دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Har Sahabi e Nabi Jannati Jannati | ہر صحابی نبی جنتی جنتی

book_icon
ہر صحابی نبی جنتی جنتی

{26}بے شک روزِ قیامت لوگوں  میں  شدید ترین عذاب اُس کو ہوگا جس نے انبیا (عَلَیْہِمُ الرسَّلَام ) کو برا کہا، پھر اُس کو جس نے میرے صحابہ کو برا کہا اور پھر اُس کو جس نے مسلمانوں  کو برا کہا۔(حلیۃ الاولیا ج۴ص۱۰۰حدیث ۴۸۹۴)

{27} اللہ پاک کی اس شخص پر لعنت ہو،جس نے میرے صحابہ کو گالی دی۔ (معجم کبیرج۱۲ص۳۳۲حدیث۱۳۵۸۸)

صحابہ کو عیب لگانے والے

{28}بے شک اللہپاک نے مجھے منتخب(Select) فرمایا اور میرے لئے صحابہ منتخب (مُن۔تَ۔خَبْ) فرمائے، اور عنقریب ایسی قوم آئے گی جوان کی شان گھٹائے گی،انہیں  عیب لگائے گی اور گالی دے گی،لہٰذا تم نہ اُن کے ساتھ بیٹھنا، نہ اُن کے ساتھ کھانا، نہ پینا، نہ اُن کے ساتھ نماز پڑھنا اور نہ اُن کی نمازِ(جنازہ) پڑھنا۔(الجامع لاخلاق الراوی للخطیب البغدادی ج۲ص۱۱۸ رقم۱۳۵۳)

{29}بے شک میری اُمت کے بدترین لوگ وہ ہیں  جو میرے صحابہ پرجُرأَت کرنے والے ہیں ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ج۹ص۱۹۹)

            شرحِ حدیث:یعنی وہ لوگ جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بُرا بھلا کہتے ہیں  اور اُن کے بارے میں  ایسی باتیں  کرتے ہیں  جو اُن کی شان و منصب کے لائق نہیں  ،ایسا کرنا سخت ترین حرام کام ہے ،صحابۂ کرام


 عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بُر ا بھلا کہنا برائی پر جری(یعنی جُرأَت کرنے والا) ہونے کی علامت ہے اوراُن کی عزت و احترام کرنا اچھاہونے کی علامت ہے اور حق(یعنی صحیح )بات یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کی تعظیم کی جائے اور اُن کو برا کہنے سے زبان کو روکا جائے، چاہے وہ صحابۂ کرام مہاجرین میں  سے ہوں  یا اَنصار میں  سے۔ (فیض القدیر ج۲ص۵۷۵ تحت الحدیث۲۲۸۱)

{30}جو میرے صحابہ کو بُراکہے، اُس پر اللہپاک، فرشتوں  اور تمام انسانوں  کی لعنت، اللہ پاک اس کا نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔ (الدعاء للطبرانی ص۵۸۱رقم۲۰۱۸)

{31}جو شخص میرے صحابہ ، اَزواج اور اہلِ بیت سے عقیدت رکھتا ہے اور ان میں  سے کسی پر طَعْن نہیں کرتا(یعنی بُرابھلا نہیں  کہتا) اور ان کی محبَّت پر دُنیا سے اِنتقا ل کرتا ہے وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے دَرَجے میں  ہوگا۔(جمع الجوامع ج۸ص۴۱۴حدیث ۳۰۲۳۶)

                         صالحین (یعنی نیک لوگوں ) کے ساتھ ہونے سے یہ لازِم نہیں  آتا کہ اس کادرجہ اورجَزاہراعتبارسے صالحین کی مثل ہوگی بلکہ کسی دَرَجے میں  کسی خاص اعتبار سے شرکت ہوگی اگرچِہ مقام و عزت و معیار کے اعتبار سے لاکھوں  درجے فرق ہو، جیسے محل میں  بادشاہ اور غلام(یا کوٹھی میں  سیٹھ اور ملازِم) دونوں  ہوتے ہیں  لیکن فرق واضح ہے۔

{32}میرے صحابہ کے مُعامَلے میں  میرا لحاظ کرنا کیونکہ وہ میری اُمَّت کے بہترین لوگ ہیں ۔ (مسند الشھاب ج۱ص۴۱۸ حدیث ۷۲۰)

{33}میرے بعد میرے اَصحاب سے کچھ لغزش ہوگی،  اللہپاک انہیں  میری صحبت کے  سبب معاف فرما دے گا اور اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں  گے جن کو اللہپاک منہ کے بل دوزخ میں  ڈال دے گا۔(معجم اوسط ج۲ص۲۶۰حدیث۳۲۱۹)

            اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اُن بعد والوں  کے متعلق فرمایا: یہ وہ ہیں  جو اُن لغزشوں  کے سبب صحابہ پر طعن کریں  گے۔(فتاوٰی رضویہ ج ۲۹ ص۳۳۶)

{34}میری اُمّت میں  میرے صحابہ کی مثال کھانے میں  نمک کی سی ہے کہ کھانابغیر نمک کے دُرُسْت نہیں  ہوتا۔(شرح السنہ ج۷ص۱۷۴حدیث۳۷۵۶)

{35}جب تم لوگوں  کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو بُرا کہتے ہیں  تو کہو:  اللہپاک کی لعنت ہو تمہارے شر پر۔ (ترمذی ج۵ص۴۶۴ حدیث۳۸۹۲)

            شرحِ حدیث :  حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس حدیث ِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی صحابہ کرام تو خیر ہی خیر ہیں  تم ان کو بُرا کہتے ہو تو وہ بُرائی خود تمہاری طرف ہی لوٹتی ہے اور اس کا وَبال تم پر ہی پڑتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح ج۸ص۳۴۴)

{36}مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے، میں  چاہتا ہوں  کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں  ۔( ابوداوٗدج۴ص۳۴۸حدیث ۴۸۶۰)

            شرحِ حدیث:’’مِرآت شریف‘‘  میں  ہے :یعنی کسی کی عداوت، کسی سے نفرت دل میں  نہ ہوا کرے۔ یہ بھی ہم لوگوں  کے لیے بیانِ قانون ہے کہ اپنے سینے (مسلمانوں  کے کینے سے) صاف رکھو تاکہ ان میں  مدینے کے انوار دیکھو، ورنہ حضور  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سینۂ رحمت، نورِ کرامت کا گنجینہ ہے وہاں  کَدُورَت (یعنی بغض و کینے) کی پہنچ ہی نہیں ۔(مراٰ ۃ المناجیح ج ۶ص۴۷۲)

{37}مجھے لوگوں  میں  سب سے زیادہ محبوب تم(یعنی انصاری صحابہ ) ہو، مجھے لوگوں  میں  سب سے زیادہ تم محبوب(یعنی پیارے) ہو۔ (مسلم ص۱۰۴۴حدیث۶۴۱۷)

{38}مہاجرین و انصار مدینے شریف کے گرد خندق کھودنے میں  مصروف تھے،تو نبی کریم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ دعا مانگی: اے  اللہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن