30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شجرہ سلسلہ چشتیہ نظامیہ اشرفیہ
الٰہی بحرمت سید عالم،فخربنی آدم،خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ الٰہی بحرمت حضرت امام المشرقین والمغربین مولیٰ علی مرتضیٰ
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ حسن بصری الٰہی بحرمت حضرت خواجہ عبد الواحد بن زید
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ فضیل بن عیاض الٰہی بحرمت حضرت خواجہ سلطان ابراہیم بن ادھم
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ حزیفہ المرعشی الٰہی بحرمت حضرت خواجہ امین الدین ہبیرہ البصری
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری الٰہی بحرمت حضرت خواجہ ابواسحاق شامی
الٰہی بحر مت حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی الٰہی بحرمت حضرت خواجہ ابو محمد چشتی
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی الٰہی بحرمت حضرت خواجہ قطب الدین مودودی چشتی
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ محمد شریف زندانی الٰہی بحرمت حضرت خواجہ عثمان ہارونی
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ خواجگان،غریب نواز،سلطان الہند معین الدین چشتی اجمیری
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ قطبِ الدین بختیار کاکی اوشی الٰہی بحر مت حضرت خواجہ مسعودفرید الدین گنج شکر
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی
الٰہی بحرمت حضرت خواجہ عثمان اخی سراج الحق آئینہ ہند
الٰہی بحرمت حضرت غوث العالم محبوب یزدانی مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر
الٰہی بحرمت حضرت شیخ علاء الحق و الدین
الٰہی بحر مت حضرت حاجی الحرمین، مخدوم الآفاق،شیخ الاسلام حضرت سید عبد الرزاق نور العین
الٰہی بحرمت حضرت سید حسین قتال سجادہ نشین خلف ثانی الٰہی بحرمت حضرت سید جعفر عرف شاہ لاڈ
الٰہی بحرمت سید حاجی چراغ جہاں الٰہی بحرمت حضرت محمود شمس الحق و الدین
الٰہی بحرمت سید شاہ راجو الٰہی بحرمت حضرت سید احمد
الٰہی بحرمت حضرت سید فتح اللہ الٰہی بحرمت حضرت سید محمد مراد
الٰہی بحرمت حضرت سید بہاؤ الدین الٰہی بحر مت حضر ت توکل علی
الٰہی بحر مت حضر ت داؤد علی الٰہی بحرمت حضرت سیدشاہ نیاز اشرف حسین
الٰہی بحر مت حضر ت مولانا الحاج شاہ سید ابومحمد اشرف حسین سجادہ نشین
الٰہی بحر مت حضرت مولانا الحاج سید ابواحمد الموعود محمد علی حسین سجادہ نشین
مختصرتذکرہ مشائخ سلسلہ ٔ چشتیہ نظامیہ اشرفیہ
اس سلسلے کے چار بزرگوں کے علاوہ باقی سب کا تعارف گزر چکا ہے۔بقیہ کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
نظام الدین اولیا
محبوب ِ الٰہی،سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا سیدمحمد بخاری چشتی کی ولادت 634ھ کو بدایوں(یوپی) ہند میں ہوئی، 18ربیع الآخر 725 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزارمبارک دہلی میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ آپ عالم دین، ولی کامل اور شیخِ طریقت تھے۔ آپ کی تصانیف میں مجموعۂ ملفوظات اور فوائد الفواد اپنی مثال آپ ہے۔(1)
سراج الدین عثمان اودھی
آئینہ ہند حضرت اخی سراج الدین عثمان اودھی کی ولادت 656ھ میں اودھ(موجودہ نام ایودھیا،ضلع فیض آباد،یوپی،ہند) میں ہوئی،ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی، پھر والدین کے ساتھ لکھنوتی(ضلع مالدہ، بنگال، ہند) تشریف لے گئے،وہاں سے حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، علوم اسلامیہ مولانا فخرالدین زرادی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کئے اورخواجہ محبوب الٰہی دہلوی سے بیعت وخلافت حاصل کی،پھر ان کے حکم سے لکھنوتی آگئے اورخانقاہ سراجیہ چشتیہ کی بنیاد رکھی،آپ کا فیضان چاردانگ عالم میں پھیلا،آپ کا وصال یکم شوال 758ھ میں ہوا،مزارلکھنوتی میں ہے،درسِ نظامی کی مشہور کتاب ہدایۃ النحو آپ کی تصنیف ہے، جمہورعلماومؤرخین کے نزدیک پنج گنج اور میزان الصرف کے مصنف بھی آپ ہیں،آپ سیرت وصورت میں حسین،زہدوتقویٰ کے حامل،مکارم اخلاق و لطافت طبع کے جامع، جودوسخااورتواضع وانکساری کے پیکرتھے۔(2)
جعفر لاڈ
حضرت مخدوم سید جعفر لاڈ بن حضرت مخدوم حسین قتال رحمۃ اللہ علیہما بہادر،جری،اولو العزم اور باحوصلہ بزرگ تھے، 910ھ میں ان کے چچا زادبھائی اورسجادہ نشین سرکارکلاں حضرت مخدوم سیدمحمد اشرف بن حضرت مخدوم سیدحسن کودشمنوں نے شہیدکردیا تویہ جونپورسے کچھوچھہ تشریف لے آئےاور تمام معاملات سرانجام دینے لگے کیونکہ مخدوم محمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کے بچے چھوٹے تھے،ان کی پرورش بھی مخدوم جعفر نے کی اوربڑے بیٹے مخدوم سیدمحمد رحمۃ اللہ علیہ کا نکاح اپنی بیٹی سے کیا،یہی سرکارکلاں کے سجادہ نشین ہوئے۔(3) پھر مخدوم سید جعفر لاڈ کےبعدیکے بعددیگرے حضرت مخدوم الحاج سید چراغ جہاں ، حضرت مخدوم سید محمود شمس الحق والدین، حضرت سید راجو، حضرت مخدوم سید احمد ، حضرت مخدوم سید فتح اللہ ، حضرت مخدوم سید بہاؤ الدین ، حضر ت مخدوم سید توکل علی اور حضرت سید داؤد علی رحمۃ اللہ علیہم خانقاہ کچھوچھہ سرکارِ کلاں کے سجادہ نشین مقرر ہوئے، ان سب کے حالات میسرنہ آسکے۔
نیاز اشرف کچھوچھوی
تاج الاولیاء حضرت مخدوم سید شاہ نیاز اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے والدمحترم حضرت شاہ راجو کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ تھےاورانہیں سلسلہ چشتیہ نظامیہ اشرفیہ کی خلافت حضرت مخدوم سید توکل علی رحمۃ اللہ علیہ نے عطافرمائی اورسرکارِ خوردکا سجادہ نشین بھی مقررفرمایا، تاج الاولیا ء کا انتقال 2ربیع الاخر1278ھ کو ہوا،تدفین حسبِ وصیت حضرت شاہ راجو قدس سرہ کے قدموں میں کی گئی،تاج الاولیاء نے اپنے نواسے اشرف الاولیاء حضرت مخدوم سید شاہ ابو محمد اشرف حسین کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کو خلافت سے نوازاتھااوران پر بہت مہربان تھے،آپ کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی،اس لیے آپ کا استعمالی مکان آپ کے نواسوں اشرف الاولیاء اور مخدوم الاولیاء شاہ سید علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہما کے حصے میں آیا،اس مکان کی تعمیرجدید ہوئی مگر برکت کے لیے اس کی چوکھٹ کو قائم رکھا گیا۔ (4)
1 مرآۃ الاسرار،ص776
2 آئنہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان احوال وآثار، ص 72،105،125،187،214
3 حیات مخدوم الاولیاء،ص16
4 حیات مخدوم الاولیاء، ص 23،43،48،50
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع