30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب 12 فصل 2:
امام المحدثین کے تلامذۂ پنجاب
امام المحدثین نے تقریباً 16 سال لاہورمیں گزارے، جن میں چار سال دارالعلوم نعمانیہ میں تدریس کی اور دو سال انفرادی طورپر مسجد وزیر خان میں اورپھر دارالعلوم حزب الاحناف میں 12 سال تدریس فرماتے رہے، پنجاب کے کثیر علمائے کرام آپ کے شاگردہیں، ان میں سے جن کے حالات زندگی مل سکے ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
محمد مہر الدین جماعتی
استاذالعلماء،ملک المدرسین، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مہر الدین جماعتی کی ولادت ننھیال کے ہاں موضع خاصہ ضلع امرتسر،پنجاب کے زمین دارگھرانے میں1319ھ مطابق1901ء کو ہوئی۔ آپ کے آباؤ اجداد دوآبہ ضلع جالندھرسے ہجرت کرکے موضع جمال پور،نارووال روڈضلع لاہور مقیم ہوگئے۔ اسکول کی چار کلاسیں پڑھی تھیں تو1909ء میں والدگرامی چوہدری روشن دین کا انتقال ہوگیا۔ اس وجہ سے تعلیم منقطع کرکے بھائیوں کےساتھ کھیتی باڑی میں مصروف ہوگئے۔جب اٹھارہ سال کے ہوئے تو محکمہ راشن میں ملازمت کرنے لگے۔ اللہ پاک کے کرم سے جب آپ کی عمر 20 سال ہوئی تو دل میں تحصیل علم دین کا شوق پیدا ہو گیا۔ چنانچہ ملازمت چھوڑکر اس راہ کے مسافربن گئے۔مدرسہ کریمیہ جالندھر، جامعہ نعمانیہ لاہور وغیرہ کے اساتذہ بالخصوص استاذ المدرسین مولانا مہر محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ سے کتب دینیہ پڑھ کر دارالعلوم حزب الاحناف میں داخلہ لیا اوردورہ حدیث کرکے1348ھ مطابق 1929ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔جبکہ علامہ عبد الحکیم شرف قادری کے نزدیک آپ کی فراغت 1346ھ مطابق1926ء کو ہوئی۔ حکمت کی بھی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور1954ء میں امتحان دے کر افتخار الطب کی سند پائی۔ آپ شیخ طریقت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ علی پور سیداں سے متاثرہوئے اوران کے دست مبارک پر سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ جماعتیہ میں مریدہوگئے۔
فراغت کے بعد تقریباً 13 مختلف مدارس میں تدریس کی جن میں سے 9 سال دارالعلوم نعمانیہ لاہور، ایک ایک سال جامعہ برکات العلوم گنج مغلپورہ لاہور اور جامعہ حنفیہ قصور میں پڑھاتے رہے، آخرمیں جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں 1975تا1977ء شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔زمانہ تدریس میں نیویں مسجد نیا بازارشاہ عالم مارکیٹ لاہور میں مدرسہ غوثیہ لاثانیہ کی بنیاد رکھی تقریباً چار سال اس میں بھی پڑھایا۔مفسرِ قرآن علامہ نبی بخش حلوائی کے قائم کردہ مسجدومدرسہ نبویہ بیرون دہلی دروازہ نزد سٹی کوتوالی میں جز وقتی استاذ اور بعد میں استاذ اعلیٰ اور نگران شعبہ تصنیف وتالیف مقرر ہوئے، اس شعبے کے ذریعے علامہ حلوائی کی کتابیں شائع ہوتی تھیں، علامہ مہرالدین جماعتی صاحب کو بھی تصنیف وتالیف سے لگاؤ تھا اس لیے آپ نے بھی فی سبیل اللہ اس شعبے میں اپنی خدمات پیش فرمائیں۔ایک قول کے مطابق 10 سال تک آپ نے دار العلوم حزب الاحناف میں پڑھایا جبکہ پیر زادہ اقبال احمد فاروقی صاحب آپ کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ اس دار العلوم (حزب الاحناف)کے ناموراساتذہ میں سے ایک عالم دین مولانامہرالدین جماعتی نے تدریسی اورفنی دنیا میں بڑا مقام پایا۔انہوں نے پورے 40 سال دار العلوم حزب الاحناف کے طلبہ کو پڑھایا۔بڑے زبردست مدرس تھے، صرفی، نحوی،منطقی،معقولی۔بیانی ولسانی ہرشعبہ ٔ فن میں کمال رکھتے تھے۔(1)
1969 ء میں آپ نے چاہ میراں لاہور میں دار العلوم جامعہ معینیہ یا امینیہ کی بنیادرکھی۔ کثیرعلمانے آپ سے استفادہ کیا۔آپ ایک بلندپایہ عالم دین، ماہرتعلیم، جامع معقول ومنقول، علوم درسیہ میں نہ صرف کامل دسترس رکھتے تھے بلکہ ان کی تدریس میں یدِطولیٰ رکھتے تھے۔ آپ نہایت سادہ طبیعت، حسن اخلاق کے پیکر اور امت کا درد رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔آپ کثیر الفیض مدرس اورمحقق اہل سنت تھے۔ تدریس کے ساتھ آپ نے عربی کتب کے حواشی، ترجمہ اورکتب کی تصنیف پر بھی توجہ فرمائی اور تقریباً دس تصانیف کے نام آپ کے حالات زندگی میں ملتے ہیں۔ مثلاً تسہیل المبانی شرح مختصر المعانی آپ کی بہترین اردوشرح ہے، اسے آپ نے 1955ء میں مکمل فرمایا، میرے پیش نظر برکاتی پبلشرز کراچی کا شائع کردہ نسخہ ہے جس کو اکتوبر2000ء کوشائع کیا گیا ہے، اس کی کتابت 12دسمبر1976ء میں مولانا شاہ محمد قصوری صاحب نے کی اور کتاب کے شروع میں شارح کے مختصر حالات بھی تحریرکئے، اس کے کل صفحات 628 ہیں۔علما نے اسے طلبہ کےلیے سب سے معیاری اردو شرح قرار دیا ہے۔اسی طرح اسلام میں تصور شفاعت بھی آپ ہی کی کتاب ہے جسے مکتبہ جمال کرم لاہور نے 235صفحات پر شائع کیا ہے۔شفاعت سے متعلق تمام ابحاث کو اس کتاب کاحصہ بنایا گیاہے۔اس کے علاوہ مرتد فرقہ قادیانیہ کے رد میں آپ نے 116صفحات پرمشتمل کتاب حیات عیسیٰ بھی لکھی۔ بقیہ کتب ورسائل میں فیصلہ شرعیہ برحرمت تعزیہ، حل قطبی اردو،مسائل رمضان، الندا بحرف الیاء، مسائل شبِ برأت، ردِّخاکسار اور بہارِجنت ہیں۔(2) مجالس علماء میں ہے: مولانامہرالدین جماعتی بڑے شفیق استاد تھے۔ چاہ میراں کے نزدیک اپنا گھر بنایا اور دربار میراں حسین زنجانی میں جامعہ معینیہ کے بعض طلبہ کو پڑھانے میں مصروف رہے۔(3)آپ کا وصال 12ربیع الاول 1408ھ مطابق 5نومبر 1987ء میں ہوا،لاہورسٹی کے میراں زنجانی قبرستان میں جانب مغرب تدفین ہوئی۔(4)راقم 6دسمبر2023ءکو برادران اسلامی کے ساتھ ان کے مزارپر حاضرہوا۔
محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری
امام المحدثین کے قابلِ فخر اور مؤثر ترین شاگردوں میں فقیہ اعظم مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری بھی ہیں، آپ جیدعالم دین، فقیہ اسلام، استاذ العلماء،صاحب فتاویٰ نوریہ اور سلسلہ قادریہ نوریہ کے بانی ہیں۔ 16رجب1332ھ مطابق 10جون 1914ء کو موضع سوجیکی ضلع اوکاڑہ کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔آپ کے آباؤ اجداد ملوٹ ضلع فیروز پور مشرقی پنجاب کے رہنے والے تھے۔
آپ اپنے والد مولانا محمد صدیق چشتی اور دادا مولانا احمد الدین سےعلم حاصل کرنےکے بعد محدث بہاولنگری حضرت مولانا فتح محمد بہاولنگری کی خدمت میں حاضرہوئے۔علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل کے بعد دورہ حدیث کے لیے دار العلوم حزب الاحناف آئے اور6شعبان1352ھ مطابق 23نومبر1933ء کو سند فراغت ودستارفضلیت سے سرفرازہوئے۔امام المحدثین آپ کے کلاس فیلوز سے اکثر فرمایا کرتے تھے:اس بار تم مولانا نور اللہ کے طفیل پڑھ رہےہویعنی دورۂ حدیث شریف کررہے ہو۔(5)
فقیہ اعظم نے صدر الافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور سلسلہ قادریہ میں بیعت کی پھر خلافت سے نوازے گئے۔ ان کے علاوہ امام المحدثین اور ان کے فرزند مفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابو البرکات سید احمد قادری صاحب سے بھی مختلف سلاسل طریقت کی اجازات حاصل تھیں۔فقیہ اعظم نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد دو جگہ پڑھایا، پھر 1357ھ مطابق 1938ء کو بصیرپور میں دار العلوم حنفیہ فریدیہ قائم فرمایا جو اب بھی فیضان علم بانٹ رہا ہے۔راقم کے استاذی مکرم فرمایا کرتے تھے: قریب کے سو سالوں میں برعظیم پاک وہندمیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی کے بعد فقہی بصیرت اور مجتہدانہ صلاحیت جس میں سب سے زیادہ ہے ان کا نام مفتی محمد نور اللہ نعیمی ہے۔ مفتی اعظم مولانا شاہ ابوالبرکات شاہ صاحب نے آپ کو فقیہ زماں، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتی اعظم اور فقیہ اعظم وغیرہ جلیل القدر القاب سے ممتاز فرمایا ان گوناگوں اور متنوع القاب میں سے فقیہ اعظم کا لقب زبان زد خاص و عام ہے۔آپ عالم باعمل، مفتی اسلام،نعت گوشاعر،پابندشریعت شیخ طریقت، کثیرالتلامذہ اور6جلدوں پر مشتمل فتاویٰ نوریہ(6) کے مصنف ہیں۔آپ کی دیگرکتب میں تعلیم الکتابۃ للنساء ،الادب المفرد، حدیث الحبیب، نور نعیمی، مکبّر الصوت، فئی الزوال (عربی)،حُرمتِ زاغ،مسئلہ سایہ،روزہ اور ٹیکہ، ابداء بشریٰ بقبول الصّلٰوۃ فی الضحوۃ الکبرٰی شائع شدہ ہیں، غیر مطبوعہ میں ایک نعتیہ دیوان عربی، فارسی، پنجابی اور اُردو پر مشتمل ہے اس کے علاوہ بخاری شریف اور مسلم شریف پر حواشی بھی ہیں جو ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔ آپ بہترین شاعرتھے، جس کے دومجموعے نغمائے بخشش اور نور القوانین (مجموعہ قواعد منظوم بزبان پنجابی) مطبوع ہیں۔ آپ مؤثرشخصیت کے مالک تھے۔آپ کے مریدین اپنے نام کے ساتھ نوری نسبت لگاتے ہیں۔ آپ کا وصال یکم رجب 1403ھ مطابق 15 اپریل 1983ء کو ہوا، آپ کا مزارشریف بصیرپورشریف ضلع اوکاڑہ میں ہے،جس پر گنبدتعمیرہوچکا ہے، آپ کا عرس ہرسال منعقد ہوتا ہے،علامہ محمد محب اللہ نوری صاحب آپ کے فرزنداورجانشین ہیں۔ (7)راقم دومرتبہ آپ کے مزار پر حاضری کا شرف پا چکاہے۔
عبدالعزیز مجددی
مفتیٔ الگوں حضرت مولانا مفتی ابو التمیز عبد العزیز مجددی کی پیدائش، علاقے، خاندان اورابتدائی تعلیم کے حالات سے آگاہی نہ ہوسکی، اتنا معلوم ہواہے کہ ابتدائی تعلیم کے دوران درست رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے عقائدومعمولات اہل سنت میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو کر راہِ مستقیم سے ہٹ گئے۔ خوش قسمتی سے اپنے کلاس فیلو فقیہ اعظم حضرت مفتی نور اللہ نعیمی کے اصرار پر دورہ حدیث شریف کے لیے دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں حاضر ہوئے۔بعض لوگوں کا مؤقف تھا کہ انہیں دار العلوم میں داخلہ نہ دیا جائے مگر امام المحدثین نے نہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ خصوصی توجہ فرمائی۔ آپ خودفرماتے ہیں: اس وقت امام اہل سنت شیخ المحدثین ابو محمد سید دیدار علی شاہ صاحب مشہدی نقشبندی رضوی کے دورہ حدیث کی برصغیر میں دھوم تھی اور آپ کی سند حدیث بھی ارفع و اعلیٰ تھی،حضرت امام العرفاء سید دیدار علی شاہ صاحب جنہیں تمام طلبہ ابا جی کے لقب سے پکارا کرتے تھے، نے فرمایا: اسے یہاں لے آئیں اگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ہدایت منظور ہے تو کام بن جائے گا،چنانچہ میری زندگی میں وہ لمحہ سعادت بھی آیاجب مجھے حزب الاحناف میں مولانا (مفتی نور اللہ نعیمی)کی محنت اور سفارش کی وجہ سے داخلہ مل گیا۔حضرت ابا جی نے طلبہ کو مجھ سے الجھنے سے سختی سے منع فرما دیا، حتی کہ میں حضرت سیدی ابا جی پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا، لیکن آپ عالی حوصلگی اور وسعت ظرفی کے ساتھ سوال اور اندازِ سوال کو برداشت فرماتے، جواب دیتے اور جب تک مطمئن نہ ہو جاتا آگے نہیں چلتے تھے۔(8)چندہی دنوں میں امام المحدثین کےبہترین دلائل اورسمجھانے کے دلربا اندازسے تمام شکوک کافور ہو گئے اور مذہب حقہ اہل سنت کا ایسا رنگ چڑھا کہ مفتی عبدالعزیز تمام عمردین متین کی احسن انداز میں خدمت اوراہل باطل کی سرکوبی میں مصروف رہے، شیخ التصوف علامہ سیدمحمدعلی رضوی تحریر فرماتے ہیں:ایک مرتبہ مفتی نور اللہ بصیرپوری نے اپنے ہم سبق حضرت مولانا عبدالعزیزمرحوم کی شکایت کی کہ ان کو ان مسائل میں قدرے اشکال ہے، آپ(امام المحدثین) نےطلب فرمایااورسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فضائل وکمالات پرمدلل تقریرفرمائی اورساتھ ہی ارشاد فرمایا: اگر اب بھی تسلی نہیں ہوئی اور کچھ اشکال باقی ہے تو سرکارابدقرارمدنی تاجدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے تصدیق کراؤں ؟(9) آپ کے ان الفاظ میں ایسی تاثیر تھی کہ مولانا عبد العزیز صاحب کے شکوک وشبہات دور ہو گئے۔ مولانا عبد العزیز صاحب 6شعبان1352ھ مطابق 23نومبر1933ء کو فارغ التحصیل ہوئے اوراسی سال لاہورکے علاقے الگوں میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کی بنیاد رکھی اور یہاں کے مفتی مقرر ہوئے، قیام پاکستان کے بعد یہ علاقہ ہند کا حصہ بن گیا تو آپ بورے والا،ضلع وہاڑی پنجاب تشریف لے آئے اوریہاں کی جامع مسجدغلہ منڈی میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کا اجرا فرمایا۔26رجب 1370ھ مطابق 3مئی 1951ء میں اس مدرسے کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا، کثیر علما نے اس سے استفادہ کیا۔مفتی صاحب حضرت میاں غلام اللہ لاثانی شرقپوری مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔آپ کا وصال 10ذیقعدہ 1380ھ مطابق 26 اپریل 1961ء کو بورے والا میں ہی ہوا۔خطیب اہل سنت حضرت علامہ سیدمحفوظ الحق شاہ ضیائی قادری آپ کے مشہورشاگردہیں۔(10)
غلام دین اشرفی
خطیب پاکستان مولانا غلام دین اشرفی کی ولادت موضع چکوڑی بکھو ضلع گجرات کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔والدحضرت مولانا میاں سَید احمد عالم دین اور صالح انسان تھے۔قرآن کریم والد گرامی سے پڑھ کر قریبی قصبے کنجاہ سے سات کلاس تک اسکول میں پڑھے، درس نظامی کی ابتدائی کتب مقامی علما مولانا عبد اللہ کنجاہی اور مولانا فضل حق ٹھیکریاں سے پڑھ کر لاہورآگئے، 1252ھ مطابق1933ء کو دارالعلوم حزب الاحناف لاہور سے فارغ التحصیل ہوئے، شیخ المشائخ، شبیہ غوث اعظم حضرت مولانا سید شاہ علی حسین کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف پایا، مرشد نے 15جنوری1936ء کو سلسلہ اشرفیہ کی خلافت اور عبید اللہ شاہ کا لقب عطافرمایا۔(11)فارغ التحصیل ہونے کے بعد انجن شیڈ لاہورمیں ایک خس پوش مسجد میں خطبہ ٔ جمعہ دینا شروع فرمایا، آپ کی آوازمیں چاشنی تھی،سینے میں جوانی کا جوش تھا،عارف کشمیر میاں محمدبخش کے شعر ازبر تھے، ریلوے مزدوروں کا مجمع تاحدنظرجمع ہوجاتا، آپ نے اپنی خوش نوائی اورسحرالبیانی سے لوگوں کے دل موہ لئے، انہیں تعمیر مسجد کی جانب توجہ دلائی، دیکھتے ہی دیکھتےوسیع وعریض جامع صدیقیہ تعمیر ہو گئی، بقول شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری، صدیقیہ مسجد بادشاہی مسجداوروزیرخان مسجد کے بعد سب سے بڑی مسجد ہے۔ صاحبِ مجالس علماء تحریرکرتے ہیں:وہ صبح کی نمازکے بعد قرآن کادرس دیتے۔اس درس میں لاہورکے مختلف علاقوں کے لوگ شریک ہوتے۔آپ قرآن کی تفسیرکے ایسے ایسے نکتے ذہن نشین کراتے جودل ودماغ کو درخشاں کردیتے۔مجھے آپ کے کئی درسوں میں شرکت کا موقع ملا۔حقیقت یہ ہے کہ آج نصف صدی گزرگئی مگرمولاناکے اندازِ بیاں کا نقش ایک سرور بن کر ذہن پر چھایا ہوا ہے۔(12) آپ مسجدمیں ترجمہ قرآن اوردرس نظامی کی ابتدائی کتب بھی پڑھایا کرتے تھے۔شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب کے والدمحترم حافظ اللہ دتہ ہوشیار پوری لاہوری نے آپ سےقرآن پاک کے 22پاروں کا ترجمہ پڑھااورشرف ملت نے بدائع منظوم کے چنداسباق پڑھے۔آپ حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے 24فروری 1957ء کو لاہورسے روانہ ہوئےاور30جولائی کو واپس آئے۔(13)
آپ نے تحریک پاکستان وتحریک ختم نبوت میں فعال کرداراداکیا، قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں، آپ قادرالکلام اورسامعین پرچھا جانے والے مقررہونے کے ساتھ اچھے مصنف بھی تھے، فضائل امام اعظم، فضائل درودشریف اوررفیق الواعظین آپ کی تالیفات ہیں۔آپ کا وصال 10شعبان 1390ھ مطابق 12 اکتوبر1970ء کو ہوا،مزارجامع مسجد حنفیہ صدیقیہ انجن شیڈ مغل پورہ روڈ لاہورکے جنوبی جانب ہے،جس پر گنبدبھی تعمیرکیاگیاہے، مولانا محمدرفیق اشرفی آپ کےصاحبزادےو جانشین اور جامع مسجد صدیقیہ کے متولی مقرر ہوئے۔ نیز خطیب پاکستان مولانا محمد شریف نوری قصوری ابن مولانا محمد دین چکوڑوی آپ کے قابل فخر بھتیجے تھے۔(14)
محمد بشیر قادری برکاتی
یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد بشیر قادری برکاتی امام المحدثین کے شاگرد، حضرت شاہ ابوالبرکات سید احمد قادری کےمریدوخلیفہ،دارالعلوم حزب الاحناف کے فارغ التحصیل اورلاہورکے علاقے گڑھی شاہوکے خطیب تھے۔آپ کی پیدائش موضع پڑی درویزہ ضلع جہلم پنجاب میں 1340ھ مطابق 1921ء کو ایک دینی گھرانے میں ہوئی۔والدمحترم مولانا محمدعظیم اسکول ٹیچراورگاؤں کی مسجدکے امام تھے۔آپ کی عمرآٹھ نوسال تھی تو والدمحترم کا انتقال ہوگیا، آپ کی والدہ نے پرورش کی اورمڈل تک تعلیم دلوائی۔ آپ کے چچا تایا اور بھائی بہن نہیں تھے،اس لیے ان کی والدہ انہیں ان کے والد کے چچازادبھائی مولانا محمد وارث صاحب کے پاس لاہور لے آئیں جوکہ جامع مسجدحنفیہ رضویہ بوہڑ والی مین بازارگڑھی شاہو کے امام تھے۔انھوں نے آپ کو دینی تعلیم کے لیے1935ءکو دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخل کروا دیا۔یہ امام المحدثین کی زندگی کا آخری سال تھا۔علامہ محمد بشیرقادری صاحب کی خوش نصیبی کہ انہیں امام المحدثین سےشرف تلمذ بھی حاصل ہو گیا۔آپ نے حضرت شاہ ابوالبرکات سیّداحمد شاہ صاحب اوردیگراساتذہ سے علم دین حاصل کیا،بالخصوص انہیں سید صاحب کی خصوصی شفقتیں اور پیار حاصل ہوا۔(15)تقریباً 1943ء میں یہ فارغ التحصیل ہوئے اوردیگرطلبہ کے ساتھ آپ کے سرپر بھی دستارفضیلت سجائی گئی۔یہاں سے سندالفراغ حاصل کرنے کے بعد آپ نے اورینٹل کالج لاہور (کلیۃ الشرقیہ)سے اردواورفارسی کی اسنادحاصل کیں۔یہ قبلہ سیّد صاحب سے بہت محبت کرتے تھے۔ایک مرتبہ امیرملت حضرت پیرسیّدجماعت علی شاہ دارالعلوم حزب الاحناف آئے۔ سیدصاحب نے انہیں ترغیب دلائی کہ امیرملت کےہاتھ پربیعت کرلو۔آپ نے عرض کیا کہ میں تو آپ سے ہی بیعت کروں گا اورپھر انھوں نے سیّدصاحب قبلہ سے بیعت کرلی۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی آپ کثرت سے سیدصاحب قبلہ کی زیارت کے لیے دارالعلوم حاضرہوتے۔ کچھ دن نہ جا سکے تو سیدصاحب نے انہیں مکتوب بھیجاجس میں نہ آنے کی وجہ دریافت کی اوریہ بھی لکھا کہ شہرمیں رہتے ہوئے بھی آپ کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ سیّدصاحب قبلہ بھی آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ جب ان کے بیٹے حافظ محمد ازہرایڈوکیٹ صاحب نے حفظ قرآن کی تکمیل کی تو آمین کی تقریب سعیدمیں سیّدصاحب قبلہ بنفسِ نفیس تشریف لائے۔سیّدصاحب نے آپ کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ اشرفیہ کی خلافت سے بھی نوازا،آپ مجازطریقت تھے مگرآپ نے کسی کو اپنا مریدنہیں بنایا۔ سید صاحب کے وصال کے بعد آپ کے بیٹے اورپوتے بھی آپ سے بے پناہ محبت فرماتےاورادباً انہیں حضرت صاحب کہتے۔ حافظ ازہر صاحب کا بیان ہے کہ والدصاحب کی وفات کے بعد ایک دن سیّدصاحب قبلہ کے بیٹے فخر المشائخ علامہ سید مسعود احمد صاحب نے مجھے بلایا اور روتے ہوئے فرمایا:حضرت صاحب میرے دادا امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نشانی ویادگارتھے، ان کی شیروانی مجھے دے دو۔
آپ نے سیّدصاحب قبلہ کی اجازت سے1946ء میں فی سبیل اللہ جامع مسجدحنفیہ رضویہ بوہڑوالی میں نمازِ جمعہ کا آغازکیا۔ آپ جمعہ اورعیدین کے خطبے ’’خطبات رضویہ ‘‘سے دیا کرتے تھے جوکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی تصنیف ہے۔آپ کو اعلیٰ حضرت سے عشق تھا۔ان کے نعتیہ دیوان حدائق بخشش کا ایک حصہ آپ کو زبانی یادتھا اوراپنے بیان وخطاب میں موقع محل کے مطابق اس کے اشعارپڑھا کرتے تھے۔آپ نے انتظامیہ مسجدکو یہ وصیت کی تھی کہ جامع مسجدحنفیہ رضویہ بوہڑوالی میں میری وفات کے بعد بھی خطبات رضویہ سے خطبہ دیا جائے۔بحمدہ تعالیٰ اب تک اس پر عمل ہورہا ہے۔آپ کوشاعرمشرق ڈاکٹراقبال کے کلام سے بھی دلچسپی تھی، ان کے اشعاربھی پڑھا کرتے تھے۔اہل محلہ آپ سے محبت کرتے اورآپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتےتھے۔مسجد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے۔یہ علاقے کی قدیمی مسجد ہے، جب آپ نے دیکھا کہ یہ کافی بوسیدہ ہوگئی ہے تو آپ نے اہل محلہ سے فرمایا کہ ہم اس کی جدیدتعمیرات کریں گے، آپ کے بھرپورتعاون کی حاجت ہے اوریہ یادرکھئے میں آپ کے گھروں میں جاکر مسجد کی تعمیرات کے لیے چندہ لینے نہیں جاؤں گا بلکہ آپ کو خود حصہ لیناہوگا۔اہل محلہ نے آپ کی اس بات پر لبیک کہااوروہ آپ کے پاس آآکرمسجدکی تعمیرات کےلیے رقوم جمع کروانے لگے۔کچھ ہی عرصے میں عالی شان مسجدتعمیرہوگئی۔یہ حقیقت ہے جو جتنا مخلص ہوتاہے اس کی زبان میں اتنی ہی زیادہ تاثیرہوتی ہے۔
آپ نے جامع مسجدبوہڑوالی میں تقریباً 60سال خطابت فرمائی مگرکبھی اجرت نہ لی۔ آپ نے کتب ورسائل کے اشاعتی ادارے فیروز سنز میں ملازمت اختیار کر لی۔کچھ عرصہ کاروباربھی کیا اورآخری عمر میں وثیقہ نویسی سے گزر بسر کرتے تھے۔عمربھردینی خدمات کا کوئی معاوضہ نہ لیا۔ فیروزسنز کی ملاز مت کے دوران آپ نے دوکتابیں تحریرفرمائیں، پہلی کتاب کانام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ جبکہ دوسری کتاب قرآنی دعائیں کے نام سے ہے۔یہ دونوں کتابیں فیروزسنزسے شائع ہوئی ہیں۔ اسی ادارے کی عربی لغت کی تیاری میں بھی آپ نے حصہ لیا۔احباب برکاتیہ نے سیدصاحب قبلہ کے مریدین ومتوسلین کے درمیان رابطہ اورمسلک صوفیاکی اشاعت کے لیے بزم برکاتیہ بنانے کا فیصلہ کیا اوراس سلسلے میں سیدصاحب کی اجازت سے20رجب1397ھ مطابق 7جولائی 1977ء کو جامع مسجدبرکاتیہ متصل دارالعلوم حزب الاحناف میں ایک اجلاس رکھاگیا۔ مولانا محمدبشیربرکاتی صاحب نے اس بزم کے مقاصدکی تائیدکی اور مختصر بیان فرمایا۔اگرچہ آپ اس بزم کا کوئی عہدہ قبول نہیں کرنا چاہتے تھے مگرسیّدصاحب قبلہ نے انہیں بزم برکاتیہ کا نائب صدر مقررفرمایا۔آپ نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اس ذمہ داری کو قبول کرلیا۔(16)آپ کو نمودونمائش سے نفرت تھی۔اخلاص ورضائے الٰہی کے خودبھی پیکرتھے اوروابستگان کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ آپ جیدعالم دین، خودداراورعلم وتقویٰ کے جامع تھے۔آپ وعدے کے پکے تھے، جب کبھی وعدہ کرلیتے توپھر کچھ بھی ہوجاتااسے ضرورپوراکرتے تھے۔احکام شریعت پرعمل کرنا اورکرواناآپ کی زندگی کا مشن تھا۔ عائلی قوانین کے وہ نکات جو شریعت کے مطابق درست نہیں، اس پر آپ نے اعلائے کلمۃ الحق بلندکیا۔اپنی یونین کونسل کے ممبران کو شریعت پر عمل کی ترغیب دلاکرعمل کروایا اورصدرپاکستان کو عائلی قوانین کے اس سقم کو دورکرنے کے لیے یونین ممبران سے مل کرحکومت کو مکتوب روانہ کیا۔
آپ نے تحریک پاکستان اورتحریک ختم نبوت سمیت تمام تحاریک میں حصہ لیا۔جب لاہورمیں تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیرتحریک دعوت اسلامی کے دینی کام کا آغاز ہواتو آپ برسرمنبر دعوتِ اسلامی کی تعریف کیاکرتے اوراس کے کارکنان کو جانشینان اعلی حضرت کے لقب سے یادکرتے۔آپ کے تقویٰ وپرہیزگاری،عبادت وزہدکی وجہ سے بڑے بڑے علماآپ سے محبت کرتے اورآپ کے علم وتقویٰ کے قائل تھے۔ مشہوربزرگ عالم دین،استاذالعلماء شیخ الحدیث مفتی عزیزاحمد بدایونی نے وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی کہ میراجنازہ مولانامحمد بشیرقادری صاحب پڑھائیں۔مگر مفتی صاحب کےحالات زندگی پر مشتمل رسالے احوال و آثار مفتی عزیز احمد قادری بدایونی کے صفحہ 54 پر ہے کہ مفتی صاحب کی نماز جنازہ شارح بخاری علامہ سیدمحموداحمدرضوی صاحب نے پڑھائی، اس میں یہ تطبیق ہوسکتی ہے کہ نمازجنازہ میں دیگر علما ومشائخ کے ساتھ شارح بخاری بھی تشریف لائےہوں گے، جنازہ پڑھانے کاوقت آیا ہوگاتو مولانا بشیر صاحب نےاحتراماً اپنے استاذقبلہ سیّدصاحب کے صاحبزادے وجانشین شارح بخاری سے درخواست کی ہوگی کہ وہ نمازجنازہ پڑھائیں۔یہ مخلص عالم دین 12ذیقعدہ1424ھ مطابق 5جنوری 2004ء کو لاہورمیں وصال فرماگئے۔نمازجنازہ فخر المشائخ علامہ سید مسعود احمد رضوی صاحب نے پڑھائی، نمازجنازہ میں عوام وخواص کا اژدھام تھا،تدفین جامع مسجدبوہڑوالی مین بازارگڑھی شاہو لاہورسے متصل مولانامحمدوارث صاحب کی قبرکے ساتھ کی گئی۔
نوٹ: اس مضمون کی اکثرمعلومات مولانا بشیرصاحب کے بیٹے جناب حافظ محمد ازہرایڈوکیٹ صاحب نے بذریعہ واٹس ایپ تحریری طورپر دیں، جس پر راقم ان کا شکرگزارہے۔
محمد بشیر کوٹلوی
سطان الواعظین حضرت مولانا ابو النور محمد بشیر کوٹلوی کی پیدائش 12مئی 1913ء کو کوٹلی لوہاراں سیالکوٹ کے علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی۔بچپن سے ہی آپ کو پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔تمام درسی کتب والد گرامی خلیفہ اعلیٰ حضرت، فقیہ اعظم حضرت مولانا حافظ ابویوسف محمدشریف محدث کوٹلوی سے پڑھیں۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا۔1931ء میں دارالعلوم کے امتحانات میں حصہ لیا اورکامیاب ہوئے، اس زمانے میں مفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری نے رسالہ رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین لکھا تو آپ نے اس کی تصدیق کی جس میں آپ کی کنیت ابوالزکاء لکھی ہے۔(17) فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ گکھڑمنڈی پھرراولپنڈی اور آخر میں کوٹلی لوہاراں میں خطیب رہے۔جلدہی آپ اہل سنت کے چوٹی کے خطیب کے طورپرابھرے اور ہند بھر میں آپ کے بیانات ہونے لگے۔جنوبی ایشیا کے علاوہ آپ نے مشرق وسطیٰ اوریورپ کے کئی ممالک کے تبلیغی دورے فرمائے۔خطابت کے ساتھ آپ نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ بھی شروع کیا۔چودہ سے زیادہ کتب لکھ کر کثیر التصانیف علما میں شمار ہونے لگے۔ان میں سے کچھ کتب کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔آپ کی تحریروں میں خاص بات یہ ہے کہ انتہائی سہل اور عوامی نفسیات کے قریب ہوتی ہیں یہی وجہ ہے آپ کی کتب عوام وخواص دونوں میں مقبول ہیں۔شاید ہی کوئی عالم اہل سنت ہوگا جنہوں نے آپ کی کتب سے استفادہ نہ کیا ہو۔
سرورعالم، ختم نبوت، محفل میلاد،پندونصائح، خطبات ابو النور (دو جلد)، خطیب، واعظ اول تاچہارم، مفید الواعظین، سچی حکایات اول تاپنجم،شیطان کی حکایات، عورتوں کی حکایات،مثنوی کی حکایات، سنی علما کی حکایات، جانوروں کی دنیا آپ کی اہم تصانیف ہیں اورآپ کی بعض کتب مکتبہ ماہِ طیبہ نے اور بعض کتب فرید بک اسٹال لاہور نے شائع کی ہیں۔ ایک حدیث ایک وعظ بہترین کتاب ہے اس کے کل 230صفحات ہیں، یہ اس حدیث پاک: حبب الی من دنياكم الطيب، والنساء، وجعلت قرة عينی فی الصلاة ۔(18) کی شرح کی گئی ہے۔خطبات حصہ اول میں محرم تا جمادی الاخریٰ تک کے وعظ ہیں، جبکہ خطبات حصہ دوم رجب تاذوالحجہ کے مواعظ پر مشتمل ہے، کتاب خطیب میں 24مواعظ ہیں۔(19)
شوال 1370ھ مطابق اگست 1951ء میں آپ نے ماہنامہ ماہِ طیبہ شروع فرمایا۔جو مسلسل 21سال شائع ہوکرمسلک حقہ اہل سنت کی ترجمانی کرتارہا۔آپ نے تحریک پاکستان اورتحریک ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا۔آپ جیدعالم، متبع سنت، تقوی وپرہیز گاری کے پیکر،اصلاح امت کا دردرکھنے والے،صاحبِ عرفان شیخ طریقت اوراہل سنت کے فعال رہنماتھے۔آپ نے 19رجب 1428ھ مطابق 4 اگست 2007ء کو وصال فرمایا۔(20)تدفین کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال، ضلع سیالکوٹ میں جامع مسجد شریفی سے متصل والد صاحب کے مزارکے ساتھ جانب مشرق ہوئی۔وفات کے کچھ عرصے بعد مزارکی تعمیرات کے وقت آپ کی قبرکھل گئی، لوگوں نے دیکھا تو آپ کا جسدمبارک بالکل سلامت تھا ایسامعلوم ہوتاتھا کہ ابھی دفن کئے گئے ہیں۔مولانا عطاءالمصطفی جمیل کوٹلوی آپ کے علمی جانشین ہیں۔راقم انکےمزارپر حاضر ہوچکاہے۔
محمد مظہر الدین مظہر
حسان العصر،عارف ب اللہ حضرت مولانا محمد مظہر الدین مظہر کی ولادت 1332ھ مطابق 1914ء کو موضع ستکوہا ضلع امرتسرہند کے ایک ارائیں زمیندار گھرانے میں ہوئی۔ والدگرامی امام العارفین علامہ نواب الدین رامداسی جیدعالم دین، مصنف کتب اورفتنہ مرزائیت کا مقابلہ کرنے میں معروف تھے۔حسان العصر نے ریاست پٹیالہ میں قرآن کریم حفظ کیا۔1925ء میں مدرسہ نقشبندیہ جماعتیہ علی پورسیداں میں سراج الملت علامہ سید محمد حسین جماعتی سے ابتدائی علوم حاصل کرنے میں مصروف ہوئے۔1929ء میں حضرت خواجہ سراج الحق گورداسپوری چشتی صابری کی بیعت کی اوروالدگرامی سے سلسلہ چشتیہ کی خلافت پائی۔ امرتسر میں استاذ العلماء علامہ محمد عالم آسی صاحب سے بھی استفادہ کیا۔ 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا اور1932ء میں دورہ حدیث کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔دین متین کی خدمت کے لیے آپ نے ملک بھرمیں خطابت کا سلسلہ شروع فرمایا۔پیرزادہ اقبال احمدفاروقی صاحب تحریرفرماتے ہیں: وہ نوجوان خطیبوں کے ہم نواتھے، تقریرکرتے تولطف آجاتا،بات کرتے تو منہ سے پھول جھڑتے۔مجھے ان کی تقریروں سے دلچسپی کے ساتھ ساتھ دست بوسی کا بھی حصہ ملا،وہ جس اسٹیج پرکھڑے ہوتے، سامعین جھوم جھوم جاتے۔(21) آپ جیدعالم دین، بہترین خطیب، صاحب سوزوگدازشاعر،مشہورادیب وکالم نگار اور کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ پہلے روزنامہ تعمیراورپھرروزنامہ کوہستان سے وابستہ تھے۔ان دونوں میں آپ کے مضامین اور نعتیں شائع ہوتی تھیں۔آپ کے کالم نشان راہ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ دیگر کتب میں عقیدہ ختم نبوت پر کتاب خاتم المرسلین اور سات مجموعہ ہائے کلام پرمشتمل کلیات مظہر معروف ہیں۔ کلیات مظہر 2013ء میں ارفع پبلشرز،غزنی اسٹریٹ اردوبازارلاہورنے 1168 صفحات پر شائع کیا ، اس میں ان کے نعتیہ مجموعے نورونار، شمشیر و سنان، حرب و ضرب، تجلیات، جلوہ گاہ، بابِ جبریل اور میزاب شامل ہیں۔(22)
آخری عمرمیں خانقاہ قائم فرمائی، جس میں لوگوں کا ہجوم رہتاتھا۔جہاں یادالٰہی اورذکرجان رحمت کے ساتھ شب بیداری،سحرخیزی اورذکروفکرکی خیرات بٹتی تھی۔ روحانیت کے متلاشی یہاں سکون پاتے، دردمنداورمشکلات میں گھرےلوگ اپنے مسائل کا حل حاصل کرتے تھے۔آپ کا وصال19رجب 1401ھ مطابق 22مئی 1981ء میں ہوا،مزارمبارک چھترپارک مری روڑنزد بہارہ کہوضلع راولپنڈی میں ہے۔(23)راقم 12تا20جولائی 2023ء مختلف شہروں کے سفرمیں تھا۔جب ہماراقافلہ روالپنڈی سے مری جا رہا تھا تو راقم شرکائے قافلہ شاہ نوازعطاری، بلال عطاری اورمہدی حسن عطاری سے آپ کاذکر خیرکررہاتھا کہ اسی راستے پر حسان العصرکا مزارہے مگرجگہ کنفرم نہیں کہ کونسی ہے ؟راستے میں رش کی وجہ سے ہمیں کچھ تاخیربھی ہوگئی، نمازمغرب اداکرنی تھی، ہماراقافلہ برلبِ سڑک ایک مسجدکے پاس رکا۔قافلے والوں نے راقم کی اقتدامیں نمازمغرب اداکی۔حسن اتفاق دیکھئے کہ جب نماز پڑھ کر باہر نکلے تو ہماری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پرلکھاتھا:مزار شریف سلسلہ چشتیہ قادریہ صابریہ کے عظیم بزرگ، معروف نعت گو،حسان العصر حضرت حافظ مظہرالدین رحمۃ اللہ علیہ ، اسے پڑھ کرراحت ہوئی۔ آپ کا مزارمسجدسے جانب مغرب واقع تھا۔ وہاں حاضرہوئے اورفاتحہ پڑھی۔صاحب مزارکا شکریہ بھی اداکیا کہ ہمیں اپنی روحانیت سے مزارکی حاضری کا شرف بخشا، مزارکا احاطہ گولائی میں اور قدرے وسیع ہے اور اس پر ایک بڑا گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔
احمد دین درگاہی
استاذالعلماء حضرت مولانا احمد دین درگاہی کی ولادت تقریباً 1900ء کوپنجاب کے شہر کھاریاں ضلع گجرات سے جانب جنوب چھ سات کلومیٹر کے فاصلےپر واقع گاؤں بیگہ مہروج پور کے علمی وروحانی درگاہی خاندان میں ہوئی۔اس خاندان کے جد امجد میاں محمد درگاہی جالندھر مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔(24) ابتدائی تعلیم علامہ غلام محمدبگوی صاحب سے پاکستان کے قدیمی شہر بھیرہ کے مضافاتی علاقے خان محمد والا میں حاصل کی۔مزیدکتب درس نظامیہ پڑھنے کے لیے دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا اور یہاں کے اساتذہ سے بھرپوراستفادہ کیا۔آپ فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی کی معیت میں امام المحدثین سے دورۂ حدیث کر کے 6شعبان1352ھ مطابق 23نومبر1933ء کو سندفراغت ودستارفضیلت سے سرفراز ہوئے۔ آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم شیخ طریقت حضرت بابا جی خواجہ محمد قاسم موہڑوی سے بیعت کا شرف پایا۔فارغ التحصیل ہونے کے بعدجامع مسجدچاہ جھنڈی بیگم روڈ مزنگ لاہور میں امام وخطیب مقرر ہوئے اور1936ء میں طیبہ کالج لاہورسےعلم طب کا کورس مکمل کیا۔آپ وعظ وتدریس اورمناظرہ میں کمال رکھتے تھے۔تقریرکرتے ہوئے مجمع پرچھا جاتے اورحاضرین کے دل موہ لیا کرتے تھے۔
نواب آف ریاست بہاولپورنے ضلع بہاولنگرکے شہر ہارون آباد میں 1353ھ مطابق1934ء میں علاقے کی خوبصورت ترین مرکزی جامع مسجد تعمیرکی تو آپ وہاں تشریف لے گئے۔جامع مسجدہارون آبادمیں امامت وخطابت کے ساتھ وہاں مدرسہ جامعہ رضویہ فیض العلوم قائم فرمایا۔اس سے پہلے آپ شہرکے مضافات میں قائم دارالعلوم تعلیم الاسلام میں بھی تدریس کرتے رہے۔آپ وہاں فتاویٰ نویسی بھی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ پروفیسرحافظ محمد اشفاق جلالی صاحب تحریرفرماتے ہیں:ہارون آبادکے 8سالہ قیام کے دوران آپ نےمختلف موضوعات پربوقت ضرورت فتاویٰ بھی تحریرفرمائے، 1964ء اور1965ء کے لکھے ہوئے وراثت اورطلاق سے متعلق آپ کے فتاویٰ اب بھی موجودہیں۔(25)
یہاں کے آٹھ سالہ قیام کے دوران آپ مسلک حقہ اہل سنت کی ترویج واشاعت کےلیے متحرک رہے۔ جشن میلادالنبی، معراج مصطفی اوردیگرتقریباً ت میں بڑے بڑے علما کو اپنے ہاں خطابت کے لیے دعوت دیتے، سالانہ جلسہ بھی منعقدکروایا کرتے، یوں انہوں نے ہارون آباد کو اشاعت علم ا ورفروغ عشق مصطفی کاگہوارہ بنا دیا۔آپ مسجدکے محراب ومنبرپر باجبہ و دستاربیٹھتے، تدریس کے وقت ایک منجھے ہوئے مدرس کی طرح باوقارانداز میں تشریف رکھتے اورعوام وطلبہ کے درمیان ہوتے توشفیق باپ معلوم ہوتے۔ آپ نے 1946ء میں حج بیت اللہ کی سعادت پائی،جب حج کے لیے روانہ ہونے لگے تو تقریباً آدھا شہرآپ کو رخصت کرنے کے لیے جمع ہوگیا۔آپ بہادرعالم دین تھے کلمہ حق بلندکرنے میں کسی کی ملامت کوخاطرمیں نہیں لاتے تھے۔1953ء میں اہل ہارون آباد کے ہمراہ تحریک ختم نبوت میں فعال کرداراداکیا۔
آپ کو علماومشائخ سے تعلق بنانا اورنبھانا خوب آتاتھا، آپ کی وضع داری اورملنساری کی عادت دیگرعلما کی بنسبت منفردتھی۔ہم عصرکے ساتھ ہوتے تو ان کی ایسی خدمت کرتے گویا ان کے خادم ہیں اوراحباب کا تذکرہ اتنے احترام اورمحبت سےکرتے گویاوہ آپ کے پیرومرشدہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ اکابرواصاغرسب میں ہردلعزیزتھے۔آپ کی شادی اپنے علاقے میں ہوئی۔بارات میں حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی سمیت کثیر علما نے شرکت کی۔راستے میں تقاریرکا سلسلہ جاری رہا یوں یہ بارات اپنے علاقے کی منفرد قرار پائی۔(26)آپ نے اپنے علاقے میں انجمن ارشاد الاسلام قائم فرمائی جس کے تحت ہرسال سالانہ جلسہ منعقد ہوتااور اس میں ملک بھرسے علما وواعظین شریک ہواکرتے تھے۔تحریری خدمات میں آپ کے فتاویٰ اور رد مرزائیت پر رسالہ سیف درگاہی برگردن مرزائی یادگارہے۔
آپ کا وصال9 جمادی الاولیٰ 1414ھ مطابق 23نومبر1993ء بروزبدھ ہوا۔تدفین قبرستان بیگہ مہروج پورکھاریاں میں کی گئی۔(27)مفتی جلال الدین قادری نے آپ کے وصال باکمال کی خبر سن کر اپنی ذاتی ڈائری پر یہ تحریر بطورِ یادداشت قلمبند فرمائی:22، 23 نومبر 1993ء بروز بدھ مولانا احمد دین د رگاہی، بیگہ مہر وج پور کا وصال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت مرحوم حزب الاحناف کے فارغین سے تھے، طویل عرصہ ہارون آباد ریاست بہاولپور میں بعہدہ مفتی پر فائز رہے۔ کچھ وقت کھاریاں کے موتی بازار میں مر کزی جامع مسجد عالمگیری میں خطیب بھی رہے۔ مرحوم کی زیر صدارت ایک طویل عرصہ اور مولانا میاں غلام رسول درگاہی کی رفاقت میں انجمن ارشاد الاسلام بیگہ کے زیر اہتمام عظیم الشان اجلاس ہوئے، (جو خاندان درگاہی کی اہم اورمؤثرشخصیت تھے) اس سے علاقہ میں سنیت کی بہار تھی، مولا کریم ممدوح کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نیکیوں کو شرِفِ قبولیت عطا فرمائے۔(28)
محبوب شاہ کاظمی
حضرت مولانا سیدمحبوب شاہ کاظمی کی پیدائش1321ھ مطابق1903ء میں موضع کنڈی عمرخانہ ضلع اٹک میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم ضلع اٹک کے دو علاقوں موضع کالوکلاں، علاقہ چھچھ اور کامرہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد دارالعلوم حزب الاحناف لاہورداخلہ لیا۔آپ بہت ذہین وفطین تھے، علم حاصل کرنے کا بھی شوق تھا۔اس لیے امام المحدثین کے منظورنظرہوگئے اور انہیں استاذصاحب کی خصوصی نظروتوجہ حاصل ہو گئی۔یہاں آپ نے درس نظامی کی کتب مکمل کرکے دورہ حدیث کرنے کی سعادت حاصل کی اور سند الفراغ کے مستحق قرار پائے۔ آپ نے بیعت کا شرف حضرت بابا پیرقاضی محمدعبدالرحیم نقشبندی باغدروی سے پایا اور بعد میں خلافت واجازت سے نوازے گئے۔فراغت کے بعد آپ نےحسن ابدال ضلع اٹک کے محلہ گڑھی میں رشدوہدایت کا سلسلہ شروع کیا پھر حسن ابدال سٹی کی مرکزی جامع مسجدکے خطیب مقرر ہوئے۔ دس سال یہ خدمت سرانجام دینے کے بعد جامع مسجدنوری محلہ حطاراں میں بطور امام وخطیب تشریف لے آئے۔یہاں آپ نے بعدنمازعشادرسِ قرآن کاسلسلہ شروع کیا اورپانچ سال میں قرآن پاک کی تکمیل کی۔ آپ کا خطاب عالمانہ ومحققانہ اورعام فہم ہوتاتھا۔آپ کے بیان سے پہلے ہی لوگ دوردراز سے آکرمسجدمیں جمع ہوجاتے تھے۔تقریرکے ساتھ تصنیف وتالیف سے بھی دلچسپی تھی۔ آپ کی تصانیف خلاصہ تفسیرجلالین،مختصر شرح اسماء الحسنیٰ اور شجرہ سادات کاظمی ہیں مگرتینوں غیرمطبوع ہیں۔آپ نے تین بارحج کی سعادت پائی۔آپ اہل سنت کے فعال عالم دین تھے۔تحریک پاکستان سمیت تمام تحاریک میں حصہ لیا، کمزوری ونقاہت کے باوجود تحریک ختم نبوت میں سرپرستی فرمائی۔اس تحریک کے دوران آپ پیارے آقامحمدعربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے۔آپ نے ساٹھ سال تک خدمتِ دین سرانجام دے کر 25جمادی الاولیٰ 1418ھ مطابق28 اکتوبر 1997ء بروزمنگل حسن ابدال میں وصال فرمایا۔آپ کا مزارمبارک حضرت شاہ کے پہلومیں ہے۔(29)
عبد السلام شمس آبادی
حضرت مولانا قاضی عبدالسلام شمس آبادی کی ولادت راولپنڈی سے پشاورجاتے ہوئے کامرہ موڑ سے چار میل کے فاصلے پر تحصیل حضرو ضلع اٹک کے علاقے شمس آباد کے ایک علمی گھرانے میں تقریباً 1905ء کو ہوئی۔دادامولانا قاضی نادر دین شمس آبادی بن قاضی جنگ باز بہت بڑے عالم دین، ہندکو کے شاعر اور صاحب تصنیف تھے،ان کی تصنیف پندنامہ بطرز سہ حرفی علمی یادگارہے۔(30) والد گرامی استاذ العلماء علامہ قاضی محی الدین غلام گیلانی شمس آبادی اوردونوں چچا مولانا قاضی غلام سبحانی ومولاناحکیم قاضی غلام ربانی سب عالم دین تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ فخرعالم دھوراجی کاٹھیاواڑ گجرات ہندمیں والد گرامی سے حاصل کی۔ دورۂ حدیث شریف کرنے کے لیے دارالعلوم حزب الاحناف میں داخلہ لیا۔ امام المحدثین سے پڑھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل اسلام آباد میں درس و تدریس کرتے رہے اور پھر شمس آباد کے قریب وَیرو گاؤں میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ زندگی بھراپنے اسلاف کے طریقے پر کاربندرہے اوردین اسلام کی ترویج واشاعت کی کوشش کرتے رہے۔پیرزادہ عابدحسین صاحب ان سے ملنے کے لیے 8مارچ1989ء اور8 اپریل 1990ء دو مرتبہ تشریف لے گئے۔چنانچہ آپ تحریر کرتے ہیں: مولانا موصوف نےباوجودعہدِ پیری (بڑھاپے) کے بکمالِ شفقت اپنے عظیم والدمحترم کے حالات بیان فرمائے۔(31)آپ کاوصال8جمادی الاخریٰ 1413ھ مطابق 4دسمبر 1992ء میں ہوا۔تدفین یہاں کے بڑے قبرستان میں کی گئی۔(32)
اذکار الحق صدیقی اختر شادانی
حضرت مولانا اذکار الحق صدیقی اختر شادانی المعروف بابا اذکار کی پیدائش 1328ھ مطابق 1910ء(33) کو طوطیٔ ہندمولانا اسرار الحق رہتکی(34) کے ہاں روہتک میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم یہیں اپنے دادا حاجی انصار الحق رہتکی اور مولانا حافظ محمد یوسف رہتکی سے حاصل کرکے 1933ءمیں لاہورتشریف لائے اور دارالعلوم حزب الاحناف میں داخلہ لیا۔یہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔آپ کو حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان اور صدر الافاضل علامہ سیدنعیم الدین مراد آبادی جیسی ہستیوں کی صحبت بھی حاصل رہی۔آپ نے مڈل رہتک سے اور منشی فاضل، ادیب فاضل اور میٹرک کے امتحانات دارالعلوم السنۃ الشرقیہ لاہور سےپاس کئے۔ آپ اچھے عالم دین تھے۔ کئی مدارس دینیہ اوراسکولز میں تدریس فرمائی۔احمدگڑھ اورجالندھرکے ہائی اسکولز میں پڑھانے کے بعد 1945ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول کہوٹہ، 1948ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول حسن ابدال اور 1952ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول اٹک میں بطورٹیچرخدمات سرانجام دیتے رہے۔1975ء میں آپ ریٹائرڈ ہوگئے۔آپ اچھے شاعربھی تھے۔آپ نے 1935ء میں شاعری کا آغاز کیا۔آپ اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔بے شمار غزلیں، نعتیں اور قصیدے لکھے مگر ہنوز آپ کا کوئی مجموعہ کلام شائع نہیں ہو سکا۔ 19اپریل 1985ء بروز جمعہ آپ کی رہائش گاہ اٹک میں مشاہرہ ہواجس میں کئی شرکا نے شرکت کی، اس میں آپ نے جو نعت پڑھی وہ یہ تھی:
ورفعنا لک ذکرک کی صداقت ہے عیاں وادی بطحا سے دیں چین وعجم تک پہنچا
کوئی خطہ نہیں دنیا میں جہاں پر ان کا نامِ نامی نہ ہو قرطاس وقلم تک پہنچا
آج ہر ایک غلام ان کا یہ کرتا ہے دعا میرے مولی تو مجھے ان کے قدم تک پہنچا
آخری عمرمیں آپ کراچی آگئے اوریہیں آپ کا وصال ہوا۔(35)
فضل حسین شاہ پنجابی
سید السادات حضرت علامہ مولانا سیّدابواحمدفضل حسین شاہ نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت معین الدین سیداں نزد گجرات سٹی، پنجاب میں غالباً 1325ھ مطابق1908ء کو سید محمد شاہ (وفات 6شوال 1360ء مطابق 24 اکتوبر1941ء) بن سیدپیرشاہ میانے شاہنے کے گھرہوئی۔آپ نے ابتدائی اسلامی تعلیم علاقے کے علما سے حاصل کرکے دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا۔دارالعلوم میں ہونے والے 1931ء کے امتحان میں آپ نے بھی حصہ لیا اورکامیاب ہوئے اور غالباً 1351ھ مطابق 1932ء میں امام المحدثین سے دورہ ٔحدیث مکمل کر سندالفراغ حاصل کی۔(36)اس زما نے میں رسالہ رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین اور الصوارم الہندیہ کی تصدیق کی۔(37)
آپ نے بیعت کا شرف سلسلہ نقشبندیہ قادریہ میں امام المحدثین سےحاصل کیا۔(38) اور فراغت کے بعد لاہورکے علاقے تاج پورہ نزد وسن پورہ میں خدمات دینیہ سرانجام دینے لگے، غالباً جامع مسجدحنفیہ تاج پورہ میں امام وخطیب مقررہوئے، آپ نےاس پورے علاقے میں ایک فعال عالم دین کے طورپردینی خدمات کا بیڑااٹھایا، یہاں کے لوگوں پرآپ کاگہرااثرتھا۔(39) آپ نے یہاں رجب1351ھ مطابق نومبر 1932ء میں انجمن معین الدین تاج پورہ لاہورقائم فرمائی۔(40)اس انجمن کے تحت لوگوں کے عقائدواعمال کی درستی اورعلم دین سے روشناس کروانے کے لیے جلسے بھی منعقدہوتے تھے، جس میں جیدعلمائے کرام شرکت کرتے، وعظ فرماتے اورعلم وعرفان کو عام فرمایا کرتے تھے۔ ماہنامہ معین الدین لاہورمیں تاجپورہ میں علم و عرفان کی بارش کے عنوان کے تحت ایک جلسے کے احوال اس طرح بیان ہوئے ہیں: مورخہ 12 اپر یل 1933ء بعد از نماز عشا مسجد حنفیہ تاجپورہ میں بااہتمام ار اکین انجمن معین الدین ایک جلسہ عام ہوا، حضرت حجۃالاسلام قبلہ عالم مولینا ابو محمد محمد دیدار علی شاہ صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ کی تشریف آوری کی خبر سن کر کثرت سے لوگ شریک جلسہ ہوئے، مجمع بفضلہ بہت کافی تھا، حضرت قبلہ عالم دامت برکاتہم العالیہ نے کامل دو گھنٹے تقریر فرمائی، بعدہ ختمِ غوثیہ ہوا جس کے بعد دیر تک نعت خوانی ہوتی رہی، اختتام پر جناب ڈاکٹر دوست محمد صاحب صابر ملتانی صدر انجمن نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رسالہ معین الدین کی نشرو اشاعت کی طرف توجہ دلائی، نائب صدر جناب جمعدار علی گوہر صاحب نے اپنے خرچ سے پچاس ر سالے وسن پورہ میں مفت تقسیم کرنے کا ذمہ لیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، مسلمانانِ مصری شاہ، چاہ میراں، فیض باغ وغیرہ سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اس کی اشاعت میں خاطر خواہ حصہ لیں، بعدہ نوجوانانِ تاجپورہ کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے نہایت جانفشانی سے مسجد حنفیہ کی تعمیر میں حصہ لیا، مولائے تعالیٰ ان کے اس شوق کو ترقی دے، بردارانِ اہلسنت سے اطلاعاً عرض ہے کہ تاجپورہ میں ہر ماہ جلسہ وعظ و ختم غوثیہ ہونا قرار پا چکا ہے، لہذا تاریخ جلسہ سے مطلع ہوتے ہی ضر ور شرکت فرمایا کریں۔(41)
آپ تاج پورہ لاہورمیں خدمات دین سرانجام دیتے ہوئے اپنے مولد(پیدائشی علاقے)کو بھی نہ بھولے بلکہ یہاں کے حالات سے آگاہ رہتے اور یہاں کے لوگوں کی دینی ضروریات کو پوراکرنے کی کوشش کرتے۔(42) 5ستمبر1932ء میں آپ کی اہلیہ کا انتقال ہوا،آپ ان کی تدفین کے لیےآبائی علاقے معین الدین پور میں تشریف لے گئے، پھر6 اکتوبر1932ء دوبارہ جانا ہواتوآپ نے وہاں اہل باطل کا غلبہ دیکھا تو لاہور آکر اپنے استاذ علامہ شاہ ابو البرکات سید احمد شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ سےاہل باطل سے مناظرہ کرنے کی درخواست کی۔ چنانچہ سید صاحب قبلہ مولانا نظام الدین ملتانی کے ساتھ معین پور تشریف لے گئے، وہاں قبلہ نظام الدین صاحب کے شاگرد مولانا محمد شفیع وزیر آبادی جو کامونکی ضلع گوجرانوالہ میں دینی خدمات سرانجام دیتےتھے، وہ بھی اورمولانا حافظ پیر سید ولایت شاہ گجراتی بھی تشریف لے آئے، 23 اکتوبر 1932ء اہل باطل سے مناظرہ فرمایا اورشاندارکامیابی حاصل کی۔(43) اس کے کئی فوائدسامنے آئے، دو چار افراد کے علاوہ تمام لوگ باطل عقائدسے توبہ تائب ہوکرمذہب حقہ اہل سنت میں داخل ہوگئے۔(44)
اس مناظرے کی روداد ماہنامہ معین الدین لاہور میں قسط وار شائع ہوئی اور اس کی الگ سے بھی اشاعت ہوئی،اسے فیضان المدینہ پبلی کیشنزجامع مسجدعمرروڈ کامونکی ضلع گوجرانوالہ نے 1434ھ مطابق 2012ء میں 81صفحات پرکمپوزکرکے شائع کیا ہے۔
علامہ سید فضل حسین شاہ صاحب لاہورمیں کچھ عرصہ دین متین کی خدمت کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن تشریف لے گئے اوروہاں کی جامع مسجدمیں امامت وخطابت کرنےلگے، یہاں سال میں تین جلسے کروایا کرتے تھے،ناموافق حالات کے باوجودآپ زندگی بھر اہل باطل کے سامنے ڈٹے رہے اور دنیا کی کوئی رکاوٹ اِن کا سر نہ جھکا سکی۔ آپ کا حلقہ اثر معین الدین پورکے علاوہ گجرات کے علاقے مدینہ سیداں، جمال پور اور دولت نگرمیں بھی تھا،آپ نے ماہنامہ معین الدین میں انجمن حنفیہ سادات مدینہ سیداں کے تحت 4 اور 5مارچ 1933ء کے ایک سالانہ جلسے کی رودادشائع کی جس میں لکھا ہے کہ مفتی شاہ ابو البرکات صاحب نے پہلے دن 4گھنٹے اوردوسرے دن 3 گھنٹے ردمرزائیت پر خطاب فرمایا،ان کوششوں کی برکت سے ایک شخص سید حسین شاہ تیس بتیس سال مرزائی رہنے کے بعد سچے دل سے تائب ومستغفرہوکردائرہ اسلام واہل سنت میں داخل ہوا۔(45) آپ کی تصانیف میں سے ایک رسالہ آئینہ عقائدشیعہ ہے جو 52صفحات پر مشتمل ہے، اسے غالباً شعبان 1361ھ مطابق 15 اگست1942ء کو مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہورنے شائع کیا۔ اس کی تصدیق حضرت علامہ شاہ ابوالحسنات قادری، حضرت مفتی شاہ ابوالبرکات قادری، مولانا پیر سید ولایت شاہ صاحب گجراتی، مولانا پیر سید ابو الحقائق امانت علی شاہ حسنی نظامی اورحکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی نے فرمائی ہے، یہ تصدیقات اس رسالے کے صفحہ 47سے52تک محیط ہیں۔(46) مثلاً حکیم الامت مفتی احمد یار خان تحریرفرماتے ہیں :محترم مولانا فضل حسین شاہ صاحب نے اہل سنت کے عقائدجوبیان فرمائے ہیں، وہ بالکل درست اورصحیح ہیں، یہ ہی میراعقیدہ ہے اوریہ ہی تمام اہل سنت کا، اسی پر خدائے قدوس قائم رکھے آمین۔(47)دیگرتصانیف میں رسالہ مناظرہ معین الدین پور اور ماہنامہ میں لکھے گئے مضامین ہیں،آپ فتاویٰ نویسی بھی فرمایا کرتے تھے،مارچ1934ء کے ماہنامہ معین الدین لاہورمیں آپ کا ایک فتویٰ شائع ہوا جس کی تصدیق سولہ سے زیادہ علماومفتیان کرام نے فرمائی ہے۔( 48)آپ نے دوشادیاں کیں، پہلی زوجہ محترمہ کا انتقال جوانی میں 5ستمبر1932ءمیں ہوا،پھرآپ نے دوسری شادی کی، دونوں ازواج سے اللہ پاک نے آپ کو پانچ بیٹوں اورچاربیٹیوں سے نوازا، بڑے بیٹے مولانا سید محمد احمد شاہ صاحب درس نظامی کرنے کے بعد تحصیل علم طب میں مصروف ہوئے اورجوانی میں وفات پاگئے، دوسرے بیٹے مولانا سید علی محمد فاروق شاہ صاحب ہیں جن کے بارے میں علامہ فضل حسین شاہ صاحب تحریرفرماتے ہیں:تشکر، الحمدللہ کہ رب العزت نے بطفیل رسول اکرم واہل بیت عظام وصحابہ کرام ایک اور ولدمسعودمورخہ 13جمادی الاخری 1361ھ مطابق7جون1941ءبروز ہفتہ عطافرمایاہے۔عزیزکا نام علی محمدفاروق رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ سعید، نیک طالع اورسچاپکااورسنی مذہب کا پابندبنائے اورعمردرازکرے۔ (49) ماشاء اللہ والدگرامی کی دعاان کے حق میں قبول ہوئی، یہ دعامیں مذکورصفات کے حامل اورابھی 83سال کی عمرمیں حیات ہیں، انھوں نے کافی عرصہ جامع مسجدمعین پورمیں امامت وخطابت فرمائی اوروالدگرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ترویج مذہب اہل سنت میں مصروف رہے۔تیسرے بیٹے سید محمود احمد شاہ کا بچپن میں جولائی1933ء میں انتقال ہوا۔ (50)بقیہ دو بیٹے سید نثار علی شاہ اور سید سعید احمد شاہ لمبی عمرپاکر فوت ہوچکے ہیں۔ آپ نے دین متین کی خدمات میں زندگی بسرکی اور 19ذیقعدہ 1390ھ مطابق 16جنوری 1971ء کو 63سال کی عمرمیں وصال فرمایا۔تدفین معین الدین پورقبرستان میں کی گئی۔آپ کی تربت خام ہے اوراس پر جو کتبہ لگایا گیا ہے اس پر یہ عبارت کندہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، مولانا سیّدفضل حسین شاہ، ولد سید محمد شاہ میانے شاہنے،وفات ۱۶جنوری ۱۹۷۱ء۔
نوٹ: علامہ سید فضل حسین شاہ صاحب کے متعلق ان تمام معلومات میں سے کچھ آپ کے پوتے سید احمد رضا شاہ صاحب نے دی ہیں، ان کی تحریرکے مطابق پہلی زوجہ محترمہ کانام رابعہ بی بی اوردوسری زوجہ محترمہ کا نام کلثوم بانو تھا،آپ کی بیٹیوں کے نام کبری ٰ،صغریٰ،نورعائشہ اورنورآمنہ تھے، مزیدانھوں نے بیٹوں کےجو نام تحریر کئے ہیں، ان میں سید محمود احمد شاہ کی جگہ سید عثمان احمد شاہ لکھا ہے،مزیداس بات کی بھی وضاحت ہے کہ پہلی زوجہ محترمہ رابعہ بی بی سے سید سعید احمد شاہ، کبریٰ اور صغریٰ تین بچوں کی ولادت ہوئی۔بقیہ اولاد دوسری زوجہ محترمہ سے ہے۔نیز راقم کے گزارش کرنے پر مجلس رابطہ بالعلماء والمشائخ دعوت اسلامی کے ذمہ دار مولانا ظہیر عباس مدنی عطاری صاحب ایک وفد کے ہمراہ 6ستمبر2022ء کو معین الدین پورتشریف لے گئے اور وہاں صاحب تذکرہ کے صاحبزادے حضرت مولانا سید علی محمد فاروق شاہ صاحب اور دیگر احباب سے ملے،اس میں کئی معلومات ان کی مہیا کردہ ہیں، صاحبزادہ صاحب نے ماہنامہ معین الدین کے دس پرچے اور رسالہ آئینہ عقائدشیعہ بھی عطافرمایا،راقم صاحبز ادہ صاحب اوروفدکے تمام شرکا کا شکرگزارہے۔
احمد علی چشتی قادری بہلولپوری
یادگارِ اسلاف حضرت مولانا مفتی احمد علی چشتی قادری بہلولپوری کی پیدائش1312ھ مطابق 1895ء کو بہلول پوربھٹیاں ضلع حافظ آباد میں مولانا خدابخش کے گھرہوئی۔آپ کا بھٹی خاندان صدیوں سے علمیت وروحانیت سے مالامال ہے،بچپن سے ہی آپ حصولِ علم دین کی جانب مائل تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے والدسے حاصل کرکے مدرسہ رتالی ورکاں میں داخل ہوئے۔ موضع ٹھٹھی آرائش کے رہنے والے مولانا محمد امین آپ کے دوست اور کلاس فیلو تھے۔مزیدتعلیم کے لیے آپ لاہورتشریف لے گئے اوردارالعلوم حزب الاحناف میں داخلہ لیا، یہاں دیگراساتذہ کے علاوہ امام المحدثین سے استفادہ کرنے کی سعادت پائی۔ کتب درس نظامی کی تکمیل کے بعد دورہ حدیث کے لیے آپ دہلی تشریف لے گئے اوروہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ کئی علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے احوال وآثارمیں ہے:آپ فتاویٰ دینے کے بنیادی اصولوں سے واقف تھے، مگر احتیاطاً آپ نے ساری زندگی فتویٰ دینے سے اجتناب فرمایا،آپ نے اصول دین کو کافی تفصیل اوردلچسپی سے پڑھا تھا۔فقہ منطق اورفلسفہ سے گہری واقفیت تھی، فارسی زبان کے قادر الکلام شعرا کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے، خوش خط بھی تھے، عربی علما کے علمی وروحانی دینی مباحثوں اور مکالموں کے بارے میں پختہ شعوررکھتے تھے۔(51)
آپ جیدعالم دین، فقیہ ومدرس ہونے کے ساتھ ساتھ صوفی باصفا تھے۔آپ نے بیعت کا شرف امیر حزب اللہ حضرت پیر سید محمد فضل شاہ چشتی جلالپوری سے پایا۔آپ بزرگوں کی صحبت میں رہتے اور اکتساب کیا کرتے۔ دوران حصول تعلیم جب آپ دہلی میں تھے تواولیائے دہلی کے مزارات پر بڑے ادب ومحبت سے حاضری دیا کرتے۔کئی مرتبہ آپ سیال شریف بھی حاضرہوئے اور وہاں کے اولیائے کرام اورمفتیان عظام سے استفادہ کیا۔آپ کے حلقہ احباب میں باوا جی خواجہ غلام حسن نقشبندی چک بھٹی،بابا جی مونیاں والے اور بابا جی چھنی والے(52)جیسے عارفان ِ زمانہ بھی تھے۔(53)
علم وروحانیت میں اعلیٰ مقام ہونے کے باوجودآپ اپنےپسماندہ علاقے میں دینی خدمات میں مصروف رہے، یہاں کاماحول دیہاتی تھا، جس کی وجہ سے آپ کی طبیعت یہاں نہیں لگتی تھی، ایک مرتبہ آپ نے لاہور ہجرت کرنے کا ارادہ کیا مگرعلاقےکے اہل محبت نے آپ سے منت سماجت کرکے یہیں رہنے کی درخواست کی، اس پر آپ نےاپناارادہ بدل لیا۔بہرحال یہ آپ کی بہت بڑی قربانی تھی۔آپ تنہائی پسند اور کم گوتھے، علاقے کے اجڈ لوگوں کی طرف سے ناگواررویوں کاسامنا کرناپڑتامگرآپ دین متین کی خدمت میں مصروف رہے۔آپ نے بہلول پوربھٹیاں میں اپنے والدگرامی کی تعمیرکردہ مسجدمیں امامت وخطابت اور درس وتدر یس کا سلسلہ شروع کیا، علاقے کےبچوں نے آپ سےخوب استفادہ کیا، کئی حافظ وعالم بنے اور عوام بھی دینی مسائل واحکامات سےآگاہ ہوکر دین اسلامی کی تعلیمات پر عمل کرنے والے بن گئے۔بلاشبہ آپ اہل علاقہ کےلیے علم وروحانیت کا مینارہ نورتھے۔
آپ شعروشاعری سےبھی لگاؤ رکھتے تھے، خودبھی پنجابی شاعرتھے، آپ کی ایک پنجابی دعا(54)اہل ذوق کو زبانی یادتھی، دورانِ تدریس آپ عربی وفارسی شعرا کا کلام پڑھتے اورپھراسےبہت آسان اندازمیں سمجھایا کرتے۔آپ کے ایک شاگردکابیان ہے: استاد جی دینی و شرعی حوالے سے علاقہ میں ایک فاضل ہستی کے طور پر مشہور تھے۔ دورانِ تدریس بہت علمی گفتگو فرماتے۔ اسلاف کے اثر انگیز روحانی واقعات بھی سنایا کرتے تھے۔استاد جی کی ایک خوبی مجھے بہت پسند تھی کہ آپ شاگردوں کو ہمیشہ بڑے شوق سے پڑھاتے تھے، سخت مزاج استاد نہ تھے۔آپ نے کبھی علم اور درویشی کی نمائش نہ کی بلکہ ہمیشہ عاجزی و انکساری کا درس دیا۔ کئی مقامی علمائے کرام اور خطبا آپ کے پاس تشریف لایا کر تے تھے، میں نےان کو اکثر ایک جملہ بار بار کہتے سنا : اور تم سارے کے سارے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ ہمارے کدھی کے علاقے میں آپ جیسی روحانی اور علمی شخصیت کہیں نہیں تھی۔ فارسی اور عربی شعرا کا کلام ترجمے و تشریح کے ساتھ سمجھایا کرتے تھے، استاد جی پنجابی زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔ آپ کی منظوم پنجابی دعا اس دور کے ہر باذوق شخص کو تقریباً زبانی یاد تھی۔ مجھ کواس دعا کے چند شعر یاد ہیں۔(55)
آپ کو کتابوں سے عشق تھا، مطالعہ کتب میں اتنا انہماک ہوتا تھا کہ پاس موجود کھانا ٹھنڈاہوجاتااورآپ مطالعہ میں مصروف رہتے۔کتاب خریدنا پڑھنا اوراس کی حفاظت کا اہتمام کرنا آپ کا شوق تھا،یہی وجہ ہے کہ آپ کی لائبریری اب بھی قائم ہے جو دیکھتاہےوہ آپ کے علم وفضل کی گواہی دیتاہے۔ ایک مرتبہ عارف زمانہ حضرت علامہ پیر مفتی ابوالفیض محمد عبدالکریم چشتی محدث ابدالوی آپ کے سالانہ عرس میں بطورِ مہمان تشریف لائے اورکتب خانہ کودیکھا تو خوش ہوئے اورفرمانے لگے: حضرت مفتی احمد علی قادری صاحب تو درس ِ نظامی کے باقاعدہ سند یافتہ تھے اور بڑے منجھے ہوئے عالمِ دین تھے۔(56)مفتی صاحب کی مطالعہ کتب کے ساتھ تصنیف وتالیف میں بھی دلچسپی تھی، آپ کی عربی کتاب زبدۃ الاسلام یادگارہے۔
مفتی صاحب بے شمارخوبیوں کے مالک تھے، حسن ظاہری کے ساتھ حسن باطنی سے مالامال تھے۔آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، قد قدرے لمبا اور ہاتھ پاؤں کی انگلیاں نرم و نازک تھیں۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی۔ سفید رنگ میں کھدر کی پوشاک ان کا پسندیدہ لباس تھا، آپ کا شمار علاقے بھر میں خوبصورت ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ دھیمے لہجے میں کلام کرتے تھے۔ عام حالات میں کم گو تھے۔حسِ مزاح بھی خوب تھی۔بہت کم مواقع ایسے ہیں کہ آپ نے اپنی اندرونی حالت بیان کی ہو۔ مزاجاً نرم دل تھے۔ گھریلو امور میں حسبِ ضرورت دلچسپی لیتے تھے، البتہ بے جا مداخلت سے اجتناب کرتے تھے اوراسے پسندبھی نہیں کرتے تھے۔ صبح کی سیر کو باقاعدگی کے ساتھ جاتے تھے۔عبادات میں کثرت اورانہماک ہوتا تھا۔ صوم و صلوة کی خودبھی پابندی کرتے اوردوسروں کو اس کی تاکیدفرمایا کرتے تھے۔ کھانا بہت کم کھاتے تھے۔دن کا کچھ حصہ گھر میں آرام کرتے تھے۔ بہت کم غصہ آتا تھا، جب کبھی غصہ آتاتو جلد دور ہو جاتا۔ اپنے فرائض اور حقوق میں کبھی غافل نہ ہوتے تھے۔آپ کی گھریلو زندگی مثالی تھی،آپ کی زوجہ محترمہ روٹھ کرکبھی میکے نہیں گئیں۔ آپ خوف خدااورتقویٰ وپرہیزگاری کے پیکرتھے۔ساری زندگی حلال و حرام کے پابند رہے۔سادگی سے زندگی گزاری، دنیا کی طمع و لالچ کو قریب نہ پھٹکنے دیا۔آپ کے فرزند اکبر بتاتے ہیں کہ قبلہ والد گرامی کا ایک پٹواری شاگرد تھا اس نے عرض کی : دریا چناب کا ر خ مغرب کی سمت ہونے کی وجہ سے مشرقی کنارے سے کافی زمین بچی ہے، جو زمین پیداوار کے لیے خالی ہے۔اس میں سے 100ایکٹر زمین پرانی سرکار ی قیمت کے حساب سے آپ کے نام لگوادوں تاکہ آپ کی نسل کو فائدہ ہوسکے، تو قبلہ والد گرامی نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اتنی زمین قیامت میں اپنےگلے میں کیسے لٹکا کر اپنے مالک اللہ جل جلالہ کے حضورپیش ہوں گا۔(57)
تقریباً پچاس سال کی عمرمیں آپ کے جسم کے دائیں جانب شدیددردشروع ہوااوربخاربھی ہوگیا۔ مقامی طورپرعلاج معالجہ جاری رہامگرآرام نہ آیا۔آپ کے ہم جلیس بابامونیاں شریف والے عیادت کے لیے تشریف لائے اورعلاج کے لیے پنڈی بھٹیاں لے جانے کی کوشش کی۔آپ راضی نہ ہوئے اوراسی مرض میں8محرم 1365ھ مطابق 13دسمبر1945ء میں وصال فرماگئے۔ آپ کے جنازے میں لوگوں کی کثرت تھی۔تدفین مقامی قبرستان کھوئی میانی میں ہوئی۔مزارمبارک پیپل کے درخت کے نیچے ہے جہاں ہرسال عرس عقیدت ومحبت سے منعقدہوتاہے۔(58)استاذالعلماء حضرت مولانا بشیراحمد قادری نوری چشتی مدظلہ العالی آپ کے علمی وروحانی جانشین ہیں۔(59)
نوٹ: راقم الحروف کو یادگارِ اسلاف حضرت مولانامفتی احمد علی چشتی قادری بہلولپوری کا مختصرتذکرہ سہ ماہی مجلہ خاتم النبیین پاکستان (جمادی الاخریٰ تاذیقعدہ 1443ھ)میں فضیلۃ الشیخ پیرسیدصابرحسین شاہ بخاری مدظلہ العالیٰ کےشائع ہونے والے ایک مضمون سے ہوا۔مزیدمعلومات کے لیے شاہ صاحب نے مفتی صاحب کے پوتے صاحبزادہ ابوالمقتدیٰ محمدبدیع الزمان بھٹی ایڈوکیٹ کا نمبردیا، عزیزی مولاناتصورحسین عطاری مدنی (لائبریرین عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ کراچی) کے ذریعے بھٹی صاحب کی غیرمطبوعہ کتاب احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری اوردیگرتحریریں ملیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے یہ مضمون تحریرکیاہے۔راقم ان تینوں کا شکرگزارہے۔
محمد صادق نقشبندی لاہوری
صاحبِ کرامات حضرت پیر حافظ سائیں محمد صادق نقشبندی کی ولادت موضع بوگڑہ مانسہرہ خیبرپختون خواہ کے ایک ہاشمی قریشی دینی خاندان میں رمضان 1332ھ مطابق 1914ء میں ہوئی۔1928ء میں آپ لاہور میں آکر محلہ شاہ بخاری باغبانپورہ میں مقیم ہوگئے۔اسی محلے میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اس کےبعد آپ دار العلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخل ہوئے اورامام المحدثین سے پڑھتے رہے۔فارسی کی ابتدائی کتب کے ساتھ قدوری وہدایہ شریف کے اسباق بھی پڑھے۔ آپ کی طبیعت سیروسیاحت کی طرف مائل تھی، چنانچہ آپ 1932ء میں ہندکے شہروں کی سیاحت کے لیے روانہ ہوئے۔جب بھی کسی شہرمیں جاتے تو وہاں اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری دیتے اورذکروفکرمیں مصروف رہتے۔آپ اس سفرمیں اجمیر، پونا، بمبئی، ترچناپلی، کلکتہ، انبالہ، دہلی، امرتسر، دہلی اورسہارنپورتشریف لے گئے۔واپسی پر امیرملت پیر سید جماعت علی شاہ کی زیارت کے لیے علی پور سیداں ضلع نارووال میں حاضرہوئے اوران کے فرمانے پران کے خلیفہ پیر حیات محمد نقشبندی سیالکوٹی کے دست اقدس پر بیعت کرلی۔بیعت کے بعد لاہور آگئے اور ملتان روڈ پر مین لاہور سے جانبِ جنوب 12کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہنجر وال کے علاقے میں قیام کیا اوروہاں ایک مسجدتعمیرکروائی، یہ علاقہ اب لاہور کے اقبال ٹاؤن کا یوسی نمبر117 ہے۔
1948ء میں آپ پرجذب کی کیفیت طاری ہوگئی اوریہ حالت 1978ء تک 30سال رہی۔آپ کا قیام مختلف مقامات پر رہا۔آپ کا آخری اورطویل قیام لاہورکے علاقے مغل پورہ میں مقبرہ نواب بہادرخان نزد ریلوے پھاٹک نمبر7 میں رہا۔آپ سردی میں مختصرسے لباس اورگرمیوں میں چودہ چودہ کوٹ پہنے پڑے رہتے۔1965ء میں آپ سڑک کے دوسرے کنارے پر شیشم کےدرخت کے نیچے چلے گئے اوروصال تک یہیں رہے۔ 1978ءمیں آپ کی جذب کی کیفیت ختم ہوگئی۔آپ شریعت کی پابندی کرتے ہوئےصوم وصلوٰۃ کے پابنداورمتبع سنت ہو گئے۔نمازجمعہ جامع مسجدفاروقیہ ڈاک خانہ مغل پورہ میں عاشق قرآن علامہ احمد حسن نوری صاحب کی اقتدامیں اداکرتے۔ 1981ء میں آپ نے پاک و ہندکے شہروں کا دوسرا سفر شروع فرمایا۔دہلی، اجمیر،مظفرنگر،سہارن پور،امرتسر،شورکوٹ، گجرات، وزیرآباد، نورپورشاہاں، چوہا سیدان شاہ،سیالکوٹ، سیہون شریف،لواری شریف اورکراچی وغیرہ میں تشریف لے گئے۔آپ صادق الطلب اورسیف اللسان تھے یعنی جودعاکرتے تھے قبول ہوتی تھی۔آپ نہایت دبدبے والے اورباکرامت ولی اللہ تھے۔آپ کے مریدکثیرتھے مگرفرمایاکرتے تھے:میں یہ دعویٰ پسندنہیں کرتا کہ میرے لاکھوں مریدہوں بلکہ میں یہ بات پسندکرتاہوں کہ میرے مریدوں میں سے کوئی بھی گناہِ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو۔
زندگی کے آخری ایام میں مغل پورہ ڈاکخانہ کے پاس آپ کا ایکسیڈنٹ ہوااور10رمضان 1404ھ مطابق10جون 1984ء کووصال فرمایا۔نمازجنازہ علامہ احمدحسن نوری صاحب نے پڑھائی، نمازجنازہ میں شرکا کی تعداد تقریباً دس ہزارتھی، آپ کا مزار لاہور نہر اور برلب سڑک مغل پورہ لاہورمیں واقع ہے۔ مزارکے ساتھ ہی جامع مسجدپیرمحمد صادق نقشبندی ہے جس کی عمارت تین منزلہ گنبددارہے۔اس کا مینار 60فٹ بلندہے،ہرسال مزارپر عرس ہوتاہے۔(60)
محمد یعقوب خان سیالکوٹی
خطیب دلپذیر،علامہ وقت،استاذالعلماء والاطباء حضرت مولانا علامہ مفتی حکیم محمد یعقوب خان سیالکوٹی جید ومستندعالم دین، مفتی اسلام اور حاذق طبیب تھے، آپ کی پیدائش تقریباً 1912ء میں سیالکوٹ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے علما بالخصوص فقیہ اعظم مولانا محمدشریف کوٹلوی سے حاصل کی۔ اس کے بعد دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیااورامام المحدثین سے شرف تلمذ پایا۔1931ء میں دارالعلوم کے امتحانات ہوئے مگرآپ ان میں کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔دارالعلوم میں آپ کے ساتھ فقیہ اعظم کے صاحبزادے مولانا ابو النور محمد بشیر کوٹلوی صاحب بھی پڑھاکرتے تھے۔یہیں دورہ ٔ حدیث کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ مفتی اعظم پاکستان سے سندحدیث اورسندالفراغ حاصل کی۔انہیں سے فتاویٰ نویسی کی تربیت پائی۔ طب کابھی باقاعدہ علم حاصل کرکے حاذق طبیب کے منصب پر فائز ہوئے اورعرصہ درازتک مطب چلاتے رہے۔آپ نے مزیدتعلیم کے لیے عالم اسلام کی عظیم اسلامی یونیورسٹی جامعۃ الازہرقاہرہ مصر میں داخلہ لیا اوراپنی علمی صلاحیت کا لوہا منوایا، وہاں کے اساتذہ کو آپ کی علمی استعدادپر اتنا اعتمادتھاکہ انہیں جامعۃ الازہر میں تدریس کی ذمہ داری سونپ دی، آپ نے ایک عرصہ وہاں تدریس فرمائی، مزید اس خدمت کو جاری رکھناچاہتے تھے مگروالدہ محترمہ کے حکم پر واپس تشریف لے آئے۔
آپ نے امیرملت پیرسیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری سےسلسلہ عالیہ نقشبندیہ جماعتیہ میں بیعت کا شرف پایا،انہیں کے فرمانے پر مرکزی جامع مسجد چوہدریاں رضویہ جماعتیہ المعروف علامہ محمد یعقوب خان والی مین بازاررنگ پورمیں امامت وخطابت سے دینی خدمات کا آغازفرمایا۔رنگ پورمیں آپ نے مطب حکیم محمد یعقوب خان، مجاہددواخانہ اورمجاہد لیبارٹیز کو قائم فرمایا۔آپ کا مطب یونانی علاج گاہ ہونے کے ساتھ روحانی علاج گاہ بھی تھا،آپ مریضوں کو دوا دینے کے ساتھ نمازروزے اوروردوظائف کی تلقین بھی فرمایا کرتے تھے۔یہی مطب آپ کا دار الافتاء بھی تھے۔لوگ اپنے شرعی مسائل بھی لے کر آتے اور آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کے جوابات ارشادفرمایا کرتے تھے۔آپ سیالکوٹ کے مشہورمفتی وعلامہ تھے۔ جب کوئی یہ کہتاکہ علامہ صاحب کا فتویٰ ہے تو سب جانتے تھےکہ یہاں علامہ سے مرادحضرت مولانا محمد یعقوب خان سیالکوٹی ہیں۔ آپ کامیاب مناظربھی تھے، آپ نے کئی مناظروں میں حصہ لیا اور ہر مرتبہ کامیابی حاصل کی۔آپ نمازفجرکے بعددرس قرآن دیا کرتے تھے، آپ کادرس قرآن اتنا مدلل اورجامع ہوتا تھا کہ کئی نامورعلمااورائمہ کرام آپ کے درس میں شرکت کرتے اورباہتمام اہم نکات تحریر کرتے۔ ساری زندگی دین متین کی خدمت کرنے کے بعد 5جمادی الاولیٰ 1418ھ مطابق 8ستمبر1997ء کو وصال فرمایا۔ رنگ پور کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔بعد میں مزارتعمیرکیا گیا۔مزارکے چاروں کونوں پر اوپرکی جانب چارچھوٹے چھوٹے میناراوردرمیان میں گنبدہے۔مسجدکے تعویذ پر سفیدرنگ کا سنگ مرمرہے۔یہ مزار ایک چاردیواری میں ہے جس میں خاندان کے دیگرافراد کی قبوربھی ہیں۔(61)
نوٹ: راقم کو یہ معلومات میرے کرم فرمااوربرادرِ اسلامی حضرت مولانا قاری محمدیعقوب عطاری صاحب نے دیں، نیز انہوں نے آپ کی مسجد،مطب اورمزارکی تصاویربھی بھیجیں۔
نورمحمد قادری
مبلغ اسلام، واعظ خوش بیان حضرت مولانا نورمحمد قادری کا شماران خوش نصیبوں میں ہے جو دارالعلوم حزب الاحناف لاہور کے اولین طلبہ تھے۔آپ کی پیدائش اندازاً 1908ء کو موضع باغانوالہ کڑیالہ چک نمبر19، ڈاکخانہ کوٹ حیات خان ضلع شیخوپورہ کے ایک زمین دارگھرانے میں ہوئی۔ والدگرامی کا نام جھنا خاں یا چھتا خاں تھا۔حفظ قرآن اورابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرکے دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا۔9جمادی الاولیٰ 1347ھ مطابق اکتوبر1928ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔بیعت کا شرف سلسلہ قادریہ میں حاصل کیا۔امام المحدثین اورمخدوم الالیا ء شیخ المشائخ حضرت سیدشاہ علی حسین کچھوچھوی نے فارغ التحصیل ہونے کے موقعہ پر دستاربندی فرمائی اورآخرالذکر نے خلافت سے بھی نوازا۔آپ حافظ وقاری، جیدعالم دین، واعظ خوش بیاں اورمصنف کتب تھے۔شریعت کے خلاف کوئی عمل نہ ہونے دیتے۔
زندگی بھرلاہورمیں دین متین کی ترقی میں مصروف رہے، اسی لیے اکابرعلمائے کرام نے آپ کو ناصر الملت والدین اورضیاء اللہ کے القابات عطافرمائے۔ کبھی کبھی اپنے گاؤں باغانوالہ کڑیالہ تشریف لے جاتے، گاؤں والوں کو شریعت پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے اورشریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سمجھاتے۔ آپ کے رعب ودبدبے کی وجہ سے بھی آپ کے ہوتے ہوئے لوگ خلاف شرع کاموں سے باز رہتے۔آپ کی شادی ایک دینی گھرانے میں ہوئی۔آپ کی کنیت ابوحامدہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے بیٹے کا نام حامد قادری تھا۔ابتدائی معلومات پر مشتمل آپ نے کتاب نورِ شریعت رجب المرجب 1370ھ مطابق اپریل 1951ء کوتصنیف فرمائی۔اس پر مفتی اعظم پاکستان علامہ شاہ ابوالبرکات سیداحمد قادری،محدث اعظم پاکستان مولاناسرداراحمد قادری اورمولانا احسان الحق قادری فیصل آبادی نے تقاریظ تحریرفرمائیں۔ علامہ شاہ ابو البرکات قادری نے آپ سے اخی الاخص(خاص بھائی)کے الفاظ سے محبت کا اظہارفرمایا۔(62)
عبد العزیز حامدی مکتسری
حضرت مولانا عبدالعزیزخان حامدی مکتسری کاتعلق پنجاب کے ضلع فیروزپور کے شہر مکتسر کے خان خاندان سے تھا۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرکے دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا۔ جانشین اعلیٰ حضرت، حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان جب لاہورتشریف لائے تو یہ ان سے بہت متاثرہوئے اور ان کے دست اقدس پر سلسلہ قادریہ رضویہ میں بیعت کرلی۔دارالعلوم حزب الاحناف میں 1931ء کو ہونے والے امتحانات میں انھوں نے حصہ لیااورکامیاب ہوئے۔آپ کے ہم عصرطلبہ میں حضرت مولانا ابو النور محمد بشیر کوٹلوی اور محب الرضا قاری محبوب علی لکھنوی وغیرہ تھے۔مفسرقرآن حضرت علامہ شاہ ابو الحسنات سیدمحمد احمدقادری صاحب نے رسالہ رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین تحریر فرمایا تو آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔مزید حالات سے آگاہی نہ ہو سکی۔(63)
محمد یعقوب علی شاہ نقشبندی سہنسوی گجراتی
حضرت مولانا سیدمحمد یعقوب علی شاہ نقشبندی سہنسوی گجراتی کاتعلق سہنسہ ضلع گجرات سے ہے۔آپ 1931ء میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں طالب علم تھے اس سال جنوری میں ہونے والے امتحانات میں انھوں نے بھی حصہ لیا اورکامیاب ہوئے۔آپ نےمفسرقرآن علامہ شاہ ابوالحسنات قادری کے رسالے رجوم المؤمنین کی تصدیق کی جس میں آپ نے اپنے نام کے ساتھ فقیر قادری نقشبندی لکھا ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ سلسلہ نقشبندیہ اورقادریہ سے نسبت رکھتے تھے۔ (64)
عبدالکریم سیالکوٹی
حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی کا تعلق سیالکوٹ سے تھے۔دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں 1931ء کو زیرتعلیم تھے، اس سال کے امتحان میں انھوں نے حصہ لیا اورکامیاب قرارپائے۔(65)
محمد حسین اشرفی سیالکوٹی
حضرت مولانامحمد حسین اشرفی سیالکوٹی کی پیدائش اندازاً 1910ء کو سیالکوٹ کے مولانا بہاؤ الدین سیالکوٹی کے ہاں ہوئی۔گھرکا ماحول علمی تھی اسی لیے علم دین حاصل کرنے کاجذبہ گھرسے ہی ملا۔اپنے علاقے میں علم دین حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخلہ لیا۔1931ء کو ہونے والے دارالعلوم کے امتحان میں کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔آپ دورہ ٔ حدیث کرکے غالباً 23شوال المکرم 1354ھ مطابق 19جنوری 1936ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔اس موقع پر شیخ المشائخ حضرت مولانا سیدعلی حسین اشرفی صاحب نے آپ کو خلافت سے نوازا۔مزیدحالات معلوم نہ ہوسکے۔(66)
ملک محمد غوث اشرفی ملتانی
مناظراسلام حضرت مولاناملک محمد غوث اشرفی ملتانی کی پیدائش اندازاً 1912ء کو ملک احمددین ملتانی کے گھرہوئی۔علم دین حاصل کرنے کے لیے دارالعلوم حزب الاحناف لاہورمیں داخل ہوئے۔دارالعلوم میں جنوری 1931ء کے امتحان میں آپ نے بھی شرکت کی اورکامیابی حاصل کی۔شیخ المشائخ سیدعلی حسین اشرفی نے آپ کو 23شوال المکرم 1354ھ مطابق 19جنوری 1936ء کو خلافت سے نوازا،غالباً اسی تاریخ کو آپ فارغ التحصیل ہوئے۔فن مناظرہ کی تعلیم حضرت شاہ ابوالبرکات سیداحمدقادری سے حاصل کی۔ آپ بہترین مناظربھی تھے۔حضرت شاہ ابوالحسنات سیدمحمد احمدقادری نے رسالہ رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین تحریرکیا ، اس پر آپ کی تصدیق موجودہے۔(67)
غلام قادر ملتانی
حضرت مولانا غلام قادرملتانی حضرت مولاناملک محمدغوث اشرفی ملتانی کے کلاس فیلوتھے۔دارالعلوم حزب الاحناف کے جنوری 1931ء کے امتحان میں آپ بھی شریک تھے اورکامیاب طلبہ میں آپ کانام چھٹے نمبر پر لکھا ہے۔ اسی طرح حضرت شاہ ابوالحسنات صاحب کے رسالے رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین پر آپ کی تصدیق موجودہے۔(68)
فقیر محمد لاہوری
حضرت مولانا فقیرمحمد لاہوری دارالعلوم حزب الاحناف لاہورکے جنوری 1931ء کو ہونے والے امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب قرار پائے۔فقیرقادری کے پیش نظرحضرت شاہ ابوالبرکات سید صاحب قبلہ کا ایک فتویٰ ہے جس میں امام المحدثین سیددیدارعلی شاہ، حضرت شاہ ابوالحسنات قادری، مولانا فضل حسین شاہ گجراتی، مولانا ابوسعیدمسعوداحمددہلوی، مولاناغلام دین قادری اشرفی اورعلامہ عبدالجلیل ہزاروی اورآپ یعنی مولانا فقیرمحمد لاہوری کی تصدیق موجودہے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا شمار دارالعلوم حزب الاحناف لاہورکے اولین فارغ التحصیل علما میں ہوتاہے۔(69)
حضرت مولانا عبدالاحدگجراتی، حضرت مولانا غلام حسین گجراتی ، حضرت مولانا امت رسول صاحب راولپنڈی اور حضرت مولانا منیر اللہ پنجابی چاروں علما 1931ء میں دار العلوم حزب الاحناف لاہور کے طلبہ تھے مگر اس سال کے امتحان میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے جبکہ حضرت مولانا محی الاسلام بہاولپوری اور مولانا نذر حسین گجراتی غالباً1930ء میں تحصیل علم کے دوران انتقال فرما گئے۔(70)
1مجالس علماء، ص311
2اسلام میں تصور شفاعت،ص14
3مجالس علماء، ص106، 241، 312
4تعارف علمائے اہل سنت، ص335تا339 ...لاہورکے اولیائے نقشبند، ص 176تا180
5حضرت فقیہ اعظم کے استاذمکرم مفتی اعظم سیّدابوالبرکات اپنے مکاتیب کے آئینےمیں، ص21
6 فتاویٰ نوریہ کی کل 6جلدیں ہیں، جن کی اشاعت کا آغاز 1974ء میں ہواجبکہ پانچویں اور چھٹی جلد یکجا 1990ء میں شائع ہوئی، ان کے کل صفحات 3410 ہیں، ان میں سوالات و استفتاءات کی تعداد ایک ہزارکے قریب اور کل رسائل 16 ہیں۔(فتاویٰ نوریہ، ایک تقابلی مطالعہ، ص 29تا71)
7فتاویٰ نوریہ، 1/67تا96
8ماہنامہ نورحبیب بصیرپورشریف، 1432ھ، ص34
9روشن تحریریں، ص145
10تذکرہ اکابراہل سنت، ص 234...روشن تحریریں،ص 145
11حیات مخدوم الاولیاء محبوب ربانی،ص310
12 مجالس علماء، ص 84
13 نورنورچہرے، ص34، 48
14تذکرہ اکابراہل سنت، ص 294 ...تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہور، ص 365 ...مجالس علما،ص82، 84، 314
15 سیدی ابوالبرکات، ص57
16 سیدی ابوالبرکات، ص57، 186،185
17 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ... رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18
18 نسائی، 2/93
19 مرآۃ التصانیف،ص274، 276
20تذکرہ فقیہ اعظم، ص 41تا43
21 مجالس علما،ص150
22 نوائے وقت، 16مئی 2013ء
23 مجالس علما، ص 150تا153...بزرگانِ امرتسر، ص 66 ... تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، ص 317تا320
24 مجلہ ضیائے اسلام جہلم، ربیع الاول، ربیع الاخر1427ھ، ص28
25 مجلہ ضیائے اسلام جہلم، ربیع الاول، ربیع الاخر1427ھ، ص27
26 مجالس علما، ص 141، 421
27تذکرہ مجاہدین ختم نبوت ازصادق علی زاہد، ص38 تا 41 ... مجالس علما، ص 421...خاندان درگاہی کی دینی، علمی اورفکری خدمات کا جائزہ(خاکہ برائے تحقیق مقالہ ایم فل اسلامیات (، ص6
28خاندان درگاہی کی دینی، علمی اورفکری خدمات کا جائزہ،خاکہ برائے تحقیق مقالہ ایم فل اسلامیات، ص6
29تذکرہ علماء اہل سنت ضلع اٹک، ص 265تا268
30 سالنامہ معارف رضا، 1990، ص 125
31 سالنامہ معارف رضا، 1990، ص 137
32سالنامہ معارف رضا، شمارہ دہم 1990ء، ص 125تا137 ... تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع اٹک،ص76،158 ...لوح قبر
33ایک روایت کے مطابق ان کی پیدائش 16ربیع الآخر 1333ھ مطابق 3مارچ 1915ء کو ہوئی۔
34آپ کا تعارف صفحہ نمبر 488 پر ملاحظہ کیجئے۔
35 تذکرہ علماء اہل سنت ضلع اٹک، ص284تا286
36 رسائل ومناظرے ابوالبرکات، مناظرہ معین پور،ص332
37رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ...رجوم المؤمنین ،ص 18 ...الصوارم الہندیہ، ص 59
38 ماہنامہ معین الدین لاہور،بابت ماہ اپریل1933ء،ص16
39 ماہنامہ معین الدین لاہور،بابت ماہ مارچ1933ء،ص15
40 ماہنامہ معین الدین لاہور،اگست 1933ء، ص 16
41ماہنامہ معین الدین تاج پورہ لاہور،بابت ماہ مئی 1933ء، ص16، کچھ الفاظ حذف کیے ہیں۔
42ماہنامہ معین الدین تاج پورہ لاہور،بابت ماہ دسمبر 1933ء، ص 2
43 رسائل ومناظرے ابوالبرکات، ص321تا325، 410
44ماہنامہ معین الدین تاج پورہ لاہور، مارچ1933ء،ص22
45ماہنامہ معین الدین لاہور،اپریل 1933ء، ص 14
46 رسالہ آئینہ عقائدشیعہ فوٹوکاپی کی صورت میں راقم کے پاس موجودہے۔
47آئینہ عقائدشیعہ،ص47
48 ماہنامہ معین الدین لاہور،مارچ1934ء، ص 3تا9
49 آئینہ عقائدشیعہ،ص50
50 ماہنامہ معین الدین لاہور،جولائی 1933ء، ص 16
51احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص2
52 ان دونوں بزرگوں کے متعلق معلومات نہ مل سکیں۔
53 احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص4
54 مفتی صاحب کی پنجابی دعائیہ نظم کئی اشعارپر مشتمل ہے، مفتی دار العلوم حزب الاحناف مفتی غلام حسن قادری صاحب نے اس کی شرح کی ہے جس کی ابتدامیں مقدمہ ہے، غالباً ابھی تک یہ غیر مطبوع ہے۔
55احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص4
56 احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص3
57 احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص4
58 احوال وآثارمفتی احمد علی چشتی قادری، ص5
59 سہ ماہی مجلہ خاتم النبیین پاکستان، جمادی الاخریٰ تاذیقعدہ 1443ھ، ص 175
60تذکرہ حضرت پیرمحمدصادق نقشبندی،ص 26، 118، 168تا178
61 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7
62 قانون شریعت، ص5تا7۔مخدوم الاولیاء، ص 303تا307، ان کے بارے میں کچھ معلومات برداراصغرمولاناحاجی حافظ محمد نویدرضا عطاری مدنی نے دیں ۔
63رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ... رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18
64 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ... رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18
65 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7
66 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ... حیات مخدوم الاولیاء، ص 310
67 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7... حیات مخدوم الاولیاء، ص 310 ...رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18
68 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ...رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین،ص 18
69 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7 ...فتاویٰ قلمی،آخری صفحہ
70 رسالہ ضروری احکام ومسائل متعلقہ عیدالفطر،ص7
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع