دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hayat e Imam ul Muhaddiseen | حیات امام المحدثین

book_icon
حیات امام المحدثین
            

5- اولادِ رسول محمدمیاں مارہروی

تاج العلماء، سراج العرفاء حضرت مولانا علامہ مفتی سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ علیہ حافظِ قراٰن، عالمِ باعمل،قائداہل سنت، صاحبِ تصنیف کثیرہ،اسلامی شاعر،مؤرخ خاندانِ برکات، عظیم دانشور،مؤثرشخصیت اورخانقاہ مارہرہ شریف کے فعال شیخ طریقت تھے۔

ساداتِ مارہرہ کے آباؤ اجداد

سادات بلگرام، مارہرہ اور مسولی شریف کے جدامجدولی کامل حضرت سید محمد صاحب الدعوۃ الصغریٰ بلگرامی ہیں،جو سادات واسطیہ وزیدیہ کے چشم وچراغ تھے۔ان کے آباؤ اجداد مدینہ شریف سے کوفہ پھر واسط اور پھر ہند تشریف لائے تھے۔ ان کی ولادت 564 ھ ہند میں ہوئی۔ یہ ولی کامل، مجاہدِاسلام، خلیفہ قطب الدین بختیار کاکی ہیں۔ 14شعبان المعظم645ھ کووصال فرمایا،مزار مبارک جانب شمال محلہ میدان پور بلگرام ہند میں ہے۔(1) اس خاندان کی مشہور ترین علمی شخصیات میں صاحبِ سبع سنابل حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی، صاحب مآثر الکرم حسان الہند مولانا غلام علی آزاد بلگرامی اور صاحبِ تاج العروس علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی یمنی کا نام نمایاں ہے۔اسی خاندان کی اہم علمی وروحانی شخصیت سلطان العاشقین سیدشاہ برکت اللہ (2) کے دادا علامہ میر عبد الجلیل بلگرامی چشتی وہ پہلی شخصیت ہیں جو مارہرہ تشریف لائے اور یہاں خانقاہ قائم فرمائی جسے بڑے پیرکی درگاہ کہاجاتاہے۔ حضرت شاہ برکت اللہ قدس سرہ کی ولادت بلگرام میں ہوئی اور وصال مارہرہ میں ہوا۔ساداتِ برکاتیہ کی موجودہ بستی پیر زادگان انہوں نے ہی بسائی۔سلسلہ قادریہ برکاتیہ کی بانی آپ کی مبارک ذات ہے۔(3)

تاج العلماء کی پیدائش

اسی عظیم خاندان کے چشم وچراغ تاج العلماء حضرت علامہ سیّداولادرسول محمد میاں قادری بن علامہ ابو القاسم سیّدمحمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں بن خاتم الاسلاف حضرت سیّد شاہ محمد صادق بن سیّد العابدین حکیم شاہ سید اولاد رسول بن سید آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ کی پیدائش 23رمضان 1309ھ مطابق21 اپریل1892ء کو دادا جان کے گھرمحلہ تامسین گنج (Tompson Ganj) سیتاپور یوپی ہند میں ہوئی۔آپ کا عقیقہ اولاد رسول فخر عالم محمدنام پر ہوا۔بعد میں خاندانی رواج کے مطابق میاں کا اضافہ ہوا، اسی وجہ سے محمد میاں نا م مشہورہے۔آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا حافظ سیدغلام محی الدین کو فقیر عالم کہاجاتاہے، اس لیے بعض بزرگ آپ کو محمدعالم کہتے تھے۔اکمل التاریخ میں آپ کا نام محمد عالم ہی لکھا ہے۔(4)خاندان والے محبت سے حضرت ببّاکہاکرتے تھے۔(5)

تحصیل علم وعرفان

ناظرہ قرآن کریم والدماجدشاہ جی میاں،بڑے بھائی حضرت سیدغلام محی الدین فقرعالم اور ہمشیرہ زوجہ سید مہدی حسن سے پڑھا۔ مشق خط بھی انہیں سے کرتے رہے۔حفظ قرآن کی سعادت اپنے والد صاحب کے بھی استاذ حافظ عبد الکریم ملک پوری سے حاصل کی۔ آپ کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا،ذہین اتنے تھے کہ جو پڑھ لیتے وہ فوراً یاد ہو جاتا۔(6) ابتدائی درسی کتب بالخصوص فارسی کتب والد ماجد اور منشی فرزند حسن سے پڑھیں۔کچھ کتب مولانا میاں جی رحمت اللہ مارہروی،مولانا غلام رحمانی ولایتی،(7) مولانا حافظ حاجی حکیم محمد امیر اللہ بریلوی اور مدرسہ قادریہ بدایون میں علامہ عبد المقتدر بدایونی سے پڑھیں۔(8) اکثرکتب مولانا سیدحیدرشاہ پشاوری(9) سے پڑھ کران سےدورہ حدیث شریف کیا۔ اسنادِقرآن وحدیث وفقہ سراج السالکین علامہ شاہ سید ابو الحسین احمد نوری اوراپنے والدگرامی سے حاصل کیں۔ بیعت والدصاحب شاہ جی میاں حضرت سیدابوالقاسم محمد اسماعیل حسن مارہروی سے کرکے خلافت سے نوازے گئے۔حضرت شاہ ابوالحسین نوری نے بھی خلافت عطا فرمائی۔آپ کا حلیہ بھی حضرت نوری میاں سے ملتا تھا۔آپ کو سلسلہ قادریہ برکاتیہ کے ساتھ دیگر سلاسل نقشبندیہ،ابوالعلائیہ،چشتیہ نظامیہ،سہروردیہ جدیدیہ وقدیمیہ،اشغال واعمال،قرآن کریم وحدیث مبارکہ اورمصافحات وبرکات کی اجازت حاصل تھی۔(10)

تاج العلماء اوراعلیٰ حضرت

تاج العلماء اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے باقاعدہ شاگردنہیں تھے مگرانہیں اپنے اکثر اساتذہ سے زیادہ اوربہتراستاذ مانتے تھے کیونکہ انھوں نے ان کی تقریروں اورتحریروں سے دینی علمی کثیر فوائد حاصل کئے۔آپ فرماتے ہیں:چونکہ تحریروتقریرمیں اُن کا طریقہ بےلوث اورمواخذات صوری ومعنوی،شرعی وعرفی سے منزا و مبرا ثابت ومحقق ہوا،لہذا فقیر بھی تابہ وسعت اُن کے طریقے کااتباع کرنا پسند کرتا ہے۔(11) تاج العلماء بلکہ اہل خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کواعلیٰ حضرت کی فقہی مہارت پر اتنااعتمادتھا کہ ہرمسئلے پر مکمل طور پر آپ کی حمایت وتائیدکرتےتھے،بقول شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی خانقاہِ برکاتیہ نے کلیات توکلیات،اصول تو اصول، فروع میں بھی اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کے فتوے پر عمل فرمایا ہے۔(12) یہی وجہ ہے اس خانوادے کے کئی افرادنے اعلیٰ حضرت کو استفتاء بھیجے اوراعلیٰ حضرت نے ان کے فقہی جوابات ارشادفرمائے۔ان میں سے کئی استفتاء فتاویٰ رضویہ کی مختلف جلدوں میں موجودہیں۔تاج العلماء نے جوسوالا ت بھیجے وہ فتاویٰ کی چھٹی جلدمیں صفحات 340، 632، 10ویں جلدکے صفحہ 547، 16ویں جلدکے صفحہ348، 22ویں جلدکے صفحات 204، 400، 24ویں جلدکے صفحہ326اور 26ویں جلد کے صفحہ 111 پر موجودہیں۔(13)

تالیف وتصنیف میں دلچسپی

زمانہ طالب علمی سے ہی آپ تصنیف وتالیف کی جانب مائل تھے چنانچہ آپ کی پہلی تصنیف القول الصحیح فی امتناع الکذب القبیح اس وقت سامنے آئی جب آپ پڑھنے کے لیے شاہجہان پور تشریف لے گئے تھے۔اسے آپ نے بغیرکتابوں کودیکھے تحریرکیا تھا کیونکہ شائع کرنے والے کو جلدی تھی۔ آپ 1329ھ تک 34کتب ورسائل تحریرکرچکے تھے۔ اس کے بعد آپ 46سال زندہ رہے۔ آپ نے مختلف موضوعات میں کتب ورسائل تحریرفرمائے: * عقائد میں رسالہ مختصرہ در اثبات واجب الوجود اور القول الصحیح فی امتناع الکذب القبیح ۔٭ فقہ میں مبحث الاذان ، شافی جواب پر کافی ایرادات، نماز کے پڑھنے پڑھانے کا عمدہ طریقہ، خیر الکلام فی مسائل الصیام ، البرہان القوی علی عدم جواز التراویح خلف الصبی ، تفہیم المسائل بارسال الرسائل ، العذاب الاکبرلمانع ذبح البقر ، شموع الانوار ،فتویٰ رؤیت ہلال۔ * تاریخ کے موضوع پر آپ کی کتب اصح التواریخ ، تاریخ خاندان برکات، سوانح عمری حضرات اکابر خاندان برکات، خزانۂ واقعات عجیبہ، تذکرہ حضرت فقیرعالم، اکمل التاریخ پر ایک نظر وغیرہ ۔ * مختلف موضوعات میں العلم، حق کی فتح مبین، مجموعہ مکاتبات، مجموعہ مضامین اور مجموعۂ فتاوی شامل ہیں۔ * کچھ کتب پر حواشی لکھے مثلاً حاشیہ بر رسالہ خلاصۃ المنطق بدایونی۔ * کچھ کتب کے تراجم کئے مثلاً آداب السالکین از اچھے میاں۔ * آپ اچھے شاعربھی تھا، آپ کاشعری مجموعہ مسدس شوکت اسلام کے نام سے ہے۔(14) آپ کی کئی کتب شعبہ اشاعت کتب جماعت رضائے مصطفیٰ ہند سے شائع ہوئیں۔(15)

شادی وسجادہ نشینی

تاج العلماء کانکاح سادات نومحلہ بریلی کی بنت سید وجیہہ الدین احمد نقوی کے ساتھ ہوا،جو سادات کے ایک معزز فرد حضرت سیّدمحمد یحیی ٰ مجومیاں کی نواسی تھیں جن سے ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جو بچپن میں ہی انتقال کرگیا۔(16)آپ کے والدگرامی شاہ جی میاں حضرت علامہ ابوالقاسم سیّدمحمد اسماعیل حسن مارہروی خانقاہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ کے سجادہ نشین تھے،یکم صفر1347ھ میں جب ان کا انتقال ہواتو آپ کو سجادہ نشین بنایا گیا۔ خاندان کے قدیم طریقہ کارکے مطابق شاہ جی میاں کے چہلم کے موقعہ پر دستاربندی کی گئی۔(17)آپ نے اپنے والدگرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خانقاہ مارہرہ کے بچوں کواسلامی تعلیم وتربیت سےآراستہ کیا۔خانقاہ مارہرہ کے اداروں کو مضبوط کیااورمزیدکئی ادارے قائم کئے۔ آپ کے سنہری کارناموں میں بزم قاسمی برکاتی اورمطبع صبح صادق کی تشکیل نو، رسالہ اہل سنت کی آواز کا اجرا، دار الاشاعت برکاتی، دار الافتا خانقاہ برکاتیہ اور مخزن البرکات کا قیام شامل ہے۔خانقاہ مارہرہ کے تحت چلنے والے دار العلوم قاسم البرکات کی دیکھ بھال اور سینکڑوں مدارس کا قیام و تعاون کرنے میں بھی آپ پیش پیش تھے۔(18)تاج العلماء کے شاگردوں میں سے حافظ ظہیرالدین برکاتی(19) وہ خوش نصیب ہیں جنہیں درسِ قرآن آپ نے خوددیا ہے۔(20)

مریدوں کی تربیت

تاج العلماء اپنے مریدوں کی تربیت کی جانب خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔آپ انہیں بُرے عقیدوں، بری رسموں،گناہوں بھرے کاموں،لغویات وفضول کھیلوں سے بچنے کی تلقین کرنے کے ساتھ شریعت کے مطابق اپناظاہراورباطن سنوارنے،اطاعت وعبادت میں مشغول رہنے،اپنے اندرصبروقناعت اورتقویٰ جیسی صفات پیداکرنے کی ترغیب ارشادفرمایا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مریدعقیدے میں پختہ اور شریعت کے پابندہواکرتے تھے۔چنانچہ فقیہ اعظم ہندمفتی شریف الحق امجدی تحریرفرماتے ہیں:مَیں نے تاج العلماء کے مریدین کودیکھا۔متصلب سنی اورپورے طورپر پابندِ شریعت،حق گوئی میں دلیرہیں۔ ان کے کسی مریدکو مَیں نےمداہن عقیدے میں نہ پایااوراکثرکو شریعت کا کماحقہ پابندپایا۔یہ سب حضرت تاج العلماء قدس سرہٗ کی روحانی تربیت کا اثرہے۔(21)

عرس قاسمی برکاتی کا آغاز

تاج العلماء اپنے والد علامہ ابوالقاسم سیّدمحمد اسماعیل حسن شاہ جی میاں کاسالانہ عرس بڑے اہتمام کے ساتھ منایاکرتے تھے،کئی ماہ پہلے سے تیاری شروع ہوجاتی۔تاج العلماء کا طریقہ یہ ہوتاتھا کہ عرس قاسمی برکاتی کے جو دعوت نامے علما اورخلفا کو بھیجنے ہوتے تھے وہ خوداپنے قلم سے تحریرفرماتے تھے۔سینکڑوں اشتہارات شائع کرواتے جو مختلف شہروں میں اپنے مریدین کو روانہ کرواتے تھے۔عرس میں ہونے والی تقریبات عین شریعت کے مطابق منعقدہوتیں،چنانچہ تاج العلماء تحریرفرماتے ہیں:یہ عرس شریف بفضلہ تعالیٰ ہرطرح لغووباطل کھیل تماشوں،باجوں گاجوں،خلافِ شرع باتوں اورناجائزکاموں سے قطعاً پاک ومنزہ اوربحمدہ تعالیٰ صحیح معنیٰ میں جامہ ٔ شریعت سے آراستہ اور لباسِ طریقت سے پیراستہ ہوتاہے۔(22)

عادات واطوار

تاج العلماء وقت کے بہت پابندتھے۔سفروحضرمیں اپنے معمولات کے مطابق سارے کام سرانجام دیا کرتے تھے۔نظم وضبط مثالی تھا،سفر میں اپنی ضرورت کا تمام سامان اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ کسی سے سوال نہ کرنا پڑے۔ اپنے سارے کام خودسرانجام دیتے تھے۔ کسی سے خدمت لینا پسندنہ کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کے مرید خاص مولانا مظہرحسین بدایونی نے آپ کو پنکھا جھلناشروع کردیا،آپ نے انہیں روک دیا اورفرمایا: آئندہ بغیرپوچھے ایسانہ کرنا،قدرت نے ہمیں یہ دوہاتھ اپنا کام کرنے کوعطافرمائے ہیں۔آپ کی ایک خاص عادت یہ تھی کہ کسی کی برائی (غیبت)نہ خودکرتے اورنہ ہی کسی کو کرنے دیتے تھے۔کوئی غیبت کرنے لگتا تو فوراً منع کردیا کرتے تھے۔بہت سخی اورحاجتیں پوری کرنے والے تھے۔(23) علمائے کرام کی خدمات پر تحسین فرماتے جیساکہ فقیہ اعظم،شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی نے اپنی مدلل وفکرانگیز کتاب اشک رواں لکھی اورآپ تک پہنچی تو آپ نے انہیں کثیر دعائیں دیں، تحسین و آفریں سے نوازا اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دعائیہ کلمات تحریر فرمائے۔(24)

شریعتِ مطہرہ کی پابندی

تاج العلماء خود بھی شریعت کے پابندتھے اوردوسروں کو بھی شریعت کی پابندی کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔آپ اسی شخص کو مریدکیا کرتے تھے جو شریعت کا پابندہو۔اگرکوئی بے نمازی،بے روزہ یا داڑھی منڈانے والابیعت کی درخواست کرتاتو آپ منع کردیا کرتے تھے۔ایک سیدعالم دین ایک مشت سے کم داڑھی رکھتے تھے، انھوں نے تاج العلماء سے بیعت کا عرض کیا تو آپ نے انہیں ایک مٹھی داڑھی بڑھانے کی تلقین کرتے ہوئے بیعت سے انکارکردیا۔سیدصاحب نے توبہ کی،ایک مٹھی داڑھی بڑھائی تب آپ نے انہیں مرید کیااوربعد میں خلافت بھی عطافرمائی۔اپنے وصال سے چندسال قبل آپ سبھی کو بیعت کر لیا کرتے تھے اور فرمایاکرتے تھے کہ جو اس سلسلے میں داخل ہوگا فتنوں سے بچ جائے گا،اس کا ایمان محفوظ ہو گا، البتہ آپ مریدکرنے سے پہلے کچھ سوالات کرلیاکرتے تھے کہ وہ کہیں دنیاوی غرض سے تو مرید ہونے کو نہیں آیا۔ وفات سے تقریباً ڈھائی گھنٹہ قبل ایک شخص آپ سے مرید ہونے آیا،حضور احسن العلماء مولا نا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی نے اسے منع کردیا کہ تاج العلماء کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔منع کرنے والی بات تاج العلماء نے بھی سُن لی اور فوراً اُسے بُلاکر بیعت فرمایا۔یہ آپ کا آخری مریدتھا،اس کے بعد یہ شخص نظر نہیں آیا،نہ معلوم وہ انسان تھا یا جن۔(25)

فعال ومؤثرشخصیت

تاج العلماء ایک مؤثرشخصیت اورمسلمانوں کے عظیم قائدتھے۔آپ زندگی کے ہرگوشے میں شریعت اسلامیہ پر عمل دیکھناچاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیگرعلمائے حقہ کی طرح دوقومی نظریہ کے زبردست حامی تھے۔اعلیٰ حضرت کے نظریے کے نہ صرف مؤیدتھے بلکہ سرگرم رکن بھی تھے۔ہندوستان کے دارالسلام ہونے کا مؤقف ہویا ہندوستان کے مسلمانوں کا یہاں سے افغانستان ہجرت کرنے کامعاملہ؛ آپ اعلیٰ حضرت کے ساتھ تھے۔ 1919ء میں تحریک خلافت وتحریک ترک موالات کاآغازہواتواس ضمن میں مسلم وغیرمسلم کے اتحاد کی باتیں ہونے لگیں،اس حساس دورمیں بھی آپ حکم شرعی پر قائم رہے مسلمانوں کوبھی اس سے آگاہ کیا۔ مسلمانوں کو منظم کرنے اوران کی فلاح وبہبودکے لیے اعلیٰ حضرت نے 7ربیع الاخر 1339ھ مطابق 17 دسمبر 1920 ء کو کل ہند جماعت رضائے مصطفی کی بنیادرکھی۔آپ نے اس کی سرپرستی فرمائی۔چنانچہ تاریخ جماعت رضائے مصطفی میں آپ اورآپ کے والدصاحب کا نام عمومی سرپرستوں میں ٹاپ آف دی لسٹ ہے۔ آپ جماعت رضائے مصطفیٰ کےبارے میں تحریرفرماتے ہیں: فقیر کواس جماعت مبارکہ رضائے مصطفیٰ علیہ افضل الصلوۃ والثناء کی بہت سی مبارک اورقابل قدردینی خدمات سے ذاتی واقفیت ہے۔ (کچھ دعائیں دینے کے بعد فرماتے ہیں )وہ مبارک مقاصدجواس سنی جماعت کے نصب العین ہیں۔فقیرکو اُن سے کامل اتفاق ہے اور بحمدہِ تعالیٰ وہ بہت ہی ان شاء المولیٰ الکریم اسلام اورمسلمین کے لیے نافع اورمفیدہیں۔(26)

خلافت عثمانیہ کی حمایت

خلافت عثمانیہ کی حمایت اور مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لیے اعلیٰ حضرت نے 1339ھ مطابق 1921ء میں تنظیم جماعت انصار الاسلام قائم فرمائی۔اس کی پہلی تین روزہ کانفرنس 22 تا 24 شعبان 1339ھ مطابق یکم تا3 مئی 1921ء کو جامع مسجدنومحلہ بریلی میں منعقدہوئی۔(27)آپ نے اس میں شرکت کی اورخطبہ صدارت ارشادفرمایا جو60صفحات پر رسالے کی صورت میں شائع بھی ہوا۔(28)اس خطبے میں آپ نے مسلمانوں کو سلطنت عثمانیہ کی معاونت وحمایت کی بھرپورترغیب ارشادفرمائی۔اس کانفرنس کے انعقادکے تقریباً 5ماہ بعد اعلیٰ حضرت وصال فرماگئے۔آپ نے اعلیٰ حضرت کے مشن کو جاری رکھا۔ اسی موضوع پر آپ نے رجب 1340ھ میں ایک اوررسالہ بنام برکات مارہرہ ومہمانان بدایون تحریر فرمایا۔جس کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ مشائخ مارہرہ میں تاج العلماء ایک عظیم وجلیل شخصیت کے مالک تھے۔آپ علم ظاہر وباطن کے جامع تھے۔علامہ وقت اورعارف ب اللہ کے مناصب پر فائز تھے۔علم کلام، علم تفسیروحدیث اورعلم فقہ میں کامل دسترس رکھنے کے ساتھ سیاسی بصیرت کے حامل تھے۔(29)

فتنوں کا مقابلہ

تاج العلماءنےاسلام کے خلاف اٹھنے والے ہرفتنے کا مقابلہ کیا۔1920ء میں گائے کی قربانی کے خلاف تحریک گاؤکشی چلی۔اعلیٰ حضرت سے اس کے بارے میں شرعی حکم پوچھاگیا تو آپ نے انفس الفکرفی قربان البقر کے نام سے جواب دیا۔گائے کی قربانی کوروکنے کے لیے بعض نادانوں کی مددسے 3جون 1923ء کو ایک قانون مرتب کرکے سی پی گزٹ میں شائع کردیاگیا۔جب یہ خبرجماعت رضائے مصطفیٰ کے ذمہ داران تک پہنچی تو اس کے سدباب کے لیے تاج العلماء کی صدارت میں 26، 27 ذیقعدہ 1340ھ مطابق 22، 23جولائی 1922ء کو بریلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقدکیا۔جس میں علما ومشائخ اہل سنت کے ساتھ کثیرعاشقانِ رسول نے شرکت کی۔دونوں دن علماوعمائدین کے بیانات ہوئے۔تاج العلماء نے بھی خطبہ صدارت دیا اوردوسرے دن تقریربھی فرمائی۔اس جلسہ میں حکومت کوتجاویز دے کر بھرپور مطالبہ کیا گیا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔تاج العلماء کی تقریرکا کچھ حصہ رودادجلسہ رضائے مصطفی 22، 23 جولائی 1922ء میں شائع ہوا۔(30) اسی طرح 1929ء میں حکومت کی جانب سے ایک خلافِ اسلام قانون کا بل تحدیدعمرِ ازدواج پاس ہوا۔ جماعت رضائے مصطفی نے 15جمادی الاولیٰ 1348ھ مطابق 19 اکتوبر 1929ء کو جامع مسجدنومحلہ بریلی میں ایک عظیم اجتماع منعقدکیا۔ اس میں دیگرعلمائے اہل سنت کے ساتھ تاج العلماء کا بھی بہترین بیان ہوا، جس میں مطالبہ کیاگیا کہ یہ قانون اسلام کی تعلیمات وروح کے خلاف ہے اسے واپس لیا جائے۔(31)

تحفظ اسلام کے لیے کوششیں

یہی وہ زمانہ تھاجب تحریک خلافت اورتحریک موالات دم توڑگئیں تو تحریک ارتدادشدھی کا آغازہوا۔ کم علم مسلمانوں کو غیرمسلم کرنے کی باقاعدہ مہم شروع ہوگئی۔آپ نےجماعت رضائے مصطفی کے ساتھ مل کر شدھی تحریک کا ڈٹ کرمقابلہ کیا۔1935ء میں تاج العلماء نے مسلمانوں کے ملی مسائل کے حل کے لیے جماعت اہل سنت ہند قائم کی۔جس کا مرکزی دفترمارہرہ شریف میں تھا۔اس کا سالانہ اجلاس عرس قاسمی برکاتی کے موقع پر ہوتاتھا، جس میں ملک بھرسے علماو مشائخ اہل سنت اورعوام شرکت کرتی تھی۔1946ء میں تاج العلماء نے جماعت اہل سنت کے تحت ’’اہل سنت کی آواز‘‘کے نام سے رسالے کاآغازکیا،جس میں جماعت اہل سنت کی سرگرمیاں اوردینی واخلاقی مضامین شائع ہوتے تھے۔(32)

امام المحدثین سے تعلقات اوروصال

امام المحدثین،مخدوم العصر مفتی سید دیدارعلی شاہ محدث الوری کے تاج العلماء سے برادرانہ تعلقات تھے، تاج العلماء نے آپ کو قرآنِ مجید،احادیث وفقہ وغیرہ اورسلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ سمیت کئی سلاسل کی خلافت اور اجازت عطافرمائی۔(33) تاج العلماء نے24 جُمادی الاُخریٰ 1375ھ مطابق 7فروری 1956ء کو بروز منگل مارہرہ شریف،ضلع ایٹہ یو پی،ہند میں وصال فرمایا،نمازجنازہ میں اژدھام تھا،تدفین خانقاہ مارہرہ میں ہوئی۔(34)
1 تذکرہ نوری، ص37 2 ان کا تذکرہ اگلے باب میں ملاحظہ فرمائیے۔ 3 تذکرہ نوری،ص 36تا54 ... مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 47 ... عقیدت پر مبنی اسلام اورسیاست،ص 116تا118 4 اکمل التاریخ،ص 349 ... سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور 2002ء، ص305 5 سالانہ مجلہ اہل سنت کی آواز،اکتوبر2002ء،ص 421 6 تذکرہ مشائخ برکاتیہ،ص 212 7 ان دونوں حضرات کے متعلق معلومات نہ مل سکیں۔ 8 اکمل التاریخ، ص 349 9 ان کے متعلق صرف اتناملتاہے کہ جب تاج العلماء نے آپ سے دورہ حدیث شریف کیا توان کی دستارفضیلت سے پہلے ہی آپ اپنے وطن پشاورلَوٹ گئے۔(تاریخ خاندان برکات،ص 65) 10 تاریخ خاندان برکات،ص65 تا67 ... تذکرہ مشائخ برکاتیہ، ص212 11 تاریخ خاندان برکات،ص66 12 سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص313 13 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 132تا134 14 تاریخ خاندان برکات،ص،68،69 ... سالنامہ مجلہ اہل سنت کی آواز،اکتوبر2002ء،ص 465 15 تاریخ جماعت رضائے مصطفی،ص 104تا109 16 تاریخ خاندان برکات،ص 67، 68 17 سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص308 18 https://hamariweb.com/articles/88740 19 ان کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔ 20 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 157 21 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص 168 ... سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص314 22 مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات،ص173 23 تاریخ مشائخ برکاتیہ،ص 213 24 https://urdudunia.net/?p=14020 25 سالنامہ مجلہ اہل سنت کی آواز،اکتوبر2002ء،ص 480 26 تاریخ جماعت رضائے مصطفی ٰ،ص 43، 409، 410 27 تاریخ جماعت رضائے مصطفی،300، 305 ... سلطنت عثمانیہ کے تحفظ میں مولانا احمدرضا خاں کا کردار،ص 19 28 مولانا آل مصطفی مصباحی کا ایک مضمون سیدین نمبر، جامعہ اشرفیہ مبارکپور 2002ء میں صفحہ 227تا 318 پر ہے جس کا عنوان ہے: تحریک خلافت اور علامہ سید اولاد رسول محمدمیاں مارہروی۔ گویا یہ مضمون اس خطبے کے 51 نکات کا خلاصہ ہے۔ 29 سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص 323، 327 30 تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ،ص 113تا123 31 تاریخ جماعت رضائے مصطفی،ص 179تا183 32 عقیدت پر مبنی اسلام اورسیاست، ص 347 33 سیدی ابوالبرکات،ص124 ... مقدمہ تفسیرمیزان الادیان، ص 79 34 سیدین نمبر،جامعہ اشرفیہ مبارکپور2002ء،ص4

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن