلہ، صدر الافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی اور دیگر اکابر علما نے دستاربندی کی۔یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک پاکستان شروع ہوچکی تھی، آپ نے اس میں حصہ لیا اور 23مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان لاہور کے موقع پر ہونے والے جلسے میں اپنے بھائی اوردیگررشتہ داروں کو بلاکر ان کے ہمراہ اس میں شرکت کی۔ آپ عارف ب اللہ ، ولی کامل اور عبادت گزارتھے۔بیعت کا شرف آپ نے اپنے والدگرامی پیرسیدنوران شاہ نقشبندی صاحب سے حاصل کیا اورخلافت سے نوازے گئے۔باباجی لاروی خواجہ عبد اللہ نقشبندی، قبلہ عالم پیرسیدمہرعلی شاہ گولڑوی اورامیرملت نے بھی خلافت عطافرمائی۔آپ باعمل مبلغ اسلام،درس نظامی کے مدرس اور نیکی کی دعوت کے جذبہ سے سرشارتھے۔آپ ہندکو،اردو،ہندی،عربی، فارسی اورہندی وسنسکرت زبانوں میں دسترس رکھتے تھے، کشمیری و گوجروی،پوربی وڈوگری زبان سے بھی واقفیت تھی۔ کئی زبانوں میں مہارت کی وجہ سے مختلف زبانوں کے طلبہ میں اچھے اندازمیں تدریس فرمایا کرتے تھےاورآپ کی تعلیم وتبلیغ زیادہ مؤثروکامیاب تھی۔آپ بہترین مناظروخطیب بھی تھے، فرقہ ہائے باطلہ مرزائیت، خارجیت اور دہریت وغیرہ سے جب مناظرہ کرتے توانہیں لاجواب کردیاکرتے تھے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی آپ میں جذبۂ حریت وآزادی موجودتھا، 1931ء میں جب راجوری میں مقامی حکمران نے مساجدکو بندکردیا تو آپ نے جنوری 1931ء کو ڈڈیال سے پیدل راجوری کا سفرکیا، نمازجمعہ ادا کرنے کے بعدآپ نے علم جہادبلندکیا،کئی مسلمان شہیدہوگئے،ان کی قربانیاں رنگ لائیں اور مساجد کے تالے کھل گئے۔صوبہ جموں کی عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک ہو یا جموں میں قرآن پاک کے ایک ڈوگرہ فوجی کے ہاتھوں بے حرمتی کے واقعہ پر ریاست گیر احتجاج،آپ ہر بار نمایاں طور پر متعصب انتظامیہ کے خلاف برسر پیکار رہے۔1947ء میں آزادی کشمیرکے لیے ہونے والے معرکوں میں بھی آپ نے عملی طورپر شرکت کی۔ قیام پاکستان کے بعدآپ ہجرت کرکےجہلم شہرمیں مقیم ہوئے۔ جب آپ کے چچا زاد بھائی حضرت مولانا سید فدا حسین راجوری(پیدائش 1931ء، وفات:2001ء) نے مہاجرین جموں و کشمیرکے بچوں بالخصوص یتیموں کی دینی اور دنیاوی تعلیم کے لیے 1957ء میں دار العلوم تعلیم الاسلام، شمالی محلہ، مہاجرین جموں وکشمیر ریور روڈ جہلم کا آغاز کیا تو آپ اس میں پڑھانے لگے، کچھ عرصے کے بعدوالدگرامی کی تعلیمات کے مطابق دوبارہ کشمیرتشریف لے گئے۔ سات سال تک آپ نے لاہ شریف میں قیام فرمایا اوررشدوہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔1965ء میں آزادی کشمیرکی تحریک دوبارہ اٹھی تو اس میں آپ نے بھرپورحصہ لیا۔ آپ انقلابی شاعربھی تھے، آپ کی شاعری کئی زبانوں میں ہے، اس کے علاوہ نثر میں آپ نے کتب لکھی ہیں، آپ کی کتب میں گلدستہ اشعارفی وصف احمدمختار،تذکرۃ الابرار، گردش کشمیر اورسی حرفی شاہ حبیب وغیرہ ہیں۔ آپ کی کتاب گردش ایام کی پہلی اشاعت 1966ء میں آپ کی حیات میں ہوئی۔دوسری اشاعت آپ کے چھوٹے بیٹے صاحبزادہ سیدضیاء الحسنین نسیم کاظمی نے دسمبر2016ء کوکی، جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علامہ صاحب کی شخصیت وحالات زندگی سے متعلق علماوشخصیات کے بیسیوں مضامین وتاثرات کو بھی شامل کیاگیاہے۔آپ کی ان کوششوں کو اہل کشمیرنے سراہا، آپ کا ساتھ دیا اورحکومت کشمیرنے آپ کو آزادی کشمیرگولڈمیڈل دے کر آپ کوخراج تحسین پیش کیا۔ اعلامیہ تاشقند جنوری 1966ء کے بعد آپ آزادکشمیر تشریف لے آئے اور بانیاں شریف ، افتخار آباد ( چھمب) تحصیل برنالہ ضلع بھمبرمیں قیام فرمایا، مقبوضہ کشمیرسے آنے والے مہاجرین کی چھمب ضلع بھمبر اور ضلع جھنگ پاکستان میں آباد کاری میں مصروف ہوگئے۔آپ نے بانیاں شریف میں آستانہ عالیہ حبیبیہ نورانیہ نقشبندیہ کی بنیاد رکھی اور رشد و ہدایت میں مصروف ہو گئے۔ آپ کا وصال 1994ء میں ہوااورآستانہ عالیہ میں تدفین ہوئی اور ہر سال یہاں بڑے اہتمام سے عرس ہوتاہے۔(3)

محمد سعید شاہ کشمیری

حضرت مولانا سیدمحمد سعیدشاہ کشمیری 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں پڑھتے تھے، اس سال جنوری میں ہونے والے امتحان میں انھوں نے کامیابی پائی۔مفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات قادری کے رسالے رجوم المؤمنین میں آپ کی تصدیق بھی موجودہے۔(4) *حضرت مولانا غلام محمد کشمیری اور حضرت مولانا عتیق اللہ صاحب پونچھوی بھی 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں پڑھتے تھے مگر بوجوہ جنوری 1931ء میں ہونے والے امتحان میں شریک نہ ہو سکے جبکہ مولاناغلام رسول کشمیری زمانہ طالب علمی میں غالباً 1930ء کو وفات پاگئے۔

محمد یعقوب سندھی

حضرت مولانا محمد یعقوب سندھی 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں پڑھتے تھے۔اس سال ہونے والے امتحان میں آپ نے بھی حصہ لیا اورکامیابی حاصل کی۔مفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات قادری کے رسالے رجوم المؤمنین پر آپ کی تصدیق بھی موجودہے۔(5) *حضرت مولانا غلام احمد سندھی، حضرت مولانا دوست محمد سندھی اورحضرت مولانا حافظ محمد اکبر سندھی 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں پڑھتے تھے مگر بوجوہ جنوری 1931ء میں ہونے والے دارالعلوم کے امتحان میں شریک نہ ہوسکے۔

محمد رمضان بلوچستانی

حضرت مولانا محمد رمضان بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے رہنے والے تھے۔یہ 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں پڑھتے تھے، یہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔انھوں نے مفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات قادری کے رسالے رجوم المؤمنین کی تصدیق کی اورامام المحدثین نے اپنی مایہ نازکتاب مقدمہ تفسیر میزان الادیان میں اپنے جن شاگردوں کے بارے میں فرمایا کہ انھوں نے خاکسارسےکتب صحاح ستہ وغیرہ پڑھ کرسند حاصل کی اوران کا مختلف جگہ فیض جاری ہے ان میں مولانا رمضان بلوچستانی کا بھی تذکرہ ہے۔ شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری نے امام المحدثین کے شاگردوں کے ناموں میں مولانا محمد رمضان بلوچستانی صاحب کا بھی تذکرہ کیا ہے اوریہ بھی صراحت کی ہے کہ یہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔(6)راقم ماہ شوال 1442ھ مطابق مئی 2021ء میں چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ لسبیلہ حاضر ہوا، ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔البتہ مفتی شاہ ابوالبرکات سیّداحمدقادری صاحب کے شاگرد، استاذ العلماء مولانا محمدسلیمان رونجھو صاحب کے بارے میں معلومات ہوئیں۔ان کی ولادت 1328ھ مطابق 1910ء کو لسبیلہ میں ہوئی اور 5فروری 1993ء کو وصال فرمایا۔انھوں نےامام المحدثین کی وفات کے چار سال بعد 1358ھ میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورکے درجہ دورۂ حدیث میں داخلہ لیا اوراگلے سا ل فارغ التحصیل ہوئے۔
1 ثبت شیخ محمدعبد اللہ عتیق، ص2 2 ذکرمخدوم، ص 9، 10 3 ذکرمخدوم، ص 132 ...روزنامہ شاہین میرپور،18جون 2012ء ...مضمون یادرفتگان، تحریک آزادی کشمیرکے ممتاز رہنما، مضمون نگار،سیداعظم حسین گیلانی میرپوری۔ 4 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ...رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18 5 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ... رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18 6 تذکرہ اکابراہل سنت، ص 142 ...رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ...رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن