30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب 9 فصل 3:
امام المحدثین کی اسانیدِ فقہ
علمِ فقہ اسلامی علوم میں خاص اہمیت رکھتاہےاس کا تعلق عمل سے ہے،فقہ کالغوی معنی کسی شی کا جاننا اور اس کی معرفت وفہم حاصل کرنا ہےاورشرعی اصطلاح میں علم دین کی معرفت وفہم حاصل کرنے کوعلم فقہ کہتے ہیں جسے تفصیلی دلائل سے حاصل کیا جاتا ہے۔(1)جیسے نمازکی فرضیت کاعلم الصَّلٰوةَ (2)کے ذریعے اور زکوٰۃ کی فرضیت کا علم تُوا الزَّكٰوةَ (3)کے ذریعے حاصل ہوا۔ وعلیٰ ہذالقیاس۔فرمان مصطفےٰ ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم )ہے: مَنْ يُرِ دِ اﷲ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ یعنی اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔(4)
امام المحدثین دیگرعلوم کے ساتھ علم فقہ کے حصول کی طرف بھی متوجہ تھے، آپ نے تاج المحدثین علامہ ارشادحسین رامپوری، شیخ العلماءوالمشائخ علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی، مولانا عبدالغنی بہاری مہاجر مدنی اوراعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہم سے دیگرعلوم کے ساتھ علم فقہ کی اسناد بھی حاصل کیں، آپ کی حاصل کردہ اسنادِ فقہ اوراس کے علماوفقہا کا مختصرتعارف پیش کیا جاتاہے:
امام المحدثین کی سندِ فقہ بطریق اعلیٰ حضرت امام احمدرضا
امام المحدثین نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جملہ اجازات واسانید حاصل کیں،(5) چنانچہ آپ خود تحریرفرماتے ہیں:مولانا قامع بدعت محی السنہ جامع علوم ظاہری و باطنی مولانا احمد رضا خان صاحب قدس الله سرہ نے مجھ کو اور میرے قرۃ العین مولوی سید احمد زاد الله علمہ و عملہ و شوقہ الی الله و فی اللہ و باللہ کو اجازت روایت جمیع کتب فقہ حنفیہ کی عطا فرمائی اور مولانا ممدوح نے اجازت روایت مسائل فقہ حاصل کی، مفتی مکہ معظمہ، مفتی احناف مولانا العلامہ شیخ عبدالرحمن سراج سے۔ انہوں نے سیدی جمال بن عبد اللہ بن عمر سے۔ انہوں نے شیخ وقت علامہ محمد عابد انصاری مدنی سے۔ انہوں نے شیخ یوسف بن محمد بن علاء الدین مزجاجی سے۔ انہوں نے علامہ شیخ عبد القادر بن خلیل سے۔ انہوں نے شیخ اسماعیل بن عبد اللہ مشہور بہ علی زادہ بخاری سے۔ انہوں نے عارف ب اللہ شیخ عبدالغنی بن اسماعیل بن عبدالغنی نابلسی سے جو مصنف حدیقہ ندیہ اور مطالب وفیہ (یعنی المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیہ) اور دیگر تصانیف مشہورہ ہیں۔ انہوں نے اپنے والد ماجد اسماعیل بن عبد الغنی نابلسی سے جو مؤلف شرح درر غرر ہیں۔ انہوں نے شیخ وقت احمد شوبری اور حسن شرنبلالی(6) سے، جو محشی(7) دررغرر اور مؤلف نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح اور امداد الفتاح اور دیگر تصانیف مشہوره کے ہیں اور انہوں نے اولاً عمر بن نجیم صاحب نہر الفائق اور شمس حانوتی (8)صاحب فتاوی اور شیخ علی مقدسی شارح نظم الکنز سے اور بروایت ثانی شیخ عبد اللہ نحراوی اور شیخ محمد بن عبدالرحمن مسیری اور شیخ محمد بن احمد الحموی اور شیخ محمد محبی (9) سے اور ان ساتوں مشائخ وقت نے شیخ احمد بن یونس شبلی صاحب فتاوی سے اور انہوں نے سر الدین عبد البر بن شحنہ شارح وہبانیہ سے۔ انہوں نے کمال ابن ہمام صاحب فتح القدیر سے۔ انہوں نے سراج قاری الہدایہ سے۔ انہوں نے علاء الدین سیرامی(10)سے۔ انہوں نے سید جلال الدین خبازی شارح ہدایہ سے۔ انہوں نے شیخ عبد العزیز بخاری صاحب کشف و تحقیق سے۔ انہوں نے حافظ الدین کبیر(11) سے۔ انہوں نے امام عبد الستار بن محمد کردری سے۔ انہوں نے امام برہان الدین صاحب ہدایہ سے۔ انہوں نے امام فخر الاسلام بزدوی سے۔ انہوں نے شمس الائمہ حلوانی سے۔ انہوں نے قاضی ابو علی نسفی سے۔ انہوں نے ابو بکر محمد بن فضل بخاری سے۔ انہوں نے امام ابومحمدعبد اللہ سبذمونی (12) سے۔ انہوں نے امام ابوعبد اللہ محمد بن ابو حفض بخارى(13) سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد احمد بن حفص مشہور بامام ابوحفص کبىر سے۔ انہوں نے امام حجۃ اللہ ابو عبد اللہ محمد بن حسن شىبانى سے۔ انہوں نے امام اعظم ابو حنىفہ سے۔(14)امام اعظم ابو حنىفہ نے فقاہت قرآن وحدیث حاصل کی حضرت حماد بن سلیمان سے اورحضرت حمادنے حضرت ابراہیم نخعی سے اورانہوں نے اسود اور علقمہ سے اوران دونوں نے عبد اللہ بن مسعود سے رضی اللہ عنہ م اورانہوں نے جناب رسالت مآب حبیب کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بوساطت جبرئیل اورنیز بلاوساطت بطرق مختلفہ جناب باری تعالی عزاسمہ سے۔(15)
نوٹ: اس سند اور بعض کتب میں شیخ الاسلام علّامہ حسن شرنبلالی کے مشائخ میں شیخ عبد اللہ نحریری کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ شیخ عبد اللہ نحریری آپ کی پیدائش سے 187 سال پہلے کے ہیں، جیسا کہ علامہ سخاوی نے بھی جمال الدین شیخ عبد اللہ بن محمد نحریری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 740ھ اوروفات12ربیع الاول 807ھ تحریرفرمائی ہے۔(16)لہٰذا د رست یہ ہے کہ آپ کے ایک استاذ حضرت شیخ عبد اللہ بن محمد نحراوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کا مختصر تعارف آگے صفحہ نمبر 271 پر آ رہا ہے۔
سندِ فقہ بطریق اعلیٰ حضرت امام احمدرضا کےراویوں کا مختصرتعارف
امام المحدثین کی سند فقہ بطریق امام احمدرضا پچیس (25)واسطوں سےنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے، ان تمام علماوفقہا میں سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور فقیہ الامت حضرت عبد اللہ بن مسعود کا تعارف بیان ہو چکا ہے، باقیوں کا مختصر تعارف پیش کیا جاتاہے:
عبد الرحمن سراج مکی
مفتی الاحناف،حضرت شیخ عبد الرحمن سراج مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1249ھ کو مکہ مکرمہ کےایک معزز اورعلمی ہاشمی گھرانے میں ہوئی،حفظ ِقرآن کےبعد علمائےمکہ سے علوم وفنون میں مہارت حاصل کی، مدرسہ صولتیہ سےبھی استفادہ کیا،حصولِ علمِ دین کےشوق کی وجہ سےآسمانِ علم میں خوب روشن ہوئے،علمِ فقہ اورعلمِ شعر وادب میں یکتاقرارپائے،فارغُ التحصیل ہونے کےبعد مسجدِحرام میں تدریس اورفتاویٰ نویسی میں مصروف ہوگئے،عرصہ درازتک مفتیٔ مکہ کے منصب پر فائز رہے،آپ مفتیٔ اجل،مستقیم فی الدّین،محبِ کتبِ دینیہ،وسیع لائبریری کے مالک،بلالومۃ لائم حق بات کرنے والے اور کثیرالفیض شخصیت تھے، چار جلدوں پر مشتمل کتاب ضو ء السراج علیٰ جواب المحتاج یادگار ہے،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا نے 1296ھ میں مکہ شریف حاضرہوکرآپ سے علمی اسنادحاصل کیں،آپ کا تذکرہ ان القابات سےکیاہے:سراج ُ اللہ فی البلدِالحرام،مولیٰ الاجل،الفقیہ الابجل، درۃ التاج وغیرہ، آپ نے ذوالحجہ 1229ھ یا 1300ھ مکہ شریف سےجدہ اوروہاں سے مصرکا سفرفرمایا اوروہیں رمضان 1314ھ کو 66سال کی عمر میں وصال فرمایا۔(17)
جمال بن عبداللہ بن شیخ عمرمکی حنفی
شیخ الحدیث والتفسیر،حضرت شیخ جمال بن عبد اللہ بن شیخ عمرمکی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، جلیل القدر علمائے مکہ سےتحصیل علوم وفنون کرکےاکابرعلمامیں شمارہونے لگے،آپ حرم شریف میں تفسیر وحدیث وفقہ حنفی کی تدریس اورفتاویٰ نویسی فرماتے تھے،حضرت شیخ عبد اللہ سراج رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد1264 ھ میں شیخ العلماء اور حضرت شیخ سیّد محمدبن حسین کتبی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد1281ھ میں مفتی ٔ مکہ کے منصب پرفائزہوئے،آپ کی تصانیف میں فتاویٰ جمالیہ اورمناقب بدریین اہم ہیں۔ آپ کا وصال 19شوال 1284ء کو مکہ مکرمہ میں ہوا۔تدفین جنت المعلیٰ میں ہوئی۔(18)
محمد عابد سندھی انصاری مدنی
محدث حِجاز، علامہ محمد عابد سندھی انصاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1190ھ کو سیہون شریف ضلع دادو (سندھ) میں ہوئی۔ 18ربیع الاوّل 1257ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا، جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔ آپ جامعِ علومِ عقلیہ و نقلیہ،عظیم حنفی فقیہ و مُحَدِّثْ، رئیس العلماء مذاہِبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی)میں ماہر،سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت اور کئی کُتُب کےمصنّف تھے۔ تصانیف میں دُرِّمختار کی شَرح طَوَالعُ الاَنْوَارِ یادگار ہے۔ (19) یہ فقہ حنفی کی مشہورکتاب درمختارکی عظیم شرح ہے جو تقریباً 16 جلدوں پر مشتمل ہے،اس کے مخطوطے مختلف لائبریوں میں محفوظ ہیں،تادم تحریر یہ مکمل شائع نہیں ہوئی البتہ اس کے کچھ حصوں پرتحقیقی کام ہواہے۔
یوسف بن محمد بن علاءالدین مزجاجی زبیدی
امام المحققین،حضرت شیخ یوسف بن محمد بن علاءالدین مزجاجی زبیدی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً 1140ھ کوہوئی،آپ نے زبیدمیں پرورش پائی اورعلمائے یمن سےعلم حاصل کیا،آپ عالم کبیر،حافظ الحدیث، محقق ونابغہ عصر اورمفتی زمانہ تھے،علوم عقلیہ ونقلیہ میں عبور رکھتے تھے،کثیرعلما نے آپ سے اسناد حاصل کیں،مثلاً علامہ محمدعابدسندھی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے 1213ھ میں زبیدمیں جاکراجازت حدیث لی، آپ کا وصال زبیدیمن میں ہی 1213ھ میں ہوا۔(20)
ابن خلیل کدک زادہ
وجیہ الاسلام،زین الملت والدین،حضرتِ شیخ ابو المفاخر عبد القادربن خلیل کدک زادہ رومی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1140ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی،حفظ القرآن کے بعدتحصیل ِقراءت وحدیث وفقہ کی طرف متوجہ ہوئے اورعظیم قاری،محدث اورفقیہ بن کر ابھرے،آپ اپنی خوش الحان قراءت وخطابت کی وجہ سے مسجد نبوی کے امام وخطیب مقررہوئے،مزیدتحصیل علم کے لیے مصر، یمن اور روم کا سفرکیا، پھر مصر میں آکر جامع قوصون کےامام وخطیب مقررہوئے،پھرروم جاکریہی خدمت سرانجام دی پھریکے بعد دیگرے مصراورمدینہ منورہ میں مقیم ہوکر حدیث وفقہ کی اشاعت میں سرگرم ہوئے، یہاں تک کہ 1189ھ کو وصال فرمایااورجنت البقیع میں دفن کئے گئے،آپ بہترین قاری،حافظ الحدیث، مسند وقت، ادیب وفاضل، کثیرالسفر، مشرباًقادری، مذہباً حنفی ا ورمرجع علماوعوام تھے،آپ کی کتاب المطرب المعرب الجامع لاهل المشرق والمغرب یادگارہے۔(21) جو آپ کے اسفار کے حالات اور مختلف ممالک کے علما سے حاصل ہونے والی اسناد کا مجموعہ ہے، اسے ایک جلدمیں دار الفتح اردن نے 1435ھ میں 267 صفحات پر شائع کیا ہے، اس کے ساتھ ان کا رسالہ طب القلب العلیل بعوالی ابن خلیل بھی ہے۔
ابن عبداللہ علی زادہ
عمادالملت والدین حضرت شیخ ابو الفداء اسماعیل بن عبد اللہ علی زادہ رومی مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے علامہ شیخ عبدالغنی نابلسی اور شیخ عبد اللہ بن سالم بصری مکی وغیرہ اکابرین سے علم حاصل کیا،آپ عالم کبیر، شیخ محقق اورمحدث وقت تھے،مدینہ شریف آئے تو یہیں کے ہوکررہ گئے،ساری زندگی درس وتدریس میں بسرکی،کثیرعلمانے استفادہ کیا،تقریبا 1160ھ میں وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے۔(22)
عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی
عارف ب اللہ ،قطبِ شام حضرت امام عبدالغنی بن اسماعیل نابُلُسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1050ھ دِمشق شام میں ہوئی۔ آپ عالمِ کبیر، شاعر و ادیب، استاذُ العلماء، عارف بِ اللہ ،ولی کامل اور 250 سے زائد کتب و رسائل کےمصنف ہیں،جن میں سے حدیقہ ندیہ اور مطالب وفیہ مشہور ہیں،آپ نے 24شعبان 1143ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارَک صالحیّہ دمشق شام میں ہے۔(23)حدیقہ ندیہ کا مکمل نام الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ ہے جو علامہ محمد برکلی کی کتاب کی شرح ہے،اس کے موضوعات عقائد، فقہ اورتصوف ہیں۔یہ عربی زبان میں ہے اوراس کی دوجلدیں ہیں۔علمی وتحقیقی ادارہ المدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی) آپ کی کتاب الحدیقۃ الندیۃ کا ترجمہ بنام اصلاحِ اعمال کر رہا ہے جس کی جلد اوّل شائع ہوچکی ہے۔
اسماعیل بن عبدالغنی نابلسی
فقیہ العصر حضرت شیخ اسماعیل بن عبدالغنی نابلسی شافعی ثم حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10 ذوالحجہ 1017ھ دمشق شام کےعلمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 45سال کی عمرمیں 25یا 26شوال 1062ھ کو وفات پائی۔ آپ نےعلمائےدمشق سے علوم وفنون حاصل کئے پھر مصر گئے وہاں محقق العصرعلامہ احمد شوبری اور شیخ الاسلام علامہ حسن شرنبلالی سے افتاوتدریس کی اجازت لی،واپس آ کر جامع الاموی میں منصب تدریس پر فائزہوئے،آپ عالم متبحر، فقیہ حنفی،شاعر وادیب،صالح ومتقی اورصاحب تصانیف تھے، 4جلدوں پرمشتمل کتاب الاحكام شرح درر الحکام و غرر الاحکام یادگار ہے۔(24)جو شیخ الاسلام قاضی ملا خسرو محمد بن فرامرز رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی کتاب درر الحكام فی شرح غرر الاحكام کا حاشیہ ہے۔
احمد بن احمد خطیب شوبری
شہاب الملت والدین،ابوحنیفہ صغیرحضرت شیخ احمد بن احمد خطیب شوبری مصری رحمۃ اللہ علیہ شوبر مصر کے رہنے والے تھے،علوم اسلامیہ جامعہ ازہرقاہرہ مصرسے حاصل کئے،نحو،حدیث،فقہ اورتصوف میں درجہ کامل کوپہنچے،کثیرعلمائے عصرسے اجازت حاصل کیں، مصر وشام کے علمائے احناف کے امام قرار پائے، آپ کوابوحنیفہ صغیراورآپ کے بھائی امام محمدبن احمد خطیب شوبری کو شافعی صغیرکا لقب دیا گیا، آپ عظیم فقیہ حنفی،عالم کبیر،حجۃ الاسلام،صوفی باصفا،خوف خداکے پیکر،مرجع علم وعمل اورصاحب احوال وکرامات تھے، آپ کا وصال 1066ھ میں ہوا،نمازجنازہ میں علما،امرا،حکام اورکثیرعوام نے شرکت کی۔(25)
حسن بن عمار شرنبلالی
شیخ الاسلام حضرت علّامہ ابو اخلاص حسن بن عمار شَرُنْبُلالی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 994ھ کو شبرا بلولہ (منوفیہ) مصر میں ہوئی اور قاہرہ میں 11 رمضان 1069ھ کو وفات پائی۔ تربۃ المجاورین میں دفن کئے گئے۔ آپ حافظِ قراٰن، فاضل و استاذجامعۃُ الازہر، فقیہِ کبیر، احسن المتأخرين،استاذُالعلماء،حسن اخلاق کے مالک اورایک درجن سے زائدکتب کےمصنف تھے۔ آپ کی کتاب نورُ الْاِیْضَاح درسِ نظامی (عالم کورس) کے نصاب میں شامل ہے۔(26) یہ عبادات پرمشتمل جامع کتاب ہے،مصنف نے ہی اس کی دو شروحات مراقی الفلاح اور امداد الفتاح تحریرفرمائیں،دعوت اسلامی کے دواداروں المدینۃ العلمیہ اور مکتبۃ المدینہ کے اشتراک سے نور الایضاح مع مراقی الفلاح بالحاشیۃ النور والضیاء من افادات الامام احمد رضا 1432ھ میں 389صفحات پر شائع ہوئی جس کے اب (1444ھ) تک سات ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
سراج الدّین عمر بن ابراہیم بن نجیم مِصری
ابوحنیفہ ثانی حضرت امام سراج الدّین عمر بن ابراہیم بن نجیم مِصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 926ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 6ربیع الاول 1005ھ کو وصال فرمایا۔ آپ مفتیِ اسلام، بہترین فقیہ،اعلیٰ اوصاف و کمالات کے حامِل اور عند الحکام معزز و مکرم تھے۔ اَلنَّهْرُ الْفَائِقُ شَرْحُ كَنْزِ الدَّقَائِق آپ کی مشہور تصنیف ہے۔(27) جو مفسر قرآن علامہ امام ابو البرکات حافظ الدین عبد اللہ بن احمدنسفی رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی کتاب کنز الدقائق کی بہترین شرح ہے۔ دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔
محمدبن عمرحانوتی
شمس الملت والدین، حضرت شیخ محمدبن عمرحانوتی مصری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 19صفر 928ھ کو قاہرہ مصرمیں ہوئی اوریہیں 82 سال کی عمرمیں 1010ھ میں وصال فرمایا،آپ فقیہ العصر،مرجع عوام وخواص، کثیرالفتاویٰ اور معتمدفقہاتھے،فتاویٰ حانوتی آپ کےفتاویٰ کا مجموعہ ہے جسے حضرت شیخ خليل بن ولی بن جعفرالحنفی رحمۃ اللہ علیہ نےجمع کیاہے۔(28) اس کا اصل نام اجابۃ السائلين بفتوى المتأخرين ہے، اس کا مخطوطہ مختلف لائبریوں میں ہے۔
علی بن محمدخزرجی عبادی مقدسی
نورالملت والدین،حضرت ابن غانم علی بن محمدخزرجی عبادی مقدسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ذیقعدہ 920ھ کوقاہرہ مصرمیں ہوئی اوریہیں 18جمادی الاخریٰ1004ھ میں 84سال کی عمرمیں وصال فرمایا، تدفین تربت مجاورین میں علامہ سراج ہندی کے پہلو میں ہوئی،آپ عالم کبیر،حجۃ الاسلام،کثیرالسفر،امام الائمہ، نابغہ عصر،مصنف کتب مفیدہ،شمس العلوم والمعارف،امام المحققین، دسویں صدی ہجری کے مجدد اور اکابر علمائے احناف سے تھے،آپ کی بارہ کتب میں عربی لغت بغية المرتاد لتصحيح الضاد مطبوع ہے۔(29) اور اسے دارالکتب العلمیہ نے 2019ء میں 120صفحات پر شائع کیا ہے۔
عبد اللہ بن محمد نحراوی
امام العصرحضرت شیخ عبد اللہ بن محمد بن محی الدین عبد القادر نحراوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد اور دیگر علمائے کرام سے علوم اسلامیہ حاصل کیے،آپ عظیم عالم دین،فقیہ زمانہ اوراصحاب تخریج میں سے تھے، زندگی بھردرس وتدریس اورفتاویٰ نویسی میں گزارا،خلق کثیرنے استفادہ کیا،آپ نے مصرمیں پچاس سال کی عمر میں ربیع الاول یا ربیع الاخر1026ھ کووصال فرمایا۔(30)
محمد بن عبدالرحمن مسیری مصری
حضرت علامہ شیخ محمد بن عبدالرحمن مسیری مصری رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے بڑے علمائےا حنا ف سے تھے، علامہ حسن بن عمارشرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ کے مشائخ میں ان کا نام شیخ عبدالرحمن مسیری لکھا ہے۔(31) بکوشش ان کی مزید معلومات نہ مل سکیں۔
محمد بن احمد حموی
استاذ العلماء،حضرت شیخ علامہ محمد بن احمد حموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر علامہ حسن بن عمار شرنبلالی نے اپنی کتاب مرا قی الفلاح شرح نورالايضاح کی فصل فی زیارت القبور میں ان الفاظ کےساتھ فرمایا ہے: وأخبر ني شيخي العلامة محمد بن أحمد الحموي الحنفي رحمه الله ،آپ کا وصال 1017ھ میں ہوا۔(32) مزید معلومات نہ مل سکیں۔
شمس الدین محمدمحبی مصری
شیخ الاسلام والمسلمین،حضرت علامہ شمس الدین محمدمحبی مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ علوم اسلامیہ قرآن وحدیث،لغت وادب عربی اور فقہ میں کامل دسترس رکھتے تھے،مصرکےمشاہیرعلمائےاہل سنت آپ کے شاگرد ہیں،زندگی بھردرس وتدریس میں مصروف رہے،آپ کاوصال 10 ذیقعدہ 1041ھ کو مصرمیں ہوا، تدفین تربت المجاورین میں ہوئی۔(33)
احمد بن محمّد بن احمد بن يونس: ابن شلبی
سیف الامہ،شہاب الملت والدین،حضرت امام ابن شلَبی ابوالعباس احمد بن محمّد بن احمد بن يونس مصری رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کےامام،کئی کتب کے مصنف اوراستاذالعلماءتھے، آپ کاوصال 947ھ کو قاہرہ میں ہوا۔(34) تصانیف میں فتاوی الشلبی مطبوع ہے جسے دار الکتب العلمیہ بیروت نے 2018ء میں دوجلدوں میں شائع کیا ہے۔یہ آپ کے جامعۃ الازہر میں لکھے گئے فتاویٰ کا مجموعہ ہے اور اسے آپ کے نبیرہ شیخ علی بن محمد مصری حنفی(متوفی1010ھ) نے جمع کیا ۔
عبدا لبر بن محمد: ابن شحنہ حلبی قاہری
شیخ الاسلام،قاضی القضاہ حضرت سر الدین،ابن شحنہ ابوالبرکات عبدا لبربن محمدحلبی قاہری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 9 ذیقعدہ851ھ کو حلب میں ہوئی،بچپن میں ہی والدین کے ساتھ قاہرہ منتقل ہوگئے،حفظ قرآن اوردیگرابتدائی علوم اپنے گھرانے میں حاصل کئے پھرعلمائے احناف سے حدیث وفقہ،ادب وشاعری میں مہارت تامہ حاصل کرکےافتاودرس حدیث کی اسنادحاصل کیں،دینی خدمات کا آغازخطابت،درس تفسیروحدیث سے فرمایا،کچھ عرصے بعد آپ قاہرہ کے عہدہ ٔ قضا پربھی فائز ہوئے،تصوف میں بھی آپ کارتبہ بہت بلند تھا،آپ شریعت وطریقت دونوں کےجامع تھے،آپ کی کتاب شرح منظومۃ ابن وهبان مطبوع ومعروف ہے۔(35) اس کا مکمل نام تفصيل عقد الفرائد بتكميل قيد الشرائد ہے،اس کا موضوع فقہ ہے،یہ دوجلدوں میں ہند سے شائع ہو چکی ہے۔
کمال الدین محمد بن عبد الواحد: ابن ہمام حنفی
سلطان الفقہاء امام ابن ہمام کمال الدین محمد بن عبد الواحد حنفی رحمۃ ا للہ علیہ کی ولادت 790ھ کو اِسکندریہ جنوبی مصر میں ہوئی۔آپ قرآن و حدیث،تفسیر و فقہ، علمِ کلام وغیرہ کے ماہر،قاضی وقت، کثیر الفیض، استاذ العلماء اور صوفیِ کامل تھے۔آپ کا شمار اہلِ ترجیح اور اکابرین علمائےاحناف میں ہوتا ہے۔7رَمَضان 861ھ کو وصال فرمایا، مزا ر مبارک قرافہ قاہرہ مصر میں ہے۔(36)
نصف درجن تصانیف میں سے فتح القدیر للعاجز الفقیر آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے۔ جو فقہ حنفی کی بہترین تصنیف ہدایہ شریف کی شروحات میں سے بہترین اور مفصل شرح ہے۔بالخصوص اس میں ہدایہ شریف میں ذکرکی گئی احادیث مبارکہ کی تخریج وتحقیق کی گئی ہے۔
عمر بن علی خیّاط: ابو حفص کنانی
قاری الہدایہ،حضرت امام سراجُ الدّین ابوحفص عمر بن علی خیّاط کنانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت محلہ حسینیہ قاہرہ مصر میں ہوئی اور 12ربیعُ الآخِر829ھ کو وصال فرمایا، تدفین حَوش الاَشرف برسبائی نزد جامعہ برقوقیہ قاہرہ مصر میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، جامعِ منقول و معقول، استاذ العلماء والفقہاء، فقیہِ حنفی،شیخِ طریقت، مرجع خاص وعام اور ابوحنیفہ زمانہ تھے۔ فتاویٰ قاریُ الہدایہ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(37) جسے دار الکتب العلمیہ بیروت نے 2012ء میں 205صفحات پر شائع کیا ہے،علمائے احناف میں یہ مرجع اور استناد کی حیثیت رکھتاہے۔
علاء الدین احمد بن محمد سیرامی
علامہ علاءالدین احمد بن محمد سیرامی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے علمائے عصرسےعلم حاصل کیا اورفقہ واصول فقہ اورمعانی وبیان وغیرہ علوم وفنون میں مہارت حاصل کی،زندگی بھردرس وتدریس میں مصروف رہے، تدریس کا آغازتو اپنے بلادہرات،خوارزم،تبریزوغیرہ میں کیا،پھرماردین سے ہوتے ہوئے حلب پہنچے وہاں انہیں مصرآنے کی دعوت دی گئی آپ مصرآئے اورمدرسہ ظاہریہ برقوق قاہرہ میں تدریس کرنے لگے،علماکی ایک تعداد نے آپ سے استفادہ کیاجن میں قاری الہدایہ سراج الدین عمرحنفی اور علامہ بدر الدین محمود عینی بھی ہیں۔آپ کا وصال قاہرہ میں 3جمادی الاولیٰ 790ھ یا795ھ کو ہوا، نمازِ جنازہ میں عوام وخواص کااژدھام تھا،تدفین مقبرہ سلطان نزد قبۃ يونس الدوادارشارع قبۃ النصرقاہرہ میں ہوئی۔(38)
عمربن محمد: ابو محمد خجندی
جلال الملت و الدین،حضرت علامہ ابو محمد عمربن محمد خجندی رحمۃ اللہ علیہ خجند(صوبہ سغد،تاجکستان) میں 614ھ کوپیدا ہوئےاور پھر خوارزم(موجودہ نام خیوہ،ازبکستان) منتقل ہوگئے،ابتدائی علم یہاں سے حاصل کر کے بغداداور دمشق کا سفرکیا،علوم وفنون میں درجہ کمال پانے کے بعد دمشق میں مسندتدریس وافتاکورونق بخشی، جب حج کرنے حرمین طیبین میں حاضرہوئے تو مکہ مکرمہ میں بھی اشاعت علم کےلیےکچھ عرصہ مقیم رہے،آپ بہت بڑے فقیہ،جامع اصول وفروع،صاحب عبادت وتقویٰ اور عارف ب اللہ تھے۔ آپ نے مدرسہ حانوتیہ دمشق میں 25ذیقعدہ 662 ھ کو وفات پائی۔(39) آپ کی تصنیف کردہ کتب میں المغنی فی اصول فقہ بھی ہے جسے جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ نے 1403ھ میں 486صفحات پر شائع کیا ہے۔
علاؤ الدین عبد العزیز بن احمد بخاری
صاحب کشف وتحقیق،حضرت امام علاؤ الدین عبد العزیز بن احمد بخاری رحمۃ اللہ علیہ بخارا شہر کے عظیم المرتبت حنفی عالم دین،ما ہراصول وفروع،محقق زمانہ اورصاحب تصانیف وشروحات تھے،آپ کی کتب میں کشف الاسرار عن اصول فخر الاسلام البزدوی آپ کی پہچان ہے، (دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے 2019ءمیں چار جلدوں میں شائع کیا ہے) آپ کاوصال 730ھ میں ہوا۔(40)
حافظ الدین کبیر
شیخ حافظ الدین کبیر ابوالفضل محمدبن محمد بن نصربخاری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 615ھ کو بخارا (ازبکستان) میں ہوئی، آپ شیخ کبیر،حافظ الحدیث،ثقہ راوی حدیث،محقق العصر،عابدوزاہد، استاذ العلماء اور علوم وفنون میں ماہرتھے،آپ کاوصال 22 یا23شعبان 693ھ کوبخارا میں ہوااورکلاباذ(41)میں دفن کئے گئے۔(42)
محمد بن عبدالستارکردری عمادی
شمسُ الائمہ،حضرت امام محمد بن عبدالستارکردری عمادی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 12یا 18ذیقعدہ 559ھ براقین مضافات کردر شہر، خوارزم (خیوہ،ازبکستان)میں ہوئی۔ 9محرمُ الحرام 642ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک سبذمون نزد بخارا (ازبکستان) میں الاستاذ ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب حارثی (43) کے ساتھ ہے۔ آپ استاذُ الائمہ،محیِ اصولِ فقہ، مجددِعلمِ اصول و فروع اور فقیہِ مشرق ہیں، شرح مختصر علامہ حسام الدين یادگار ہے۔(44)
ابو الحسن علی مرغینانی
شیخ الاسلام، برہانُ الدّین حضرت امام ابو الحسن علی مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 511ھ مَرغِینان(نزد فرغانہ) ازبکستان میں ہوئی۔آپ عظیم حَنَفی فقیہ اورصاحبِ تخریج و ترجیح (مجتہدمقید) ہیں۔ آپ کا وِصال 15 ذوالحجہ 593ھ کوہوا۔ مزارمبارک قبرستان تشو كاردِيزا سمرقند ازبکستان میں ہے۔(45) فقہِ حنفی کی بے مثال کتاب ہِدایہ شریف آپ ہی نے تصنیف فرمائی۔اس کا مکمل نام الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ہے، آپ نے پہلے ایک کتاب بدایۃ المبتدی لکھی، پھراس کی شرح ہدایہ کے نام سے کی،یہ فقہ کی بہت اہم اور مستند کتاب ہے،فقہ حنفی کی ایسی کتاب دنیا میں نہیں،اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پچاس سے زائد جید علمائے احناف نے اس کی شروحات لکھی ہیں۔
ابوالحسن علی بزدوی
فخرُالاسلام،امام ابوالحسن علی بَزدَوی حنفیرحمۃ ا للہ علیہ کی ولادت400ھ کو بزدوہ (نزد نخشب/قرشی) ازبکستان میں ہوئی۔ 5 رجب 482ھ کوکش (نزد نخشب/قرشی) میں وصال فرمایا۔ آپ شیخ الحنفیہ،عالمِ باعمل، ماہرِ علوم و فنون اور مجتہد فی المسائل ہیں۔ تصانیف میں اصولِ بزدوی یادگار ہے۔ (46) جس کامکمل نام کنز الوصول الی معرفۃ الاصول ہے،یہ اصول فقہ کی بہترین کتاب ہے،دارالبشائرالاسلامیہ بیروت نے اسے 1437ھ میں 840صفحات پر شائع کیا ہے۔
عبد العزیز حلوانی بخاری
شمسُ الائمّہ حضرت ابو محمد عبد العزیز حلوانی بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت چوتھی صدی ہجری میں بخارا (ازبکستان) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم448ھ کوشہرکش میں وصال فرمایا،تدفین قبرستان کلاباذبخارا (ازبکستان) میں ہوئی۔آپ بہت بڑےعالم، حافظُ الحدیث،مجتہدفی المسائل، استاذُالفقہاء اور فقہ حنفی کی بنیادی کتابوں کے شارح ہیں۔(47)
حسین بن خضر نسفی
نعمانِ زمانہ حضرت علامہ قاضی ابو علی حسین بن خضر نسفی فَشِيدَيْرَجی بخارا (ازبکستان) کے رہنے والے تھے،آپ نے جیدعلمائے کرام سے علوم اسلامی بالخصوص علم فقہ حاصل کیا اورشہربغدادمیں مسند تدریس پر فائزہوئے،کثیرعلمائے کرام آپ کےشاگردہیں،آپ کی کتب میں فتاویٰ علمی یادگار ہے، آپ کاوصال 23شعبان424ھ کو بخارا میں ہوا، مزار مبارک قبرستان کلاباذبخارا (ازبکستان)میں زیارت گاہِ عام ہے۔(48)
محمد بن فضل کماری بخاری
علامہ کبیر حضرت امام ابو بکرمحمد بن فضل کماری بخاری کی ولادت 302ھ کو ہوئی،آپ بخارا (ازبکستان) کے رہنے والے ہیں،جیدعلماسے علوم وفنون حاصل کرکےفقہ حنفی میں درجہ امامت پر فائز ہوئے، آپ ثقہ امام اورمعتمدومستند مفتی تھے،آپ نے 23یا 24شعبان 381ھ کو80سال کی عمرمیں وصال فرمایا۔(49)
عبد اللہ بن محمد حارثی سبذمونی بخاری
الاستاذ حضرت علامہ ابو محمد عبد اللہ بن محمد حارثی سبذمونی بخاری کی ولادت ربیع الاخر 258ھ کو قریہ سبذمون نزدبخارا (ازبکستان)میں ہوئی اوریہیں شوال 340ھ میں وصال فرمایا،آپ نے اپنی زندگی ماوراء النہر، خراسان،عرا ق اورحجازمقدس میں گزاری،آپ کی سند فقہ حنفی صرف دوواسطوں سے امام محمد سےمل جاتی ہے،آپ کثیرالحدیث محدث،فقیہ زمانہ،صاحب تصنیف اور استاذ العلماء تھے۔(50) آپ کی تصنیف کشف الآثار فی مناقب ا بی حنفیہ کو 1441ھ میں مکتبۃ الرشاد استنبول ترکی نے دوجلدوں میں شائع کیا ہے۔
محمد بن احمد کبیر بخاری
شیخ الحنفیہ،حضرت امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد کبیر بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہماوراء النہر کے رہنے والے تھے،انہوں نے اپنے والدگرامی علامہ ابوحفص کبیرسے تعلیم حاصل کی اور عالم ماوراء النہر کے درجے پر فائزہوئے،آپ ثقہ عالم دین وامام،زہدوتقویٰ کے جامع اورقرآن و سنت کےپابند تھے، علما کی ایک تعدادنے آپ سے استفادہ کیا۔آپ کا وصال رمضان264ھ میں ہوا۔(51)
احمد کبیر بن حفص بخاری
فقیہِ مشرق،شیخ ماوراء النہرحضرت امام ابو حفص احمد کبیر بن حفص بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 150ھ کوبخارا ازبکستان میں ہوئی ا ور یہیں محرم الحرام217ھ کو وصال فرمایا۔آپ فقیہ ومجتہدِ عصر، مجدِّدِ زمانہ، مصنفِ کتب اورشیخ الشیوخ تھے،آپ نےدیگر جلیل القدر ائمہ وعلماکے علاوہ محررمذہب حنفیہ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی کی طویل صحبت حاصل کی یہاں تک کہ حدیث و فقہ میں درجہ امامت پر فائز ہوئے۔(52)
محمد بن حَسَن شَیبانی
حجۃ الاسلام حضرت امام محمد بن حَسَن شَیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 132ھ کو شہرِ واسط مشرقی عراق میں ہوئی۔ آپ فقیہُ العصر، امامُ المحدّثین اورکُتُبِ اَحناف کے مؤلِّف ہیں۔ فقہِ حنفی کی ترویج و اِشاعت میں آپ کا اہم کردار ہے۔آپ کثیرالتصانیف شخصیت ہیں،مؤطا امام محمد حدیث مبارکہ پرہے،فقہ حنفی کی چھ کتب جنہیں ظاہر الرّوایہ کہا جاتا ہے یہ اوردیگرکچھ کتب آپ کی ہی تصنیف کردہ ہیں اور وہ چھ کتابیں یہ ہیں: اَلْجَامِعُ الْکَبِیْر ، اَلْجَامِعُ الصَّغِیْر ، اَلسِّیَرُ الْکَبِیْر ، اَلسِّیَرُ الصَّغِیْر ، مَبْسُوط ، زِیَادات ۔ فقہِ حنفی میں آپ کی دیگر کتب میں اَلْجُرْجَانِیَّات ، اَلْکَیْسَانِیَّات ، اَلْھَارُوْنِیَّات ، اَلرِّقِّیَّات مشہور ہیں۔(53) آپ کا وِصال14جُمادَی الاُخریٰ 189 ھ کو ہوا، تدفین جبلِ طبرک رَے (اصفہان)ایران میں ہوئی۔(54)
نعمان بن ثابت: ابو حنیفہ
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 70ھ یا 80ھ کو کوفہ(عراق) میں ہوئی اور وصال بغداد میں 2شعبان 150ھ کو ہوا۔مزا رِمبارک بغداد (عراق) میں مرجعِ خلائق ہے۔آپ تابعی بزرگ،مجتہد،محدث، عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت، فقہِ حنفی کے بانی اورکروڑوں حنفیوں کے امام ہیں،آپ نے جن صحابہ کرام سے روایت کی ان میں سےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔(55)
حماد بن ابو سلیمان مسلم
تابعی وفقیہ حضرت ابو اسماعیل حماد بن ابو سلیمان مسلم رحمۃ اللہ علیہ کوفہ میں پیداہوئے اوریہیں 120ھ کو وصال فرمایا،آپ نےصحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اورحضرت ابراہیم نخعی جیسے جلیل القدر زعمائے اسلام کی شاگردی اختیارفرمائی، آپ اصبہان النسل،کوفی تابعی بزرگ،فقیہ ومحدث،کریم وسخی، علمائے عصرپرفائق،صادق القول،مستقیم فی الفقہ اورصاحب ثروت وحشمت تھے،آپ کے علم وتفقہ کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ امام اعظم ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ ان کی صحبت میں 18 سال رہے،آپ کا شمار فقہائے تابعین میں ہوتاہے۔(56)
ابراہیم بن یزیدنخعی
فقیہ النفس ومفتی عراق حضرت ابراہیم بن یزیدنخعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 47ھ کوفہ میں ہوئی اوریہیں صفر یا ربیع الاول 96ھ میں وصال فرمایا،آپ حافظ قرآن، قاریٔ کوفہ،فقیہ زمانہ، محدث العصر،ثقہ راوی حدیث، کثیرالروایات اور صغار تابعین میں سے تھے،انھوں نے بچپن میں دیگرصحابہ کرام کےعلاوہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحبت بھی پائی،کبار اصحاب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھرپوراستفادہ کیا اورانہیں کے مذہب پرفتاوی دیا کرتے تھے،آپ زاہدزمانہ،قلیل التکلف اورصالح ومتقی تھے، روزوں سےخاص محبت تھی ایک دن چھوڑکر روزہ رکھا کرتے تھے۔(57)
اسود بن یزید نخعی
زاہد زمانہ،حضرت ابو عمرو اسود بن یزید نخعی رحمۃ اللہ علیہ زمانہ جاہلیت میں پیداہوئے،نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےوصال ظاہری کےبعداسلام قبول کیا، یمن میں حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے علم فقہ حاصل کیا،حضرت عمراورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جلیل ا لقدر ہستیوں سےاسلامی علوم میں دسترس حاصل کی،آپ حافظ الحدیث،ثقہ را وی حدیث،فقیہ زمانہ،عابدوزاہد،نماز،روزہ،تلاوت قرآن، حج وعمرہ میں کثرت کرنے والے اورمؤثرشخصیت کے مالک تھے، آپ نے تقریبا ً 80حج وعمرے کرنے کی سعادت حاصل کی، آپ کا وصال 75ھ کوکوفہ میں ہوا،آپ کے شاگردوں کی تعداد کثیر ہے۔(58)
علقمہ بن قیس نخعی
ممتاز التابعین، حضرت علقمہ بن قیس نخعی رحمۃ اللہ علیہ زمانہ نبوی میں پیداہوئے،ہجرت کرکے کوفہ میں مقیم ہوگئے، اکابرصحابہ کرام رضی اللہ عنہ م کی صحبت پائی،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تو سالہا سال رہے،آپ حافظ وکثیرالحدیث،خوش الحان قاری قرآن،فقیہ زمانہ،درجہ اجتہادپر فائز، متبع قرآن وسنت،تقویٰ وورع کے پیکر،استاذالتابعین اورمؤثرشخصیت تھے،صحابہ کرام بھی آپ کی قدر کرتے اورعلمی رہنمائی لیا کرتے تھے، فرمان فقیہ الامت ابن مسعود( رضی اللہ عنہ ): ما أقرأ شيئًا ولا أعلمه إلا وعلقمة يقرؤه ويعلمه یعنی میں جو کچھ پڑھتا اورجانتا ہوں وہ سب علقمہ پڑھتے اورجانتے ہیں،آپ کا وصال 90 سال کی عمرمیں 62ھ میں ہوا۔(59)
امام المحدثین کی سندِ فقہ بطریق تاج المحدثین علامہ ارشادحسین رامپوری
تاج المحدثین علامہ ارشادحسین رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے آپ کی دواسنادہیں جن کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
تاج المحدثین کی پہلی سند
امام المحدثین مفتی سیددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:سند فقہ اور اصول فقہ توضیح و تلویح حضرت قطب العارفين عمدة علماء الراسخين حضرت مولانا ارشاد حسین قدس سره رامپوری سے پڑھ کر اور ہدایہ حضرت مولانا عمدة الفضلاء زبدة الكملاء مولانا حافظ عنایت اللہ خان صاحب رامپوری سے جو خلیفہ اور شاگرد رشید حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب قدس سرہ تھے، سند فقہ اور اصول فقہ وغیرہ ان سے حاصل کی اور حضرت مولانا نے خلافت اور اجازت روایت فقہ و احادیث حاصل کی تھی۔ حضرت سید الفضلاء مرشد الکملاء حضرت مولانا شاہ احمد سعید دہلوی قدس سرہ سے اور انہوں نے سند فقہ و احادیث حاصل کی تھی حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز سے اور حضرت مولانا ممدوح کی سند میں عجالہ نافعہ سے اول ہی نقل ہو چکیں۔(60)
پہلی سند کے راویوں میں سے تاج المحدثین حضرت مفتی محمد ارشاد حسین فاروقی مُجدِّدی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر باب نمبر 8 میں صفحہ نمبر 141 پر مفصل ہو چکا ہے، جبکہ باقی راویوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:
عنایت اللہ خان مجددّی
علامَۂ وقت حضرت مولانا حافظ شاہ عنایت اللہ خان مجددّی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1259ھ مطابق 1843ءکو رامپورمیں ہوئی، حفظ القرآن کی سعادت پائی پھر حضرت علامہ ارشادحسین رامپوری اور دیگر علمائے اہل سنت سے کتب درسیہ پڑھیں، علامہ ارشادحسین صاحب نے آپ کےلیے ہی مشہوردرسی کتاب ارشاد الصرف لکھی، آپ کا پا یَۂ علم بے حدبلندتھا، آپ زمانَۂ طالب علمی میں ہی منتہی طلبہ کوپڑھایا کرتے تھے، 32 سال مرشدتاج المحدثین کی خدمت میں رہ کرخلافت سے نوازے گئے۔آپ کا وصال86سال کی عمرمیں 10ذوالحجہ 1345ھ مطابق 11جون1927ء کو رامپورمیں ہوا۔ بلاشبہ آپ علامَۂ وقت اور پیرِ زمانہ تھے۔(61)
احمد سعیدمجددی مہاجرمدنی
سراج الاولیا ء حضرت مولاناحافظ شاہ احمد سعیدمجددی مہاجرمدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم ربیع الاول 1217ھ کو رامپورکے ایک مجددی علمی گھرانے میں ہوئی،ابتدائی علم حاصل کرنے کے بعد علامہ فضل امام خیرآبادی اور علامہ رشیدالدین خان دہلوی رحمۃ اللہ علیہما کی شاگردی اختیارکی،علوم وفنون کی تکمیل کے بعد سراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دورہ حدیث شریف کیا، آپ تفسیر،حدیث اورعلم فقہ میں کامل دسترس رکھتے تھے،درس وتدریس اور ذکر وفکرمیں مصروف رہتے،کئی کتب تحریرفرمائیں،تین کتب سعیدالبیان فی مولد سید الانس والجان (اردو)، الذکر الشریف فی اثبات المولدالمنیف (فارسی)اور اثبات المولودوالقیام (عربی)تو میلادالنبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جواز میں ہیں،آپ نے 1217ھ میں ہندسے مدینہ شریف ہجرت کی اور وہیں 2ربیع الاول 1277ھ کو وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے۔(62)
نوٹ: سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی کا تعارف صفحہ نمبر 164 پر بیان ہو چکا ہے۔
تاج المحدثین کی دوسری سند
امام المحدثین تحریرفرماتے ہیں: (تاج المحدثین مولانا ارشادحسین رامپوری نے اپنے مرشدحضرت شاہ احمد سعید سے سند حاصل کی اور)دوسری سند فقہ و حدیث و تفسیر و اصول فقہ و غیرہ حضرت شاہ احمد سعید قدس سرہ نے حاصل کی تھی اپنے والد ماجد کے ماموں شیخ اجل محدث و فقیہ حضرت مولانا سراج احمد عمری مجددی سرہندی ثم رامپوری سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد زاہد و متورع حضرت شیخ محمد مرشد عمری مجددی سرہندی رامپوری سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد امام ہمام مولانا محمد ارشد عمری مجددی سرہندی سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد امام الحجۃ مولانا فرخ شاہ عمری مجددی سرہندی سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد خازن الرحمت خواجہ محمد سعید عمری مجددی سرہندی سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد امام ہمام، امام ائمۃ المعانی غوث صمدانی حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے۔ انہوں نے حضرت عمدة الاولياء و زبدة العلماء والکملاء حضرت یعقوب محدث صرفی کبیر کشمیری حنفی ابن شیخ حسن عاصمی سے۔ انہوں نے شیخ ابن حجر مکی ہیتمی سے۔ انہوں نے زین الدین زکریا، حافظ ابن حجر عسقلانی سے اور سند ابن حجر عسقلانی عجالہ نافعہ سے بہ سلسلہ ذکر سند نسائی، بخاری و ابن ماجہ و غیر ہم گزر چکیں۔(63)
دوسری سند کے راویوں میں سے حضرت شاہ احمد سعید ، خازن الرحمت حضرت مولانا شیخ محمدسعید سرہندی، حضرت مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی حنفی، مولانایعقوب بن شیخ حسن صرفی کشمیری، مفتی حجاز حضرت امام ابن حجر ہیتمی شافعی، شیخ الاسلام امام زین الدین ابویحییٰ زکریابن محمد انصاری الازہری اور شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہم کا مختصر تعارف گزشتہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے، سند کے باقی علمائے کرام کا تعارف پیشِ خدمت ہے:
سراج احمد عمری مجددی سرہندی
اجل محدث و فقیہ حضرت مولانا سراج احمد عمری مجددی سرہندی ثم رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سرہند شریف میں 1172ھ کوہوئی،والدعلامہ محمد مرشد مجددی کے ساتھ رامپورآکرمقیم ہوئے،آپ جلیل القدر عالم دین،فاضل زمانہ،صاحب نسبت اورمصنف ومترجم کتب کثیرہ تھے،درجن کے قریب کتب میں صحیح مسلم اورجامع ترمذی کا فارسی ترجمہ یادگارہے، آپ کاوصال 13ذوالحجہ 1230ھ کو لکھنؤمیں ہوا، والد صاحب کے مزارشریف سے متصل تدفین ہوئی۔(64)
محمد مرشد عمری مجددی سرہندی
مرشدعالم حضرت شیخ محمد مرشد عمری مجددی سرہندی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش سرہند شریف میں 1117ھ کو ہوئی،آپ جامع معقول ومنقول،محدث ومفسراورشیخ طریقت تھے،سرہندسے ہجرت کر کے رامپور میں مقیم ہوگئے،درس وتدریس اورحلقہ ذکرمیں مصروف رہتے تھے،آستانہ مجددیہ سرہند شریف کے سجادہ نشین بھی تھے،آپ سے کئی کرامات کاصدورہوا،آپ باعمل عالم دین،متبع سنت، عابد وزاہد اور تقویٰ وورع کے پیکرتھے،آپ کا وصال رامپورمیں 19رجب 1201ھ میں ہوا،مزار محلہ بڑے پیرصاحب کے جھنڈے کے قبرستان کی مسجدسے متصل چاردیواری میں ہے۔(65)
محمد ارشد عمری مجددی سرہندی
امام ہمام مولانا محمد ارشد عمری مجددی سرہندی کی ولادت سرہندمیں ہوئی،اپنے والدگرامی علامہ فرخ شاہ مجددی سے علوم ظاہری وباطنی حاصل کئے،کتب درسیہ زبانی یادتھیں،علوم عقلی ونقلی میں کامل دسترس تھی، والدگرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے درس وتدریس میں مصروف ہوگئے،علمائے عصرآپ کاعلمی مقام ومرتبہ تسلیم کرتے تھے،آپ طریقہ مجددیہ کے کامل پابندتھے۔تاریخ ولادت اوروفات نہ مل سکی۔(66)
فرخ شاہ عمری مجددی سرہندی
امام الحجہ مولانا فرخ شاہ عمری مجددی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت خاندان مجددیہ میں سرہندشریف میں ہوئی،آپ علوم ظاہری وباطنی کے جامع تھے،تدریس کا بہت شوق تھا،خاندان مجددیہ کے تقریباً تمام صاحبزادگان آپ کے شاگردہیں،آپ مولوی معنوی کے لقب سے ملقب تھے،کتب درسیہ میں آپ کے کئی حواشی اورشروحات ہیں،ذکر اللہ کثرت سے کرتے حتی کہ سوتے وقت بھی زبان پر ذکر جاری رہتا،آپ کا وصال 4شوال 1118ھ کو ہوا،قبہ مجددالف ثانی سے جانب جنوب ایک قبے میں مدفون ہیں۔(67)
امام المحدثین کی سندِ فقہ بطریق علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی
امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:خاکسارنے بعد بیعت ہونے کے حضرت قطب الوقت،مقبول بارگاہِ یزدان مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی قدس سرہٗ سے خاندان نقشبندیہ اور قادریہ میں کچھ بخاری شریف اورمؤطاامام مالک اورکچھ شرح وقایہ حضرت مولانا شمس الدین احمدمیاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ صاحبزادہ مولانا ممدوح کے ساتھ حضرت مولانا قدس سرہٗ پر پیش کرکے آپ سے بھی اجازت حاصل کی اورمولانا قدس سرہٗ نے اجازت روایت احادیث مع مطابقت مسائل فقہ حاصل کی تھی، مولانا شاہ عبدالعزیز قدس سرہٗ سے۔(68)
سندِ شیخ العلماوالمشائخ کے راویوں کا مختصرتعارف
امام المحدثین کی سندِ فقہ بطریق علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے تمام علماکا تذکرہ پہلے گزرچکا ہے۔
1لسان العرب لابن منظور،2 /3065 ...فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت،1/13 ...البحرالرائق،1/11
2 پ1،سورۃ البقرہ:43
3 پ1،سورۃ البقرہ:43
4 بخاری،1/43، حدیث:71
5 مقدمہ تفسیرمِیزانُ الادیان ،ص 70
6 شرنبلالی نسبت مصرکے گاؤں شبرا بلُولہ (نزدمنوف، صوبہ منوفیہ) سے ہے۔چنانچہ میزان الادیان میں حضرت حسن کی جو نسبت شرنبلانی لکھی ہے وہ درست نہیں۔
7 تفسیرمیزان الادیان میں بحثی لکھا ہے جو درست نہیں۔
8 تفسیرمیزان الادیان میں عانوتی لکھا ہے جو درست نہیں۔
9 مراقی الفلاح میں ان کا یہی نام مذکور ہے، جبکہ تفسیر میزان الادیان میں شیخ احمد محبی لکھا ہے جودرست نہیں ۔
10تفسیرمیزان الادیان میں سیرانی ہے، جو درست نہیں، کیونکہ آپ کا تعلق روم کے شہر سیرام سے تھا ۔
11 تفسیرمیزان الادیان میں جلال الدین کبیر لکھا ہے۔
12 مقدمہ تفسیرمیزان میں سند مونی ہے جو درست نہیں۔
13 میزان الادیان میں عبد اللہ بن ابو حفض بخاری لکھا ہے۔
14 مقدمہ تفسیر میزان الادیان،ص70، 71
15 مقدمہ تفسیر میزان الادیان، ص70
16 الضوء اللامع،5/42،43
17 اعلام المکیین،1/498 ... مختصرنشرالنور، ص243 ... معارف رضا، سالنامہ شمارہ18،ص 182
18اعلام المکیین،1/68 ... ہدیۃ العارفین،1/ 257 ... مختصر نشر النور، ص161 ... اعلام للزرکلی ،2/134
19 الرسائل الخمس، ص33 تا 43 ... انوارعلمائے اہلسنت سندھ، ص767 تا 772 ... حدائق الحنفیہ، ص490
20 نیل الوطر،2/426-425
21 عجائب الآثارلجبرتی،1/428 ... سلك الدرر،3/56
22 سلك الدرر،1/250
23 اعلام للزرکلی ،4/32 ... اصلاحِ اعمال مترجم، 1/56تا 70
24 خلاصۃ الاثر،1/ 408 ... اعلام للزرکلی،1/317
25 خلاصۃالاثر،1/174
26 الفوائد البھیہ مع طرب الاماثل، ص268
27 ہدیۃالعارفین، 1/ 796 ... خلاصۃ الاثر، 3/ 206 ... اعلام للزرکلی، 5/39
28 خلاصۃ الاثر،4/ 76 ... اعلام للزرکلی،6/317
29 خلاصۃ الاثر،3/180 ... امتناع الفضلاء،2/253 256-
30 خلاصۃ الاثر،3/66
31 کشف القناع الرفيع عن مسألۃالتّبرع،مجلۃ العراقیہ، عدد 48، جلد3، ص122
32 مراقی الفلاح،ص310 ...كشف القناع، مجلۃ العراقیہ، جلد3،ص122
33 خلاصۃ الاثر،4/301
34 معجم المؤلفین،1/250 ... اعلام للزرکلی،1/276
35 الضوء اللامع،4/33
36 اعلام للزرکلی، 6/255 ... الفوائد البھیہ، ص180تا 181... البدر الطالع، 2/201
37 حدائق الحنفیہ،ص341 ... فتاویٰ قاری الہدایہ،ص13 تا 19
38 المنہل الصافی والمستوفی بعدالوافی،2/175-172
39 تاریخ الاسلام للذہبی،15/726...البدایہ والنہایہ، 9/220
40 اعلام للزرکلی، 4/13 ... الفوائد البھیہ، 1/ 121
41 یہ بخاراشہرکا ایک محلہ ہے۔
42 الفوائد البھیہ،261- الجواہر المضیہ،2/121
43 ان کامختصرتعارف آگے آرہا ہے۔
44 تاریخ الاسلام،14/424 ... حدائق الحنفیہ، ص279 ... الجواہرا لمضیہ،2/82
45 تاریخِ اسلام للذہبی، 42/137 ... ہدایہ اخرین،ص 4
46 حدائق الحنفیہ،ص228 ... اصول البزدوی،ص377
47 اعلام للزركلی، 4/13 ... حدائق الحنفیہ، ص221 ... فقہ اسلامی،ص47
48 الفوائد البهیہ، ص 86... الجواہرالمضیہ،1/211
49 الجواہرالمضیہ،2/107
50 سیراعلام النبلاء،12/87... اعلام لزرکلی، 4/ 120
51 سیراعلام النبلاء،8/458
52 حدائق الحنفیہ، ص169 ... الفوائد البھیہ،ص24 ... سير اعلام النبلا ء،احمد بن حفص، 8/458-457
53 جامع الاحادیث، 1/290،283تا 293
54 تاریخِ بغداد، 2/178 ... امام محمد بن حسن شیبانی اور ان کی فقہی خدمات،ص 95، 123
55 نزہۃ القاری، مقدمہ، 1/164،110... خیرات الحسان، ص92،32،31
56 سیراعلام النبلاء،حماد بن ابی سلیمان،6/60
57 سير اعلام النبلاء، ابراہیم النخعی،5/426...طبقات ابن سعد، ابراہیم النخعی، 6/279
58 طبقات ابن سعد،6/ 134 تا 138 ... تذکرۃ الحفاظ، 1/41 ... تہذیب التہذیب،1/353
59 الاصابہ،علقمہ بن قیس،5/ 105، 106... تذکرۃ الحفاظ، 1/39 ... سیراعلام النبلاء،علقمہ بن قیس نخعی،5/94، 99
60 مقدمہ تفسیر میزان الادیان،1/78
61 تذکرۃ المشائخ سلسلہ ارشادیہ عنائیتیہ،ص 134تا158
62 تحقیق الحق المبین فی اجوبۃ مسائل اربعین،21تا28
63 مقدمہ تفسیر میزان الادیان،ص78
64 تذکرہ کاملان رامپور،147تا149
65 تذکرہ کاملان رامپور،389... روضۃ القیومیہ، 1/476
66 روضۃ القیومیہ،1/476
67 روضۃ القیومیہ،1/472، 473
68 مقدمہ تفسیر میزان الادیان، ص77
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع