30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرام ، حرام ، سخت حرام
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے باہم (یعنی آپس میں لڑائی وغیرہ کے )جو واقعات ہوئے، اُن میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جاں نثار اور سچّے غلام ہیں ۔ (بہارِ شریعت ج اوّل ص۲۵۴)
میری جھولی میں نہ کیوں ہوں دوجہاں کی نعمتیں میں ہوں منگتا میں گدا ،اصحاب و اہلِ بیت کا
کیوں ہو مایوس اے فقیرو! آؤ آکر لُوٹ لو ہے خزانہ بٹ رہا، اصحاب و اہلِ بیت کا
یاالٰہی! شکریہ عطّارؔ کو تو نے کِیا شعر گو، مِدحت سَرا اصحاب و اہل بیت کا
ہر صحابیِ نبی! جنّتی جنّتی سب صحابیات بھی جنّتی جنّتی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
40حدیثیں پہنچانے کی فضیلت
فرمانِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: ’’جو شخص میری اُمّت تک پہنچانے کیلئے دین کے متعلق ’’40حدیثیں ‘‘یاد کر لے گا تو اُسے اللہ پاک قِیامت کے دن عالِمِ دین کی حیثیت سے اُٹھائے گااور بروزِ قیامت میں اُس کا شفیع و گواہ ہوں گا۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۲ص۲۷۰ حدیث ۱۷۲۶) اِس سے مراد چالیس احادیث کالوگوں تک پہنچانا ہے اگرچِہ وہ یاد نہ ہوں ۔(اشعۃُ اللّمعات ج۱ ص۱۸۶ ) الحمد للہ حدیثِ پاک میں بیان کی گئی فضیلت پانے کی نیت سے فضائلِ صحابہ کے متعلق ’’ 40 فرامینِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ‘‘پیش کئے جاتے ہیں :
فضائلِ صَحابہ کے بارے میں 40حدیثیں
{1}بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں (یعنی صحابۂ کرام) پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں (یعنی تابعین)، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں (یعنی تبعِ تابعین)۔ (بخاری ج۲ص۱۹۳حدیث۲۶۵۲)
دورِ صحابہ کی مُدّت: شارِحِ بخاری حضرتِ مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :بربنائے قولِ مشہورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا زمانہ110 ہجری میں سب سے آخر میں انتقال فرمانے والے صحابیِ رسول حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے انتقال شریف پر پوراہوگیا، ۱؎اِس کے بعد ستر،اَسی (80-70)سال تک تابعین کا دور رہا پھر پچاس برس تبعِ تابعین کا رہا،لگ بھگ (یعنی تقریباً)دوسوبیس ہجری (220ھ) میں تبع تابعین کا دورمبارک ختم ہوگیا۔ (نزہۃ القاری ج۳ص۸۰۱ بتغیر قلیل)
{2}اُس مسلمان کو جہنَّم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کو دیکھا۔ (ترمذی ج۵ص۴۶۱حدیث۳۸۸۴)
{3}میرے صحابہ میں سے جوصحابی جس سر زَمین میں فوت ہوگا تو قیامت کے دِن(اس صحابی کو) اُن (یعنی وہاں کے مسلمانوں ) کے لیے نورو رہنما بنا کر اُٹھایا جائے گا۔ (ایضاً ص۴۶۳حدیث۳۸۹۱)
{4}میرے اَصحاب کو بُرا نہ کہو، اس لئے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحُدپہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے ایک مد( یعنی ایک کلومیں 40گرام کم) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس مُد کے آدھے۔(بُخاری ج۲ص۵۲۲حدیث۳۶۷۳)
{5}اَنصار (یعنی انصاری صحابہ ) سے مَحَبَّت ’’ایمان‘‘ کی علامت اوران سے بغض’’ نفاق‘‘ کی علامت ہے۔(بخاری ج۲ص۵۵۶حدیث۳۷۸۴)
{6}تم اُس وقت تک بھلائی میں رہوگے جب تک تم میں وہ شخص موجودہے جس نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی(یعنی صحابی)، خداکی قسم! تم اُس وقت تک بھلائی میں رہوگے جب تک تم میں وہ شخص موجودہے جس نے مجھے دیکھنے والے کو دیکھا اوراُس کی صحبت اختیار کی(یعنی تابعی)، خداکی قسم! تم اُس وقت تک بھلائی میں رہوگے جب تک تم میں وہ شخص موجود ہے جس نے مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابی)کو دیکھنے والے (یعنی تابعی) کو دیکھا اوراُس کی صحبت اختیار کی(یعنی تبع تابعی)۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ج۱۷ص۳۰۸حدیث۳۳۰۸۴)
{7}میرے صحابہ کی عزت کروکیونکہ وہ تم میں بہترین لوگ ہیں ۔(الاعتقاد للبیہقی ص۳۲۰)
{8}میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ، اِن میں سے جس کی بھی اِقتدا (یعنی پیروی ) کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔ (جامع بیان العلم ص۳۶۱حدیث۹۷۵)
{9}اَنصار(یعنی انصاری صحابہ) سے مَحَبَّت نہ کرے گا مگر مومن اور اِن سے دُشمنی نہ کرے گا مگر منافق، تو جس نے اُن سے مَحَبَّت کی اللہپاک اُس سیمَحَبَّت کرے اور جس نے اُن سے بغض رکھا اللہ پاک اُس سے ناراض ہو۔ (بخاری ج۲ص۵۵۵ حدیث۳۷۸۳)
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع