30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شجرہ سلسلہ نقشبندیہ توکلیہ
رحم کر ہم پر خدا ذات خدا کے واسطے شافع امت محمد مصطفے کے واسطے
بہر بو بکر و عمر عثمان و علی اصحاب کل اہل بیت حسنین حضرت مصطفے کے واسطے
نفس امارہ کے پھندے سے بچا پروردگار حضرت صدیق اکبر بو الوفا کے واسطے
الفت حق حب احمد میں رہوں ثابت قدم حضرت سلمان فارسی با خدا کے واسطے
مجھ کو مکروہات دنیاوی سے تو محفوظ رکھ حضرت قاسم سراج الاولیاء کے واسطے
تشنہ لب ہوں جام وحدت سے، مجھے سیراب کر جعفر صادق امام الاتقیاء کے واسطے
کر فنا فی اللہ مجھ کو، بہر حضرت بایزید اس ولی طالب ذات خدا کے واسطے
روز و شب ہو یاد تیری اے کریم کارساز بوالحسن خرقانی بدر الدجے کے واسطے
مجھ غریب خستہ دل کی دستگیری ہے ضرور قاسم گرگانی نور الہدی کے واسطے
ہمت عالی عطا فرما مجھے یا ذو الجلال بو علی صاحب دل پارسا کے واسطے
کر زلیخا کی طرف سرمست جام بے خودی خواجہ یوسف ہادی شمس الضحی کے واسطے
پردہ چشم بصیرت کھول دے رب کریم عبد خالق غجدوانی مقتدا کے واسطے
سختی سکرات کو آسان کرنا اے رحیم اس محمد عارف صاحب ضیاء کے واسطے
تو میری نور سے بھرنا خدائے ذو الکرام حضرت محمود انجیر اولیا کے واسطے
کیا عجب کر پرسش منکر نکیر آسان ہو بو علی رامیتنی بوالعلی کے واسطے
مومنوں میں حشر ہو میرا جناب کبریا باب سماسی محمد خوش ادا کے واسطے
آفتاب حشر میں مجھ پر ہو سایہ عرش کا حضرت امیر کلاں اولیا کے واسطے
نامہ اعمال مجھ کو ہاتھ سیدھے میں ملے شہ بہاؤ الدین تاج الاولیاء کے واسطے
پلہ نیکی ہو سنگیں عدل کے نظام میں شہ علاؤ الدین شمس الاولیاء کے واسطے
عیب پوشی حشر میں کرنا مری ستَّار تُو خواجہ یعقوب چرخی باوفا کے واسطے
برق کی مانند طے ہو جائے راہ پل صراط شہ عبید اللہ احرار اولیا کے واسطے
جام کوثر دے پلا دستِ محمد سے مجھے اُس محمد زاہد صاحبِ رضا کے واسطے
اور ہوں فردوس میں ہمسایہ حضرتِ نبی خواجہ درویش محمد پُر ضیاء کے واسطے
ہووے اہل اللہ میں یا رب وہاں میرا شمار خواہ امکنگی ولی صاحبِ شفا کے واسطے
بعد اس کے ہو وہاں دیدارِ رب مجھ کو نصیب باقی ب اللہ مقبول الدعا کے واسطے
آتش دوزخ کا ہو مجھ کو نہ کچھ خوف و خطر شہ مجدد الف ثانی ذوالعطا کے واسطے
دین و دنیا میں مجھے خوشحال رکھنا اے خدا حضرت معصوم مرشد راہنما کے واسطے
کر زباں کو سیف میرے قلب کو پُر نور کر خواجہ سیف الدین تاج الاتقیاء کے واسطے
نور عرفاں سے میرا دل کر منور اے خدا حضرت نور محمد اولیاء کے واسطے
جو میری اولاد ہو سب تقی و پارسا میرزائے جانِ جاناں پیشوا کے واسطے
باب رحمت کھول دے مجھ پر خداوندِ غفور شہ غلام با علی صاحب ہدا کے واسطے
ذکر حق ہو روز و شب مونس مرا اے ذو المنن بو سعید اولیاء نجم الہدیٰ کے واسطے
جز خیال نور حق کچھ دل میں گنجائش نہ ہو شاہ مولانا شریف الاولیا کے واسطے
حافظ و حاجی محمد شاہ محمود اللقب آرزو بر لا میری اس پارسا کے واسطے
شاہ قادر بخش خواجہ خواجگان حق کے شہید بخش دے مجھ کو خدا اس مقتدا کے واسطے
تیرے در پر آ پڑا ہوں اپنا کر لے اب مجھے شہ توکل شاہ پیرا رہنما کے واسطے
ابر رحمت کی رہے مجھ پر ترشح حشر تک استجب ھذا دعائی مصطفے کے واسطے
مختصرتذکرہ مشائخ سلسلہ ٔنقشبندیہ توکلیہ
خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امام المحدثین کے درمیان اس سلسلے کے 6 بزرگوں یعنی امام الاتقیاء امام جعفر صادق، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی حنفی، شمس الدین، حبیب اللہ حضر ت خواجہ مرزا مظہر جان جاناں علوی دہلوی، شمس العرفاں حضرت خواجہ قادر بخش جہاں خیلی ہوشیارپوری اور حضرت سائیں خواجہ توکل شاہ انبالوی نقشبندی کا تذکرہ گزشتہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے۔ جبکہ باقی بزرگوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:
ابو بکر صدیق
امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بنوتیم کے چشم و چراغ، قریش کی مقتدر شخصیت، افضل البشر بعد الانبیاء، سفر و حضر میں سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے رفیق اور مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہیں۔ ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً ڈھائی سال بعدمکّہ مکرمہ میں ہوئی۔ 22 جُمادَی الاُخریٰ 13 ہجری کو مدینۂ منوّرہ میں وِصال فرمایا اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پَہلو میں دفن ہوئے۔(1)
سلمان فارسی
جلیلُ القدرصحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رامہرمز (خُوزِستان، ایران) کے باشِندے تھے، آپ کا وِصال 10رجب 33یا36ھ کو مدائن(عراق) میں ہوا، یہیں سلمان پارک کے عَلاقے میں مزارِمبارَک دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے، آپ طویلُ العمر، مجاہدِاسلام، گورنرِ مدائن، مُشتاقِ جنّت، سلسلۂ نقشبندیہ کے تیسرے شیخِ طریقت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سلمان الخیر ، سلمان مِنَّا اَہْلَ الْبَیْت (سلمان ہمارے اہلِ بیت سے ہیں) کی خوشخبریاں پانے والے ہیں۔(2)
قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق
سراج الاولیاء حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق کی ولادت دورِ خلافت حضرت مولیٰ علی المرتضی میں بقول بعض 23 شعبان 24 ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی،آپ حضرت ابو بکر صدیق کے پوتے، حضرت امام زین العابدین کے خالہ زاد بھائی اور حضرت امام جعفر صادق کے نانا تھے، پرورش حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہوئی،آپ راوی حدیث،امام الحفاظ،عالم وفقیہ اور مرجع زمانہ تھے، آپ کا شمار کبار تابعین اور مدینہ منورہ کے فقہائے سبعہ میں ہوتا ہے۔ آپ کا وصال 24جمادی الاخریٰ 105 یا 106 یا 108 ھ کو سفر حج یا عمرے کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے مابین قدید کے مقام میں ہوا، تدفین مشلل میں ہوئی۔(3)
با یزید طیفور بسطامی
سلطانُ العارفین حضرت با یزید طیفور بسطامی عارفین کے امام اور زمانے کے غوث تھے، 160ھ میں بسطام (صوبہ سَمْنان) ایران میں پیدا ہوئے اور یہیں 15شعبان 261ھ وصال فرمایا۔ مزار مبارک مرجَعِ خلائق ہے۔(4)
ابو الحسن علی خرقانی
بدر الاولیاء غوثِ وقت حضرت خواجہ ابو الحسن علی خَرْقانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 350 ھ میں خرقان (ضلع شاہرود،صوبہ سمنان) ایران میں ہوئی۔10 محرم425 ھ کو وصال فرمایا، مزارِمبارک خرقان میں دُعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔(5)
علی بن عبد اللہ گرکانی
نور الہدیٰ حضرت خواجہ ابو قاسم علی بن عبد اللہ گرکانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت گرکان (نزدطوس،خراسان رضوی،ایران)میں تقریباً 350ھ میں ہوئی اور یہیں 23صفر450ھ کو وصال فرمایا،آپ ولی کامل،علوم اسلامیہ وعصریہ کے ماہر اور صاحبِ کرامت تھے۔(6)
فضل بن محمد فارمدی طوسی
مبلغ اسلام حضرت خواجہ ابو علی فضل بن محمد فارمدی طوسی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 434ھ کو فارمد نزد طوس ایران میں ہوئی اور وفات 4ربیع الاول 477ھ کو ہوئی،مزارمبارک طوس میں ہے،آپ اکابر علما و اولیا سے مستفیض،پرتاثیرمبلغ اسلام،سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم شیخ طریقت ہیں۔(7)
یوسف ہمدانی
شمس الاولیاء حضرت خواجہ ابو یعقوب یوسف ہمدانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولا د ت 441ھ میں بُوزَنَجِرْد (مضافاتِ ہمدان) ایران میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، بانیِ دارُالعلوم،کئی کتب کے مصنف، غوثِ زمانہ اور شیخ الشیوخ ہیں۔ 27رجب 535ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک مَرْو قدیم جنوبی تُرْکْمَانِسْتان میں ہے۔(8)
عبد الخالق غجدوانی
مقتدائے وقت حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی 22شعبان 435ھ کوغجدوان نزد بخارا میں پیدا ہوئے اور 12ربیع الاول 575ھ کو وفات پائی،مزار شریف غجدوان میں ہے۔آپ اپنے پیر ومرشد کے علاوہ حضرت خضر علیہ السلام سے بھی مستفیض ہوئے،آپ جلیل القدرشیخ طریقت،متبع سنت اور صاحب کرامات تھے۔(9)
عارف ریوگری
ضیائے ملت حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ریوگر نزد بخارا (ازبکستان) میں 27 رجب 551ھ کو ہوئی اور یہیں یکم شوال 715ھ کو طویل عمرپاکر وصال فرمایا،آپ علم وحلم، زہدوتقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں مشہور تھے۔(10)
محمود انجیرفغنوی
مرشد کامل حضرت خواجہ محمود انجیرفغنوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 18شوال 627ھ کو انجیرفغنہ نزدبخارا (ازبکستان) میں ہوئی اوروصال 17ربیع الاول 717ھ کوفرمایا،مزار وابکنہ نزد بخارا میں ہے۔آپ حضرت خواجہ عارف ریوگری کے تمام اصحاب ومریدین سے افضل و اکمل تھے،مشائخ نقشبندمیں آپ ہی تھے جو ذکر جہر فرمایا کرتے تھے۔(11)
ابو العُلیٰ علی رامیتنی
حضرت خواجہ عزیزان ابو العُلیٰ علی رامیتنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت رامیتن نزدبخارا(ازبکستان)میں 591ھ میں ہوئی اور28ذی قعدہ721ھ کو خوارزم میں وصال فرمایا،مزارخوارزم میں ہے،آپ صاحب عرفان وکرامات تھے،آپ کے ملفوظات راہِ تصوف کے مسافروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔(12)
محمد بابا سِمّاسی
شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد بابا سِمّاسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سِمّاس (نزدرامیتن ولایت بخارا) از بکستان میں 25رجب591ھ کو ہوئی۔ آپ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخِ طریقت تھے اور بانیِ سلسلۂ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤ الدّین نقشبند آپ کے بھی زیرِ تربیت رہے۔ 10جُمادَی الاُخریٰ755ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مقامِ پیدائش میں ہے۔(13)
شمسُ الدّین امیر کلال سوخاری
خواجہ خواجگان حضرت سیّد شمسُ الدّین امیر کلال سوخاری رحمۃ اللہ علیہ قصبۂ سو خار (نزد بخارا ازبکستان) میں 676ھ میں پیدا ہوئے اور یہیں 15 جُمادَی الاُولی 772ھ کو وصال فرمایا۔ آپ حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور بانیِ سلسلۂ نقشبندیہ حضرت خواجہ بہاؤ الدین محمد نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد اور صاحبِ کرامت ولیُّ اللہ ہیں۔(14)
محمد بہاء الدین نقشبند بخاری
شاہِ نقشبند، قطب ارشاد حضرت سید محمد بہاء الدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 728ھ میں بخارا ازبکستان کے قریب قصرِ عارفاں میں ہوئی اور3ربیع الاول 791 ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک قصرِ عارفاں میں ہے۔آپ امامِ زمانہ، بانیِ سلسلہ نقشبندیہ، دونوں عالم کے سردار اور رہبر و رہنما ہیں، آپ کے دم قدم سے دین آباد ہوا۔(15)
علاء الدین سید محمد عطار بخاری
قطبِ ارشادحضرت خواجہ علاء الدین سید محمد عطار بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق بخاراکے سیدگھرانے سے ہے،آپ خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اور داماد تھے،آپ درجہ کمال اوررشدوہدایت پر فائز تھے،مشہورمحقق علامہ سید شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب تک میں خواجہ علاء الدین رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے مشرف نہ ہوا میں نے خداکو نہ پہچانا۔آپ کا وصال 20رجب 806ھ کو ہوا، مزار مبارک قصبہ چغانیاں (دریائے جیحون کے مشرقی علاقے ماوراءالنہر)میں ہے۔(16)
یعقوب چرخی
مفسرِ قرآن حضرت علّامہ خواجہ یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 762ھ میں چرخ نزد غَزنی افغانستان میں ہوئی اور وصال 5صفر851ھ میں فرمایا، مزار موضع لنین کال خور (دوشنبہ) تاجکستان میں ہے، آپ جید عالمِ دین، خلیفہ بانیِ سلسلہ نقشبندیہ خواجہ بہاؤالدّین اور صاحب تصانیف ہیں، تفسیرِ چرخی اور شرح اَسْماءُ الحُسنٰی آپ کی مطبوع کُتب ہیں۔(17)
عبید اللہ احرار نقشبندی
ناصرملت و دین حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 806ھ کو باغستان نزد تاشقند ازبکستان، میں ہوئی اور29ربیع الاول 895ھ کو دِہ کمان گران (جنوبی سمرقند) میں وصال فرمایا،مزار خواجہ کفشیر نزد احاطۂ ملایان سمرقند میں ہے۔ آپ بارعب، بااثر اور صاحب ثروت عالم، خواجہ یعقوب چرخی کے مرید و خلیفہ،مرجع علماوامراء اور کثیر الفیض تھے۔ (18)
زاہد وخشی
صاحبِ رضا حضرت خواجہ زاہد وخشی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14شوال 852ھ کو وخش (مضافات حصار نزد بخارا، ازبکستان)میں ہوئی اوریہیں یکم ربیع الاول 936ھ کو وصال فرمایا،آپ علّامہ خواجہ یعقوب چَرخی کے نواسے اور خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفہ تھے،آپ جامع علوم ظاہری وباطنی، مرشد کامل، تصرف عظیم اوراستعدادوقابلیت میں اعلیٰ تھے۔(19)
درویش محمد
ضیائے ملت حضرت خواجہ درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 16شوال 846ھ کو ہوئی اور19محرم 970ھ کو وصال فرمایا،مزارموضع اسفزار نزد ماوراء النہر ترکی میں ہے۔آپ اپنے ماموں خواجہ زاہد وخشی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے،آپ متقی وپرہیزگاراوراحتیاط وعزیمت پر عمل پیراتھے،آپ اپنے زمانے کے مرجع خاص وعام تھے۔(20)
محمد مقتدیٰ خواجگی امکنگی
صاحبِ شفا حضرت مولانا خواجہ محمد مقتدیٰ خواجگی امکنگی کی ولادت امکنہ نزد بخارا ازبکستان میں 918ھ کو ہوئی اوریہیں 22شعبان 1008ھ کو وصال فرمایا،آپ مرتبہ ٔ تکمیل وارشادپرفائز ہوکرمرجع طریقت رہے۔(21)
محمد باقی باللہ نقشبندی
مؤید الدین حضرت خواجہ محمد باقی ب اللہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 971ہجری کو کابَل (افغانستان) میں ہوئی۔ولیِ کامل،مقبول الدعا اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔25 جُمادَی الاُخریٰ 1012ہجری کو وِصال فرمایا، مَزار مُبارک بلند دروازہ قُطب روڈ دہلی (ہند) میں ہے۔(22)
محمد معصوم سرہندی
عروۃ الوثقیٰ،مجدالدین حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1007ھ کو سرہند شریف (مشرقی پنجاب،ہند)میں ہوئی اوریہیں 9ربیع الاول 1079ھ کو وفات پائی،آپ جیدعالم دین، شیخ طریقت،والدگرامی حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے سچے جانشین اورکثیرالفیض بزرگ تھے۔(23)
سیفُ الدّین سرہندی مجدّدی
محتسبِ اُمت، حضرت خواجہ سیفُ الدّین سرہندی مجدّدی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سرہند میں 1049 ھ کو ہوئی۔آپ حضرت مجدد الف ثانی کے پوتے، عُلومِ ظاہری و باطنی کے جامع، سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے شیخِ طریقت اور مُغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے شہزادے محمداعظم کے مُرشد تھے۔ 19جُمادَی الاُولیٰ 1095ھ کو وِصال فرمایا، مزار مبارک مقام پیدائش میں ہے۔(24)
نور محمد بدایونی
سید السادات حضرت مولانا خواجہ سید نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ عالم دین،شیخ طریقت،مشتبہات سے بچنے والے،کثیرالمجاہدات اورصاحب کرامات تھے،خواجہ سیف الدین سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفہ تھے،آپ کا وصال 11ذیقعدہ 1135ھ کو ہوا،تدفین دہلی میں مزارخواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کے قریب نواب مکرم خان کے باغ میں ہوئی۔(25)
عبد اللہ غلام علی دہلوی
صاحبِ رُشدوہدایت حضرت مولانا خواجہ شاہ عبد اللہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1156ھ میں پٹیالہ (ضلع گورداسپور مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی۔ 22صفر 1240ھ میں وصال فرمایا، آپ کا مزار خانقاہ شاہ ابو الخیر دہلی ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، عظیم شیخِ طریقت، تیرھویں صدی کے مجدد، صاحبِ کرامت ولی اللہ اور 12 سے زائد کُتب کے مصنف تھے۔ مقامات مظہری آپ کی ہی تصنیف ہے۔(26)
ابو سعید رامپوری دہلوی
نجم الہدیٰ حضرت شاہ ابو سعید رامپوری دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 2 ذیقعدہ 1196ھ کورام پور (یوپی، ہند) میں ہوئی۔آپ حافظ وقاری ٔ قرآن،عالم دین،شیخ طریقت،امام العلماء والعارفین، اورخانقاہ مظہریہ دہلی کے سجادہ نشین تھے،یکم شوال 1250ھ کو وصال فرمایا،تدفین خانقاہ شاہ ابوالخیردہلی ہند میں ہوئی۔ اثبات المولود والقیام آپ کی چھ تصانیف میں سے ایک ہے۔(27)
محمد شریف علوی قندھاری
تاجدارِ اولیاء حضرت مولانا بابا محمد شریف علوی قندھاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1198ھ کو قندھار (افغانستان) میں ہوئی،کابل وپشاورمیں علوم اسلامیہ کے حصول میں 9سال مصروف رہے، خواجہ شاہ عبد اللہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوکر علوم باطنی حاصل کئے،حضرت شاہ ابوسعیددہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت حاصل کی،بشمول جالندھروہوشیارپورکئی شہروں میں روحانی فیضان عام کیا،1260ھ میں ہوشیارپور میں وصال فرمایا،تدفین سرہند میں مزار خواجہ معصوم سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے شمال مغرب میں حوض مسجد کے جنوبی کنارے سے ملحق ہوئی۔(28)
محمود آرزو جالندھری
افسر المشائخ حضرت حافظ حاجی محمود آرزو جالندھری ڈیرہ غازیخان کے رہنے والے تھے،حج سے واپسی پر آپ جالندھر میں مقیم ہوگئے، یہیں حضرت مولانا بابامحمدشریف قندھاری رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوئے اور بعد میں خلافت سے نوازے گئے،آپ نہایت حلیم وبردباراورخلیق تھے،کثیرلوگوں نے آپ سے روحانیت حاصل کی،آپ کے کئی خلفاتھے جن سے آپ کا فیض عام ہوا،آپ کا وصال 8ربیع الاول 1306ھ کو ہوا، تدفین جالندھر(مشرقی پنجاب) ہند کی بستی شیخ کے قبرستان میں ہوئی۔(29)
1 تاریخ الخلفاء، ص 21تا 66
2طبقاتِ ابنِ سعد، 4/54، 70...تاریخ ابنِ عساکر، 21/373 ، 460 ...کراماتِ صحابہ، ص217، 219
3سیراعلام النبلاء،5/32تا36 ...تاریخ مشائخ نقشبند،ص 151
4 طبقات الصوفیہ، ص67 ...تذکرہ مشائخ نقشبندیہ، ص70
5 مرآۃ الاسرار مترجم، ص473...نفحات الانس مترجم، ص335
6 لمعات کمالات قادریہ وتبرکات خالقیہ، ص 113
7 طبقات الشافعیۃ الکبریٰ،4/10 ...تاریخ مشائخ نقشبند،ص 106
8 سیراعلام النبلا،12/ 381 ... تاریخِ مشائخِ نقشبندیہ، ص 197
9 حضرات القدس مترجم،1/118 ...تاریخ مشائخ نقشبند، ص117
10 حضرات القدس مترجم،1/136 ...تاریخ مشائخ نقشبند، ص 130
11 حضرات القدس،1/139 ...تاریخ مشائخ نقشبند، ص132
12 حضرات القدس،1/160 ...تاریخ مشائخ نقشبند، ص 136
13حضرات القدس، ص162...تاریخ مشائخ نقشبند، ص147
14 تذکرۃ المشائخ، ص32، 33 ...تاریخ مشائخ نقشبند،ص 151
15 حضرات القدس ،1/163 ...تاریخ مشائخ نقشبند، ص167
16 حضرت خواجہ نقشبنداورطریقت نقشبند،ص 346
تاریخ مشائخ نقشبند،ص 218
17 تاریخ مشائخ نقشبند، ص225تا234
خواجہ عبید اللہ احرار، ص89
18 خواجہ عبید اللہ احرار،ص81تا160
19 حضرات القدس، ص255
20 حضرات القدس، ص256
تاریخ مشائخ نقشبند،ص 260
21 حضرات القدس، ص 259 ...تاریخ مشائخ نقشبند،ص 264
22 دلی کے بائیس خواجہ، ص 182تا188
23 تاریخ مشائخ نقشبند، ص 401تا 418
24 تاریخ مشائخ نقشبندیہ، ص611تا627
25 فیوضات حسینیہ، ص 387
26 جہانِ امام ربانی،4/588تا602
27 فیوضات حسینیہ، ص391
اثبات المولود والقیام، ص 15
28 تذکرہ مشائخ نقشبند، ص 443تا446
29 تذکرہ ٔاولیائے جالندھر،ص206تا209...لمعات کمالات قادریہ وتبرکات خالقیہ، ص 122
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع