دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hayat e Imam ul Muhaddiseen | حیات امام المحدثین

book_icon
حیات امام المحدثین
            
باب 7:

قلمی خدمات

امام المحدثین جہاں بہترین مدرس،شیریں بیاں خطیب،با صلاحیت منتظم،با فیض شیخ طریقت اور جیّد مفتی اسلام تھے وہاں صاحبِ تصنیف وتالیف بھی تھے،آپ نے 20سے زیادہ کتب ورسائل تحریر فرمائے،ان کے علاوہ جو فتاویٰ لکھے ان کا تو شمار ہی نہیں،ان میں سے آگرہ میں لکھے گئے تین سال کے فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ دیداریہ (صفحات:864) شائع ہو چکا ہے جس کی تفصیل”آگرہ میں فتاویٰ نویسی“ کے تحت گزر چکی ہے۔آپ کی کتب ورسائل کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے:

(1)مختصر المیزان لکلام السبحان

امام المحدثین نے تقریباً 1316ھ مطابق 1898ء سے تقابل ادیان کے موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا آغاز کیا اور اس کا نام تفسیر میزان الادیان رکھا،جب دیکھا کہ اس کے صفحات کافی ہوگئے ہیں اور اندازہ ہوا کہ یہ کافی طویل ہوگی،موت کا بھی کوئی بھروسہ نہیں اور فرصت ملنا بھی مشکل ہے تو پھر فیصلہ کیا کہ پہلے اس کا خلاصہ بنام مختصر المیزان لکلام السبحان تیار کیا جائے۔(1) چنانچہ، آپ نے 129 صفحات پر مشتمل یہ کتاب تیار کی،کتاب مکمل ہونے کے بعد اس کی اشاعت کی صورت نہ ہو سکی، جب آپ تدریس وخطابت کے لیے ممبئی منتقل ہوگئے تو وہاں آپ نے اس کی تصحیح کر کےیح یح شائع کروایا، چنانچہ آپ نے 26ربیع الاخر1330ھ مطابق 15 اپریل 1912ء کو تحریرفرمایا:چونکہ عرصہ 14 برس سے یہ کتاب یونہی رکھی ہوئی تھی اور کوئی صورت چھپوانے کی نہیں بنتی تھی،اب ایام قیام بمبئی میں بامداد پابند سنت،عاشق شریعت،پیر وعلمائے سنت والجماعت،کریم النفس،نیک نیت،بلند ہمت،مخلص محمد حسین بن حاجی موسیٰ بھاؤ نگری شکر والوں کے چونکہ یک لخت صورت چھپنے کی پیدا ہوگئی۔ (2) اسے 1330ھ میں مطبع مصطفائی بمبئی سے شائع کروایا گیا اس کے ٹائٹل پر یہ تحریر ہے،بتائید خالق کون ومکان،مالک زمین وزمان،کتاب لا جواب،مصدق کلام رحمٰن در تحقیق جملہ مذاہب وادیان۔یہ جملہ کتاب کے مندرجات کا عکاس ہے۔امام المحدثین نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے الدلائل القاہرۃ علی الکفرۃ النیاشرہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک فتویٰ لکھا جس کے آخر میں اپنی اس کتاب کا تذکرہ کچھ یوں فرمایا: اگر اس سے زیادہ تصریح منظور ہو،میرا رسالہ مختصر المیزان جس میں تقریباً 40 حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ حضور ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے فرمایا بڑی جماعت کی پیروی کرنا اور جو بڑی جماعت سے جُدا ہو،جہنم میں پڑے گا اور چالیس کے قریب اس مضمون کی حدیثیں ہیں کہ میری سُنّت اور میرے اصحاب کی سنّت پر عمل کرنے والا ناجی فرقہ وہی ہوگا جو سوادِ اعظم مومنین کا پیرو ہوگا اور جو بڑی جماعت سے جُدا ہوا جہنمی ہوگا اور چند حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ ہر اخیر زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو نماز تمہاری نماز سے اچھی پڑھیں گے اور قرآن بہت پڑھیں گے مگر دین سے بالکل خارج ہوں گے، پھر حدیثیں بد مذہب مولویوں کی علامات میں نقل کی گئی ہیں جن کو اگر ملاحظہ فرمائیں اور لوگوں کو دکھلائیں، ان شاء اللہ تعالیٰ مفید ہوگا۔ (3)

(2)مقدمہ تفسیر میزان الادیان

اس کا کچھ حصہ تو آپ نے تقریباً 1316ھ مطابق 1898ء میں لکھنا شروع کیا تھا مگر دیگر تصانیف اور مصروفیت کی وجہ سے اسے پائہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے،اٹھائیس (28)سال بعد 1344ھ مطابق 1925ء میں آپ نے اسے مکمل کرنے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:اگر اللہ کو منظور ہوا اور عمر نے وفا کی، توفیق رفیقِ حال رہی،اس واسطے کہ اب عمر میری اکہتر برس کی ہے۔ (4) اس میں تین ابواب ہیں: ٭پہلے باب میں اسلام کی خوبیاں اور اس پر کئے جانے والے اعتراضات کے تفصیلی جوابات مع دلائل دئیے گئے ہیں۔ ٭دوسرا باب نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت پر ہے،اس کی دو فصلیں ہیں،پہلی فصل میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے جو بشارتیں دیگر کتب میں موجود ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے،اس کے ضمن میں سیرت مصطفی اور معجزہ ٔ معراج کا بھی تذکرہ ہوا ہے،دوسری فصل میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیگرمعجزات کو ذکر کیا گیا ہے،اس میں وہ معجزات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ظاہر ہوئے ہیں،ان کی تفصیلات بھی ہیں۔ ٭تیسرے باب میں قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت،اس کے بے مثال اور اثر پذیر ہونے کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد قرآن مجید کی پیشگوئیوں کے سچا ہونے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم غیب کا ذکر کیا گیا ہے آخر میں قرآن مجید پر ہونے والے نو سوالات اور اس کے جوابات بیان کئے گئے ہیں۔ میرے پیش نظر اس کے دو ایڈیشن ہیں:ایک قدیم ایڈیشن ہے جس کا سن اشاعت نہ مل سکا،لیکن اندازہ یہ ہے کہ امام المحدثین کی حیات میں شائع ہوا ہے جب آپ دار العلوم حزب الاحناف مسجد حنفیہ اندرون دہلی دروازہ تدریس فرماتے تھے،اس کے صفحات 416ہیں،دوسرا ایڈیشن جولائی 2004ء میں مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور نے نئی کمپوزنگ کے ساتھ ایک جلد میں شائع کیا ہے جس کے 268صفحات ہیں۔

(3) تفسیر میزان الادیان (سورۂ فاتحہ)

تفسیر میزان الادیان کی دوسری جلد شانِ نزول سورۂ فاتحہ اور تفسیر سورۂ فاتحہ پر مشتمل ہے جس کے ضمن میں فقہ حنفی کے مسائل قرآن وحدیث سے ثابت کئے گئے ہیں۔امام المحدثین نے اس حصے کا نام تفسیر الفاتحہ فی ادلۃ الحنفیہ بخلاصۃ صحاح الستہ رکھا ہے۔ (5) تفسیر فاتحہ کا قدیم نسخہ میرے پیش نظر ہے اس کے کل صفحات303 ہیں،آپ آخر میں تحریر فرماتے ہیں: الحمدللہ کہ تفسیر سورہ فاتحہ بتاریخ 6 صفر المظفر پنجشنبہ 1349ھ (3جولائی 1930ء)کو اختتام کو پہنچی،تفسیر سورہ ٔ بقرہ کے اختتام کی کوشش شروع کی گئی۔ (6) دونوں جلدوں میں مناسب مقامات پر تصوف کے نکات بھی بیان کئے گئے ہیں۔پیر زادہ اقبال احمد فاروقی صاحب تحریر فرماتے ہیں:لاہور میں آپ نے سورہ الحمد کا درس شروع کیا تو طبعِ رسانے وہ جولانیاں دکھائیں کہ پورا ایک سال صرف ہوگیا،آپ نے اس مرحلہ میں تفسیر میزانُ الادیان،تقابل ادیان پر بڑی مبسوط بحث کر کے اہل علم کے لیے ایک علمی یادگار چھوڑی۔ (7) الحاصل یہ تفسیر مسلمانوں کے لیے برکاتِ اسلام کی معلومات کا مجموعہ ہے۔ تفسیر سورہ فاتحہ کی تکمیل کے بعد آپ 5 سال اور تقریباً 4ماہ حیات رہے،اس میں آپ تفسیر سورۂ بقرہ کی تکمیل کرسکے یا نہیں،اس کے بارے معلومات نہ مل سکیں،البتہ ماہنامہ معین الدین تاجپورہ لاہور میں سورہ بقرہ کی تفسیرکی 10 اقساط شائع ہوئی ہیں۔

(4)رسول الکلام فی بیان المولد والقیام

مسلمانوں میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم منانے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اس کتاب میں آپ نے میلاد شریف منانے اور محفل شریف کے اختتام پر کھڑا ہو کرصلوٰۃ وسلام پڑھنے پر دلائل دئیے ہیں،امام المحدثین خود ارشاد فرماتے ہیں: رسول الکلام فی بیان المولد والقیام جو اول تصنیفاتِ خاکسار سے ہے مزین بمہور علمائے نامدار تیار ہے،جس کو خاکسار نے تقریباً 1298ھ (1881ء)میں لکھا۔ (8) یہ رسالہ چونکہ تین سال بعد شائع ہوا اس لئے اس وقت اس کا تاریخی نام مرغوب احمد ( 1301ھ)رکھ دیا گیا، جبکہ آپ کے استاذ گرامی تاج المحدثین علامہ ارشاد حسین محدث رامپوری نے اس کا نام رسول الکلام من کلام سید الانام فی بیان المولود والقیام رکھا،اس کے صفحات کی تعداد 176ہے، اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس پر 35علمائے ہند کے دستخط موجود ہیں جنہوں نے اس کتاب کی تصدیق کی ہے،اس رسالے کے آخر میں احسن الکلام فی جواز المولد والقیام کے عنوان سے فتویٰ بھی درج کیا گیا ہے جس کی تصدیق 29علمائے مدینہ، 42علمائے مکہ،10علمائے جدہ اور 11 علمائے حدیدہ نے کی ہے،اس فتویٰ کے بارے میں آپ تحریر فرماتے ہیں:یہ فتویٰ 1298ھ کو عرب سے منگوایا گیا تھا۔(9) شارحِ بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی صاحب تحریر فرماتے ہیں: جب یہ رسالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے سنا تو سنتے سنتے کھڑے ہوگئے اور خوشی سے جھومنے لگے۔ (10) مؤرخ اہل سنت حضرت مولانا سیّد امام الدین احمد نقوی گلشن آبادی تحریر فرماتے ہیں: کیا اچھی تحقیق ہے، کیا عمدہ تدقیق،بفضلہ تعالیٰ ایک سو بیس اور چند رسالے اس بحث میں میری نظروں سے گزرے مگر ایسے نفیس دلائل میں نے کسی رسالے میں نہیں دیکھے اور نہ ایسا طرز استنباط،یہ مثال انہیں دلائل پر صادق آتی ہے کہ پہلے لوگ بہت کچھ پچھلوں کے واسطے حصہ چھوڑ گئے اور یہ اللہ کا فضل ہے جس کوچاہے عطا فرمائے۔(11) اس کے چار نسخے راقم کے پیش نظر ہیں: ٭پہلا نسخہ حضرت مفتی شاہ ابو البرکات سید احمد رضوی صاحب کا شائع کردہ ہے،اس پر تاریخ اشاعت تو نہیں لکھی مگر یہ کنفرم ہے کہ مصنف کی زندگی میں ہی شائع ہوا ہے۔ اس کے خطبے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اشاعت میں امام المحدثین نے کچھ تصحیحات بھی فرمائی ہیں اور شاید اس کا ابتدائی خطبہ دوبارہ لکھا ہے کیونکہ اس میں آپ نے اپنا نام یوں لکھا ہے: راجی مراحم لم یزالی ابو محمد سیّد احمد المدعو بہ محمد دیدار علی بن سیّد نجف علی حنفی مشہدی ثم الوری ثم لاہوری۔ (12) ٭دوسرا نسخہ پہلے نسخے کا عکس ہے جسے عالمی دعوتِ اسلامیہ لاہور کے زیر اہتمام1417ھ مطابق 1997ء میں شائع کیا گیا۔ ٭تیسری اشاعت مولانا صلاح الدین سعیدی صاحب نے کی ہے، انھوں نے علمائے اہل سنت کے وہ رسائل جو میلاد مصطفی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے عنوان پر تھے ان کے مجموعے شائع کرنے کا آغاز کیا،اس سلسلے کا چوتھا مجموعہ بنام رسائل میلاد محبوب(کل صفحات:471) کے نام سے پہلا ایڈیشن ربیع الاول 1432ھ مطابق 2011ء اور دوسرا ایڈیشن محرم 1433ھ مطابق 2012ء میں شائع ہوا،میرے پیش نظر دوسرا ایڈیشن ہے جسے کتب خانہ امام احمد رضا دربار مارکیٹ لاہور نے شائع کیا ہے،اس میں صفحہ 65تا 189 امام المحدثین کا رسالہ رسول الکلام شامل ہے جو کہ کمپوز شدہ ہے مگر اس میں تخریج نہیں ہے۔ ٭چوتھا نسخہ حال ہی میں مولانا ابو ثوبان محمد کاشف مشتاق عطاری مدنی صاحب کا مکتبہ احسان عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے(بتاریخ صفر1440ھ مطابق اکتوبر 2018ء)شائع کردہ ہے،اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جدید کمپوزنگ اور تخریج وتحقیق کی گئی اور اسے اچھے کاغذ پر شائع کروایا گیا ہے۔

(5)ہدایۃ الطریق فی بیان التقلید والتحقیق

اس کتاب میں مسائلِ تقلید میں پیدا ہونے والے سوالات اور اس کے جوابات ذکر کئے گئے ہیں،ابتدا میں امام المحدثین نے لکھا ہے کہ زمانَۂ طالب علمی سے میری گفتگو منکرین تقلید سے ہوتی رہی ہے،جس کے میں نے انہیں تشفی بخش جوابات دئیے،جس سے کئی لوگوں نے اپنی پہلی روش سے توبہ کی ہےاورکررہے ہیں۔(13) بعض احباب کی ترغیب پر با امیدِ ثواب یہ رسالہ لکھ رہا ہوں۔ اس کے تین ایڈیشن میرے پیش نظر ہیں: ٭سب سے پہلے ایڈیشن کے کل 120صفحات ہیں۔شروع کے 109صفحات پر اصل رسالہ ہے اور آخری 11صفحات پر ضمیمہ ہے۔یہ رسالہ 1329ھ مطابق 1911ء میں لکھا اور شائع کیا گیا،اس کا تاریخی نام مدد غفار ہے جس کے اعداد1329بنتے ہیں،اس میں آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے دفع زیغ زاغ،رامی زاغیان کا ذکر کیا ہے جو 1320ھ میں لکھا گیا۔ (14)٭ہدایۃ الطریق فی بیان التقلید والتحقیق کا دوسرا ایڈیشن مزید کچھ اضافے کے ساتھ مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور سے شائع ہوا، اس کے کل 160صفحات ہیں،اس کے صفحہ 121پر اصل کتاب ختم ہو جاتی ہے، اس کے بعد بنام تتمۂ سوال جواب محمدی مقلد شروع ہوتا ہے،یہ صفحہ 147تک محیط ہے، اس کے بعد بعنوان عورتوں کے بال کٹانے کا مسئلہ کی ابتدا ہوتی ہے اس کا اختتام صفحہ 152پر ہوتا ہے، اس کے بعد فہرست وغیرہ ہے،صفحہ نمبر122تا 152صفحہ رسالے کو الدلائل السنیۃ فی تقدیر شعور النساء والحجاب الشریعہ کا نام دیا گیا ہے،اس رسالے میں مسئلہ تقلید کے علاوہ عورتوں کے پردہ کرنے کے احکام اور مرد وعورت کے بالوں کی حد کا بیان بھی موجود ہے، محدثِ الوری کے دور میں بعض گمراہوں نے یہ کہا کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح کانوں کی لَو تک بال رکھ سکتی ہیں،آپ نے دلائل کے ساتھ اس کا رد کیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ حدیثِ شاذ حدیثِ معروف کے مقابلے میں قابل قبول نہیں۔(15) ٭جناب محمد نعیم اللہ خاں قادری صاحب نے اپنی مرتب شدہ کتاب غیر مقلدین کو دعوتِ انصاف کی جلد چہارم میں امام المحدثین کی اس کتاب کو بھی صفحہ 915تا1133 شامل کیا ہے،یہ اس رسالے کی تیسری اشاعت ہے،یہ کمپوز شدہ ایڈیشن ہے۔اسے فیضانِ مدینہ پبلی کیشنز کامونکی ضلع گوجرانوالہ نےذیقعدہ 1424ھ مطابق جنوری 2004ء میں شائع کیا ہے۔

(6)تحقیق المسائل مع مناظرات

55 صفحات پر مشتمل اس رسالے میں اختلافی مسائل اور معمولاتِ اہل سنت مثلاً ایصالِ ثواب،کفن دفن اور کنویں کی طہارت کے مسائل مع دلائل بیان کئے ہیں، نیز قیامِ میلاد کا مسئلہ بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کے پہلے 44صفحات ذوالحجہ 1313ھ مطابق جون 1896ء کے لکھے ہوئے ہیں جن کی اشاعت غالباً 1314ھ مطابق 1897ءمیں ہوئی ہوگی،اس کے بعد کے گیارہ صفحات اس وقت لکھے گئے جب آپ مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب تھے۔٭یوں دوسری اشاعت 1342ھ مطابق 1924ء کے آس پاس ہوئی ہوگی، اس کے آخر میں ایک تنبیہ بھی شائع کروائی گئی،جس کا خلاصہ ہے کہ اس رسالے میں درج مکتوبات آج سے 32سال پرانے ہیں،اُس وقت مکتوب الیہ کے بارے میں یہ معلومات تھیں کہ وہ درست عقیدے کا مالک ہے، اس کی اور اس کے متبعین کی وہ کتب جن میں اللہ ورسول کی توہین کی گئی ہے وہ میرے مطالعے میں نہ تھیں،اس لیے مکتوبات میں اس کے لیے القاب تعظیمی بھی موجود ہیں،اس کی کتب کے مطالعہ کے بعد یقین کامل ہوگیا کہ یہ اور اس کے متبعین گمراہ،گمراہ گر اور مستحقِ تغمۂ کفر وشرک ہیں، لہٰذا اب طبع ثانی میں جی چاہتا تھا کہ اب اس میں وہ القابِ تعظیمی نکال دیے جائیں اور اس طرح اُس سے خطاب کیا جائے جیسے غیرِ مسلم سے وقتِ گفتگو کیا جاتا ہے مگر اِس خیال سے کہ اصل خطوط سے وقت ِمقابلہ مخالفت نہ ہو اور طبع ثانی مخالفِ طبعِ اول نہ ہو جائے۔اس لیے اُسی طرح تمام خطوط طبع کرا دیے گئے اور بغرضِ رفعِ شکوکِ عوام اس تنبیہ کے ساتھ متنبہ کرنا خاص وعوام کا ضروری ہوا۔

(7)شان امیر معاویہ وممانعت ِتصویرِ جاندار

اس رسالے کا عربی نام تنویر العینین عن غشاوۃ التصاویر وتوھین الامیرین ہے، 48صفحات پر مشتمل یہ ایک مضمون ہے جسے 1331ھ مطابق 1913 ءمیں تحریر کیا گیا ہے،جسے انجمن نعمانیہ لاہور نے اپنے ماہواری رسالے میں شائع کروایا،دوسری اشاعت حضرت شاہ ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ کے اشاعتی ادارے بزم تنظیم مسجد وزیر خاں نے کی،راقم کے پاس جس نسخے کی پی ڈی ایف ہے وہ رضا اکیڈمی لاہور کے تحت ذیقعدہ 1425ھ مطابق جنوری 2005ء میں شرف ملت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک وترتیب سے شائع ہوا ہے،اس کے کل 48صفحات ہیں۔

(8)فضائل الشعبان والرمضان مع احکام التراویح ولیلۃ القدر

یہ 40صفحات پر مشتمل ہے، اس کو لکھنے کی تاریخ13رمضان1335ھ مطابق 3 جولائی 1917ءہے۔ اس میں ماہ شعبان اور رمضان کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں مہینوں کے احکام ومسائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ آخر میں صدقَۂ فطر پر کلام ہے،کتنا صدقہ فطر ادا کرنا ہے اس پر قدرے طویل تحریر ہے۔ غالباً اس کی دوسری اشاعت اس زمانے میں ہوئی جب امام المحدثین جامع مسجد وزیر خاں کے خطیب تھے۔

(9)ہدایۃ الغوی بارشادات علی

103 صفحات پر مشتمل اس رسالے میں پانچ ابواب ہیں،اس کے پہلے باب میں قرآن کریم کے کامل واکمل ہونے کا بیان ہے،دوسرے باب میں حضرت مولی علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے وہ فرامین ذکر کئے گئے ہیں جو خلفائے ثلاثہ (امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق،حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی) رضی اللہ عنہ م کی شان وعظمت کے بارے میں ہیں،اس ضمن میں کئی نکات ذکر فرمائے ہیں یہ باب 57صفحات پر مشتمل اور سب سے بڑا ہے،تیسرے باب میں تقیہ ومنافقت ِعملی کا رد اور چوتھے باب میں شان وفضائل اہل بیت بیان کئے گئے ہیں جبکہ پانچویں باب میں بین وماتم کی ممانعت پر دلائل ہیں۔ اس کتاب میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے آپس کے بہترین تعلق اور باہم محبت کے موضوع پر بھی دلائل ہیں،اس کا زمانَۂ تحریر قیامِ آگرہ ہے۔ (16) اسے 1350ھ مطابق 1932ء لاہور سے شائع کیا گیا،جیسا کہ اس کے ٹائٹل سے ظاہر ہوتا ہے،یہ ایک پُر اثر رسالہ ہے،اس کے مطالعہ سے کئی لوگ راہِ راست پر آکر مذہب حقہ اہل سنت کے پابند ہو چکے ہیں۔ (17)

(10)علامات اہل الحدیث والبدعۃ بالقرآن واحادیث النبویہ

اس رسالے کے کل 49صفحات ہیں،یہ دو ابواب اور خاتمہ پر مشتمل ہے، پہلا باب صفحہ 2 تا 29،دوسرا باب صفحہ29 تا34 اور خاتمہ صفحہ 34تا 45 پر ہے،موضوع نام سے ظاہر ہے،اس کے شروع میں حضرت مفتی شاہ ابو البرکات سید احمد قادری صاحب کا ایک فتویٰ بنام مجلسِ میلاد میں قیام ِثبوت بھی اٹیچ ہے۔ راقم کے پیش نظر جو نسخہ ہے وہ امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کے وصال کے بعد آپ کے بیٹے مفتی شاہ ابو البرکات سید احمد قادری (ناظم حزب الاحناف)نے شائع کروایا ہے۔

(11) القبۃ الصغریٰ للمستفیضین عن الاولیاء المعروف رسالہ قبہ جات

1344ھ مطابق 1925ء میں حجاز مقدس پر جن لوگوں کا قبضہ ہوا انھوں نے بے حرمتی کرتے ہوئے اصحاب واہل بیت وصالحین کے مزارات وقبور کو شہید کر دیا، امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب نے علَم حق بلند کر کے اس کے خلاف آواز اٹھائی،تقریر وتحریر دونوں میں نہی عن المنکر کی کوشش فر مائی،یہ رسالہ اسی دور کی یاد دلاتا ہے،مفتی سید ابو البرکات سید احمد شاہ صاحب نے اسے ربیع الاخر یا جمادی الاولیٰ 1344ھ مطابق نومبر یا دسمبر 1925ء کو شائع کروایا، راقم کے سامنے جو ایڈیشن ہے اس میں تین رسائل ہیں: (1)اِثبات بناءقُبہ جات از شاہ ابو البرکات سید احمد شاہ صاحب (2)تردید اعتراضات معترضین بناءقبہ جات از صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی (3) القبۃ الصغری للمستفیضین عن الاولیاء ۔ تینوں رسائل کے کل صفحات 42ہیں۔امام المحدثین کا رسالہ صفحہ 16تا 40 پر مشتمل ہے۔دوسرا ایڈیشن6جمادی الاولیٰ 1432ھ مطابق 6 اپریل 2011ء کا ہے،اسے مسلم کتابوی لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس کے ٹائٹل پر لکھا ہے:مزارات پر گنبد بنانے کے بارے میں اکابر علمائے اہل سنت کی تحقیقات۔ یہ علمائے اہل سنت کے دس یا گیارہ رسائل کا مجموعہ ہے جو اس عنوان پر لکھے گئے،اس کے کل 320صفحات ہیں۔امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کا رسالہ ابتدا میں ہے۔

(12) مجموعہ رسائل خمسہ

اس مجموعہ میں مذکورہ دو رسائل (1)علامات اہل الحدیث والبدعہ(2)القبۃ الصغریٰ اور دیگر تین رسائل: (1) مسلک الحنفیہ فی الاباحۃ الاصلیہ (2) الکلام فی السجدۃ السہو مع السلام (3) السوط الزاجر عن الصلٰوۃ خلف الفاجر شامل ہیں۔ (18)پہلے دو رسائل کا تعارف کروایا جا چکا ہے بقیہ تین رسائل کا موضوع عنوان سے ظاہر ہے مگر راقم ان تینوں رسائل کی زیارت سے محروم ہے۔

(13)سلوک قادریہ

اس رسالے کے 45صفحات ہیں،راقم کے پاس جس نسخے کی پی ڈی ایف ہے اس کے سرورق کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالے کی دوسری اشاعت ہے جس میں تعدادِ اشاعت ایک ہزار اور قیمت تین روپے درج ہے،اسے مفتی شاہ ابو البرکات سید احمد قادری صاحب نے شائع کروایا ہے۔ یہ قطب الارشاد،فرد الافراد، سند الاسیاد حضور پر نور غوث اعظم شیخ محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی مشہور و معروف کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف کے دس مقالات کا منظوم ترجمہ مع شرح ہے،امام المحدثین نے اپنے رسالے کا ابتدائیہ بھی اشعار میں لکھا ہے،اس کے بعد حضور غوث پاک کا تحریر کردہ فتوح الغیب کا عربی ابتدائیہ لکھنے کے بعد اس کا منظوم ترجمہ کیاہے،اس کے بعد مقالہ اول کا عربی متن،اس کے تحت منظوم ترجمہ لکھا گیا ہے،پوری کتاب کا یہی اسلوب ہے۔رسالے کے اختتام پر امام المحدثین نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے موضوع پر 3صفحات پر مشتمل کلام تحریر فرمایا ہے جس کا عنوان میلاد سید عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔امام المحدثین صفحہ45پر تحریر فرماتے ہیں: بحمدہ دس مقالے ختم ہو کر زیر نظر ناظرین ہیں اور حصہ دوم کے دس مقالے عنقریب طبع ہونے والے ہیں۔اس تحریر سے معلوم ہوا کہ اس رسالے کا دوسرا حصہ بھی ہے جو مزید دس مقالات پر مشتمل ہے،البتہ راقم ابھی تک اس دوسرے حصے کی زیارت سے محروم ہے۔

(14)تقدیس المرسلین عن توہین الوہابیین

اس رسالے میں تقویۃ الایمان اور فتاویٰ رشیدیہ میں عقائد ومعمولات اہل سنت کے بارے میں جو غلطیاں ہیں ان کو واضح کیا گیا ہے۔

(15)ہدیۃ الاغبیاء فی حکم ذبیح الاولیاء

اس رسالے میں اولیائے کرام کی نیاز کے لیے جانور ذبح کرنے کے جواز اور اس پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے ہیں۔ یہ رسالہ آپ نے اس وقت لکھا جب آپ جامع مسجد وزیر خان میں بطور خطیب خدمت سر انجام دے رہے تھے۔ تقدیس المرسلین اور ہدیۃ الاغبیاء دونوں رسائل کو یکجا شائع کیا گیا ہے، کل صفحات 24ہیں۔

(16)الاستعانۃ من اولیا ء اللہ عین الاستعانۃ من اللہ

یہ 32صفحات پر مشتمل ہے،یہ رسالہ اس وقت لکھا گیا جب امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب جامع مسجد وزیر خان کے خطیب تھے،یہ ایک سوال کا جواب ہے،اس میں اولیائے کرام سے استعانت کے موضوع کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

(17)عقائد نامہ

امام المحدثین نے 1924ء میں اپنے احباب کے ساتھ مل کر مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند لاہور بنائی تو اس کا ممبر بننے والوں کے لیے یہ رسالہ تحریر فرمایا جو عقائد اہل سنت کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس کے کل صفحات 19ہیں،انجمن کا رکن بننے کے لیے لازم ہے، اس عقائد نامے کا مطالعہ کرے اور اس کی تصدیق کرے۔امام المحدثین کے پوتے شارح بخاری علامہ محمود احمد رضوی صاحب نے جب کتاب سیدی ابو البرکات لکھی تو اس کے صفحہ 134تا153 اس رسالے کو شامل کیا، یہ کتاب شعبہ تبلیغ حزب الاحناف لاہور نے لاہور پریس سے غالبا ًشوال 1399ھ مطابق ستمبر1979ء کو شائع کروائی ہے۔

(18)دیوانِ دیدار علی فارسی

امام المحدثین عربی،اردو اور فارسی میں شعر کا عمدہ ذوق رکھتے تھے، (19)آپ کے اردو اور فارسی کلام کے مجموعے دیوان دیدار علی اردو اور دیوان دیدار علی فارسی جدا جدا شائع ہوئے،اردو دیوان فارسی دیوان سے قدرے بڑا ہے،میرے پیش نظر فارسی دیوان ہے جس کے بارے معلومات ملاحظہ فرمائیے: دیوان دیدار علی فارسی کا تاریخی نام رحمت غفار(1929ء)ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تکمیل 1347ھ مطابق 1929ء کو ہوئی جسے مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور سے مفتی سید ابو البرکات سید احمد قادری صاحب نے شائع کروایا،اس کے سرورق پر اس کا تعارف ان الفاظ سے کروایا گیا ہے: الحمد للہ تعالیٰ یہ دیوان جس کی ہر سطر فصاحت کے موتیوں کی لڑی،جس کا ہر مصرع بلاغت کے پھولوں کی چھڑی بلکہ ہر نقطہ عمدہ پاکیزہ زیورِ شریعت سے آراستہ،تحقیق معنوی وصوری سے پیراستہ،شریعت کے سانچے میں دھلا دریا، طریقت ومعرفت میں ڈوبا ہوا مسمیٰ باسم تاریخی رحمت غفار(1929ء) ۔یہ 60صفحات پر مشتمل نعتیہ دیوان ہے، چند مناجات ومناقب بھی شامل ہیں،یہ امام المحدثین کی فارسی پر مکمل دسترس پر دال ہے۔ اس میں تقریباً 123کلا م ہیں،سب سے آخر میں تین صفحات پر مشتمل عربی کلام ہے جو عقائد اہل سنت کے بارے میں ہے۔ تذکرہ شعرائے پنجاب فارسی میں آپ کی فارسی شاعری ودیوان کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے: بشعر فارسی علاقہ داشت ودیوانی مختصری راہم ترتیب دادہ است کہ منتشر گردیدہ۔اس کے بعد آپ کے دیوان سے کچھ منتخب اشعار بھی نقل کئے گئے ہیں۔ (20) ٭آپ کی دیگر کتب ورسائل میں مجموعہ رسائل خمسہ اور المبسوط فی فریضۃ الجمعہ مع شروط کے علاوہ بقیہ تمام کتب ورسائل راقم کے پاس بصورت ہارڈ / سافٹ کاپی (Hard/Soft Copy) موجود ہیں۔ الحمد للہ علی احسانہ

(19)دیوانِ دیدارِ علی اردو

دیوان دیدارعلی اردو کا تاریخی نام فروغ نبی ہے ۔اس کی تکمیل 1348ھ مطابق 1930ء میں ہوئی۔ اسے آپ کے صاحبزادے مفتی سیدی ابو البرکات سید احمد قادری نے لاہور سے شائع کروایا ۔اردو دیوان کے کل صفحات 108 اور کل کلام 146ہیں ۔اردوکلام کی تعداد 128،عربی کلام 3اور تضمینات وترجیعات 14 ہیں۔ اکثرتضمینات حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے عربی کلام کے ساتھ ہیں اوران کے ایک عربی کلام کا منظوم ترجمہ بھی ہے۔ سرورق پر اس کا تعارف یوں کروایا گیا ہے : الحمدللہ تعالیٰ یہ دیوان جس کی ہرسطرفصاحت کے موتیوں کی لڑی ،جس کا ہر مصرع بلاغت کے پھولوں کی چھڑی،بلکہ ہرنقطہ عمدہ پاکیزہ زیورِ شریعت سے آراستہ ، تحقیق معنوی و صوری سے پیراستہ ،شریعت کے سانچے میں ڈھلا،دریائے طریقت ومعرفت میں ڈوباہوامسمّی ٰ باسم تاریخی فروغ نبی ، دیوان دیدار علی اردو معہ تضمینات و ترجیعات نادرہ ۔ نمونۃً ایک کلام ملاحظہ کیجئے: میں ہوں اس شہ کی محبت کا مریض لا دوا ہے جو ہو الفت کا مریض ہو نہ بیمارِ محبت کو شفا جو بھی ہو عشق و مودّت کا مریض یہ مرض یا رب سدا بڑھتا رہے کہتا ہے دائم یہ خُلّت کا مریض رنج فرقت سے رہائی یا اِلٰہ ہوں میں اس سلطاں کی فرقت کا مریض وہ مزہ آیا ہے اس کو عشق میں اب نہیں ہے طالبِ صحت مریض میں تو ہوں بیمار عشقِ مصطفی طالبِ صحت ہو زحمت کا مریض ہے علاج بندہ ٔ دیدار دید آپکا ہوں شوق رؤیت کا مریض (21) اپنے مشائخ کا تذکرہ کس خوبصورتی سے فرمایا : حضرت شاہِ نثار علی چشتی قادری ان کے روح باصفا پیارے چچا سے ربط ضبط فضل رحماں قادری و نقشبندی مرشدی عالم و کامل حبیب باصفا سے ربط ضبط شہہ توکل سالک راہِ مجدد کے فیوض مجھ پہ نافذ ہوں رہے اس باصفا سے ربط ضبط قادریت کے فیوض خاص ہوں دیدار پر حضرتِ احمد رضا سے ہو رضا سے ربط ضبط (22) حضرت نقشبند و خواجۂ چشت باقی ب اللہ باخدا پہ درود شہ مجدّد پہ فضل رحماں پر شہ توکل سے بے ریا پہ درود (23) نوٹ: راقم کے کہنے پر عزیزی مولانا سیف اللہ قادری ہزاروی سلمہ نے امام المحدثین کے ان دونوں دیوانوں یعنی فارسی اور اردو سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے جسے اس کتاب کے آخر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

٭ماہنامہ آئینہ اسلام

کم وبیش 1329ھ مطابق 1911ء کے قریب آپ نے اپنے شہر الور سے ماہنامہ آئینہ اسلام شائع کرنے کا ارادہ فرمایا،چنانچہ آپ اپنی کتاب ہدایۃ الطریق کے شروع کے صفحے پر تحریر فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ماہنامہ تین جز یعنی 48صفحات پر مشتمل ہوگا،ہر اسلامی (ہجری وقمری) مہینے کے شروع میں شائع ہوا کرے گا،آدھے حصے پر قرآن مجید کے حقانیت کے دلائل ہوا کریں گے اور بقیہ آدھے حصے میں فقہی مسائل مع دلائل قرآن وحدیث اور مہینے کی مناسبت سے وعظ ونصیحت پر مشتمل مضامین ہوں گے،یہ رسالہ اتنا جامع ہوگا کہ پھر اس مہینے سے متعلق فقہ ووعظ کی کتب دیکھنے کی حاجت نہیں رہے گی۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:یہی ایک رسالہ ہوگا جو اپنی جامعیت اور علوِ مضامین میں یکتائے زمانہ اور قابل دید ہو گا۔ اس رسالہ کے دیکھنے کے بعد کسی فقہ اور وعظ کی کتاب دیکھنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ المشتہر: محمد دیدار علی واعظ ریاست الور،راجپوتانہ،مالک رسالہ آئینہ اسلام۔ (24) مزید معلومات نہ مل سکیں کہ آپ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

٭مختلف موضوعات پر مضامین

آپ کے کئی مضامین وفتاویٰ ماہنامہ رسالہ انجمن نعمانیہ ماہواری میں شائع ہوتے تھے،جس کی کچھ تفصیل صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور میں کچھ یوں بیان ہوئی ہے: رسالہ ماہ جمادی الثانی 1342ھ مطابق جنوری 1924ء میں بعنوان حالات حاضرہ پر تبصرہ صفحہ 1سے 30 تک شائع ہو چکا ہے،جس کی تفصیل وسند کے لیے حضرت مولینا مولوی حاجی سید ابو المحمود سید دیدار علی شاہ صاحب الحنفی الرضوی نقشبندی الوری حال مدرس جامع مسجد وزیر خان مرحوم لاہور کا مضمون استفتا متعلق جہاد کا مقابلہ نماز باجماعت سےصفحہ 21 تا 28 شائع ہوا اور رسالہ ماہِ رجب 1343ھ میں صفحہ 29 سے 40 تک آپ کے فتاویٰ شائع ہوئے اور رسالہ ذیقعدہ 1346ھ میں چہار سوال متعلق دار الحرب ودار الاسلام ہجرت،مستامن اور بیوع فاسد ومثل سود وغیرہ امور کے متعلق مکمل فتویٰ صفحہ 1 سے 40 تک شائع کیا گیا،جس میں مفتی علامہ ممدوح نے مضمون متعلق سود مندرجہ اخبار زمیندار جلد 11 نمبر 99 تا 100 مورخہ 9،10 مئی 1924ء پر بھی مفصل تشریح کر دی ہے۔(25) اسی طرح امام المحدثین 1323ھ مطابق 1906ء میں ہند کے مشہور شہر پٹنہ (بہار)کے مدرسہ حنفیہ میں بغرض تدریس تشریف لے گئے(یہاں آپ کا قیام دو یا تین سال رہا)تو یہاں کے شائع ہونے والے ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے جیسا کہ صاحب کتاب ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ،تعارف واشاریہ نے اسمائے مضمون نگار حضرات کے عنوان کے تحت امام المحدثین کا نام یوں ذکر کیا ہے:مولانا سید دیدار الوری۔(26)ماہنامہ تحقیق حنفیہ کی جلد8پرچہ3بابت ربیع الاول 1322ھ کے صفحہ 3اور4میں آپ کی نعت بھی شائع ہوئی۔ (27)

امام المحدثین کی تصدیقات وتقاریظ

علما ئے کرام میں یہ بات رائج ہے کہ وہ اپنی تصانیف وفتاویٰ پر معاصرین سے تصدیق وتقریظ لیتے ہیں،امام المحدثین مفتی سید دیدار علی شاہ الوری رحمۃ اللہ علیہ کی بھی تصدیقات وتقاریظ مختلف کتب ورسائل میں ملتی ہیں،جن تک راقم کی دسترس ہوسکی ان کا ذکر کیا جاتا ہے: (1) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ذو الحجہ 1320ھ میں ایک رسالہ اوفی اللمعہ فی اذان یوم الجمعۃ تحریر فرمایا،امام المحدثین اس کی تصدیق کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ھذا ھو الحق والحق احق بالقبول ۔ الفقیر السید ابو محمد محمد دیدار علی الحنفی الرضوی الالوری عفی عنہ ،محدث وامیر مرکزی انجمن حز ب الاحناف ہند لاہور۔ (28) (2) اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے 1335 ھ میں رسالہ الدلائل القاہرۃ علی الکفرۃ النیاشرہ تحریر فرمایا جس میں امام المحدثین کی تصدیق ایک فتوے کی صورت میں ہے،یہ فتاویٰ رضویہ جلد15میں صفحہ 120سے 124تک محیط ہے،اس میں آپ نے اپنا نام اس طرح لکھا ہے:حررہ العبد الراجی ربہ ابو محمد دیدار علی الرضوی الحنفی فی المفتی جامع الاکبر آباد۔ (29) (3)1324ھ کو اعلیٰ حضرت کی کتاب حسام الحرمین منظر عام پر آئی جس میں آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی اور چار دیگر گستاخانِ رسول کی شرعی گرفت فرما کر تکفیر فرمائی،جس پر 35علمائے حرمین کی تصدیق موجود ہیں، شیر بیشہ سنت حضرت علامہ حشمت علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے برعظیم کے اڑھائی سو سے زائد علمائے اہلسنت کی حسام الحرمین کی تصدیقات کو 1345ھ مطابق 1926ءمیں الصورام الہندیہ کے نام سے شائع کروایا، امام المحدثین تحریر فرماتے ہیں: حسام الحرمین جو فتویٰ علمائے حرمین شریفین ہے، وہ سرتاپا حق وبجا ہے اور جن اقوال پر فتویٰ دیا گیا ہے،فریقین میں منصف کو ان کی کتابوں سے ان اقوال کو مطابق کر کے دیکھنا کافی ہے اور معاند کو تمام قرآن بھی پڑھ لے نفع نہیں بخشتا، اللہ جلّ شانُہ مسلمانوں کو توفیق انصاف دے اور ان بے دینوں سے اپنی امن میں رکھے، فقط ابو محمد دیدار علی عفی اللہ عنہ ۔ (30) (4)محب اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرحمٰن محبی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ الحبل القویٰ لھدایۃ الغوی ٰ المعروف اثبات تقلید شرعی کے نام سے1320ھ مطابق1902ء میں لکھا،جسے علامہ ابو المساکین ضیاء الدین ہمدم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیب دے کر شائع کروایا اس کے صفحہ 27 پر مفتی دیدار علی شاہ صاحب کی تصدیق موجود ہے۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: ذالک کذالک ۔بیشک یہ تحریر بہت صحیح ہے۔ابو محمد دیدار علی سنی حنفی ساکن ریاست الور۔ (31) (5)امام المحدثین کے بڑے صاحبزادے حضرت علامہ شاہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ بہترین مصنف تھے،اردو ادب پر گہری نظر رکھتے تھے، انہوں نے قیام الور کے دوران فرشتہ رحمت اور انجام محبت کے نام سےبصورت ناول کتاب تحریر کی،امام المحدثین نے اس پر تقریظ رقم فرمائی۔ (32) (6)علامہ شاہ ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ نے 1932ء میں ایک عیسائی یا مرزائی اکرام الحق کے رسالے کا جواب بنام اکرام الحق کی کھلی چٹھی کاجواب 59صفحات پر دیا،اس پر امام المحدثین نے تقریظ تحریرفرمائی۔یہ تقریظ صفحہ 60سے62پر محیط ہے۔اس رسالے کو بزم تنظیم مسجد وزیر خان لاہور نے ہزار ہا تعداد میں شائع کیا۔ (7)علامہ شاہ ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے رجوم المؤمنین علی مانع الجماعۃ للمتہجدین کے صفحہ نمبر16پر امام المحدثین کی تصدیق وتقریظ موجودہے،اس کا ابتدائی حصہ کچھ یوں ہے: نمازِ تہجد کے متعلق بلا تداعی لوگ کسی تہجد خواں کے پیچھے آشریک ہوں اور خوف اس امر کا بھی نہ ہو کہ لوگ جماعت تہجد کو سنتِ مؤکدہ یا واجب سمجھ لیں گے تو اس طرح کی نماز تہجد کو جماعت سے پڑھنے کا ثبوت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، چنانچہ رسائل ارکان مولانا بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ سے مَیں اوّل مفصل لکھ چکا ہوں اور مفصل بحث باقی نوافل کے متعلق مَیں اپنے رسالہ رسول الکلام من کلام سید الانام فی بیان المولد والقیام میں لکھ چکا، جو زیر طبع ہے، ان شا ء اللہ ہفتہ عشرہ میں چھپ کر تیار ہو جائے گا اور کافی ثبوت میرے دونوں لختِ جگر طول اللہ عمرہما وبارک اللہ دینہما ودنیا ہماوز اداللہ اعلمہما وشوقہما الیہ لکھ چکے۔ (8)علامہ شاہ ابو الحسنات کا رسالہ براہین حنفیہ اور علامہ شاہ ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہما کافتویٰ اثبات فرضیت جمعہ وہند دار الاسلام 1930ء میں یکجا شائع ہوئے،اس میں امام المحدثین کی تصدیق موجود ہے دیگر مصدقین میں مولانا محبوب علی لکھنوی،مولانا محمد رمضان بلوچستانی،مولانا سید فضل حسین شاہ مجددی گجراتی،مولانا عبد المنان خان،مولانا سید منور علی الوری،مولانا محمدتازہ گل کابلی،مولانا عبد القیوم ہزاروی،مولانا عبد الحق ہزاروی،مولانا غلام قادرملتانی،مولانا عبد الاحد گجراتی،مولانا محمد مسعود خان دہلوی،مولانا غلام دین گجراتی، مولانا یعقوب سندھی اور مولانا یعقوب شاہ گجراتی شامل ہیں۔ (33) (9)حضرت مولانا غلام قادر امر تسری رحمۃ اللہ علیہ نے عقائد ومعمولات اہل سنت پر چھ رسائل لکھے: ٭ توضیح الکلام فی منع القراءۃ خلف الامام ٭مسئلہ تقبیل الابہامین٭مسئلہ طہارت چاہ٭تحریری بحث السلام علیک٭فتوی جہر ذکر بعد نماز٭سوالات دربارۂ علم غیب۔ ان کو مجموعہ قادریہ کے نام سے آفتاب برقی پر یس امر تسر سے صفر1357ھ مطابق اگست1938ء کو شائع کروایا گیا،اس مجموعے کے پہلے رسالے پر امام المحدثین کی یہ تصدیق ہے: بوجہ درسِ طلبہ وتالیف تفسیر مجھ کو اتنی فرصت نہیں کہ سارے رسالہ کو بالاستیعاب دیکھوں،مگر جہاں تک بعض مقامات سے دیکھا بہت اچھا لکھا ہے اور حق لکھا ہے اور آیۃ الکریمہ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ (34)سے مطلقاً فرضیت قراءت قرآن خواہ ایک آیۃ ہی ہو ثابت ہوتی ہے اور آیۃ کریمہوَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) (35) چونکہ لفظ انصتوا صراحۃآبی ہے، اس امر سے کہ یہ تاکید استمعوا نہیں،بلکہ دونوں حکم جدا گانہ ہیں اور ظاہر ہے کہ نماز پنجگانہ کے فقط بحالت امامت جہراً اور سراً پڑھنے کے ساتھ بالاتفاق مامور ہے نہ کہ مقتدی اور منفرد اور خارج نماز تلاوت کرنے والے اور مسبوق اس واسطے کہ بالاتفاق یہ سنت جہری نمازوں میں اور نیز خارج کا قر اء ت سری اور جہری میں مختار ہیں، مامور بالجہر جہریوں میں اور مامور بالسر سری نمازوں میں فقط امام ہے،لا محالہ معنی آیہ کریمہ یہ ہوئے: اِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ جَھْرًا فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ اِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاَنْصِتُوا ہٰکَذَا فِی فَتْحِ الْقَدِیْر (36)اور ظاہر ہے کہ احادیث کے ساتھ قرآن مجید کا مقابلہ بالاتفاق نا جائز ہے،لہذا بہر صورت مقصود مجیب رسالہ احسن الکلام حاصل، فَجَزَاہُ اللہُ خَیْرًا ۔ فقط محمد دیدار علی از لاہور (10)تلمیذ وخلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا قلندر علی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ مرآۃ الحقیقہ المعروف دعوت الحنفیہ لکھا جسے امر تسر سے شائع کیا گیا،اس پر بھی امام المحدثین کی تقریظ ہے اور اس میں مصنف کے لیے یوں دعا تحریر فرمائی:خدا وند کریم ان روایات کے جامع کو دارین میں خوش وخرم رکھے اور اس رسالے کو مقبول بارگاہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما فرما کر اپنے کرم سے اجر عظیم عطا فرماوے۔ (37) (11) مفتی اعظم ہند، مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے 1345ھ مطابق 1926ء کو تنویر الحجۃ لمن یجوز التواء الحجۃ کے نام سے ایک رسالہ لکھا،اس میں دوسرے جید علما کے ساتھ مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کی تصدیق صفحہ نمبر32پر موجود ہے،مفتی صاحب اس وقت مسجد وزیر خاں کے خطیب تھے۔ (12) مفتی اعظم ہند نے 1338ھ کو کتاب الطاری الداری کوترتیب دیا،اس کے پہلے حصے کے صفحہ 56پر مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کی تصدیق ہے۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: خاکسار نے اکثر مقامات سے اس کا مطالعہ کیا فی الواقع بعض اقوال مذکورہ تو صریح کفر ہیں اور مبنی برضلالت ہونے میں تو کسی قول کے شک نہیں، اللہ جل شانہ قائلین اقوال مذکورہ کو توفیق عطا فرمائے اور ایسے اقوال منہ سے، قلم سے نکالنے والے اور پھر اس پر اصرار کرنے والوں کی اللہ کسی مسلمان کو صورت نہ دکھلائے اور سب کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین اللہم آمین ۔ابو محمد محمد دیدار علی الحنفی (13)حضرت مولانا مفتی حافظ عبد الحلیم کریالوی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قیام ممبئی میں ایک فتویٰ لکھا جسے احتراز الصالحین عن شرور الفاسقین کے نام سے 1320ھ مطابق 1902ء کو مطبع گلزار حسنی ممبئی سے شائع کروایا،مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب نے اس کی تصدیق کی،چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: بے شک جو قاضی فاسق معلن ہو،قابلِ عزل ہے اور عبارت یقع العلم بخبرھم میں علم اسی قاضی کا ہے جو قاضی بموجب تحریر مفتی محقق شرعا معتبر ہو،پس لامحالہ مضمون فتویٰ صحیح ہے۔ (38) (14)حضرت علامہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ نے 1321ھ میں غیر مقلدین کے بارے میں ایک رسالہ بنام انفع الشواہدلمن یخرج الوھابیین عن المساجد تالیف فرمایا جو 21صفحات پر مشتمل ہے،اس کی تصدیق امام المحدثین نے ان الفاظ کے ساتھ فرمائی: ھذا ھو الحق الصریح ومن عمل بہ فھو نجیح،ابو محمد محمد دیدارعلی الرضوی السنی الحنفی المجددی ۔ (39)یہ رسالہ اب تک تین مقامات سے شائع ہو چکا ہے، حالیہ اشاعت تحقیق وتخریج کے ساتھ جماعت رضائے مصطفیٰ یوکے نے اکتوبر2020ء میں رسائل محدث سورتی کی صورت میں کی ہے،یہ رسالہ اس مجموعے میں صفحہ 115تا136میں ہے۔ (15)قادر الکلام پنجابی شاعر مولانا نبی بخش حلوائی صاحب نے ایک رسالہ بنام ایضاح التلبیس الشیطانی تحریر فرمایا،اس کی تصدیق کم وبیش 50 علمائے اہل سنّت نے کی،امام المحدثین نے اس کی تصدیق یوں فرمائی: الجواب صحیح۔فقیر محمد دیدار علی شاہ الوری (40) علامہ نبی بخش حلوائی صاحب نے یہ رسالہ 1331ھ میں اپنے دیگر چار رسائل (الرمح الدیانی علی رأس الوسواس الشیطانی ، قھر القھار، ازالۃ التلبیس اور الدلائل القویہ) کے ساتھ رسائل خمسہ کے نام سے شائع کروایا۔ (16)انجمن حفظ المسلمین امر تسر(41)نے 1336ھ میں قادیانیوں کے بارے میں تفصیلی سوالات مرتب کر کے ہند بھر کے علما کو بھیجے اور ان سے قادیانیوں کے بارے میں شرعی حکم دریافت کیا پھر1338ء مطابق 1919ء میں ان جوابات پر مشتمل ایک رسالہ بنام استنکاف المسلمین عن مخالطۃ المرزائیین یعنی مرزائیوں سے ترکِ موالات شائع کیا گیا۔ یہ رسالہ 34صفحات پر مشتمل ہے، اس میں مرزائیوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا تفصیلی بیان ہے اس میں سینکڑوں علما وشخصیات کی تقاریظ وتصدیقات ہیں، اسے انجمن حفظ المسلمین امر تسر نے ذو الحجہ 1338ھ کو شائع کروایا۔اس میں امام المحدثین کا جواب وتائید ان الفاظ کے ساتھ ہے: قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہو جائے تو ان کا نکاح فسخ ہوگا۔ (انتہیٰ مختصراً فقط)حررہ العبد الراجی رحمہ ربہ القویٰ ابو محمد محمد دیدار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامع اکبر آباد۔ (42)
1مختصر المیزان،ص 9 2مختصر المیزان، ص 126، 127 3فتاویٰ رضویہ،15/ 124 4مقدمہ تفسیر میزان الادیان،ص 21 5مقدمہ تفسیر میزان الادیان، ص 10 6تفسیر میزان الادیان،2/296 7تذکرہ علمائے اہل سنت وجماعت،ص 273 8تفسیر میزان الادیان،2/282 9رسول الکلام،ص 162 10 سیدی ابو البرکات، ص 132 11 رسول الکلام،ص 155 12رسول الکلام من کلام سید الانام، ص1 13 ہدایۃ الطریق فی بیان التقلید والتحقیق،ص1 14 ہدایۃ الطریق فی بیان التقلید والتحقیق،ص47 15 سید دیدار علی شاہ کی فقہی خدمات، ص 144، 145 16 سیدی ابو البرکات،ص 132 17 میلاد قیام،ص 34 18ہدایۃ الغوی بارشادات علی،ص 111 19حضرت فقیہ اعظم کے استاذ مکرم مفتی اعظم سیّد ابو البرکات اپنے مکاتیب کے آئینےمیں،ص43 20 تذکرہ شعرائے پنجاب فارسی،ص149 21دیوان دیدارِ علی اردو،ص 47 22دیوان دیدارِ علی اردو،ص48 23دیوان دیدارِ علی اردو،ص33 24 ابتدائی صفحہ ہدایۃ الطریق 25 صد سالہ تاریخ انجمن نعمانیہ لاہور، ص 309 26 ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ،تعارف واشاریہ،ص50 27ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ،تعارف واشاریہ،ص391 ... تذکرہ محدث سورتی،ص 166... حیات مخدوم الاولیا، ص 334 28 اوفی اللمعہ فی اذان یوم الجمعۃ،ص14 29 فتاویٰ رضویہ،15/120تا124 30 الصوارم الہندیہ،ص 97 31 اثبات تقلید شرعی، ص 2،9،27 ... تذکرہ علمائے اہل سنت سیتا مڑھی، ص 331 32 حیات کرم حسین، ص 144 33براہین حنفیہ مع اثبات فرضیت جمعہ ... الخ، ص 30، 32 34 پارہ:29،المزمل: 20۔ترجمہ کنز الایمان:اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو۔ 35پارہ:9،الاعراف:204۔ترجمہ کنز الایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔ 36 فتح القدیر،1/342 37مرآۃ الحقیقہ المعروف دعوت الحنفیہ،ص53 38 احتراز الصالحین، ص25 39رسائل محدث سورتی،ص132 40 رسائل خمسہ، ص 11 41 اس انجمن نے علامہ محمد عالم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے بھی شائع کئے،جن میں عربی رسالہ الجثجات اہم ہے۔ (تذکرہ علماء امر تسر، ص95) 42 استنکاف المسلمین عن مخالطۃ المرزائیین،ص23

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن