دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hayat e Imam ul Muhaddiseen | حیات امام المحدثین

book_icon
حیات امام المحدثین
            
باب13 فصل2:

علاقے اور جگہیں

ابیورد

یہ خراسان کا ایک شہرتھا،جسے 31ھ میں صحابی جلیل حضرت عبد اللہ بن عامربن کریزقرشی نے فتح کیا تھا، اب یہاں کوئی آبادی نہیں ہے البتہ اس کے قریب ایران کے صوبے خراسان کا شہر درغز (Dargaz) واقع ہے۔

اصفہان

اصفہان ایران کے دارالحکومت تہران اورمقدس شہر مشہد شریف کے بعد ملک کا تیسرابڑاشہرہے،یہ صوبہ اصفہان کا صدر مقام ہے۔یہ تہران سے جانب جنوب 340کلومیٹرفاصلے پر ہے۔

امرتسر

امرتسر مشرقی پنجاب (ہند) کا اہم شہرہے،یہ دہلی سے جانب شمال مغرب447 کلومیٹر اورلاہور سے 28 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہےمشہورجلیانوالہ باغ یہیں ہے۔تقسیم پاکستان سے پہلے یہاں مسلمان آبادی تقریباً 50 فیصدتھی، مگر اب یہاں مسلمان ایک فیصد بھی نہیں۔واہگہ بارڈر پاک وہند کے درمیان ایک سرحدی راستہ ہےجو لاہور کو امرتسر سے ملاتا ہے۔

انبالہ (Ambala)

یہ شہر آٹھ سو سال پرانا ہے،یہ ہندکی ریاست ہریانہ کا ایک شہرہے۔ یہ جہاں خیلاں ضلع ہوشیارپور سے جانب جنوب مشرق 163کلومیٹرکے فاصلے پرموجودہے۔

اودے پور

اودے پور(Udaipur)ہندکی ریاست راجستھان کا ایک اہم شہرہے،یہ الورسے جانب جنوب 541کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔

آگرہ

آگرہ ہند کی شمالی ریاست اتر پردیش کا اہم شہر ہے۔ اس کا پرانا نام اکبر آباد تھا۔ مغلیہ دور بالخصوص بادشاہ اکبر کے زمانے(1556–1605ء) میں یہ دار السلطنت رہا ہے۔آگرہ دنیا کی مشہور اور خوبصورت عمارت تاج محل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔یہاں پر بادشاہ اکبر کا تعمیر کردہ لال قلعہ بھی قائم ہے جو ایک خوبصورت اور بڑی عمارت ہے کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت دہلی کے لال قلعہ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ سلسلہ نقشبندیہ وچشتیہ کی شاخ سلسلہ ابو العلائیہ کے بانی حضرت سیدنا امیر ابو العلا کا مزار آگرہ میں ہے۔آگرہ دہلی سے جانب جنوب مشرق 243 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔

باغبان پورہ لاہور

باغبان پورہ لاہور کے شالیمارٹاؤن کی یونین کونسل نمبر36ہے، یہ جی ٹی روڈ (Grand Trunk Road) پر واقع ہے، یہ علاقہ مین لاہورسٹی سے جانب شمال مشرق 5کلومیٹرکے فاصلے پر ہے، مغل بادشاہ شاہجہاں (دورِ حکومت:1628ء تا1658)نے 1641ء میں شالیمارباغ کی تعمیرکروائی تو اس کی دیکھ بھال کے لیے یہاں میاں خاندان کو بسایا۔یہاں کے مشہورولی اللہ شاہ حسین المعروف مادھولال حسین(1528ء تا1599ء)ہیں جن کاعرس میلہ چراغاں کے نام سے مشہورہے۔

بالامؤ(Balamau)

بالامؤ ضلع ہردوئی کا ریلوے جنکشن گنج مرادآبادسےجانب شمال 27کلومیٹرواقع ہے۔

باندی کوئی

باندی کوئی(Bandikui) راجستھان کے ضلع دوسا کا ریلوے جنکشن ہے جو 1874 میں قائم کیا گیا،یہ دہلی جے پور ریلوے لائن کے سنگم پر الور سے 66کلومیٹر دور جانب جنوب واقع ہے۔

بانیاں (Banian)شریف

یہ تحصیل برنالہ ضلع بھمبر کشمیرکا ایک گاؤں ہے، جو برنالہ شہر سے جانب مشرق 16اوربھمبرسے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بخارا

یہ ازبکستان کا پانچواں بڑاشہرہے،اس کی آبادی 1999ء کی مردم شماری کے مطابق اڑھائی لاکھ کے قریب ہے، اکثر لوگ تاجک ہیں،اس میں کئی تاریخی مساجداورمدارس ہیں،مشہورمحدث حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری اسی شہرکے رہنے والے تھے۔

بریلی) Bareilly)

بھارت کے صوبے اترپردیش میں واقع ہے، دریائے گنگا کے کنارے یہ ایک خوبصورت شہر ہے۔ دریا کی خوشگوار فضا نے اس کے حسن میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ووفات یہیں ہوئی،اس لیے یہ شہرآپ کی نسبت سےعالمگیرشہرت رکھتاہے۔

بَل ڈماس (Bal damas)

یہ ضلع کوٹلی کی تحصیل چڑھوئی کی یونین کونسل کوٹلی سوہلناں کی وارڈ ہے۔اس کو بَل جاگیربھی کہاجاتاہے۔اس میں حضرت میاں سائیں مشکل قلندر کا مزاربھی ہے، جس کا سفیدگنبددورسے نظر آتا ہے۔ اس کی جامع مسجددومنزلہ اورخوبصورت ہے۔

بلگرام

بلگرام (Bilgram)ہندکی ریاست اترپردیش کے ضلع ہردوئی (Hardoi)کا اہم قصبہ ہے،اس کی شہرت حضرت سیدمحمد الدعوۃ الصغریٰ کے مزارسے ہے۔اس کی آبادی تقریبا 30ہزارہے جن میں 48 فیصد مسلمان ہیں۔یہ ہردوئی سے فاصلہ 27 کلومیٹر،کانپور سے فاصلہ 110 کلومیٹر،لکھنؤ سے فاصلہ 110 کلومیٹر اور مارہرہ سے جانب مغرب 176کلومیٹرواقع ہے۔ظرف سازی اور کڑھائی اس کی اہم صنعت ہے۔

بہلول پوربھٹیاں

بہلول پوربھٹیاں (Behlol Pur Bhattian)ضلع حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کا ایک گاؤں اور یونین کونسل ہے جوموٹروےاورسرگودھا لاہورروڈ کے درمیان اوردریائےچناب کے قریب جانب ِجنوب ہے۔ پنڈی بھٹیاں اس سے جانب مشرق 7کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔یہ چارسوسالہ قدیمی گاؤں ہے جسے میاں بہلول بھٹی نے آباد کیا جو محمودپورکے قبرستان میں مدفون ہیں۔

بھرت پور

بھرت پور راجستھان کا ایک شہر ہے جو الور سے 113 کلومیٹر جانب جنوب مشرق واقع ہے۔اس میں پرندوں کے لئے مشہور کیولاڈیو نیشنل پارک ہے۔یہ ایک نوابی ریاست تھی جس کا آغاز 1826 کوراجہ بدن سنگھ نے کیا تھا اوراس کا اختتام 1947ءکو راجہ بریجنڈرسنگھ کے دورحکومت میں ہواتھا۔

بھیرہ

بھیرہ ایک قدیمی شہرہے، یہ دریائے جہلم سے تقریباً 2کلومیٹرکے فاصلے پر ہے، پہلے یہ دریاکے دائیں کنارے پر تھا پھرشیرشاہ سوری نے اسے بائیں کنارے آبادکیا،قدیم بھیرہ کے گرد فصیل تھی جس کے کچھ کچھ آثار باقی ہیں، اس میں آٹھ دروازے تھے جن میں سے کچھ دروازے قائم ہیں، چاروں طرف سرکلرروڈ ہے، اب یہ ضلع سرگودھا کی ایک تحصیل ہے، جس کی آبادی ایک لاکھ 50ہزاراور16یونین کونسلیں ہیں۔ یہ سرگودھا شہرسے57کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔ لاہور سے اسلام آباد موٹر وےM-2پر سفر کریں تو بھیرہ انٹر چنیج آتا ہے۔

پٹیالہ

پٹیالہ انگریزی دورکی سب سے بڑی سکھ نوابی ریاست تھی، 1691تا1694ء میں قائم کیاگیا، یکے بعد دیگرے اس کے 9 راجے مہاراجے ہوئے، 1947ء میں ہندی پنجاب میں ضم کردی گئی۔اب یہ مشرقی پنجاب کا جانب مغرب آخری ضلع ہے۔

پڑی درویزہ

پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کا ایک گاؤں ہے، یہ جہلم سٹی سے جانب شمال مغرب 70کلومیٹر اور چکوال سٹی سے جانب شمال مشرق 66کلومیٹر، چکوال روڈ سے کچھ فاصلے پرواقع ہے۔

پکھوکی (Pakhoke)

پکھوکی ضلع گورداس پورمشرقی پنجاب،ہند کی تحصیل ڈیرہ بابا نانک کا ایک گاؤں ہے جو گورداسپور سے مغرب کی طرف 41 کلومیٹر اور ڈیرہ بابا نانک سے 5 کلومیٹر دور ہے، یہ پاک وہند سرحد کے قریب و۱قع ہے۔

پنجائن (Panjain)

پنجائن پنجاب کے تحصیل وضلع چکوال کی یونین کونسل سہگل آباد کا ایک گاؤں ہے، جو چکوال شہرسے جانب مشرق 17کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔

تجارہ

تجارہ (Tijara،তিজারা)الور شہر سے جانب شمال مشرق 55 کلومیٹر واقع ایک قدیم قصبہ ہے، یہ ریاست الورکا حصہ تھا،1826ء میں راجہ ریاست الور بختاور سنگھ کے بعدیہ ریاست اس کے دو بیٹوں میں تقسیم ہو گئی، راجہ بنے سنگھ ریاست الوراورراجہ بلونت سنگھ ریاست تجارہ کے حکمراں طے پائے،بلونت سنگھ نے 1845ء تک تقریباً 20 سال تجارہ،کشن گڑھ، کرنی کوٹ،منڈاور پر حکومت کی اور1845ء کو لاولد اس دنیا سے گیا، تجارہ پھر الور میں شامل ہو گیا،راؤ راجہ بنّے سنگھ الور و تجارہ کا حکمراں بن گیا۔ تجارہ میں کئی اولیائے کرام کے مزارات ہیں،حضرت شاہ غازی گدن شاہ ولایت مداری (وفات 1009ھ مطابق 1600ء)، حضرت رکن عالم شہید(421ھ مطابق 1030ء)،حضرت میراں جی شاہ جیون ابوالعلائی ( 26 رجب 1167ھ مطابق1753ء)،حضرت شاہ بلم نور،حضرت مرزا احمد شاہ قادری (خلیفہ حضرت حمزہ مارہروی)، حضرت شاہ ابو الغیث ابو العلائی (1241ھ مطابق1825ء) وغیرہ۔(1)

تھانہ منڈی (Thanamandi)

کشمیرکے ضلع راجوری کی ایک تحصیل اورقصبہ ہے، اس کی کل آبادی تقریباً 8 ہزار ہے، اس میں 32گاؤں ہیں۔یہ راجوری سے 23کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔اس میں 98 فیصد مسلمان رہتے ہیں۔

ٹپوکڑہ

ٹپوکڑہ(Tapukra،टपूकड़ा)تجارہ سے جانب شمال21کلومیٹراوردہلی سے جانب جنوب ساڑھے 87 کلومیٹر واقع ضلع الورکا ایک قصبہ ہے۔

جالندھر

جالندھرمشرقی پنجاب(ہند) کا ایک قدیم اور صنعتی شہرہے، جالندھر جی ٹی روڈ پر واقع ایک اہم ریل اور روڈ جنکشن ہے، امام ناصرالدین چشتی اورسیدعلیم الدین چشتی یہاں کے مشہوراولیائے کرام ہیں، یہ لاہور سے جانب مشرق 133کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔

جہاں خیلاں

جہاں خیلاں(jahan Khelan)ہندکے صوبہ پنجاب کی تحصیل وضلع ہوشیارپور کا ایک گاؤں ہے جو ہوشیارپور سے جانب مشرق 13کلومیٹرکے فاصلے پر موجودہے۔2011ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 504گھروں پر مشتمل ہے جن میں اڑھائی ہزارافرادرہتے ہیں۔

جے پور

جے پور جسے گلابی شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بھارت میں راجستھان ریاست کا دار الحکومت ہے۔ جے پور سیاحوں کیلئے بے پناہ کشش رکھتا ہے، 2008ء میں اسے ایشیا کا ساتواں بڑا سیاحتی مرکز قرار دیا گیا ہے۔

چشت

چشت افغانستان کے صوبے ہرات کا ایک ضلع ہے،یہ شہرہرات سے جانب مشرق 161 کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔یہاں سلسلہ چشتیہ کے کئی بزرگوں کے مزارات ہیں۔

چکوڑی بکھو(Chakori Bakhoo)

چکوڑی بکھوتحصیل کنجاہ(Kunjah) کا ایک گاؤں ہے جوکنجاہ سے جانب مغرب 5 کلومیٹر اورشہرگجرات سے20کلومیٹر دور سرگودھا روڈ پر منگووال سے پہلے آتاہے۔

چمبہ پنڈ (Chamba Pind)

چمبہ پنڈضلع ہری پور(kpk)کا ایک گاؤں ہے، جوحسن ابدال روڈ سے تقریباً 5کلومیٹردورجانب مغرب ہے، ہری پورشہراس سے 17کلومیٹرجانب شمال ہے۔

حیدر آباد

حیدر آباد پاکستان کے صوبہ ٔ سند ھ کا اہم شہرہے، 1935ء سے پہلے یہ سندھ کا دارالحکومت تھا، حیدرآباد صنعت اور تجارت کے لحاظ سے پاکستان کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کی اہم صنعتوں میں چوڑی، چمڑا، کپڑا اور دیگر صنعتیں شامل ہیں،اس میں دعوت اسلامی کاعالی شان مدنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن میں واقع ہے، جس کو دنیائے دعوت اسلامی میں پہلافیضان مدینہ ہونے کا اعزازحاصل ہے۔

خان محمد والا

خان محمد والا بھیرہ تحصیل کی یونین کونسل ہے جوبرلب سڑک( بھیرہ بھلوال روڈ)واقع ہے، اس میں بازار، ہائی اسکول اورکئی مساجدہیں، راقم کے کرم فرما حاجی محمداسلم چشتی صاحب یہاں رہتے ہیں جن کے ہاں کئی مرتبہ جاناہوا۔

خلیل آباد

خلیل آباد ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کا ایک شہر ہے جو ضلع بستی اور گورکھپور کے درمیان واقع ہے۔ خلیل آباد ایودھیا-گورکھپور روڈ پر واقع ہے اور گورکھپور سے 36 کلومیٹر مغرب اور بستی سے 36 کلومیٹر مشرق میں ہے۔ خلیل آبادضلع سنت کبیر نگرکا ہیڈکواٹراور اس کی ایک تحصیل ہے، ضلعی دفتریہیں ہیں۔ اس کی آبادی تقریباً 48ہزارہے جس میں کم وبیش 31فیصدمسلمان ہیں۔

دریائے سرن

دریائے سرن ضلع مانسہرہ کے شمالی پہاڑوں سے شروع ہوتاہے اورتربیلاجھیل کے ذریعے دریائے سندھ کا حصہ بن جاتاہے۔اس کی کل لمبائی کم وبیش 130کلومیٹرہے۔یہ تینوں اضلاع مانسہرہ، ایبٹ آباد اورہری پورکی زمین کو سیراب کرتاہے۔اس سےایک نہرنکالی گئی ہے جس کی لمبائی 19کلومیٹرہے۔اس دریا سے نسبت رکھنے والی وادی سرن اپنی خوبصورتی کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔اس کا آغازشنکیاری ضلع مانسہرہ سے ہوتا ہے، اس سے دائیں جانب سڑک وادی کے صدرمقام جبوڑی کو جاتی ہے۔یہ وادی تین درجن گاؤں اور مقامات پر مشتمل ہے۔اس کےاہم قصبے اورگاؤں میں بھوگڑمنگ، بجنا، بانا، ڈاڈر، دیول، گیارساچن، جبار، جبوڑی، کودربالا، کودرپائین، منڈاگوچہ، کوٹل، پرانابھوگڑمنگ، پنجل، ساچن کالن، ساچن خورد، ستھیان گلی، شنکیاری، کودر، ٹانڈا، چاچا، ڈاڑھیل، سم الاہیمونگ، رچمورا، ٹمری، کنڈبنگلہ، شہیدپانی، ڈھول گلی، ٹیران، جھنگی، کالاس، نوازآباد، سمنگ، کیاسا، میل بٹ اور نلاّ شامل ہیں۔

دِہردُون (Dehradun)

یہ ہندکی ریاست اتراکھنڈ کا دارالحکومت، تعلیمی اداروں کا مرکز (Education Capital) اورایک صحت افزامقام ہے۔ اس میں مسلمان کل آبادی کا بارہ فیصدہیں۔یہ راجوری سے 700کلومیٹرفاصلے پر ہے۔

دہلی دروازہ

دہلی دروازہ مغل بادشاہ اکبر (دورحکومت: 11 فروری 1556 تا 27 اکتوبر 1605)نے تعمیر کرایا تھا، یہ شہر کی فصیل کے مشرق میں واقع ہے،اس کو دہلی دروازہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا رخ دہلی کی جانب ہے،دہلی گیٹ سے گزر کر جب مسجد وزیر خان کی طرف چلیں تو ایک اور دروازہ آپ کا استقبال کرتا ہے جسے چٹا دروازہ کہتے ہیں جو 1650 ء میں تعمیر ہوا۔

دہلی یا دلی

دہلی یا دلی بھارت کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی سرحد شمال،مغرب اور جنوب میں ہندوستان کی ریاست ہریانہ سے ملتی ہے،جبکہ مشرق میں یہ اتر پردیش سے منسلک ہے۔دہلی شہر بھارت کا ممبئی کے بعد دوسرا اور دنیا بھر کا تیسرا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے، اس کی آبادی اڑھائی کروڑ سے زائد ہے، اس کا رقبہ 1،484 مربع کلومیٹر (573 مربع میل) ہے، دریائے جمنا کے کنارے یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح سے آباد ہے۔تاریخ میں یہ کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے، 1920ء کی دہائی میں اس قدیم شہر کے جنوب میں ایک نیا شہر ”نئی دہلی“ بسایا گیا جو کہ موجودہ بھارت کا دار الحکومت ہے، فی زمانہ دہلی بھارت کا اہم ثقافتی، سیاسی وتجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ستمبر 2012ء کے مطابق قومی دار الحکومت علاقہ دہلی گیارہ اضلاع پر مشتمل ہے۔جامع مسجد دہلی، فتحپوری مسجد، سنہری مسجد (لال قلعہ) دہلی اور سنہری مسجد (چاندنی چوک) اہم مساجد ہیں جبکہ جامع مسجد (بھارت کی سب سے بڑی مسجد)، لال قلعہ، قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ دہلی کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات ہیں۔سیاحتی مقامات میں مقبرہ ہمایوں، لال قلعہ، لودھی باغ، پرانا قلعہ، جنتر منتر، قطب مینار، باب ہند اور دہلی کے آہنی ستوں (Iron pillar)کی دنیا بھر میں خاص اہمیت ہے۔

دولت مملوکیہ

دولت مملوکیہ کو سلطنت مملوک بھی کہاجاتاہے،اسے ایوبی سلطنت کے زوال کے بعدمصراورشام میں 1250ء میں عز الدین ترکمانی نے قائم کیا،بحری مملوک ملک صالح ایوبی کے ترک غلام تھے،اس نے انہیں دریائے نیل کے کنارے آبادکیا،بعدمیں یہ حاکم بنے اور1389ء تک حکمرانی کی، اس کے بعدبرجی مملوک (قفقاز کے سرکیشی غلاموں)کی حکومت شروع ہوئی جوالاشرف طومان بیگ دوم کے دورِحکومت 1517ء تک قائم رہی، پھر مصرسلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔ یوں دولت مملوکیہ کا دورحکومت 267سال پر محیط ہے۔

دیوہ شریف

دیوہ شریف ہندکی ریاست اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کامشہور قصبہ ہے جو بانیِ سلسلہ وارثیہ، سرکار وارث پاک حضرت حافظ سید حاجی وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزارکی وجہ سے مشہور ہے۔آپ کی ولادت 1238ھ کو دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی،یوپی، ہندمیں ہوئی اور وصال یکم صفر 1323ھ کو فرمایا۔(2)

راجستھان

راجستھان کے لغوی معنی راجاؤں کی جگہ یا سر زمین ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے اسے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا۔اس میں بولی جانے والی چار بولیاں مارواڑی یا میواڑی، مالوی، جے پوری اور میواتی اہم ہیں۔ راجستھان بھارت کی ایک شمالی ریاست ہے۔ یہ بہ لحاظ ِرقبہ بھارت کی سب سے بڑی اوربہ اعتبارِ آبادی ساتویں بڑی ریاست ہے۔ راجستھان بھارت کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے،اس کی زیادہ تر سر زمین بنجر اور بے آب وگیاہ(بغیر پانی ودرخت ) صحرائے تھر پر مشتمل ہے جو سندھ میں پہنچ کر تھر اور پنجاب میں تھل (چولستان) کہلاتا ہے، راجستھان کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر جے پور (Pink City)ہے۔دیگر اہم شہروں میں الور، جودھ پور،اودھے پور،کوٹہ،بیکانیر اور سوائی مادھو پور ہیں۔ راجستھان میں ہندو مت،جین مت اور قدیم سندھی تہذیب وثقافت کے اہم آثار موجود ہیں۔اس کا پہاڑ کوہِ آبو (Mount Abu) اپنی دل کشی کے ساتھ ساتھ جین مت کے مقدس استھان (دیوتاؤں کے رہنے سہنے کی متبرک جگہ)کے طور پر بھی مشہور ہے۔ راجستھان کو ایک عظیم شرف یہ حاصل ہے کہ اس کے شہر اجمیر شریف میں سلطانُ الہند،خواجہ غریب نواز،معین الدین حضرت خواجہ سید حسن سجزی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ پُرانوار ہے،جس کی زیارت کرنے کے لیے ہند بلکہ دنیا بھر سے سالانہ کروڑوں لوگ آتے اور آپ کے فیوض وبرکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ راجستھان میں دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں مشہور سلسلہ کوہ اراولی پربت(کالا پہاڑ) بھی ہے۔ بھرت پور، راجستھان میں پرندوں کے لئے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل مشہور کیولاڈیو نیشنل پارک ہے اور تین نیشنل ٹائیگر ریزروس(National tiger reserves) ٭سوائی مادھوپور میں رنتھمبور نیشنل پارک ٭ الور سرسکا ٹائیگر ریزرو اور٭کوٹہ میں مکندرہل ٹائیگر ریزرو ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل یہ علاقہ 26چھوٹی بڑی خود مختار یا نیم خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھا جس میں سے ایک ریاست الور بھی تھی۔

راجوری (Rajouri)

راجوری کشمیرکا ایک ضلع ہے، یہ سری نگرسے 155اورجموں سے 150کلومیٹرفاصلے پر ہے۔اس میں غلام شاہ بادشاہ کے نام سے ایک یونیورسٹی بھی ہے۔ راجہ نورالدین خان راجوری نے 1194ء میں یہاں جرال راجپوت مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔جو 21 اکتوبر1846ء تک قائم رہی۔ اس کی کل آبادی 42 ہزارہے جن میں 39 فیصد مسلمان ہیں۔اس کی سرحدجانب جنوب مغرب ضلع بھمبرسے ملتی ہے۔اس کی 13 تحصیلیں ہیں۔

رٹول(Rataul)

رٹول تحصیل کھیکڑا (Khekada)ضلع باگپت(Bagpat)یوپی،ہند کا قصبہ ہے،جو دہلی سے 25 کلومیٹر اور الور سے جانبِ شمال 208کلومیٹر دور واقع ہے،برطانوی حکومت میں یہ اہم قصبہ تھا،اس میں حکومتی کورٹ لگتی تھی،یہاں کے لوگوں نے تحریک خلافت میں بڑی گرم جوشی سے حصہ لیا تھا۔کافی عرصہ یہ ضلع میرٹھ کا حصہ رہا۔یہاں کے باشندہ شیخ محمد آفاق فریدی نے سب سے پہلے رٹول آم کی نسل تیار کی۔ کیونکہ ان کی زوجہ کا نام انور تھا چنانچہ اس کے نام پر اس آم کا نام شیخ صاحب نے انور رٹول رکھا۔یہ آم بہت میٹھا اور خوشبو دار ہوتا ہے،ایک کمرے میں دو آم رکھے جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پورا کمرہ آموں سے بھرا ہوا ہے۔ تقریباً 1900ء سے رٹول میں آم کی 200 سے زیادہ اقسام اگائی جا رہی ہیں اور بہت سی دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہیں۔ ان کو کئی بار آموں کے بادشاہ(king of mangoes)کا بین الاقوامی اعزاز دیا جا چکا ہے۔

روہتک

روہتک ہند کی ریاست ہریانہ کا ایک ضلع ہے۔ یہ ہریانہ کے جنوب مشرق میں اور دہلی کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ شمال میں جُند اور سونی پت اضلاع، مشرق میں جھجر اور مغرب میں حصار اور بھیوانی کے اضلاع ہیں۔ روہتک شہر ضلع ہیڈکوارٹر ہے۔

رے شہر(City of Ray)

رے شہریہ شمالی ایران کا تاریخی شہرہے اس کے کھنڈرات ایران کے موجودہ دارالحکومت تہران کے مضافات میں موجودہیں،اس کی تاریخ پانچ ہزارسال سے زیادہ قدیم ہے۔

ریاست امب

ریاست امب ہزارہ ڈویژن کی ایک دولت مند،خودمختارنوابی ریاست تھی۔ ریاست امب کے پہلے نواب محمد انورخان تنولی تھے۔یہ 1710ء میں اس کے پہلے نواب تھے۔برطانوی حکومت نے 1819ء میں اسے بطورریاست قبول کیا۔ اس کے چھٹے نواب پائندہ خان تنولی حکمران تھے۔اس کے دسویں نواب فرید خان تنولی نے اس کاالحاق 17ستمبر1947ء کو پاکستان سے کرنے کا اعلان کیا۔1969ء تک یہاں کا نظام بطور شاہی ریاست قائم رہا، 1969ء کو اسے انتظامی طورپر صوبہ سرحد(خیبرپختون خواہ)میں ضم کردیا گیا۔اس ریاست کا اثرورسوخ سوات، دیراورچترال تک تھا۔اس کی اپنی فوج، اسلحہ سازفیکٹری، ٹکٹ جاری کرنے والی پوسٹل سروس، محلات، مذہبی وزارت اوردیگرادارے تھے۔1901 میں ریاست کی کل آمدنی 36سے42 لاکھ تھی جب 1 تولہ سونے کی قیمت 20 برطانوی روپے تھی۔اس کا رقبہ 214 مربع میل اور آبادی 31 ہزار 622 تھی۔اس کاسرمائی دار الحکومت دربند(Darband) ایک تجارتی و ترقی یافتہ شہر جبکہ گرمائی دار الحکومت شیرگڑھ تھا۔ اہم علاقوں میں بانڈی شنگلی، شیر گڑھ، کروری، نیکہ پانی، درہ شنایا، سواں میرا، لساں نواب، پڑھنہ، پھلرا، جھوکاں، پلسالہ، بیٹ گلی، ناڑا امازئی، کالنجر اور بیڑ شامل تھے۔ 1974 میں تربیلا ڈیم کی وجہ سے امب کے دارالحکومت اور امب ریاست کے محلات مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے۔

ریاست رام پور (Rampur State)

ریاست رام پوریا مصطفیٰ آباد دہلی سے 214 کلومیٹر مشرق کی جانب ایک نوابی خود مختار ریاست تھی۔ اس کا رقبہ 900مربع میل تھا،یہ مراد آباد اور بریلی کے درمیان واقع تھی، اس کی بنیاد 1774ء میں روہیلا جنگجو نواب فیض اللہ خان بڑھیچ نے رکھی اور پونے دو سو سال قائم رہ کر 3جون 1949ء نواب رضا علی خان کے دورِ نوابی میں اس کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔اب یہ ہند کی ریاست اتر پردیش کا ضلع رامپور کہلاتا ہے۔ رام پور شہر کی آبادی کم و بیش تین لاکھ ہے۔یہاں کی رضا لائبریری (کتب خانہ رضا) اسلامی ثقافت وتہذیب سے متعلق کتب ہائے نوادر، قدیمی مخطوطات اور قلمی نسخوں کی وجہ سے مشہور ہے۔(3)

زاہد آباد چک2

زاہد آباد چک2 کشمیرکے ضلع کوٹلی کی تحصیل چڑھوئی کی یونین کونسل کوٹلی سوہلناں(Kotli Sohalnan) کی وارڈ بَل ڈماس کا ایک گاؤں ہے، یہ چڑھوئی شہر سے جانب شمال تقریباً 10کلومیٹراورکوٹلی شہر سے جانب جنوب مشرق تقریباً 32کلومیٹر مسافت پر ہے۔

زبید

زبیدیہ یمن کا ایک شہر ہے جوکہ صوبہ حُدَیده میں واقع ہے، زبیدکا نام وادی زبیدکے نام پررکھا گیا ہے، یہ وادی زبیدکے درمیان واقع ہے،اسکی جانب مشرق پہاڑ اور جانب مغرب بحراحمر (دریائے شور) ہے، دونوں کا فاصلہ حسن اتفاق سے 25،25کلومیٹرہے۔

سامراء

سامراء یہ عراق کا ایک تاریخی شہر ہے جو صلاح الدین صوبے میں دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ یہ بغداد کے شمال میں 125 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے شمال میں تکریت، مغرب میں الرمادی اور مشرق میں بعقوبہ ہے ۔ اس کو سر من رائے بھی کہتے ہیں یعنی جس نے دیکھا اس نے پسند کیا۔ یہ ساسانی دور سے ایک فوجی مرکز رہا اور اس کی یہ حیثیت اسلامی دور میں بھی رہی۔ اس میں امام علی ہادی اور امام حسن عسکری کے مزار مبارک مرجع خاص و عام ہیں۔

سٹی پیلس الور

سٹی پیلس 1793 ء میں تعمیر کیا گیا تھا،یہ راجپوتانہ اور اسلامی طرز تعمیر کا امتزاج ہے اور اس کے صحن میں کنول کی شکل کے اڈوں پر سنگ مرمر کے پویلین ہیں۔اس محل میں ایک ریاستی عجائب گھر ہے جو مخطوطات کا مجموعہ ہے،جس میں شہنشاہ بابر کی زندگی، محمد غوری،شہنشاہ اکبر اور اورنگزیب عالمگیر کی تاریخی تلواریں ہیں،اس میں ایک سنہری دربار ہے جو اب ضلعی انتظامی دفتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے،اس میں ڈسٹرکٹ کورٹ بھی ہے۔

سندیلہ

سندیلہ (Sandila)شریف،ہندکی ریاست اترپردیش کے ضلع ہردوئی کی ایک تحصیل اورقدیمی شہر ہے۔یہ ہردوئی اور لکھنؤ کے درمیان واقع ہے۔دونوں جانب کا فاصلہ 50کلومیٹرہے۔اس میں دسویں صدی ہجری کے بزرگ سید مخدوم علاؤالدین شاہ سندیلوی کا مزارمبارک بھی ہے۔تقریباً 60ہزارآبادی میں اکثر مسلمان ہیں۔اب یہ انڈسٹریل ایریا کے طورپر مشہورہے۔

سہارن پور

چھ سو سالہ پرانا شہر سہارن پور اتر پردیش کا شمال مغربی آخری ضلع ہے۔اس کے مغرب میں ہریانہ اور شمال میں اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش ہیں۔ شیخ طریقت میاں نور محمد جھنجھانوی چشتی، سید عابد حسین قادری راج شاہی،محدث کبیر علامہ احمد علی محدث سہارن پوری، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چشتی، فاتح عیسائیت مولانا رحمت الله کیرانوی عثمانی،محشئ مشکوة مولانا فیض الحسن سہارن پوری، صاحب انوار ساطعہ علامہ عبد السمیع رام پوری سہارن پوری، خلیفۂ امام احمد رضا مولانا مشتاق احمد کانپوری، مولانا سید محمد احمد قادری بانی جامعہ غوثیہ رضویہ سہارنپور رحمۃ اللہ علیہم جیسے علما ومشائخ اہل سنت کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔ اس ضلع میں دعوت اسلامی کا جامعۃ المدینہ فیضان ابو ہریرہ تیگرى بھی ہے۔

سہکی (sehki)

سہکی علاقہ تناول ضلع مانسہرہ خیبرپختون خواہ کا ایک گاؤں ہے جو مانسہرہ شہرسے جانب مغرب تقریباً 40 کلومیٹر مسافت پر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔

سوائی مادھوپور

یہ ہند کی ریاست راجستھان کا ایک شہر ہے جسے ضلع کا درجہ حاصل ہے یہ راجستھان کے دار الحکومت جے پور سے جانب ِ جنوب مشرق 176کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،اس کے سات کلومیٹر پر یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ رنتھمبور نیشنل پارک (Ranthambore National Park)موجود ہے جہاں ہر سال کثیر سیاح آتے ہیں۔

سیتاپور(Sitapur)

سیتاپور ضلع سیتاپور کا اہم شہر ہے جس میں جنکشن ریلوے اسٹیشن اور سٹی ریلوے اسٹیشن ہیں۔یہ مارہرہ سے تقریباً 284کلومیٹر جانب مشرق اور لکھنؤ سے جانب شمال مشرق 87 کلومیٹر پر ہے۔

شاہجہان پور

شاہجہان پور(Shahjahanpur)ہندکی ریاست اترپردیش کا اہم شہرہے۔یہ لکھنؤ اوربریلی کے درمیان واقع ہے۔ اس شہرکی آبادی 3لاکھ کے قریب ہے۔یہ مارہرہ سے جانب شمال 178کلومیٹر،بریلی سے جانب مشرق 77کلومیٹراورلکھنؤ سے جانب مغرب 178کلومیٹرہے۔

شوبر

شوبر مصر کے شہرطنطا(صوبہ غربیہ) کا ایک گاؤں ہے جس سے حضرت احمد شوبری کا تعلق تھا۔ چنانچہ میزان الادیان میں ان کی نسبت شومیری لکھی ہے، وہ درست نہیں۔ بلکہ درست شوبری ہے۔

ضلع حافظ آباد

حافظ آباد وسطی پنجاب کا ایک ضلع ہے۔اس کی دوتحصیلیں حافظ آباداور پنڈی بھٹیاں ہیں، اس کی آبادی 8لاکھ سے زیادہ ہے۔پہلے یہ ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل تھی، اسے1998ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔ ضلع حافظ آباد کے شمال میں دریائے چناب اور ضلع منڈی بہاءالدین، جنوب میں شیخوپورہ، مغرب میں سرگودھا اور جھنگ اور مشرق میں گوجرانوالہ ہے، ضلع حافظ آباد کا کل رقبہ 2.367 مربع کلومیٹر ہے۔اس میں چاول اورکپاس کی فصل زیادہ ہوتی ہے۔

فراوہ

فراوہ دہستان اورخوارزم کے درمیان ایک شہرہے جسے رباط فراوہ بھی کہاجاتاتھا، اسے عباسی خلیفہ مامون کے زمانے میں عبد اللہ بن طاہرنے بنایاتھا،اب یہ ترکمانستان کے صوبے بلخان کا ایک شہرہے، اسے پَراو بھی کہاجاتاہے۔

فِرَبْر

فربر شہرترکمانستان کے صوبہ لب آب میں دریائے جیحون(Amu Darya) کے قریب واقع ہے۔

فرخ آباد

فرخ آباد شمالی بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک شہر ہے۔جو آگرہ سے 175کلومیٹرجانب مشرق اور لکھنؤ سے جانب مغرب 164کلومیٹرہے۔

فیروز پور

فیروز پور مشرقی پنجاب کا ایک شہرہے، یہ پاکستان کے ضلع قصور کے قریب ہے، تقسیم ہندسے پہلے اس کی 50فیصدسے زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔

فیض آباد

فیض آباد ہند کے صوبے اترپردیش کا اہم شہرہے یہ دریائے گھاگھراکے کنارے واقع ہے،یہ 1722ء تا 1775ء تک نوابی ریاست اودھ کا دارالحکومت رہا اورخوب ترقی کی،اس کےبعد لکھنو (یوپی ہند)کو ریاست کا دار الحکومت بنا دیا گیا۔

قزوین

قزوین ایران کا مشہورشہرہے۔ یہ ایران کے دارالحکومت تہران سے جانب مغرب 130کلومیٹرکے فاصلے پرواقع ہے جبکہ اس کے شمال میں بحیرہ قزوین کا ساحل ہے۔ یہ شہرسلطنت فارس کا صدرمقام بھی رہا ہے،اس میں کئی تاریخی عمارتیں ہیں۔

کاکول (Kakul)

کاکول ایبٹ آبادکے صحت افزامقام ٹھنڈیانی پہاڑی کے قریب ایک خوبصوت علاقہ ہے، یہ یہاں قائم پاکستان ملٹری اکیڈمی کی وجہ سے مشہورہے۔

کچھوچھہ شریف

کچھوچھہ شریف تحصیل اکبرپورضلع امبیڈکرنگرکا ایک قصبہ ہے جو پہلے ضلع فیض آبادمیں واقع تھا۔اس کا قریبی ریلوے اسٹیشن اکبرپورہے جو اس سے 23کلومیٹرہے۔اس کی آبادی تقریباً 14ہزارہے جس میں مسلمان 39فیصد ہیں۔

کلیرشریف

کلیرشریف ہند کی شمالی ریاست اترا کھنڈ کے سابق ضلع سہارنپور اور موجودہ ضلع ہردوار کا ایک قصبہ ہے جسے ہند کے بادشاہ ابراہیم لودھی نے بنایاتھا۔یہ روڑکی شہرسے 7 کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔سلسلہ چشتیہ صابریہ کے بانی حضرت صابرپاک سید علاؤ الدین صابرکلیری رحمۃ اللہ علیہ نے یہیں وصال فرمایا۔یہاں آپ کا مزار دریائے گنگا کے کنارے مرجع خلائق ہے۔ربیع الاول میں یہاں عرس ہوتا ہے جس میں دنیا بھرسے مسلمان شرکت کرتے ہیں۔

کنجلی بَن

کنجلی بَن نجیب آباد، اترپردیش ہند کے مضافات میں واقع جنگل تھا جو اُس وقت انتہائی گھنا اور ہر طرح کے درندوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس جنگل کی ایک حد نیپال اور چین کو چھوتی تھی۔

کنڈی اورعمرخانہ

کنڈی اورعمرخانہ دو گاؤں ہیں، بہت قریب ہونے کی وجہ سے انہیں ملاکربھی بولاجاتاہے، یہ خیبر پختون خواہ کے ضلع ہری پورکی تحصیل تربیلاغازی میں واقع ہیں، ضلع اٹک متصل ہونے کی وجہ سے اسے ضلع اٹک میں بھی شمار کر لیا جاتاہے۔

کوکل (Kokal)

کوکل تحصیل وضلع ایبٹ آبادکی ایک یو سی اور مغرب میں ضلع ہری پورکے قریب ایک گاؤں ہے۔

گجرات سٹی

گجرات سٹی پاکستان کے صوبہ پنجاب کاایک اہم شہرہے جوپنجاب کے شمالی علاقے میں لاہورسے 120 کلومیٹر دور ہے، اس کے قریب جانب جنوب دریائے چناب ہے، اس کی تحصیلیں گجرات،کھاریاں اور سرائے عالمگیرہیں، گجرات بجلى كے پنكھوں، فرنیچر سازی، برتن سازی اور جوتوں كی صنعت ميں مشہور ہے۔

گنج مرادآباد

گنج مرادآباد(Ganj Muradabad)ہندکی ریاست اترپردیش کے ضلع اُناؤ( Unnao)کی تحصیل صفی پورکاایک ٹاؤن ہے۔یہ کانپورسے جانب جنوب مشرق 85کلومیٹر،لکھنؤ سےجانب شمال مغرب 90 کلومیٹر، ملاواں سے جانب جنوب مشرق 9کلومیٹر اور الورسے جانب مشرق 423کلومیٹر ہے۔اس کی کل آبادی تقریباً 11ہزار ہے۔ دربار عالمگیری وشاہجہانی کے مقرب نواب کریم شیرعلوی کی ضلع بستی تک کافی جاگیر تھی۔ان کے دوبیٹے تھے: نواب مراد شیر علوی اور نواب سلطان شیر علوی۔ انھوں نے اپنے بیٹے نواب مراد شیر علوی کے نام سے ایک نیا شہر مراد آباد قائم کیا اورایک قصبہ سلطان گنج بنایا۔ مراد آباد سنبھل سے اشتباہ کی وجہ سے نئے شہرکو گنج مرادآباد کا نام دیا گیا۔(4)

گورداسپور

گورداسپور بھارت کے صوبے مشرقی پنجاب میں ایک شہر ہے جو ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد چشتی قادری کے مرشد حضرت صوفی شاہ سراج الحق گورداسپوری چشتی صابری کا مزار یہیں ہے۔یہ ہند کا سرحدی ضلع ہے جو پاکستان کے ضلع نارووال سے متصل ہے،لاہور سے گورداسپور کا فاصلہ تقریباً 109کلومیٹر ہے۔

لال قلعہ

لال قلعہ دہلی کی ایک قدیم عمارت ہے جسے مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنے دورِ حکومت (1628ء تا 1658ء) میں بنایا، اس میں تخت ِ طاؤس بھی ہے جس پربیٹھ کربادشاہ حکمرانی کیاکرتے تھے،اب یہ ایک تاریخی عمارت کے طور پر یادگار ہے، اس کے دو دروازے ہیں،دلی دروازہ اور لاہور دروازہ،اس تاریخی عمارت کودیکھنے کے لیے لوگ دوردورسے آتے ہیں۔
1 حیات کرم حسین،ص22، 23، 67، 68، 126 2 آفتابِ ولایت، ص46،170 3 عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست،ص32 4 افضال رحمانی،ص128

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن